خُدا کی تلاش

مجھے وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔
درویش یہ سُنا کر فرمانے لگے بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے؟
میں نے عرض کی حضور سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔
وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے نہیں بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے مگر ایک چیز ہے جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔
میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا لیکن کچھ پلے نہیں پڑا بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں آپ ہی بتا دیجئے نا کہ آخر وہ ایسی کیا چیز ہے جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے-
اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟
میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا کہ چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے، چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔
بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-
بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔
اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا جو کُچھ بھی تیرے پاس ہے وہ سب خُدا کا ہے تو صرف اُسکا امین ہے تو جب تجھ سے واپسی کا تقاضہ ہو تو یہ مت کہنا کہ میرا تھا، میں نے دِیا، بلکہ ہمیشہ یہی کہنا کہ جس کا تھا اُسی کو لوٹا دیا، مصیبت کے وقت واویلہ نہ کرنا بلکہ صبر کرنا کہ وہ صابروں کو پسند کرتا ہے، ہر لمحہ اپنے عمل پر نظر رکھنی پڑے گی اپنا احتساب کرنا پڑے گا کہ تیرا عمل تیری مرضی کے مُطابق ہے یا اللہ کریم کی مرضی کے مُطابق، تو وہ کر رہا ہے جو تیری چاہت ہے یا وہ کر رہا ہے جو اللہ کریم کی چاہت ہے کبھی تیری چاہت ہوگی کہ نرم وگرم بستر سے خود کو جُدا نہ کرے لیکن تبھی اللہ کی چاہت ہوگی کہ تو بستر کو چھوڑ کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو، کبھی تیری چاہت ہوگی کہ تیرا مال تیری جیب میں رہے اُس وقت ہوسکتا ہے اُس کی چاہت یہ ہو کہ تو وہ مال جو تو نے بڑی محنت سے کمایا ہے کسی دوسرے کی ضرورت پر خرچ کردے-
کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سخت گرمی کے سبب ٹھنڈا پانی پئے یا اپنے پیٹ کی آگ بُجھانے کیلئے کچھ کھالے لیکن اُس کی چاہت ہوگی کہ تو روزہ دار رہے، کبھی سخت سردی کے سبب تیری چاہت ہوگی کہ ٹھنڈا پانی تیرے جسم کو نہ چُھوئے تبھی اُس کی چاہت ہوگی کہ اُسی ٹھنڈے پانی سے سخت جاڑے میں وضو کر، کبھی تیری چاہت تجھ سے تقاضہ کرے گی کہ تنہا رہ کر جسم کی تھکان مِٹالے تبھی اُسکی چاہت کا تقاضہ ہوگا کہ کسی کے دُکھ میں شریک ہوجا اور کسی کے دُکھ درد کو بانٹنے کے لئے سفر اختیار کر کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سامنے والے کا مُنہ نوچ لے تبھی اُسکی چاہت ہوگی کہ تو اُسے سینے سے لگا لے، کبھی نفسانی خواہشات تجھے اپنی جانب بُلائیں گی تیرا من بھی چاہے گا مگر اُس کی چاہت تقاضہ کرے گی میرے سِوا سب سے بےنیاز ہوجا، بیٹا اپنی چاہت اپنی مرضی اپنی خواہش، کی قربانی ہی وہ راستہ ہے جِس پر چل کر بندہ خُدا کو پالیتا ہے-
اگر اپنی چاہت کو قربان کرنے کا حوصلہ ہے تو اِس راہ پر ضرور قدم رکھ وہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ معرفت کی منزل کو پانے کا سفر اسقدر دُشوار ہے کہ ہزاروں مسافر اس راہ پر چلتے ہیں لیکن سفر شروع ہونے کے بعد اس کی تکالیف پر صبر چند ایک ہی کر پاتے ہیں اور وہ بھی آدھی منزل ہی سر کرپاتے ہیں منزل پر تو ایک دو ہی پہنچ پاتے ہیں تو بھی کوشش کر دیکھ شائد تُجھے بھی منزل مل جائے اگر تو نے دُنیا کی صعوبتوں پر صبر کو عادت بنایا اپنی چاہت اُسکی چاہت پر قربان کردی تو ضرور خدا عزوجل کو پالے گا مجھے اِس سے ذیادہ آسان راستہ کی خبر نہیں- بُول چلنا چاہے گا اِس راستہ پر درویش نے مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا تھا؟
اور میں نے زِیرِ لب بے اختیار کہا کہ ضرور کوشش کرونگا اگر اللہ کریم کا فضل مجھ گُنہگار پر بھی ہُوا انشا ءَاللہ عزوجل آج شاعر مشرق کا یہ شعر بھی رات کی تنہائی میں مجھے کُچھ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور بُہت لُطف دے رہا ہے –
خُدا کے بندے تو ہَزاروں بندوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُسکا بندہ بَنُوں گا جس کو خُدا کے بندوں سے پیار ہوگا..
بشکریہ غزالہ جلیل راؤ صاحبہ.