ایک نیم سرکاری ادارے نے صوبائی دار الحکومتوں میں ایک سیمینار منعقد کروانا تھا۔جس میں مختلف متعلقہ محکمے بھی مدعو تھے بلکہ بنیادی کردار ہی ان محکموں کا تھا۔ البتہ اس نیم سرکاری ادارے کا کام اس سیمینار کو کامیابی سے منعقد کروانا تھا اور اس کے فوائد عوام تک پہنچانے تھے۔ چونکہ سیمنیار پورے دن کا ہونا تھا تو اس کے لیے دور دراز کے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں لازمی ایک دن پہلے جانا تھا کہ رات کو ٹھہرنا تھا۔ اس حوالے سے اس ادارے نے ان شہروں میں موجودمشہور بین الاقوامی فور اور فائیو سٹار ہوٹلز سے رابطہ کیا کہ ان کے دس سے پندرہ افراد کے لیے ایک رات کے رہنے کا انتظام کیا جائے اور سیمینار میں موجود افراد کو چائے اور دوپہر کے کھانے کا مینو بھی مہیا کیا جائے۔ ان ہوٹلوں کی جانب سے جب اس ادارے کو کمروں ، ہالز اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں میسر کی گئیں تو وہ ادارہ جو حکومتی پالیسیوں کے تحت ایک مخصوص بجٹ رکھتا ہے، ایک بار تو چلا اٹھا۔ چلانے کی وجہ ان ہوٹلز کی ارسال کردہ قیمتیں تھیں۔ جو کہ اتنی زیادہ تھیں کہ ہر آفیسر کے لیے متعین کردہ بجٹ سے زیادہ تھیں۔ ایک کمرہ، جس میں ایک ماسٹر بیڈ یا ڈبل بیڈ کہہ لیں، تھوڑا سجا ہوا، دو ایک صوفہ سیٹ، سینٹر ٹیبل، ٹی وی ، ایک عدد واڈ روب موجود ہو۔۔ (ویسے زیادہ تر ہوٹل میں لوگ رات گزارنے جاتے ہیں، ان کو ان اشیاءسے زیادہ سرو کار نہیں ہوتا) اس کے ایک رات کا کرایہ اٹھارہ سے بیس ہزار ہو۔ پھر طرفہ تماشہ یہ کہ کمرے بھی مختلف کٹیگریز میں تقیم کیے گئے ہیں۔ ایگزیکٹیو روم، دیلکس روم، سپریم روم وغیر۔۔ خیر کچھ بھی ہو، پھر بھی ایک کمرے کا اتنا کرایہ ۔ اور ہر ماہ ان کرایوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔چھ ماہ پہلے کرایہ اٹھارہ ہزار تھا، آج وہ چوبیس ہزار ہے۔ بندہ پوچھے کہ کیا کمرے میں ہیرے اگتے ہیں۔یا پھر سونے کی کانیں ہیں وہاں پر۔
یہ تو بات ہوئی فور، فائیو سٹار ہوٹلز کی۔ جو چھوٹے ہوٹلز ہوتے ہیں ان کے کرائے بھی دو ہزار سے چھ ہزار تک ہوتے ہیں۔ لیکن انھوں نے جو حکومتی سرکاری اداروں کو خاص طور پر ایف بی آرے کے ماتحت ادارے جو ٹیکس لاگو کرتے ہیں ان کو ان ہوٹلز نے ریٹ چھ سو سے ہزار روپے فی کمرہ بتائے ہوتے ہیں۔ وہ ٹیکس لاگو کرنے والے ادارے بھی خاموشی سے ان کی اس بات کو سچ جان کر اس حساب سے ٹیکس لاگو کر دیتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ اٹھاتے ہیں کہ ان کے کوئی بھی جاننے والے ان ہوٹلز میں اگر ان کے توسط سے ٹھہریں تو ان کو کم کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ نہ بڑے ہوٹلز کا قصور ہے ، نہ چھوٹے ہوٹلز کا۔ قصور ہے تو عوام کا جن کو عیاشی کا خمار چڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ کیوں اتنے مہنگے ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں ۔ ایک رات ہی گزارنی ہوتی ہے تو کسی واقف کار کے گھر پر ٹھہر جایا کریں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے بہت سے دوست ہوں گے، ایک آدھ تو مخلص ہوگا۔ لیکن نہیں جی، ٹھہرنا تو ہوٹل میں۔
سونے پہ سہاگہ تو یہ ہے کہ آج کل فائیو فور سٹارز ہوٹلز نے کرایہ بھی ڈالرز میں لینا شروع کر دیا ہے۔ ارے کیا ہم اب ہوٹلز کے لحاظ سے بھی امریکہ کے غلام بنتے جا رہے ہیں؟ افسوس کا مقام ہے۔ ہوتا تو یہ چاہیے تھا کہ بیرونِ ملک سے بھی جو آتا اس سے پاکستانی کرنسی میں رقم وصول کی جاتی۔ ہم کیوں ڈالرز پاﺅنڈز میں لین دین کرتے ہیں۔ کیا ہم پاکستان میں رہتے ہوئے بھی غیروں والے کام کرنے کے پابند ہیں؟ اوپر سے ہم انھیں انگریزی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں، فرانس، جرمنی، سویٹزر لینڈ ، چائنہ، جاپان۔۔ شاید انھوں نے ساتھ مترجم تو رکھے ہوں گے لیکن وہ آپ کو خوش آمدید اپنی زبان میں ہی کہیں گے۔ اور اپنی ہی کرنسی میںلین دین کریں گے۔ ہم کب تک غیروں کے غلام بنے رہیں گے۔ کیا باقی ملکوں نے اپنی قومی زبان کو استعمال کرتے ہوئے ترقی نہیں کی جو ہم پاکستان میں اردو کو نافذ کرکے اپنی بڑھتی ہوئی ترقی کو روک دیں گے۔ ہر گز نہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں اگر اردو کا نفاذ ہو جائے تو ہمارے ذہین نوجوان جو صرف انگریزی کی وجہ سے مار کھا جاتے ہیں، وہ ایسی ایسی تجاویز سامنے لائیں کہ ان پر عمل کرکے پاکستان کو ہم اوجِ ثریا تک پہنچا سکتے ہیں۔
ہوٹلز کا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح مختلف قسم کی ریگولیٹری اتھارٹیز بنی ہوئی ہیں جو بجلی، گیس پٹرول، مواصلات، میڈیا کو ریگولیٹ کرتی ہیں تو ایک اتھارٹی ہوٹلز کے حوالے سے بھی ہونی چاہیے۔ جو ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاوسز، ریسٹورینٹ، ڈھابے وغیرہ کو ریگولیٹ کرے اور ان کا باقاعدہ وزٹ کرکے ان کے مختلف شعبوں کے لیے قیمتوں کا تعین کرے۔ جیسے کمرے، ہالز، کھانے پینے کا سسٹم وغیرہ۔ اس طرح پورے ملک میں ایک یکسانیت قائم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اتھارٹی مختلف شعبہ جات سے متعلقہ لوگوں کے لیے بھی قیمتوں کا تعین کرے۔ جیسے اگر کوئی عالم دین ٹھہرتا ہے تو اس کے لیے کمرے کا کرایہ اتنا ہو۔ کوئی ادب سے متعلقہ شخصیت ادب کے حوالے سے ہی ٹھہرتی ہے تو اس کے لیے قیمت کا ایک تعین ہو۔کوئی استاد یا کوئی بزنس مین یا کوئی انجنیئر یا کوئی سرکاری ملازم۔ ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ کمرے کا کرایہ مقرر ہو۔ لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ فرد اپنی شناخت کے حوالے سے ہی ٹھہر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ ایک ایک سرکاری ملازم ادبی بھی ہو اور بطور ادبی شخصیت کرایہ کم ہو تو وہ اپنے آپ کو ادبی شخصیت ظاہر کرکے کمرہ حاصل کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخصیت ہوٹل کو ثبوت فراہم کرے کہ وہ کس حوالے سے ٹھہر رہا ہے تا کہ کرایہ اسی نسبت سے طے کیا جا سکے۔
ان بڑے ہوٹلز کے حوالے سے ایک بات جو سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ چیک کیے جاتے رہنا چاہیے۔ کہ جتنے غیر ملکی افراد ان ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں ان میں سے اکثریت غیر ملکی جاسوسوں کی ہی ہوتی ہے جو کبھی ایک لبادے میں تو کبھی دوسرے نقاب میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے یہاں آتے ہیں۔ کاش کسی کو سمجھ آسکے۔ ان ہوٹلز کو اور ان میں رہنے والوں کو کوئی دیکھ سکے۔