اب کے جو دسمبر آئے گا
میرا وعدہ ہے کہ بھول جاؤں گا
سب حسرتیں ماضی کی
سب تلخیاں، سب خواہشیں
کہ اب ان سے واسطہ نہیں کوئی
کہ ماضی تک راستہ نہیں کوئی..
جو پھولوں سے کبھی الفت تھی
اور کانٹے تھے کہکشاں اپنے
جو الجھنیں تھیں زیست کاحصہ
اور سلگنے میں غم انگارے تھے..
دریا کی خشکی، صحرا کنارے
بہت ڈھونڈے جو سہارے تھے..
سبز مخملیں قالیں بچھا تھا
خزاں کا موسم چھا گیا تھا
زردی مائل جو پتے بکھرے
ان پتوں میں وہ وقت اپنا
ساتھ ہی چُر مُر ہو گیا تھا…
اب کے جو دسمبر آئے گا
میں سب کچھ بھول جاؤں گا
وہ ہمسفر میرے جو نیلگوں پانی میں
اٹھکیلیاں کرتے سرگوشیاں کرتے
پہاڑوں سے نیچے اترتے ہوئے
نقرئی قہقہے فضا میں شامل
فضا کاحصہ، پاتال میں شامل
سب ہی کچھ بھلاؤں
یہ وعدہ ہے تم سے..
میرے آنسوؤں پہ
مگر تم نہ جانا
انھیں تو چاہیے
کسی کی نگاہیں
جو ماضی میں ان کو
پھر لے کے جائیں
مگر نہیں میری جاں نہیں
میرا وعدہ ہے اب کے سب سے
میں بھولوں گا،
میں بھلا دوں گا
جو بھی بیتا، جو بھی گزرا
بس اب کے دسمبر جو آئے گا…

(اعجاز احمد لودھی)