قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی محترمہ عاصمہ حدید نے مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک موازنہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ محترمہ نے قرآن سے غلط معانی نکال کر اور غلط تاریخ پیش کر کے پاکستان تحریک انصاف کا ایک ایجنڈا سامنے لانے کی کوشش کی جس کے حوالے سے پی ٹی آئی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب کے بارے میں بھی شروع سے ہی جب انھوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی کہا جا رہا ہے کہ وہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ثبوت تو ابھی تک کسی نے نہیں دیا، بس الزامات ہی ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر جو چیز پھیل جاتی ہے، پی ٹی آئی کے مخالفین اسی بات کو بنا تحقیق کے آگے پھیلا دیتے ہیں یا اس پر لفظوں کے پھول برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ سورة الحجرات میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی فاسق (مطلب جھوٹ بولنے والا۔۔ آج کل کون سچا ہے) تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اس میں فاسق کا لفظ ضرور استعمال ہوا ہے لیکن دوسرے حصے پر بھی عمل لازم ہے۔ اور آج کے دور میں تو یہ انتہائی شدید لازم ہو گیا ہے کہ ہر خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی جائے۔ورنہ ایک اینکر کی طرح سب کہیں گے کہ میرے پاس ثبوت ہیں ۔ میں ابھی پیش کرتا ہوں۔ پہلے یہ خبر دیکھ لیں۔ میرے مصدقہ ذرائع ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ نہیں۔خیر اسرائیل کے حوالے سے کئی مواقع پر کچھ ایسا ضرور نظر آیا جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے۔ اب محترمہ کی قومی اسمبلی میں تقریر ہی سن لیں۔ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے. پھر یہودیوں کی دلجوئی و تالیف قلب کے لیے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا شروع کی۔ پھر قبلہ تبدیل کرنے کے حکم پر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ مزید کہتی ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس سے ہے اور مسلمانوں کا بیت اللہ۔ اس کے بعد کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ اس لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ (واضح نہیں کہا لیکن سیاق و سباق سے یہی مفہوم نکلتا ہے) مسلمان اور یہود ایک ہو جائیں۔ محترمہ نے تقریر تو پانچ منٹ کے لگ بھگ کی جس میں زیادہ زور اسی بات پر تھا۔ آخر میں یہود و مسلمانوں کے درمیان اتفاق قائم کرنے کے بارے میں کہہ گئیں۔
یہ تو شکر ہے کہ انھوں نے اپنے علم کو خود ہی ناقص کہہ دیا تھا۔ ورنہ پی ٹی آئی والوں نے انھیں عالمہ و فاضلہ کی ڈگری بھی تھما دینی تھی۔ میرا مطلب سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ سے باہر کے عوام سے ہے۔ واقعی ان کا علم ناقص ہی ہے۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے صرف حج بیت اللہ ادا کیا جاتا تھا۔ نماز فرض ہو جانے کے بعد بیت المقدس ہی کی طرف ہی ادا کی جاتی تھی۔ اور یہ یہود کو خوش کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اللہ کا حکم تھا۔ پھر ایک دن عصر کی نماز میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت المقدس کی طرف سے تبدیل کرکے بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ لیکن اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہودیوں کا قطلہ بیت المودس اور مسلمانوں کا خانہ کعبہ ہو گا۔ یہودیت تو ایک جھوٹا مذہب ہے کیونکہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سابقہ تمام انبیاءعلیہ السلام کی تعلیمات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اب جو کچھ بھی تھا وہ احکامات الہی اور تعلیمات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں تھا اور تا قیامت رہے گا۔ ویسے بھی کیا یہودی کیا نصارٰی (عیسائی)، اپنے اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان پر نازل ہوئی کتب میں جو تحریفات کی گئیں وہ کلی طور پر ان پیرو کاروں کے اپنے نفس کے تابع ہیں۔ جھوٹے من گھڑت واقعات شامل کیے گئے۔
اس کے بعد محترمہ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ آپ کا تاریخ کا علم بھی واقعی ناقص ہے۔ بی بی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا۔ ان سے آگے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل کہلائی۔ اور یہ بھی کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں بے شمار نبی آئے۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں نبوت صرف ہمارے آقائے نامدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ تو آپ سے عرض ہے کہ پہلے خوب پڑھ کر آئیں پھر بات کریں۔
عاصمہ حدید صاحبہ نے مزید کہا ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے کہ یہ جو آج مسلمانوں پر شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں ظلم ہو رہا ہے اس کا راستہ روکا جائے۔ کوئی ان کو یہ بتائے کہ فلسطین کا نام کیوں نہیں لیا کہ اسرائیل ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ آئے روز وہاں جنازے اٹھ رہے ہیں۔ کبھی باعصمت خواتین کے دوپٹے پھاڑے جارہے ہیں تو کبھی بچوں کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک اسلحے کے زور پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن فلسطین شاید واحد ملک ہے جو غلیل میں پتھر ڈال کر اسرائیلیوں کے ظلم کا مقابلہ کرتا ہے۔ جن کے دل میں آزادی کی تڑپ رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔اور مقصد کے لیے عاصمہ صاحبہ نے ایوان کا وقت ضائع کیا کہ جس طرح ممکن ہو اسرائیل کے ساتھ یارانے بڑھائے جائیں۔ محترمہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انھیں یہ تو نظر آرہا ہے کہ شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں مظالم ہو رہے ہیں لیکن یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ وہاں ظلم کے پہاڑ کون توڑ رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی ہی ہیں جو ہر ملک میں ظلم کرتے ہیں ۔ کبھی ڈیزی کٹر بم گرائے جاتے ہیں تو کبھی غیر جوہری خطرناک بموں کی بمباری کی جاتی ہے۔ پہلے افغانستان میں روس گھسا رہا لیکن وہاں کچھ نہ کر سکا۔ پھر امریکہ نے اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی اور ہنوز لگا ہوا ہے لیکن اللہ کے سپاہیوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں تو جب نام ہی اللہ کا لے کر بلند کیا جائے تو پھر کسی کی جرا¿ت ہو سکتی ہے وہ کسی سرزمین پر قبضہ کر سکے۔
عاصمہ صاحبہ کی تقریر اسی سلسلے کے کڑی دکھائی دیتی ہے جس کے تحت پاکستان میں ۴۲ اکتوبر ۸۱۰۲ کو ایک اسرائیلی جہاز کے آنے کی باز گشت ابھی تک پاکستان کی فضاﺅں میں گھوم رہی ہے۔آپ کی تقریر کا مقصد بظاہر تو یہی نکلتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے لیے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں۔ باطن کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ لیکن ظاہری صورت حال یہی نظر آتی ہے۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ہمارے رب نے یہ حکم دیا ہے۔ اب اگر آپ اس دوستی کے لیے راہ ہموار کرانا چاہتی ہیں تو پہلے آپ کو ان کا جھوٹا مذہب قبول کرنا ہو گا۔۔

روزنامہ آفتاب.. 16 نومبر، 2018