(ابن نیاز)

باباجانی، ڈاکٹر کو دیکھ لیا ہے۔ اب لاہور کو دیکھنا ہے۔
ڈاکٹر آپ کو کیسا لگا۔
لگا نہیں بابا، لگی۔۔ وہ تو پیاری سی آنٹی تھیں۔
کتنی پیاری؟ ویسے تو وہ بہت موٹی نہیں تھیں، بھینس کی طرح۔۔
بہت بابا۔ انھوں نے دیکھیں میرے گال پر کس بھی کیا۔
بیٹا ایسا نہیں کہتے۔
کیوں نہیں کہتے بابا جانی۔۔
اس لیے کہ بابا کا دل بہت وسیع ہے، کہیں وسعت میں تھوڑی سی کمی نہ آجائے۔
اور بابا وہ کالی تو نہیں تھیں۔۔ تو بھینس کیسے ہوئیں؟
ارے بیٹا، وہ میرا مطلب ہے۔ اچھا چھوڑو۔۔
بابا جانی! یہ وسعت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
وسعت کا مطلب بیٹا بہت کھلا۔ جیسے وہ سامنے بڑا سا گراﺅنڈ ہے۔
یہ تو اقبال پارک ہے بابا جانی۔اور اس میں مینارِ پاکستان ہے۔
تو کیا ہوا، اس کے ارد گرد گراﺅنڈ توہے نا۔
تو کیا آپ کے دل میں بھی مینارِ پاکستان ہے؟
ہاں ہے نا۔۔ پاکستان سے محبت کا۔
تو کیا بابا جانی، وہ بھی 230 فٹ ہے اونچا ہے۔
نہیں بیٹا۔ اس مینا ر کی بلندی کوئی نہیں ناپ سکتا۔
کیوں بابا جانی؟ وہ بہت بلند ہے، آسمان سے بھی بلند؟
جی بیٹا۔ اگر محبت کا سچا مینار ہے، تو وہ آسمان سے بھی بلند ہے۔
محبت کیا ہوتی ہے؟
بیٹا، محبت اذیت ہوتی ہے۔ محبت تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔۔
محبت خوشی ہوتی ہے، محبت سکون کا دوسرا نام ہے۔۔۔
بابا جانی۔۔ (غصے کا اظہار۔۔)
یہ اتنے مشکل لفظ کیوں کہہ رہے ہیں۔
نہیں بیٹا۔ مشکل تو نہیں۔
اچھا چھوڑیں۔ یہ بتائیں کہ آپ کا دل اقبال کا گراﺅنڈ ہے؟
جی بیٹا۔۔ لیکن اقبال پارک ہے۔ گراﺅنڈ نہیں۔
تو بابا اس کا میننگ ہے کہ آپ کا دل پارک ہے؟
جی بیٹا۔۔
پھر تو آپ کے دل میں بہت سے لوگ کھیلتے بھی ہوں گے اور چلتے بھی ہوں گے؟جیسے یہاں کھیل رہے ہیں اور چل رہے ہیں؟
جی بیٹا۔ اس میں بہت سے لوگ ہیں۔
ٹھیک ہے باباجانی۔ میں مما کو ضرور بتاﺅں گا کہ آپ کا دل اقبال پارک جتنا بڑا ہے۔اور اس میں بہت سے لوگ رہتے ہیں۔
ارے ارے۔۔ خبردار مما کو نہیں بتانا۔ ورنہ میں آپ کو شاہی مسجد نہیں دکھاﺅں گا۔۔۔
کیوں بابا جانی، مما کو کیوں نہ بتاﺅں۔۔؟
ارے بیٹا سمجھا کرو۔۔ پھر نہ پارک رہے گا، نہ دل۔۔
کیوں؟ مما کیا کریں گی؟کیا اس کو توڑ دیں گی؟
بیٹا، یہ تو مجھے نہیں معلوم، لیکن یہ جو ایئر پورٹ ہے نا، اس پر کھڈے پڑ جائیں گے۔ (اپنے آدھے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے)
یہاں تو ایئرپورٹ کوئی نہیں بابا جانی۔۔
بیٹا ، یہ وہ ایئرپورٹ ہے جو آپ کو جب بڑے ہو گے تو نظر آئے گا۔۔
بابا جانی۔۔ ایئرپورٹ دیکھنے چلیں۔۔
نہیں بیٹا۔۔ کوئی فائد نہیں۔
کیوں بابا جانی۔
اس لیے بیٹا کہ وہاں تو بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں۔اور پانی بہت بہتا ہے ۔۔۔
تو کیا بابا جانی۔۔وہاں آبشاریں بہت ہیں، جس طرح سکردو میں تھیں؟
آبشاریں تو نہیں ہیں، لیکن ڈیم بنانے کے لیے جھیلیں بہت ہیں۔
وہ جس طرح دودو پت سر جھیل تھی؟
ہاںبیٹا۔۔
تو کیا جتنی لمبی اور چوڑی وہ جھیل تھی اتنی ہی ایئرپورٹ پر بھی ہیں۔۔
چھوڑو بیٹا۔۔ چلو لاہور دیکھتے ہیں۔۔ پھر کیا پتہ ہم دیکھ سکیں یا نہیں۔
کیوں بابا جانی، لاہور کہیں چلا جائے گا؟
نہیں بیٹا۔۔ لاہور تو نہیں۔۔لیکن کوئی اور جا سکتا ہے۔
(بابا نے آنکھ میں آنے والے آنسوﺅں کو حلق میں اتارا۔۔)
کون بابا۔۔
ہے ایک پیارا سا پھول۔۔۔
پھر بیٹا مینارِ پاکستان اور اس کے ساتھ ایک کونے میں لہرانے والے پاکستان کے جھنڈے کو دیکھنے لگا۔
بابا کی نظر پڑی تو وہ اپنی پی کیپ کو درست کرکے اٹینشن کھڑا تھا۔ پھر اس نے اس جھنڈے کو سلیوٹ کیا۔
بیٹا ، اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے، صحت کاملہ۔۔ تا کہ آپ اس جھنڈے کی عظمت کی حفاظت کر سکو۔۔ بابا نے دل میں دل سے دعا کی۔
بابا کی آنکھیں پھر بھیگ چکی تھیں کہ اس کے بیٹے کے دونوں گردے خراب تھے اور وہ دوائیوں کے سہارے یہ اٹھکیلیاں کر رہا تھا۔۔۔۔
*******************