میری دادی جان

میری دادی ماں، جنھیں میں ماں جی کہہ کر پکارتا تھا، نے مجھے چاند پر پریوں کی کہانی تو کبھی نہیں سنائی، البتہ دین سے رغبت انہی کی وجہ سے ہے۔ اگرچہ مجھ سے بڑا منافق اس روئے زمین پر شاید ہی کوئی ہو، لیکن دین سے لگاؤ جتنا بھی ہے اس کی بنیادی وجہ وہی بنیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے قصے، تاریخی واقعات ان کی زبانی بہت سے سنے۔ وہ اپنے وقت کی ماشاء اللہ بڑی عالم تھیں۔ جب تک وہ گاؤں میں رہیں، شاید ہی کوئی فرد بچے سے لے کر بوڑھے مرد و خواتین تک سب نے قرآن پاک ان سے پڑھا۔ خواتین ہفتے میں دو تین بار ان سے احادیث سننے آتی تھیں۔ کوئی مسلہ آتا جس کا اسلامی حل ان کو چاہیے ہوتا تھا تو ہماری دادی کے پاس دوڑے چلی آتی تھیں۔
جہاں تک ہماری دادی ماں کا اپنے پوتے پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں سے تعلق کا تعلق ہے تو میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ شاید ہی مجھ سے آگے اس معاملے میں کوئی آگے ہو۔ ان کا مجھ سے اور میرا ان سے ایک خاص لگاؤ تھا۔ ان کے دنیا سے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ لگاؤ اسی دینی تربیت کی وجہ سے تھا جو مجھے دی گئی تھی۔ میں نے قرآن و احادیث کا علم حاصل کیا تو کئی احادیث و واقعات ان کو تصیح کرکے سنائے کہ جو آپ سناتی ہیں وہ اس طرح نہیں، اس طرح ہیں۔ ان کو اس بات کی بہت خوشی ہوتی تھی جب میں ان سے اسلام کی کوئی بات کرتا تھا یا کوئی نئی بات ان کو سناتا تھا۔
میری جب آج سے چودہ سال پہلے اسلام آباد میں جاب لگی تو مجھے ویک اینڈ پر ہی گھر جانا ہوتا تھا۔ اکثر دیر سے رات گئے گھر پہنچتا تھا۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ میں گھر پہنچا ہوں اور جاگ نہ رہی ہوں۔ جب تک میرے ماتھے پر پیار کا بوسہ نہیں دیتی تھیں تب تک سوتی نہیں تھیں۔ اسی طرح صبح سویرے جب اسلام آباد کے لیے نکلنا ہوتا تھا تو میری کوشش ہوتی تھی کہ ان کو نہ جگایا جائے کہ میں نے فجر کی نماز اکثر راستے میں پڑھنی ہوتی تھی۔ لیکن ان کو تو جیسے کوئی پاؤں ہلا کر جگا دیتا تھا کہ پوتا اسلام آباد کے لیے نکل رہا ہے بنا ماتھے پر بوسہ لیے ہوئے۔ اِدھر میں بیگ اٹھا کر اپنے کمرے سے نکلتا تھا، اُدھر وہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی میرا انتظار کر رہی ہوتی تھیں۔
ہمارے پورے خاندان میں ان جیسا شاید ہی کوئی ہو گا۔ میں ان کی بحیثیت خاتون بات کر رہا ہوں۔ جیسا کہ ذکر کیا وہ صاحبِ علم تھیں۔ ہمارے اکثر رشتہ دار ان کے پاس ہفتے میں ایک آدھ بار ان کے پاس آکر مختلف مسائل پر بات چیت کرتے تھے اور ا ن کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ میری دادی بتاتی تھیں کہ ان کے والدین بھی در حقیقت بہت بڑے عالم تھے۔ ایک مرتبہ شاید ان کے شناختی کارڈ کے لیے فارم بھرنا تھا تو اس میں والدہ اور والد کا نام بھی لکھا جاتا ہے۔ ان سے ان کے والدین کا نام پوچھا تو کہنے لگیں علم میں وہ اتنا آگے تھے کہ اگر ان کا نام بنا وضو کے لیا جائے تو شاید گستاخی ہو۔ لیکن چونکہ وہ نہ تو صحابی تھے نہ تابعی، تو اس لیے وہ بتا دیتی ہیں۔
ان کی علم کی صرف ایک خامی جو شاید میں ہی جج کر پایا تھا کہ ان کواحادیث تو کثرت سے یاد تھیں لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان میں سے صحیح احادیث کون سی ہیں اور ضعیف احادیث کون سی۔ اسی بنا پر وہ مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی حدیث سنا دیتی تھیں۔ میں نے جب قرآن و حدیث کو پڑھنا شروع کیا اور میں نے جاناکہ احادیث کی قسمیں کیا ہیں اور کس بنا پر کسی حدیث کو رد کیا جاتا ہے اور احادیث کی کس کتاب کو مستند مانا جاتا ہے تو پھر اگر میری موجودگی میں وہ کوئی حدیث بیان کرتیں تو میں اکثر بعد میں ان کی تصیح کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن یہ سب کچھ ایک ادب کے دائرے میں ہوتا۔ میں اگر حدیث کو ضعیف قرار دیتا تو اس کا باقاعدہ حوالہ دیتا یا قرآن پاک سے اس کی مخالفت ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔ اس بات پر ماں جی بہت خوش ہوتی تھیں اور علم میں مزید اضافے کی دعائیں ملتی تھیں۔
اللہ نے ان کی چھٹی حس کچھ زیادہ طاقت ور رکھی تھی۔ ان کو آنے والے وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا کہ کیا واقعہ ہو سکتا ہے۔ البتہ وہ اس کو بیان نہیں کر پاتی تھیں۔ جیسے ان کو الہام ہوتا ہو۔ کسی بچے کے بارے میں کہتیں یا پوچھتیں کہ وہ بیمار تو نہیں ہے، یا کوئی ملنے آتا تو اس سے پوچھتیں کہ اس نے دوائی وقت پر لی ہے۔ جس پر وہ بھی اور دیگر بھی حیران ہوتے کہ وہ بیمار تو ہے نہیں تو دوائی کی کی ضرورت۔ لیکن اگلے ایک دو دنوں میں وہ بیمار ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے کچھ رقم کی اشد ضرورت تھی لیکن سوائے خدا کے اور کوئی وسیلہ نہیں تھا اور اللہ کی حکمتوں سے وہ ذات خود ہی واقف ہے۔میں نے دادی ماں سے ذکر کیا تو کہنے لگیں کہ یہ بھی کوئی بات ہے۔ اللہ سب بھلا کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ شاید چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ میرا مسلہ یوں حل ہوا کہ مجھے علم بھی نہ ہوا۔
ان کی تاریخ پیدائش کیا تھی کسی کو نہیں معلوم۔ لیکن ان کی اپنی معلومات کے حساب سے جو حساب کتاب لگایا گیا تھا ،دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان کی عمر تقریباً ایک سو سات برس تھی۔ یہ ان پر اللہ کا احسان تھا کہ تا مرگ انھوں نے عینک کا استعمال نہیں کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت اور پانچ وقت نماز کا کبھی ناغہ نہیں کیا۔ لاٹھی ان کو ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں لا کر دی تھی جب وہ بخار کی وجہ سے تھوڑی کمزور ہو گئی تھیں۔ لیکن وہ اس لاٹھی کو بطور سہارا بہت کم استعمال کر پائی تھیں۔ ان کا دل نہیں چاہتا تھا۔ البتہ آخری دو سال اگر کوئی بیس تیس فٹ چلنا ہوتا تو لاٹھی کا استعمال کر لیتی تھیں ورنہ وہ ہاتھ میں ہوتی تھی اور بنا استعمال کے چلتی تھیں۔یہ اللہ پاک ان پر بہت بڑا احسان تھا۔
گیارہ مئی 2011 کو وہ وضو کے لیے جا رہی تھیں کہ گر گئیں۔ ان کے کولہے کی ہڈی متاثر ہوئی بلکہ فریکچر ہوئی۔ اب ان کی عمر ایسی تھی کہ پلستر نہیں کیا جا سکتا تھا تو ڈاکٹرز نے راڈز ڈال دیے۔ اب اللہ کا کرنا ایسا تھا کہ جس دن وہ گریں اس دن کے بعد سے وہ مکمل ہوش میں نہیں آئیں۔ جس دن آپریشن ہوا تھا اس کے بعد سے صرف تکلیف کی وجہ سے وہ کراہتی تھیں ۔ لیکن زیادہ تر کومہ کی حالت میں رہی تھیں۔ صاحبِ علم تھیں۔ چونکہ ہر وقت ذکر خدا ان کی زبان پر ہوتا تھا کہ تمام عمر ان کے ہاتھ میں تسبیح رہی اور گردش میں رہی۔ البتہ میں نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ جب وہ بات کر تی تھیں تو ان کی تسبیح رک جاتی تھی۔ نہ کہ آج کل کے نام نہاد تسبیح مارنے والوں کی طرح جو بات بھی کرتے تھے اور ساتھ میں تسبیح کے دانے بھی چلتے تھے۔
گرنے کے بعد سے بیس دن تک وہ بستر پر رہیں۔ ان کو گلوکوز لگتے رہے یا مائع خوراک دی جاتی تھی وہ بھی چمچ کے ذریعے ان کے دہن میں اتاری جاتی تھی۔ اللہ کی مرضی کی بات ہے کہ ان پورے بیس دن ان کو واش روم کی حاجت نہیں لگی۔ 31 مئی 2011 کو وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ محلے کی ایک خاتون آئیں اور میری امی جان سے کہا کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک پکارنے والا کہہ رہا ہے کہ راستے کو صاف کرو اللہ کا قریبی دوست آرہا ہے۔ پھر میں نے اس گھر سے جنازہ نکلتے دیکھا۔ ان کے جنازے میں ایک جمِ غفیر نے شرکت کی تھی۔ ہمارا پورا گاؤں اٹھ کر آگیا تھا ۔ خواتین نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی روحانی ماں دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔آج وہ حقیقی معنوںمیں یتیم ہو گئی ہیں۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، آمین۔