ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

مجھے اپنی عمر تو یاد نہیں شاید آٹھ سال یا دس سال لیکن اسی کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔ جب میں نے ایک جاسوسی ناول زرد لفافہ پڑھا۔ اس سے پہلے میں سسپنس ڈائجسٹ کا ذائقہ چکھ چکا تھا۔ خیر زرد لفافہ ناول اگر چہ یہی کوئی سو صفحات کا تھا لیکن اس کے بعد جو چسکا جاسوسی ناولوں کا لگا تو ایسا لگا کہ آج چالیس کی حد پار ہو گئی ہے لیکن شاید ہی کوئی ناول ایسا ہو جس کو سلور فش یا کتابی کیڑے کی طرح نہ چاٹا ہو۔ انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران مرز یا شوکی سیریز سے پھر چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔ خود تو خرید نہیں سکتا تھا کہ والد مرحوم نصابی کتابوں کے علاوہ اور کسی کتاب کی طرف نگاہ ڈالنے کی اجازت تک نہیں دیتے تھے چہ جائیکہ جاسوسی ناول۔اس کا حل یہ نکالا کہ اس وقت کے جو یار دوست ناولوں کے شوقین تھے اور ان کا جیب خرچ اتنا تھا کہ بازار سے ناول خرید سکتے تھے، انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مارکیٹ میں جمشید، کامران مرزا یا شوکی سیریز کا ہر آنے والا ناول خردیں۔ مزے کی بات ہے کہ انھوں نے بھی یہ ناول پڑھ کر ہی حامی بھری تھی۔

غیر نصابی کتابوں کو بھی شوق چرایا۔ لیکن ناولوں نے کچھ ایسا من میں بسیرا کر لیا تھا کہ شاید غالب کا یہ مصرعہ کہ چھٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی، مجھ پر سو فیصد لاگو ہو تا تھا۔اس حد تک ناولوں کا شوق چڑھ گیا تھا کہ سکول میں ٹیچر سبق پڑھا رہے ہوتے تھے اور میں کتاب کے اندر ناول رکھ کر پڑھا کرتا تھا۔ کئی بار ٹیچر نے ناول قبضہ کر کے نقصان بھی دیا، کئی بار مرغا بھی بنا، ہاتھوں پر بید سے مار بھی کھائی، لیکن کیا مجال کہ منہ کا ذائقہ بدلا ہو۔ نوبت یہاں تک آپہنچی تھی کہ دسویں کے امتحانات شروع ہونے میں دس بارہ دن رہتے تھے۔ سارے کلاس فیلوز، سارے ساتھی اپنی نصابی کتابوں کو چاٹ رہے تھے، رٹے پہ رٹا لگا رہے تھے اور کچھ بوٹیاں بنانے میں مصروف تھے۔ جب کہ مابدولت ان دنوں میں بھی دن میں کم از کم دو سے تین ناول نہ پڑھ لیں ریاضی کے سوالات سمجھ ہی نہیں آتے تھے۔ جغرافیہ کی یہ صورت حال تھی کہ چین پاکستان کے مغرب میں نظر آتا تھا اور پاکستان کے جنوب میں واقع بحرِ ہند میں افغانستان دکھائی دیتا تھا۔پہلے پرچے سے کوئی چار دن پہلے والد صاحب کو شک سا پڑھا کہ اتنا پڑھاکو تو نہیں ہے کہ ہر وقت کمرے میں گھسا رہتا ہے۔انھوں نے کمرے کی تلاشی لینی شروع کی تو بستر کی پیٹی کے پیچھے سے کوئی تیس کے قریب جمشید، کامران مرزا اور شوکی نکلے۔اس وقت آپ کے اس لکھاری کو اللہ نے بچایا ورنہ آج میں یہ تحریر نہ لکھ رہا ہوتا۔
سچ کہوں تو وہ ناول ناول نہیں تھے بلکہ ایک اکیڈمی تھے۔ انھوں نے مجھے ذاتی طور پر بہت کچھ سکھایا۔ زندگی میں جینا سکھایا۔ پریشانی میں ، تکلیف میں انکا مقابلہ کرنا سکھایا۔کسی بھی مشکل میں ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھنا بلکہ اس کا حل کیسے ڈھونڈھنا ہے، یہ سکھایا۔اردو کے حوالے سے جس لیول کا بھی امتحان دیا، کبھی فیل نہیں ہوا۔ کیونکہ مجھے یقین ہوتا تھا کہ میں نے اردو میں جو بھی مضمون لکھا ہے، کسی شعر کی تشریح لکھی ہے تو خوب لکھی ۔ محاورات و ضرب الامثال کا استعمال بھی موقع محل کے مطابق خوب سے خوب تر کیا ہے۔ پھر روزمرہ کی بات چیت میں جو کسی حد تک حاضر جوابی سیکھی یا کسی کی بات کو گھما پھرا کر اسے چکر پر چکر دیے، یہ بھی فاروق اور آفتاب یا مکھن نے سکھایا۔اپنے وطن سے محبت کا جذبہ بڑھتا گیا اور تناورد رخت بنا۔ سب سے بڑھ کر اللہ سے، اسکے رسول پاک ﷺ عشق کا سبق پڑھا اور پھر چھٹی نہ ملی کہ مکتب عشق میں داخلہ مل چکا تھا۔یہ سب اگر کمال تھا ، یہ سب حسن جمال تھا توواقعی اشتیاق احمد لازوال تھا۔ یہ سب کچھ صرف میں نے ہی نہیں حاصل کیا بلکہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے لاکھوں افراد اس مرحلہ سے گزرے ہوں گے۔ جھوٹ نہیں بولنا، بڑوں کی عزت کرنی ہے، بے شک اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے، لیکن دل جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ، تو اشتیاق احمد دل سے لکھتے تھے اور قاری دل سے پڑھتے تھے۔ تو دل والے جب دل والوں سے ملتے ہیں تو متأثر ہوئے بنا نہیں رہتے۔اور اشتیاق احمد نے لاکھوں افراد کو متأثر کیا۔
محترم اشتیاق احمدصرف ایک جاسوسی ناول نگار ہی نہیں تھے بلکہ انھوں نے عبداللہ فارانی کے نام سے بھی بہت سی اسلامی کتابیں لکھیں۔سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، سیرت صحابہ قدم بہ قدم، سیرت صحابیات قدم بہ قدم اور ڈھیروں اسلامی کتابیں ان کے قلم سے قلم بند ہوئیں۔ تحریک ختم نبوت ﷺ کے داعی تھے۔ گستاخِ رسول ﷺ قادیانوں کے خلاف جب جب، جہاں جہاں ان کو موقع ملا انھوں نے قلمی، زبانی جہاد کیا۔مجھے یقین ہے کہ اللہ پاک کو اگر کچھ بھی پسند نہ آئے، جو انھوں نے آقائے نامدار احمد مجتبٰی ، محمد مصطفی ﷺکی شان بلند کی، ان کی حرمت کا دفاع کیا، یہ اللہ کے دربار میں ضرور قابلِ قبول ہو گا۔ اسلامی کتابیں لکھنے کا انداز بھی اتنا منفرد اور سہل تھا کہ اگر پانچویں کلاس کا بچہ بھی پڑھے تو بہت آسانی سے سمجھ لے گا۔ناول تو تھے ہی بچوں کے لیے ۔ لیکن یہی بچے ان کے ناول پڑھتے پڑھتے پوری ایک نسل پروان چڑھ گئے۔ انھوں نے ۱۹۷۳ ؁ء میں لکھنا شروع کیا تھا اور آج بیالیس سال ہو گئے ہیں، تو ایک نسل جوان تو کیا ادھیڑ عمری میں پہنچ گئی۔ میں نے عمران سیریز پڑھیں، ہر مصنف کی پڑھیں لیکن سب میں منفرد ابنِ صفی مرحوم ہی تھے کہ انکا ہر ناول ایک دوسرے سے جدا ہوتا تھا۔مظہر کلیم صاحب نے ابنِ صفی کے بعد عمران سیریز کو آگے بڑھایا چار سو کے لگ بھگ ناول لکھے لیکن کبھی کبھی کسی ناول میں احساس ہوتا تھا کہ یہ تو پہلے ہی کسی ناول میں ہو چکا ہے۔کبھی کبھی بوریت ہو جاتی تھی۔پھر ظہیر احمد آئے جن کا ہرتیسرا ناول یہ احساس دلاتا ہے کہ پورا ناول ہی پہلے پڑھا ہوا ہے، تو سارا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے۔
اس کے بالعکس محترم اشتیاق احمد کا ہر ناول ایک دوسرے سے ہمیشہ مختلف ہوتا تھا۔ کبھی بھی کسی ناول میں یہ احساس نہیں ہوا کہ پہلے پڑھا ہوا ہے۔ انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران مرزا یا شوکی سیریز کے علیحدہ علیحدہ ناول ہوں یا انکے مشترکہ خاص نمبر، ہر ایک کی ایک جداگانہ حیثیت ہوتی تھی۔ واقعی میں اللہ نے اشتیاق احمد صاحب کو خداداد صلاحیت بخشی تھی۔ کافی لمبے عرصے تک وہ ہر ماہ چار ناول لکھتے رہے۔ انکی زندگی میں کافی نشیب و فراز آئے۔ کبھی پبلشرز کی طرف سے تو کبھی تقسیم کار کی جانب سے۔ لیکن جب وہ خود دوسروں کو یہ سبق دیتے تھے کہ ہمت نہیں ہارنی بلکہ ہر مشکل کا مقابلہ کرنا ہے تو خود کیسے پیچھے رہتے۔جب وہ چار ناول ہر ماہ لکھتے تھے تو گویا ایک سال کے اڑتالیس ناول۔ مجھے نہیں یقین کہ دنیا کے کسی بھی مصنف نے یا ناول نگار نے اس طرح کے منفرد ناول اتنی تعداد میں لکھے ہوں۔
ان کے ناولوں کی تعداد مشہور تو آٹھ سو ہے۔جو صرف جاسوس ہیں۔لیکن میرے خیال میں یہ تعداد ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اگر حکومت پاکستان تھوڑی سی ہمت کر لے تو ایک تو محترم اشتیاق احمد کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہو سکتا ہے اور شاید بہت لمبے عرصے تک رہے۔ دوسرا بعد از وفات انہیں ادب کا نوبل انعام بھی مل سکتا ہے کہ انھوں نے اردو ادب کی اتنی خدمت کی۔بے شک جاسوسی ناولوں کو ادب میں نہیں گردانا جاتا لیکن بحیثیت مصنف تو ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاسکتا ہے۔جنھوں نے آج تک کوئی بھی کارہائے نمایاں نہیں انجام دیے ان کو تو پرائیڈ آف پرفامنس ایوارڈ مل سکتا تو جنھوں نے ایک پوری نسل کی زندگی سنوار دی ، انہیں کیوں نہیں نوازا جا سکتا۔یہ ہماری طرف سے ان کے لیے کم سے کم خدمت ہو گی۔
کہیں پڑھا تھا کہ جس میدان کا شہسوار ہو وہ اسی میدان کا ہیرو ہوتا ہے اور اسی میدان میں ہی لوگوں کے دل جیت سکتا ہے۔ وہ کھلاڑی کسی دوسرے میں میدان میں ہر گز اپنے جوہر نہیں دکھا سکتا۔ لیکن محترم اشتیاق احمد نے ہر قسم کے ناول لکھ کر یہ ثابت کیا کہ وہ علم کا ایک سمندر ہیں۔ ان کے ناولوں میں جدید سائنس کا استعمال، تاریخ کی باتیں، جنگل کی یا سمندر کے حوالے سے انھوں نے اپنا علم بچوں کے ذریعے عوام تک پہنچایا۔ناولو ں کا کونسا شعبہ تھا جو زیرِ قلم نہیں آیا۔ ہاں نہیں آیا تو واہیات نہیں لکھا۔مرد عورت کو خلوت میں کبھی نہیں لکھا۔بچوں کی صحیح معنوں میں تربیت میں اپنا کما حقہٗ کردار ادا کیا۔ واقعی انسان اپنے کردار اور کارناموں سے فاتح بنتا ہے نہ کہ میدان اور میدان کے دلداروں سے…اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو کشادہ فرما کر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، آمین، ثمہ آمین۔

؂ فاتح جو ہر میدان کے تھے وہ تو گزر گئے
دن زندگی کے چار وہ کر کے بسر گئے

******************************