وہ جو کہتے ہیں کہ بیابانوں کو سنواریں گے ہم

وہ جو کہتے ہیں کہ بیابانوں کو سنواریں گے ہم
ان سے پوچھو کہ اجاڑیں ہیں گلستاں کس لیے

آج یہ شعر نظر سے گزرا تو کئی بار پڑھا اور پھر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے۔میری آنکھوں کے سامنے اپنے وطن کے عوامی نمائندوں کی لاجواب شعلہ بیانی سے پر تقریریں الفاظ کی صورت میری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگیں۔ وہ الفاظ چیخ چیخ کر میرے کانوں میں پکار رہے ہیں کہ ہم بے زبان ہیں، بے آواز ہیں، بے لگام ہیں، جس کا جو چاہے اپنے من کے مطابق ہمیں استعمال کر لیتا ہے۔ وہ الفاظ اگر حقیقت کا روپ دھار لیں تو ہمارے پیارے دیس کی ہر گلی ، ہر محلہ اپنی تقدیر پر ناز کرے۔ ہمارے وطن کا ہر شہری فخر سے کہ کہ اس کا ووٹ رنگ لایا ہے۔ اس کو میسر ہے تین وقت کا پیٹ بھر کر کھانا، ا سکو میسر ہے دھوپ بارش سے بچاﺅ کے لیے چھت اور بیماری میں علاج معالجے کی مفت سہولیات۔لیکن پیارے قارئین۔ فی الوقت تو یہ سب کچھ میرے اس دیس میں خواب می ہی ممکن ہے۔کھلی آنکھو سے اس ملک میں اس طرح کے خواب دیکھنے پر پابندی ہے۔ کہ جو یہ خواب دیکھتا ہے، پھر اس کی تعبیر بھی چاہتا ہے۔ تعبیر چاہنے کے لیے وہ وقت کے یزید سے توقع کرے گا لیکن وقت کا یزید فرات کا پانی ہی بند کردیتا ہے تو خواب کی تعبیر کہاں سے دے گا۔
اس وطن کے ساتھ کون مخلص ہے اور کس حد تک ہے سب جانتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اگر کوئی سامنے رہ کر مخلص ملا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں۔ جنھوں نے اپنا تن من دھن پاکستان کے لیے گروی رکھ دیا۔ نوبت یہاں آپہنچی کہ اس عید قرباں پر وہ قربانی بھی نہ کر سکے کہ صاحب استطاعت نہیں رہے تھے۔الیکشن کے دنوں میں دلفریب، خوش کن نعرے سب لگاتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ ملک کی تقدیر بدلنے کی باتیں کرتے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کی باتیں کرتے ہیں ۔ ملک میں تعلیم کی شرح سو فیصد کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مفت تعلیم مہیا کرنے کی بات کرتے ہیں۔ عوام کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں، غریب کی غربت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن۔۔۔ بات ہی ختم ہو جاتی ہے ، سب کچھ رہ جاتا ہے۔ یہ باتیں کرنے والے جب الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور جو پہلا بل پاس کرواتے ہیں وہ ان کی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا بل ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کا گزارہ نہیں ہوتا۔ ارے ظالمو، سب کچھ تو تم لوگوں کو مفت میسر ہے۔ گیس، بجلی، ٹیلیفون، پٹرول، ہوائی جہاز اور ریل کا ٹکٹ، علاج معالجہ کی سہولیات، کھانا پینا، رہائش۔۔تو تم لوگوں کو تنخواہ کی کیا ضرورت ہے۔ پھر جب تک اگلا الیکشن نہیں ہو جاتا ہر پارٹی دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگی ہوتی ہے۔ کبھی سڑکوں پر گھسٹینے کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں تو کبھی احتساب احتساب کی ۔ لیکن احتساب وہ کرے، جو خود صاف ہو۔ پانامہ لیکس میں نام آنافخر کی بات محسوس ہوتی ہے۔ دوسروں پر تو انگلی اٹھا لی جاتی ہے، لیکن اپنے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔اگر بھولے سے ان کو عوام کا خیال آجاتا ہے تو گاہے بگاہے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کبھی تو سڑکوں کا جال بچھانے کی باتیں کی جاتی ہیں اور دکھاوے کے لیے پرانی سڑکوں کو ہی اکھاڑ کر نیا کر لیا جاتا ہے کہ پیسہ بھی لگ گیا، ٹھیکیدار بھی خوش، اپنی جیب بھی بھاری اور عوام کو سہولت بھی مل گئی۔ بھلے اسی سڑک پر موجود ہسپتال میں مریض برآمدوں میں بیٹھے ڈاکٹر اور دوائی کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو جائیں۔
۵۶۹ا کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ جنگ تعداد سے نہیں بلکہ جذبے سے جیتی جاتی ہے۔ اس جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارت کے ہزاروں مربع میل کے علاقے پر قبضہ کیا۔ لیکن معائدہ تاشقند میں بجائے اس کے کہ ہم اپنی شرائط پر معائدہ کرتے کہ جنگ بند کرنے کی خواہش ہندوستان نے کی تھی، ہم نے جیتی ہوئی جنگ میز پر ہار دی۔ ۹۹۹۱ میں کارگل میں حالات اس نہج تک پہنچ چکے تھے کشمیر کی آزادی چند دنوں کی بات تھی لیکن اس وقت کے حکمران نے امریکہ جیسے امن کے دشمن کو ثالث بنا کر اپنے سینکڑوں فوجی بھی مروادیے اور ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے نعرے نہیں لگائے جاتے ، دھرنے نہیں دیے جاتے۔بقول عباس تابش :۔۔
اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی؎
ہاتھ گھل جاتے ہیں پھر کوزہ گری آتی ہے
لیکن یہاں تو ہمارے مستقبل کے معمار بچوں کو ان مسائل و مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے کہ اگر ان سے عام عوام گزرے تو ان کی چیخیں نکل جائیں۔ نہ ان کو تعلیمی نصاب کا تسلسل ملتا ہے، نہ کوئی اچھا استاد جو علم کو ان کے دل و دماغ میں اس طرح راسخ کرے کہ اس علم کو وہ اپنی زندگی پر لاگو کر سکیں۔ لیکن اساتذہ کی اکثریت سکولوں میں وقت گزاری کے لیے آتی ہے۔ کتابوں سے پڑھا کر بچوں کو رٹا لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ مجال ہے کہ بچے کو کتاب سے ہٹ کر کچھ نیا بتایا جاتا ہو۔ بچے کے ذہن کو محدود ہی رکھا جاتا ہے۔ اس کی ذہنی استطاعت کے مطابق اس سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ اس کے ذہن کو ہی محدود کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا بچہ اپنی کتاب سے ہٹ کر کچھ سوچ ہی نہیں پاتا۔ جب بچہ اپنی تعلیم میں اس طرح ہوتا ہے تو وہ زندگی کے گونا گوں مسائل و مشکلات کا سامنا کیسے کرے گا۔وہ معاشر ے کے لیے مفید فرد کیسے بنے گا؟
اس کے ملک کے بیابانوں کو اگر نخلستاں بنانا ہے، گلستاں بنانا ہے تو اس کے لیے ضروری تو نہیں کہ پہلے سے موجود سہولیات کا خاتمہ کردیاجائے۔ یہ تو بہت آسان ہے کہ اس دیس میں موجود ومحدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مزید وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس دیس میں بجلی کی کمی ہے تو پن چکی، ہوائی چکی، شمسی توانائی، ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ شیر کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ سڑکیں بچھانے سے فرصت ملے تو ملک کے عوام کے بارے میں کچھ سوچا جائے۔اس ملک پاکستان کا ہر مسلہ قابل حل ہے، بات صرف خلوص نیت سے دل لگانے کی ہے۔ اس کا حل تلاش کرنے کی ہے اور تلاش کرنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، یہ تو پھر دنیا کے مسائل ہیں۔انفرادی سوچ کی بجائے اجتماعی اور وطن کے لیے سوچنا ہو گا اور پھر سوچ پر عمل کرنا ہو گا تو ہم نئے بیاباں سنواریں گے اور پہلے سے موجود گلستان مزید خوبصورت ہوں گے۔
ہمارے وطن کے ہر شعبے میں نئے بیابانوں کو سنوارنے والے ہی پہلے سے موجودگلستانوںکو اجاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میںدل لگاکر کام کیا جاتا ہو۔ محنت سے اور محبت سے کام کو اپنا ذاتی کام سمجھ کر اس کے انجام دیا جاتا ہو۔ڈاکٹر اگر سرکاری ہسپتال میں ہے تو مریض سے جان چھڑانے کی بات کرتا ہے۔ کوئی سرکاری ملازم ہے تو سارا دن ادھر ادھر کے کاموں میں جو کے کام نہیں ہوتے، وقت ضائع کرتا ہے۔ انگلش کا ایک محاورہ ہے Look busy, do nothing… تو وہ اس محاورہ کو ہمیشہ ہی سچا ثابت کرتا ہے۔ اس کی ٹیبل پر فائلوں کے ڈھیر ہوں گے، اور گھنٹے آدھے گھنٹے بعد ایک فائل کو اٹھا کر دیکھ لے گا۔۔ کوئی دیکھ رہا ہو گا، تو فائل کے اندر گھس جائے گا، ویسے ہی صفحات کو الٹ پلٹ کرے گا، لیکن کام کیا ہے، وہ نہیں کرنا۔ شاید ہی کوئی شعبہ ہوسوائے ایٹمی ٹیکنالوجی کے، جس کی بدولت آج اللہ کے فضل سے دشمن پاکستان کو جنگی آنکھ دکھانے سے پہلے ایک دفعہ تو ضرور سوچتے ہیں ، یہ الگ بات کہ سر میں خناس سما جائے اور وہ اکڑ بیٹھیں۔ پیارے قارئین، ایک دفعہ سوچنے کا حق تو بنتا ہے نہ پہلے سے موجود گلستان کو مزید بہتر کرنے کے لیے، اور نئے گلستاں آباد کرنے کے لیے۔۔۔