چٹاخ۔۔ معصوم بچے کے پھول جیسے نازک سے گال پر ایک زودار تھپڑ لگا۔ بچے نے اس گال پر اپنا ہاتھ رکھا اور سسکتے ہوئے اپنے چاچا رحیم دادکی طرف کو دیکھا جو غصے میں اس پر چلا رہا تھا۔بچے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
پڑھ لکھ کر کیا بنے گا۔ تحصیلدار یا ڈی سی۔ یا پھر کرمو کے بیٹے کی طرح دو جماعتیں پڑھ کر دوسروں پر رعب جمائے گا۔ ؟ اسکا چاچا غصے سے اسکو دیکھتے ہوئے بولا اور پھر ٹہلنا شروع کر دیا۔
بچہ تو معصوم تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جب بڑے غصے میں ہوں اور انھیں قائل نہ کیا جا سکتے تو پھر خاموشی بہترین علاج ہوتی ہے۔ اسکو ان باتوں کی سمجھ نہیں تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ تحصیلدار کیا ہوتا ہے یا ڈی سی کیا بلا ہوتی ہے۔ البتہ اسکی آنکھوں میں موجود چمک کسی اور بات کی غمازی کر رہی تھی۔
چاچا! میں بڑا آدمی بنوں گا۔ بچہ روتے ہوئے ہکلا کر بولا۔
اسکا چاچا جو غصے میں ٹہل رہا تھا ، بچے کی طرف اسکی پیٹھ تھی۔ ایک جھٹکے سے رکا اور مڑا۔ تو مڑتے ہوئے کمرے کے درمیان میں پڑی میز کے کونے سے اسکی ٹانگ ٹکرا گئی اور چوٹ لگی۔ اس کو اور بھی غصہ آگیا۔
ابے چپ کر ۔ بڑا آیا ، بڑا آدمی بنوں گا۔ رحیم داد یوں آگے بڑھ کر اونچی آواز میں بولا جیسے ایک تھپڑ اور لگانے لگا ہو۔
بچہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اسکے پیچھے کرسی تھی وہ سیدھا کرسی سے ٹکرایا اور کرسی سمیت پیچھے جا گرا۔
اندھا ہے کیا؟ اب اپنا سر پھوڑے گا۔چاچا غصے میں تھا تو بچے کے گرنے پر اسکو مزید غصہ آگیا۔
بچہ جلدی جلدی اٹھا۔ گرنے سے شاید اسکی کہنی پر چوٹ لگ گئی تھی تو کہنی پر ہاتھ رکھ کراہیں بھرنے لگا۔
چل بھاگ۔ اماں کو بول کہ تیری مالش کرے۔ رحیم داد نے بچے کو ہلکا سا دھکا دیتے ہوئے تھوڑا سا نرم لہجے میں کہا۔
بچہ اس دھکے کو پھر غصہ سمجھا اور جان چھوٹنے پر تیزی سے بھاگ کر دروازے سے نکلنا چاہا۔ دہلیز میں اسکا پاؤں اٹکا اور وہ منہ کے بل جا گرا۔
منیرے ! اندھا ہو گیا ہے کیا؟ نظر نہیں آتا۔ کب عقل آئے گی۔ کب سمجھو گے، سدھرو گے؟ رحیم داد غصے میں شور کرتا ہوا تیزی بچے کی جانب بھاگا۔
بچے نے جب رحیم داد کے شور کی آواز سنی تو تیزی اٹھ کر بھاگا۔ اسے یہ احساس بھی نہ رہا کہ اسکی ناک سے خون بہہ رہا ہے جو گرنے سے زمین پر زور کی لگی تھی۔ بچہ دوڑتا ہو رسوئی کی طرف گیا، جہاں اسکی ماں چولہے میں لکڑیاں پھونک رہی تھی اور اسکی آنکھوں سے آنسوگر رہے تھے۔کمرے میں لگا ساٹھ واٹ کا بلب کم روشنی دے رہا تھا اور لکڑیوں سے پھیلنے والے دھوئیں کی وجہ سے اسکی روشنی میں مزید کمی ہو رہی تھی۔ شاید بچے کی ماں کی آنکھوں سے آنسو گرنے کی وجہ یہ دھواں ہی ہو۔ بچے کو آتا دیکھ کر اس نے جلدی جلدی اپنے میلے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرنے کی ناکام کوشش کی۔ کیونکہ ادھر اس نے صاف کیے، ادھر پھر نکل آئے تھے۔
جونہی اسکی نگاہ بچے کی ناک سے بہتے خون پر پڑی وہ جلدی جلدی اٹھی۔
ہائے میرا بچہ۔ کیا ہو گیا؟ یہ خون کیسے نکلا۔ وہ اپنے دوپٹے سے خون صاف بھی کیے جا رہی تھی اور ساتھ میں سوال در سوال کیے جا رہی تھی۔
بچے نے جب ممتا کا لمس محسوس کیا تو آواز کے ساتھ رونا شروع ہو گیا۔ ہچکیاں لینا شروع کر دیں۔اس سے پہلے بے آواز بس سسکیاں ہی بھر رہا تھا۔ ماں نے جب اسکے رونے کو دیکھا تو گویا اسکے دل پر چھری سی چل گئی۔ سمجھ گئی کہ کسی نے کچھ کہا ہے۔ اور ہو نہ ہو یہ اسکا چاچا ہی ہو سکتا ہے۔
چاچا نے مارا ہے؟ ماں نے اسکا خون اور آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
نہیں اماں۔ دوڑتے ہوئے گر گیا تھا۔ بچے نے رونے کو سسکیوں میں بدل کر جواب دیا۔
ساتھ ہی اس نے اپنے ماتھے پر آئے ہوئے تیل سے بھرے بالوں کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تو جو کہنی پر چوٹ لگی تھی اس سے بھی ایک ٹیس اٹھی او ر دوسرے ہاتھ سے کہنی پر ہاتھ رکھ کر زور سے کراہا ۔
نہیں ۔ کسی نے تو ضرور مارا ہے۔ کہ ناک سے لہو بھی بہہ رہا ہے اور کہنی پر بھی چوٹ لگی ہوئی ہے۔ ماں نے آستین کو اوپر کر کے کہنی کو دیکھتے ہو ئے کہا۔ کہنی پر نیل کا نشان نظر آرہا تھا۔
نہیں اماں۔ سچ کہہ رہا ہوں۔ دوڑتے ہوئے گرا تھا تو کہنی پر بھی چوٹ لگی تھی۔ بچے نے جواب دیا۔
اسکی ماں نے جلدی جلدی ایک اور کپڑا چولہے کی آنچ سے گرم کیا اور اسکی کہنی پر رکھ کر سینکنا شروع کر دیا۔ چار پانچ بار یہ عمل دہرایا تو بچ کہنی کے درد میں کچھ سکون محسوس ہوا۔ پھر ماں نے ایک دیوار میں بنی ایک مٹی کی الماری سے سرسوں کے تیل پرانی سی بوتل نکالی جس کو شاید کافی عرصہ صاف نہیں کیا گیا تھا تو باہر سے بھی اس پر گرد میل کی صورت جمی ہوئی نظر آرہی تھی۔ ماں نے اسکی آستین پوری اوپر کو تہہ کی۔ پھر اپنی ہتھیلی پر تیل ڈال کر اس سے اسکی کہنی پر مالش کرنے لگی۔ تھوڑی دیر تک ملتی رہی۔ پھر اسکی آستین کو نیچے کیا۔ اس کو اپنے کمرے کی طرف بھیج دیا جہاں دونوں ماں بیٹا سوتے تھے۔
جب بچہ چلا گیا تو اسکی ماں کی آنکھوں سے گویا سوتے پھوٹ پڑے۔
“واہ میرے مولا۔ تیاری کا موقع دیا نہیں، امتحان بھی لیتا ہے اور نقل بھی نہیں کرنے دیتا۔ تیری شان ہی نرالی ہے۔ تیری باتیں تو ہی جانے۔” چھت کی طرف دیکھ کر وہ مخاطب ہوئی۔
پھر اس نے چولہے میں لگی لکڑیوں کو ایک دوسرے دور کیا۔ ان پر پانی کا ہلکا ہلکا چھڑکاؤ کیا، تاکہ آگ بجھ جائے۔ جب انگاروں نے بھی سلگنا بند کر دیا تو ان انگاروں کو بکھیر کر وہ تسلی کر کے کہ کوئی سلگتا تو نہیں رہ گیا، اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ دیکھا تو بیٹا جاگ رہا تھا۔
اماں ! میں اسلم ، بلال، پرویز کی طرح کیوں نہیں پڑھ سکتا۔ میں سکول کیوں نہیں جا سکتا؟ بچے نے جب دیکھا کہ اسکی ماں چارپارئی پر بیٹھ گئی ہے تو اس سے سوال کیا۔
کیوں نہیں جا سکتا۔ یہ کس نے تجھے کس نے کہا ہے؟ اسکی ماں سدراں بی بی اپنی چارپائی سے اٹھ کر بیٹے کی چارپائی پر اسکے قریب آکر بیٹھ گئی۔
ماں وہ چاچا کہہ رہا تھا کہ میں سکول نہیں جا سکتا۔ بچے نے گویا پندرہ منٹ پہلے ہونے والا سارا واقعہ سنا دیا۔
ماں کوئی بھی ہو، پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ۔ ماں ہوتی ہے۔ بچے کی کہنی کی چوٹ، ناک سے بہتے ہوئے خون کا راز جان گئی۔ لیکن نہیں چاہتی تھی کہ بیٹے کے دماغ میں کوئی غلط خیال پیدا ہو۔
نہیں بیٹا۔ تیرے چاچے کا یہ مطلب نہیں تھا۔ بلکہ انکا مطلب یہ تھا کہ تم تو ابھی چھوٹے ہو۔ اسلیے نہیں جا سکتے۔ جب بڑے ہو جاؤ گے تو ضرور جانا۔”
لیکن اماں۔ وہ اسلم اور بلال بھی تو میرے جتنے ہیں۔ پھر وہ کیوں جاتے ہیں ؟ بچے نے کو نیند آرہی تھی۔ نیند کی حالت میں سوال کیا۔
ماں کو احساس ہو چکا تھا کہ بچہ اسکی بات سنے گا تو سہی، لیکن اسکو مفہوم سمجھ نہیں آئے گا۔ لیکن پھر اس نے جواب دینا اپنا فرض سمجھا۔
میرے پتر۔ یہ دنیا کی رِیت ہے۔ جب کسی کا باپ اسکے بچپن میں مر جائے تو پھر دنیا اسکو اسکی مرضی سے جینے نہیں دیتی۔ یا تو وہ اسکو اتنا مجبور کر دیتی ہے کہ وہ سسک سسک کر دنیا میں زندگی گزارتا ہے یا پھر وہ معاشرے سے بغاوت کرکے اپنی زندگی جینے کی کوشش کرتا ہے، لیکن پھر بھی دنیا اسکے جینے نہیں دیتی۔یہ کہہ کر اس نے بیٹے کی چادر کو درست کرکے اسکو سینے تک ڈھانپا۔ پھر اٹھ کر اپنی چارپائی پر جا کر لیٹ گئی۔
لیکن بیٹا تو پڑھے گا۔ ضرور پڑھے گا۔ میں تیرے چاچے کو جانتی ہوں۔اسے بس ایک دفعہ کہنے کی بات ہے۔ وہ خود تجھے سکول بھیجے گا۔سدراں بی بی مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔
صبح اٹھ کر حسب معمول اس نے سارا کام سر انجام دیا۔ ناشتہ تیار کیا۔ گھر کی صفائی وغیرہ کی۔ اسکا دیور ہمیشہ بیٹھک میں سوتا تھا۔ سدراں بی بی بیٹھک کے اندرونی درواز ے کے قریب ناشتہ رکھ لیتی تھی اور وہ اٹھا کر لے جاتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ جیسے ہی ناشتہ لینے صحن کے دروازے سے نکلا، تو دیکھا اسکی بھابھی ادھر ہی دھری ایک چارپائی پر بیٹھی ہے اور اسکی طرف دیکھ رہی ہے۔
سدراں بی بی کی آنکھوں میں ایک سوال تھا۔ رحیم داد نے وہ سوال پڑھ لیا۔
بھابھو۔ میں نے تیرے بیٹے کو ہر گز نہیں مارا۔ غصہ ضرور کیا تھا۔ وہ خود ہی ڈر کر بھاگا اور گھر گیا تھا۔ رحیم داد نے وہیں دروازے میں کھڑے کھڑے صفائی پیش کی۔
میں جانتی ہوں، مجھے سب معلوم ہے۔ میں تو یہ کہنے کے لیے رکی تھی کہ وہ سکول پڑھنا چاہتا ہے تو تو اسے سکول میں داخل کرا دے۔ خرچے کی فکر نہ کر۔ سدراں بی بی نے لگی لپٹائے بغیر اسے مدعا بیان کر دیا۔
ایک لمحہ کو تو رحیم داد کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ پھر تھوڑا اونچی آواز میں کہنے لگا۔
بھابھو۔ کیا کرے گا پڑھ کر۔ کھیتوں میں ہل ہی چلانا ہے۔ٹیوب ویل سے پانی ہی بھر بھر کر لانا ہے۔
وہ کچھ بنے نہ بنے، اسکا دل چاہتا ہے، تو پڑھنے دے اسے۔ جس دن وہ تھک گیا، خود ہی پڑھنا چھوڑ دے گا۔ ماں آخر ماں تھی۔ کیسے اپنے بیٹے کی خواہش کو نہ پورا ہونے دیتی۔
رحیم داد جانتا تھا کہ اسکی بھابھی بہت ثابت قدم ہے۔ اگر اس نے بچے کو سکول میں نہ داخل کیا تو وہ خود منیرے کو لے کر سکول چلی جائے گی۔
ٹھیک ہے بھابھو۔ تم ضد کرتی ہو تو میں داخل کرا دیتا ہوں منیرے کو سکول میں۔ رحیم داد نے ہار مان لی۔
بات ضد کی نہیں ہے۔ بات اسکی خواہش کی ہے۔ اور کبھی کبھی جائز خواہش پوری کر لینی چاہیے۔ سدراں بی بی چارپائی سے اٹھتے ہوئے بولی۔
رحیم داد سر کو ہلاتا ہوا ناشتہ لے کر بیٹھک میں چلا گیا اور سدراں بی بی کمرے کی طرف چلی گئی۔
کمرے میں جا کر اس نے بیٹے کے ماتھے کو چوما۔ دو آنسو ٹپکے اور بیٹے کے گالوں میں جذب ہو گئے۔

 

 

khahish