Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
July 16, 2019

ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوںپر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی ، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں ۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ” اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب ، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی ، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

آئی لو یو
July 9, 2019

دنیا کہتی ہے
بہت خوش مزاج ہو تم
کسی کی روح کا ساز ہو تم
جب ہنستے ہو تو
اک تازگی کا احساس جاگتا ہے
جتنی بھی تھکان ہو سب
پل بھر میں دور
کہیں کھو جاتی ہے..
میں ان سے کہوں
تو کیسے کہوں
کہ یہ سب میرے مزاج کا
آدھا حصہ ہے
باقی آدھا وہ جو نصف سے برتر ہے
مجھ سے بہتر ہے..
جس کی مسکراہٹ میرے لبوں
پر دکھتی ہے
وہ دور کبھی رہتی ہے
کبھی دل میں گدگداتی ہے
کبھی من ہی من میں ہنستی ہے..
اس کی آنکھوں میں بس محبت دکھتی ہے
وہ محبت ہی میری روح کی تازگی ہے..
وہی میری مسکان ہے
وہی میری جان ہے

*****

جدھر سینگ سمائے
July 9, 2019

پاکستانی قوم کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اپنے ہی حقوق سے بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں سنا ہے کہ چینی صرف ایک چند پیسے یا ایک دو آنہ فی کلو بڑھی تھی تو عوام سڑکوں پر نکل آئی تھی اور ایوب خان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔،کہ مہنگائی ختم کرو۔مخالف پارٹی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا تھا اور غلط قسم کے نعرے بھی اپنے ورکروں سے لگوائے گئے۔ اب گذشتہ چند سالوں سے ہر حکومت میں ہر بار نزلہ عوام پر گرتا ہے، زلزلہ عوام کے گھروں پر آتا ہے، سونامی اور طوفان سب نے عوام کا ہی رخ کیا ہوا ہے لیکن مجال ہے کہ اب اس عوام میں یکجہتی دیکھنے کو مل جائے۔ ان پر مہنگائی کے بم گرائے گئے، ان پر جینا حرام کیا گیا ، ان کا حقہ پانی بند کیا گیا، ان کے رہنے میں رکاوٹوں کے انبار کھڑے کیے گئے لیکن اس عوام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
گزشتہ حکومتوں میں تو پھر قسطوں میں مہنگائی آتی تھی۔ کچھ اندازہ دنوں پہلے ہو جاتا تھا کہ اگلے چند دنوں میں مہنگائی بڑھے گی۔ اتنے فیصد اشیائے صرف کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ اس لحاظ سے ہر دوسرا پاکستانی اپنے بجٹ کا حساب کتاب لگا لیتا تھا۔ لیکن جب سے یہ حکومت، جس سے شاید پاکستان بننے سے اب تک سب سے زیادہ امیدیں عوام کو وابستہ تھیں، معرضِ وجود میں آئی ہے، تب سے ہر روز مہنگائی آکاس بیل کی طرح عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔کبھی گیس مہنگی کی جا رہی ہے کہ جو بل پہلے دو ہزار روپے آتا تھا اب ایک دم سے پانچ ہزار سے سات ہزار روپے ہوگیا ہے۔ پہلے گھر میں دو ہزار روپے میں گیس چوبیس میسر ہوتی تھی، اب دس گھنٹے ہوتی ہے اور باقی غائب۔ جو میسر ہوتی ہے وہ بھی ٹم ٹم کرتی نظر آتی ہے جس پر صرف چاول ہی دم پر رکھے جاسکتے ہیں۔ بظاہر سبزی اور فروٹ سستا ہے لیکن صرف ان سے تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔صحت صفائی کا نظام اسی طرح ہے جیسے گذشتہ پچاس ساٹھ سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ صرف معیشت کو درست کرنے کی سمت میں تو کام نہیں کرنا۔ ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ۔ عوام بھلے بلبلائے یا تڑپے، کسی کو کیا؟
معیشت درست کرنی ہے ، بیرونی سرمایہ کاری اگر ملک میں لانی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ بند کارخانے کھولے جائیں۔بند کارخانوں کو صرف سرمایہ کی ضرورت ہے۔ تجربہ کار افراد ان کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ جو کچھ بنائیں گے بہترین معیار کا بنائیں گے۔ اس حد تک معیاری کہ بین الاقوامی معیارات کی تنظیم اس چیز کو بے اختیار ہو کر اوکے کرے اور پھر پاکستان اس کو اپنی شرائط پر برآمد کر سکے۔ ساتھ میں کارخانوں کو یہ بھی کہا جائے کہ ابتدائی تین سالوں تک وہ منافع کا ساٹھ فیصد حصہ حکومت کے خزانے میں جمع کرائے گی تا کہ جو حکومت نے ان کو ادا کیا ہے وہ واپس آسکے۔ اس طرح کارخانے بھی چل سکتے ہیں اور حکومت کا خزانہ بھی خالی نہیں رہے گا۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ جو بند ہیں وہ تو ہیں ہی،مزدی بھی بندش کی طرف جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں درآمدات کی کھپت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی کا اژدھا جو کبھی ایک بالشت کا سنپولیا ہوتا تھا اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ بظاہر قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ لیکن سب کچھ ممکن ہے۔ یہ دنیا ہے ، اگر کچھ ناممکن ہے تو وہ صرف وہ کام ہیں جو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ورنہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
حج پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے۔ کہ عوام کے ٹیکسوں پر سود لگا کر حج کی سبسڈی دی جاتی تھی تو اب سود سے حج تو ممکن نہیں۔ مان لیا درست ہے۔ پھر تو ہمارے محترم وزیر اعظم صاحب ان سبسڈیوں پر بھی ایکشن لیں جو عوام کے ٹیکسوں سے کھانے پینے کی چیزوں پر دی جاتی ہے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور دیگر سیکرٹریٹ کے ملازمین کو دی جاتی ہے۔ باہر کسی بھی کم سے کم تر درجے کے ہوٹل پر چائے کا ایک کپ بیس سے تیس روپے کا ملتا ہے۔ جب کہ سیکرٹریٹ میں دس روپے کا ملتا ہے۔ اور بہت سی کھانے پینے کی چیزوں پر بھی اسی طرح کی سبسڈی مل رہی ہے۔ انصاف سب سے پہلے گھر سے شروع کیا جائے ، اپنے گریبان کو سی کر پھر دوسروں کو کہا جائے تو اس کا فائدہ نسلوں تک کو ملتا ہے۔
اب تک تو پی ٹی آئی کی حکومت کی کسی بھی پالیسی کی سمجھ نہیں آئی۔ یوں لگ رہا ہے جس وزیر کا جدھر دل کر رہا ہے ادھر ہی اس کا سینگ سما رہا ہے۔اپنی مرضی کی پالیسیاں لائی جا رہی ہیں۔ عوام کو فائدہ ہو یا نہ ہو۔ گیس کی قیمتیں خود بڑھا کر پھر خود ہی ایکشن لیا جاتا ہے کہ عوام کو بل بہت زیادہ وصول ہوئے ہیں۔ جب رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے اور ساتھ میں سلیب میں تبدیلی یا قیمت میں کمی کی سفارشات کی جاتی ہیں تو ان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس طرح تو سوئی گیس کمپنیوں کو نقصان ہو گا۔ وہ اپنے اخراجات کیسے پورا کریں گے۔ یہی تو مسلہ ہے کہ بجلی اور گیس کے محکموں کے سب ملازمین کو گیس اور بجلی مفت ملتی ہے۔ کیوں؟ جب کہ ان کی تنخواہیں بھی اچھی ہیں اور ان کو دیگر حکومتی سہولیات بھی میسر ہیں تو پھر یہ سبسڈی کیوں؟ عوام کے ٹیکسوں پر یہ دو محکمے کیوں عیاشی کرتے ہیں؟ ان پر کچھ نہ کچھ ایکشن ہونا چاہیے۔ ان ملازمین کو ملی ہوئی گیس اور بجلی کو یہ اپنے اردگرد کے گھروں میں تقسیم کرتے ہیں اور مخصوص رقم بطور منافع ان سے وصول کرتے ہیں۔ آم کے آم گھٹلیوں کے دام۔
عوام بہت پس چکی ہے۔ اگر چند ماہ مزید یہ صورتحال رہی تو مجھے یقین ہے کہ پی ٹی آئی بھی گزشتہ دو پارٹیوں کی طرح عوام کی بد دعاؤں کا حصہ بن جائے گی۔ اگر انھوں نے اپنے سینگوں کارخ درست سمت میں نہ کیا تو کیا پتہ کس مظلوم کی آہ فرش کو ہلا دے۔

صبح سویرے
July 9, 2019

خوبصورت سی صبح میں
خوب ہی خود کو کرتے ہیں
رب کا فضل وہ پاتے ہیں
جو صبح سویرے اٹھتے ہیں
ذکرِ خدا کو پورا کرکے
رزق پھر ڈھونڈنے نکلتے ہیں..
پرند چرند سب دیکھو
تسبیح رب کی کرکے سب
پھر چاروں اور وہ پھیلتے ہیں
توکل رب پر کرتے ہیں
لیکن محنت پھر بھی
ان کی سرشت میں شامل ہے
دانہ دنکا چگتے ہیں
گر بچے ہوں آشیانے میں
ان کا حساب بھی رکھتے ہیں..
رب کا فضل سب پاتے ہیں
جو رب پر توکل کرتے ہیں
اور محنت ک دم بھرتے ہیں..
صبح سویرے سورج کے سنگ
جو بھی چلتے جاتے ہیں..
خوب صورت سی صبح میں
خوب ہی خود کو کرتے ہیں..

**********

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔
July 9, 2019

سوشل میڈیا کا دور ہے۔ تقریباً ہر وہ بندہ اس سے جڑا ہوا ہے جس کے پاس سمارٹ فون ہے، بھلے وہ سوشل میڈیا کے کسی بھی فورم پر ایکٹیو ہو۔ چاہے وہ فیس بک ہو، وٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹویٹر ہو۔ اس سوشل میڈیا کی بدولت ہمیں بہت کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ بہت کچھ دیکھنے کو اور سننے کو مل جاتا ہے۔ اگر کوئی سخت ٹینشن میں ہے تو سوشل میڈیا کی سیر کر لے، ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ ملے گا۔ دنیا بھر کے جگت باز یہاں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت اب جگت بازی صرف فیصل آباد تک محدود نہیں رہی، اب یہاں ہمارے سکول کے بچے بھی چٹکلے چھوڑتے ہیں۔ آپ کی ساری ٹینشن ایک دم دور ہو جائے گی۔ دوسری طرف اگر کسی کا دل کی بھڑاس نکالنے کا دل کرتا ہے تو وہ بھی سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ کسی نے کسی کو بلیک میل کرنا ہے تو س۔ م۔، کسی کا گھر اجاڑنا ہے تو س۔ م۔
لیکن اسی سوشل میڈیا کو کچھ دوست مثبت کاموں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں. میرے دوستوں کی فہرست میں بہت سے ایسے ساتھی موجود ہیں جو لاجواب اور خوب صورت تحریریں لکھتے ہیں اور صرف لکھتے ہی نہیں بلکہ پہلے ان پر خود عمل کرتے ہیں اور پھردوسروں کو عمل کی تلقین کرتے ہیں۔آج بھی حسب معمول میں فیس بک پر آوارہ گردی کر رہا تھا تو ایک دوست ثمر خان ثمر جو کہ داریل، دیامر میں سکول ٹیچر ہیں اور بہت بہترین لکھتے ہیں، ان کی وال ہر ایک تحریر نظر آئی۔ سوچا کہ آپ سب کو بھی ان الفاظ سے مستفید کیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے اخلاقی طور پر ان سے اجازت لینا ضروری تھی، جو کہ میں فون پر لے لی۔ ان کا بڑا پن کہ کھلے دل سے اجازت بھی دی اور کہا کہ اگر کوئی اور بھی اس سے مستفید ہو جائے اور ان باتوں پر عمل ہو جائے توسمجھیں کہ ان کی تحریر کا مقصد پورا ہو گیا۔ لکھتے ہیں:
”بغرض تعلیم مختلف شہروں میں قیام پذیر طلبہ کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میری باتیں آپ پر گراں گزریں ، ناگوار لگیں ، چونکہ آپ کی رگوں میں جوان خون دوڑ رہا ہے اور’جوانی دیوانی‘ کے مصداق اکثر جوان ہوش کو کم اور جوش کو زیادہ کام میں لاتے ہیں۔ احساس تو تب ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔۔۔۔آپ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں۔ انشااللہ بات کی تہ تک پہنچ جائیں گے۔
جیسا کہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ حصول تعلیم کی خاطر گھربار سے میلوں دور کءطلبہ مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ا ±نہوں نے اپنا نصب العین تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ پارٹیوں اور تنظیموں کے بینرز اور پوسٹرز آویزاں کرنا ، جلسوں اور مٹینگوں کا انعقاد کرنا ، ظہرانوں اور عشائیوں کا اہتمام کرنا اور ان سرگرمیوں کے بعد باقی بچ جانے والے لمحات سوشل میڈیا پر پبلسٹی کے لیے دینا معمول بن گیا ہے۔ یہ انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاسی پارٹیاں تو ہیں ہی ، مگر اب سماجی تنظیمیں بھی تواتر سے وجود پا رہی ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن ایک الگ نام سے ایک نئی تنظیم وجود میں آتی ہے اور پھر تبلیغ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں کسی سیاسی پارٹی یا سماجی تنظیم کا مخالف نہیں ہوں۔ علاقائی سطح پر بننے والی تنظیموں کو سراہتا ہوں۔ ان تنظیموں کے استحکام کے لیے حتی الوسع سعی بھی کرتا رہا ہوں۔ یہ تنظیمیں علاقے میں لوگوں کے اندر شعور و آگہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ کام آپ کا نہیں ہے۔ آپ کا مستقبل ان تنظیموں کے جھنڈوں تلے پوشیدہ ہے نہ نعروں کی گونج میں چھپا ہوا ہے بلکہ کتابوں کے سائے تلے نہاں ہے۔ آپ کا کام ہے صرف اور صرف کتاب دوستی اور بس۔۔۔۔۔۔ فرض کیا اگر کسی تنظیم سے وابستگی ناگزیر ہے تو ایک حد میں رہ کر تعلق رکھا جائے ۔ ہر چیز اپنی حد میں بھلی لگتی ہے اور اگر حد پھلانگ لی جائے تو کوئی بھی شے اچھی نہیں لگتی۔
آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ آپ کا فرض، آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ گھر والے آپ پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ کتاب کو کتنا وقت دیتے ہیں اور تنظیم کو کتنا۔۔۔۔۔۔؟ کیا آپ کی سرگرمیوں کی خبر آپ کے والدین رکھتے ہیں؟ کیا آپ میں سے کسی کے سرپرست نے کسی پارٹی یا تنظیم کا حصہ بننے کی اجازت دے رکھی ہے؟ اور اگر نہیں دی ہے تو کیا آپ اپنے گھر والوں کی امنگوں کا خون نہیں کر رہے ہیں؟ کیا آپ دغابازی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟آپ کا کام کسی پارٹی یا تنظیم کے لیے انتظامات کرنا اور چندے بٹورنا نہیں ہے بلکہ دل لگا کر تعلیم حاصل کرنا ہے۔ آپ کی کامیابی کا راز پڑھائی ، پڑھائی اور صرف پڑھائی میں مضمر ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج طالب علم اور پڑھائی کے درمیان حائل سب بڑی رکاوٹوں میں یہ “کارکنی اور سوشل میڈیا کا کثرت استعمال ” شامل ہیں۔ یہ چیزیں بخدا ایک طالب علم کی زندگی میں زہر ہلاہل کا کام دے رہی ہیں۔ کم از کم اپنے علاقائی سطح پر بننے والی سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے میری دستہ بستہ گزارش ہوگی کہ خدارا طالب علموں کو مت گھسیٹیں۔۔۔انھیں پڑھنے دیں۔ یہ کام طلبہ کا نہیں ہے ، یہ آپ جیسے مخلص ، دردمند ، خدمتگار اور ملنسار جوانوں کا ہے۔“
آپ نے ثمر خان ثمر کے الفاظ پڑھے۔ میں ان میں یہ اضافہ کروں گا کہ آپ تعلیم پر ضرور توجہ دیں، لیکن ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی سنواریں۔ ہم دین سے اتنا دور آچکے ہیں کہ ہمارا دین صرف نعروں تک رہ گیا ہے۔ ہم مولویوں کے بہکاوے میں آسانی سے آجاتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں، من و عن اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔یا پھر ہم سوشل میڈیا پر جو کچھ دیکھتے ہیں، یا پڑھتے ہیں اس پر ہم اس طرح رد عمل کرتے ہیں جیسے ہم عقل کل ہیں۔ یا ہم بہت بڑے عالم ہیں۔ ہم ایک معمولی سی سنت پر تو عمل کرتے نہیں،اور چلے ہیں کسی بات کو سچ تسلیم کرنے یا اس کو کلی طور پر رد کرنے۔ دوسرا ہمارا وتیرہ بن گیا ہے کہ ہم ایک دم سے فتویٰ لاگو کر دیتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔ اور یہ بات کہنے والا فوراً کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کرے۔ ایمان نہ تو اتنا کمزور ہوتا ہے کہ بندہ اس کے دائرہ سے نکل جائے، ہاں گناہِ کبیرہ کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔۔ اور نہ ہی دین اتنامضبوط ہوتا ہے کہ دوسروں کی باتوں میں آکر ہم اسے سچ نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس سوشل میڈیا کی بدولت ہم مختلف تحریکیں بھی چلا رہے ہیں، لیکن دوسروں کو صرف مسلمان رکھنے کی تحریک کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔ ہاں فرقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر بہت کچھ ملے گا۔ اور دوسروں پر انگلیاں بھی اٹھاتے ہیںجب اپنے فرقے کی تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں۔ خدارا، آپ صرف مسلمان رہیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر رکھیں تو کامیابی ، حقیقی کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سرخروئی آپ کا نصیب ہو گی۔
**************