Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

متفرق تحریریں

موبائل فون
March 21, 2019
بیٹا، ذرا اپنا موبائل دینا۔ بیٹے نے ایک منٹ کہا اور پھر تمام میسجز ان باکس اورآؤٹ باکس سے ڈیلیٹ کر دیے۔ تمام لڑکیوں کے نمبر ڈیلیٹ کر دیے۔ تمام تصویریں ڈیلیٹ کر دیں۔ پھر اپنے والد کی طرف بڑھایا اور کہا یہ لیں ڈیڈی۔ تو ڈیڈی مسکرا کر بولے، اچھا چھوڑو مجھے ٹائم بتا دو۔ میں صرف وقت دیکھنا چاہتا تھا۔ اور بیٹے کی حالت پھر دیکھنے کی تھی۔ کیا خیال ہے،آج کل کی نوجوان نسل کدھر چل رہی ہے؟ کچھ ایسی ہی صورت حال ہمارے گھر کے نوجوانوں اور سکول ، کالج کے بچوں کی نہیں ہے۔ ان سے بڑا کوئی موبائل تو مانگ لے تو یا تو اس پر 3، 4 سیکورٹی کوڈ لگے ہوتے ہیں یا پھر بیلنس نہیں ہے، یا آپ فلاں سے لے لیں نا۔۔ یہ تو خراب ہے وغیرہ کے بہانے سننے میںآتے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ بچہ اور کچھ کرے یا نہ کرے، اسکے موبائل میں اگر تو سادہ سے ہے تو لڑکیوں کے نمبر، پیغامات ہوں گے۔ اور اگر رنگین ہے ، سنگین ہے تو اس میں غلط قسم کا مواد ہو گا۔ بے ہودہ فلمیں، گانے، تصویریں ہو ں گی۔ کیا موبائل کا یہی استعمال ہے؟
موبائل ہو یا کوئی بھی استعمال کی چیز، اسکا اچھا یا برا استعمال انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جب وی۔سی۔آر نیا نیا آیا تھا تو علماء کرام نے فتوٰی دے دیا تھا کہ اسکو استعمال کرنا حرام ہے۔ تو کیا لازمی ہے کہ ہم وی سی آر میں فلمیں ہی دیکھتے۔ کیا ویڈیوز میں حمد و نعت، اسلامی تقریں وغیرہ نہیں ملتیں۔ جیسے آج کل سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز ہیں۔ یہ تو ہم پر منحصر ہے کہ ہم موبائل کو بھی کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ آیا گانوں کے علاوہ کبھی کسی نے کچھ اور سننے کی کوشش کی۔ کیا جس شوق سے گانے سنے جاتے ہیں ، اسی شوق سے یا اس سے کم یا زیادہ کسی نے قرآن کی تلاوت سننے کی کوشش کی، کسی نے حمد و نعتیہ کلام بھی موبائل میں لوڈ کیا ہوا ہے۔ کیا لاز می ہے کہ ہر کسی کے پاس موبائل ہو، چاہے وہ سکول جاتا بچہ ہو یا کسی دفتر میں کام کرنے والا فرد۔ وہ ریڑھی کا مزدور ہو یا کسی کارخانے کا مالک۔
یہ ٹھیک ہے کہ آج سیکوئی 10سال پہلے موبائل ایک فیشن تھا اور جس کے پاس ہوتا تھا وہ اس کو ہاتھ میں لے کر چلا کرتا تھا۔ اور وہ ہاتھ اسکے بدن سے 2 فٹ دور ہوتا تھا جیسے کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہے۔ لیکن آج کل تو چائینہ والوں نے موبائل کی قیمتیں اتنی کم کر دی ہیں کہ ہر فرد کے پاس موبائل ہے۔ اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو میں ذاتی طور پر اسکے بارے میں یہی کہوں گا کہ یا تو وہ سوشل نہیں ہے کہ اس کا معاشرے کے لوگوں سے ملنا جلنا کم ہے یا پھر وہ دنیا میں بالکل تنہا ہے۔ اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں ، نہ ہی کوئی دوست یار ہے جس سے وہ رابطے رکھ سکے۔ بہرحال موبائل جس کے پاس بھی ہے، آج کل 50فیصد لوگوں کی وہ ضرورت ہے کہ اسکے بنا انکا کاروبار نہیں چلتا، یا ہر لمحے انھیں اپنے متعلقہ افراد سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ 30 فیصد افراد نے بس موبائل رکھا ہوا ہے کس اگر کسی نے رابطہ کر لیا تو ٹھیک، نہ کیا تو بھی کوئی بات نہیں۔ یا خود ہی کسی بہت اشد ضرورت کے تحت کسی سے رابطہ کر لیا۔ البتہ جو باقی 20 فیصد بچے ہیں انکے پاس موبائل نہی ہوتا تو معاشرے میں بہت سکون ہوتا۔ ان 20 فیصد کی وجہ سے ہی موبائل سروس پروائیڈر کمپنیوں نے مختلف قسم کے پیکجز رکھے ہوئے ہیں۔خاص طور پر گھنٹہ پیکج، نائیٹ پیکجز وغیرہ۔ اور ان 20 فیصد میں سے 80 فیصد طلباء و طالبات ہیں جو اپنی نصابی کتب پڑھنے کی بجائے غیر نصابی دلچسپیوں سے متعلقہ گپ شپ میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ بہت کم اس طرح ہوتا ہے کہ ان پیکجز کا فائدہ اٹھایا جائے۔ یعنی اگر طالب علم
کو اپنے کسی اسائنمنٹ کی سمجھ نہیں آرہی، کوئی سوال نہیں سمجھ آرہا تو وہ اپنے سے زیادہ ذہین طالب علم کو کال کر کے گھنٹہ گھنٹہ اس سے بات کرے اور اس مسلے کو سمجھے۔
ان لیٹ نائیٹ پیکجز، ان گھنٹہ پیکجز ، ایس۔ ایم۔ایس بنڈلز کی وجہ سے بے حیائی بھی بہت پھیل رہی ہے اور اس میں بھی زیادہ تر نوجوان نسل شامل ہے۔ کیونکہ جب انکو فری میں موبائل اور اس پر سستے ترین کال ریٹس ملیں گے تو وہ گپ شپ لگائیں گے۔ گپ شپ سے بات آگے بڑھے گی، ملاقات تو جائے گی۔ ایک ، دو ملاقاتیں، پھر لنچ کی دعوت ، پھر ڈنر اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے
آپ سے پھر تم ہوئے، پھر توں کا عنوان ہو گئے
نوجوان نسل کی اس بے راہ روی کے جتنے ذمہ دار موبائل سروس کمپنیاں ہیں اتنا ہی نوجوانوں کے والدین یا انکے سرپرست بھی ہیں۔ اگر وہ وقتاً فوقتاً وقت نکال کر اپنے بچوں کو چیک کرتے رہیں، انکے موبائل کو کبھی کبھار اپنے پاس رکھ لیا کریں۔ خاص طور پر رات کو ان کو نہ دیں، تو کیا وجہ ہے کہ یہ بے حیائی کم نہ ہو۔ اگر والدین دیکھیں کہ بچے کے موبائل کو آن کرتے ہوئے اس پر کوڈ لگا ہوتا ہے، یا لاک ان لاک کرتے ہوئے کوڈ ہوتا ہے تو سمجھ لیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اسکے بعد بھی اگر یہ والدین اس بات کو نظر انداز کر دیں تو قصور پھر سرا سر انکا ہی ہوا، نہ کہ موبائل کمپنیوں کا۔
آج کل جو سمارٹ فون کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے، اس نے تو خاص طور پر زندگی کو عجیب سا کر کے رکھ دیا ہے۔ دوست اگر کہیں خوش قسمتی سے مل بیٹھے ہیں تو چند باتیں کرنے کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے جیب سے موبائل نکال کر اپنے اپنے کام میں شروع ہو جاتے ہیں۔کوئی فیس بک میں بزی، کوئی وٹس ایپ میں مصروف ہو جاتا ہے تو کوئی اپنے فرینڈز کو میسجیز کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ تو کیا ضروری تھا کہ یہ دوست آپس میں مل بیٹھتے۔موبائل نے انسان کی سوشل لائف تک خراب کر دی ہے۔ گھر میں بیٹھے ہیں تو بچوں کو، بیوی کو توجہ نہیں، بس موبائل کھولا ہوا ہے اور اس میں آنکھیں رکھی ہوئی ہیں۔دماغ بھی ادھر ہی اور کان بھی ادھر ہی لگے ہوئے ہیں۔ بچے کچھ کہہ رہے ہیں، کچھ دکھانا چاہ رہے ہیں، ان کا جی چاہتا ہے کہ ان کا والد ان کی بات کو سنے، ان کو توجہ دے۔ لیکن والد محترم کو موبائل سے فرصت ملے گی تو کہیں اور توجہ دیں گے۔
پہلے جو فون ہوتے تھے وہ کی بورڈ والے ہوتے تھے جس میں ایک بٹن پر تین چار حروف ہوتے تھے۔ استعمال کنندہ کی اتنی پریکٹس ہو گئی تھی کہ بنا موبائل کو دیکھے اگر کسی کو پیغام بھیجنا ہو تو اس پر لکھ لیتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ گلیوں، سڑکوں پر جاتے ہوئے بھی ادھر ادھر دیکھ کر گزرتے تھے۔ لیکن ان سمارٹ فونز کی وجہ سے بہت سے حادثات نے بھی جنم لیا ہے۔ چونکہ سمارٹ فونز کی سکرین پر انگلی سے یا سٹائلس سے ٹچ کرنا ہوتا ہے تو اسکے لیے نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اب ایک شخص چل بھی رہا ہو، اور ساتھ میں سمارٹ فون سے میسج بھی کر رہا تو اسکی توجہ ایک طرف ہی ہو سکتی ہے۔ یا سڑک پر یا موبائل پر۔ اب جو موبائل پر نظر رکھتے ہوئے روڈ کراس کرے گا، اللہ پاک بچائے کسی کو بھی کسی بھی حادثہ سے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے۔
ہر چیز کا استعمال انسان کی اپنی صوابدید پر ہوتا ہے۔ کوئی اسکو اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے تو کوئی اسکے استعمال میں لاپرواہی برتتا ہے۔ہم نے تو اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو نہیں چھوڑا تو یہ تو پھر موبائل ہے۔ ہم نے قرا?ن پاک کو خوبصورت ریشمی غلافوں میں بند کر کے طاقوں میں رکھ دیا ہے۔ مٹی سے اٹے ہوئے یہ غلاف کبھی کبھار جب گھر میں کوئی دعا کرانی ہو، کوئی چہلم و سالانہ تقریب منعقد کرانی ہو تو صاف کیے جاتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ اس قرآن پاک سے ہم لوگوں نے تعویذ بنانے کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ توبہ نعوذ بااللہ، استغفراللہ اکثر لوگ تو قرآن کی آیات کو ہی جادو ٹونہ کے لیے استعمال کرتیہیں۔ جب ہم نے قرآن کا یہ حال کیا ہوا ہے تو موبائل تو پھر مشین اور انسان کی بنائی ہوئی چیز ہے۔اسکو ہم کیسے درست استعمال کر سکتے ہیں۔ بات قابلِ غور ہے اگر کوئی کرے تو۔
16 February 2015
ہوٹلوں کی اجارہ داری اور من مانیاں
November 23, 2018

ایک نیم سرکاری ادارے نے صوبائی دار الحکومتوں میں ایک سیمینار منعقد کروانا تھا۔جس میں مختلف متعلقہ محکمے بھی مدعو تھے بلکہ بنیادی کردار ہی ان محکموں کا تھا۔ البتہ اس نیم سرکاری ادارے کا کام اس سیمینار کو کامیابی سے منعقد کروانا تھا اور اس کے فوائد عوام تک پہنچانے تھے۔ چونکہ سیمنیار پورے دن کا ہونا تھا تو اس کے لیے دور دراز کے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں لازمی ایک دن پہلے جانا تھا کہ رات کو ٹھہرنا تھا۔ اس حوالے سے اس ادارے نے ان شہروں میں موجودمشہور بین الاقوامی فور اور فائیو سٹار ہوٹلز سے رابطہ کیا کہ ان کے دس سے پندرہ افراد کے لیے ایک رات کے رہنے کا انتظام کیا جائے اور سیمینار میں موجود افراد کو چائے اور دوپہر کے کھانے کا مینو بھی مہیا کیا جائے۔ ان ہوٹلوں کی جانب سے جب اس ادارے کو کمروں ، ہالز اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں میسر کی گئیں تو وہ ادارہ جو حکومتی پالیسیوں کے تحت ایک مخصوص بجٹ رکھتا ہے، ایک بار تو چلا اٹھا۔ چلانے کی وجہ ان ہوٹلز کی ارسال کردہ قیمتیں تھیں۔ جو کہ اتنی زیادہ تھیں کہ ہر آفیسر کے لیے متعین کردہ بجٹ سے زیادہ تھیں۔ ایک کمرہ، جس میں ایک ماسٹر بیڈ یا ڈبل بیڈ کہہ لیں، تھوڑا سجا ہوا، دو ایک صوفہ سیٹ، سینٹر ٹیبل، ٹی وی ، ایک عدد واڈ روب موجود ہو۔۔ (ویسے زیادہ تر ہوٹل میں لوگ رات گزارنے جاتے ہیں، ان کو ان اشیاءسے زیادہ سرو کار نہیں ہوتا) اس کے ایک رات کا کرایہ اٹھارہ سے بیس ہزار ہو۔ پھر طرفہ تماشہ یہ کہ کمرے بھی مختلف کٹیگریز میں تقیم کیے گئے ہیں۔ ایگزیکٹیو روم، دیلکس روم، سپریم روم وغیر۔۔ خیر کچھ بھی ہو، پھر بھی ایک کمرے کا اتنا کرایہ ۔ اور ہر ماہ ان کرایوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔چھ ماہ پہلے کرایہ اٹھارہ ہزار تھا، آج وہ چوبیس ہزار ہے۔ بندہ پوچھے کہ کیا کمرے میں ہیرے اگتے ہیں۔یا پھر سونے کی کانیں ہیں وہاں پر۔
یہ تو بات ہوئی فور، فائیو سٹار ہوٹلز کی۔ جو چھوٹے ہوٹلز ہوتے ہیں ان کے کرائے بھی دو ہزار سے چھ ہزار تک ہوتے ہیں۔ لیکن انھوں نے جو حکومتی سرکاری اداروں کو خاص طور پر ایف بی آرے کے ماتحت ادارے جو ٹیکس لاگو کرتے ہیں ان کو ان ہوٹلز نے ریٹ چھ سو سے ہزار روپے فی کمرہ بتائے ہوتے ہیں۔ وہ ٹیکس لاگو کرنے والے ادارے بھی خاموشی سے ان کی اس بات کو سچ جان کر اس حساب سے ٹیکس لاگو کر دیتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ اٹھاتے ہیں کہ ان کے کوئی بھی جاننے والے ان ہوٹلز میں اگر ان کے توسط سے ٹھہریں تو ان کو کم کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ نہ بڑے ہوٹلز کا قصور ہے ، نہ چھوٹے ہوٹلز کا۔ قصور ہے تو عوام کا جن کو عیاشی کا خمار چڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ کیوں اتنے مہنگے ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں ۔ ایک رات ہی گزارنی ہوتی ہے تو کسی واقف کار کے گھر پر ٹھہر جایا کریں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے بہت سے دوست ہوں گے، ایک آدھ تو مخلص ہوگا۔ لیکن نہیں جی، ٹھہرنا تو ہوٹل میں۔
سونے پہ سہاگہ تو یہ ہے کہ آج کل فائیو فور سٹارز ہوٹلز نے کرایہ بھی ڈالرز میں لینا شروع کر دیا ہے۔ ارے کیا ہم اب ہوٹلز کے لحاظ سے بھی امریکہ کے غلام بنتے جا رہے ہیں؟ افسوس کا مقام ہے۔ ہوتا تو یہ چاہیے تھا کہ بیرونِ ملک سے بھی جو آتا اس سے پاکستانی کرنسی میں رقم وصول کی جاتی۔ ہم کیوں ڈالرز پاﺅنڈز میں لین دین کرتے ہیں۔ کیا ہم پاکستان میں رہتے ہوئے بھی غیروں والے کام کرنے کے پابند ہیں؟ اوپر سے ہم انھیں انگریزی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں، فرانس، جرمنی، سویٹزر لینڈ ، چائنہ، جاپان۔۔ شاید انھوں نے ساتھ مترجم تو رکھے ہوں گے لیکن وہ آپ کو خوش آمدید اپنی زبان میں ہی کہیں گے۔ اور اپنی ہی کرنسی میںلین دین کریں گے۔ ہم کب تک غیروں کے غلام بنے رہیں گے۔ کیا باقی ملکوں نے اپنی قومی زبان کو استعمال کرتے ہوئے ترقی نہیں کی جو ہم پاکستان میں اردو کو نافذ کرکے اپنی بڑھتی ہوئی ترقی کو روک دیں گے۔ ہر گز نہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں اگر اردو کا نفاذ ہو جائے تو ہمارے ذہین نوجوان جو صرف انگریزی کی وجہ سے مار کھا جاتے ہیں، وہ ایسی ایسی تجاویز سامنے لائیں کہ ان پر عمل کرکے پاکستان کو ہم اوجِ ثریا تک پہنچا سکتے ہیں۔
ہوٹلز کا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح مختلف قسم کی ریگولیٹری اتھارٹیز بنی ہوئی ہیں جو بجلی، گیس پٹرول، مواصلات، میڈیا کو ریگولیٹ کرتی ہیں تو ایک اتھارٹی ہوٹلز کے حوالے سے بھی ہونی چاہیے۔ جو ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاوسز، ریسٹورینٹ، ڈھابے وغیرہ کو ریگولیٹ کرے اور ان کا باقاعدہ وزٹ کرکے ان کے مختلف شعبوں کے لیے قیمتوں کا تعین کرے۔ جیسے کمرے، ہالز، کھانے پینے کا سسٹم وغیرہ۔ اس طرح پورے ملک میں ایک یکسانیت قائم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اتھارٹی مختلف شعبہ جات سے متعلقہ لوگوں کے لیے بھی قیمتوں کا تعین کرے۔ جیسے اگر کوئی عالم دین ٹھہرتا ہے تو اس کے لیے کمرے کا کرایہ اتنا ہو۔ کوئی ادب سے متعلقہ شخصیت ادب کے حوالے سے ہی ٹھہرتی ہے تو اس کے لیے قیمت کا ایک تعین ہو۔کوئی استاد یا کوئی بزنس مین یا کوئی انجنیئر یا کوئی سرکاری ملازم۔ ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ کمرے کا کرایہ مقرر ہو۔ لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ فرد اپنی شناخت کے حوالے سے ہی ٹھہر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ ایک ایک سرکاری ملازم ادبی بھی ہو اور بطور ادبی شخصیت کرایہ کم ہو تو وہ اپنے آپ کو ادبی شخصیت ظاہر کرکے کمرہ حاصل کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخصیت ہوٹل کو ثبوت فراہم کرے کہ وہ کس حوالے سے ٹھہر رہا ہے تا کہ کرایہ اسی نسبت سے طے کیا جا سکے۔
ان بڑے ہوٹلز کے حوالے سے ایک بات جو سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ چیک کیے جاتے رہنا چاہیے۔ کہ جتنے غیر ملکی افراد ان ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں ان میں سے اکثریت غیر ملکی جاسوسوں کی ہی ہوتی ہے جو کبھی ایک لبادے میں تو کبھی دوسرے نقاب میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے یہاں آتے ہیں۔ کاش کسی کو سمجھ آسکے۔ ان ہوٹلز کو اور ان میں رہنے والوں کو کوئی دیکھ سکے۔