Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

دیگر کالم نگار

ابن نیاز بقلم ابن ریاض
May 11, 2016

ابن نیاز بقلم ابن ریاض

(ابن ریاض)

گئے دنوں کا قصہ ہے کہ دو کلاسیکی گلوکار سلامت علی نزاکت علی تھے۔ یہ دونوں بھائی شام چوراسی گھرانے کے تھے اور یک جان دو قالب تھے۔ ان کی بہترین ریکارڈنگ وہ ہیں جو انھوں نے مل کر گائیں۔ بعد ازاں یہ جوڑی ٹوٹ گئی اور اس کے کچھ عرصے بعد نزاکت علی انتقال کے گئے۔

بھارت کے جب ہم گانے سنتے تو اکثر معروف گانوں کے موسیقار لکشمی کانت پیارے لعل ہوتے۔ ہم انھیں ایک ہی شخصیت سمجھتے تھے اور ان کے طویل نام پر حیران ہوتے تھے۔ یہ راز بعد میں افشا ہوا کہ وہ دو مختلف افراد ہیں مگر مل کر کام کرتے ہیں۔

یہی عالم اس وقت ابن ریاض اور ابن نیاز کا بھی ہے۔لوگ ہمیں بھائی سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ بات تو واجبی سی سمجھ بوجھ والا بھی جان سکتا کہ اگر ہم سگے بھائی ہوتے تو وہ بھی ابن ریاض ہوتے۔زیادہ ذہین لوگوں کا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا آپ دونوں کزنز ہیں تو جی ہاں یہ بات بالکل درست ہے۔ابن نیاز ہمارے دور کے کزن ہیں۔ زیادہ دور کے نہیں یہی کوئی ساڑھے تین ہزار کلومیٹر دور کے ہیں۔ اس میں کلام نہیں کہ وہ ہمارے اسلامی بھائی ہیں اور ایک معروف قلم کار۔ یہ ایک ایسی دوستی ہےجس پر ہم جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔

ابن نیاز کو ہم جب سے جانتے ہیں جب یہ صرف لودھی تھا۔ اپنے نام کے ساتھ لودھی یوں لگاتا ہے کہ جیسے اس کے اجداد جنگ ہارے نہیں بلکہ انھوں نے مغلوں کے چھکے چھڑا دیے ہوں۔اس کو دیکھ کر ہمیں یونس خان یاد آ جاتا ہے کہ وہ صفر پر آئوٹ ہو کر بھی یوں قہقہے لگاتا واپس جاتا ہے کہ جیسے سینکڑا سکور کر کے جا رہا ہو۔ آپس کی بات ہے کہ اپنے پیارے ملک میں جینے کا یہی طریقہ رائج ہے۔ابن نیاز اگر چاہتا تو اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو کیش کروا کر سیاست میں بھی نام پیدا کر سکتا تھا مگر اس کی طبیعت اس سے نفور ہے۔

سالوں پہلے کا قصہ ہے کہ ہماری ایک فورم پر بات چیت ہوئی۔ ان صاحب کو بھی علم و ادب سے لگائو تھا ۔اس کے علاوہ ہم دونوں ایک دوسرے کے اکلوتے قاری تھے۔ ہم لکھتے اور ابن نیاز پڑھتا اور سر دھنتا(اپنا ہمارا نہیں) پھر وہ لکھتا اور ہم حساب چکا دیتے یوں ہماری آپس میں جلد ہی گاڑھی چھننے لگی ۔ بعد مین پتہ چلا کہ خود بہت بے ادب ہے۔ کتاب پڑھنے کا اسے جنون ہے۔ اتنی فضول اور بیزارکن کتابیں یوں مزے لے لے کر پڑھتا ہے جیسے کہ چھوٹے بچے من پسند کھلونے سے کھیلتے ہوئے محظوظ ہوتے ہیں۔ مگر ادب پر اس کی گرفت اور معلومات قابل رشک ہیں۔ جب یہ کسی مضمون یا افسانے پر تبصرہ کرتا ہے تو کوزے کو دریا میں بند کر دیتا ہے۔کیونکہ کوزے میں دریا بند کرنا کسی مائی کے لال کے بس کی بات نہیں۔
ہم اسلام آباد میں رہتے تھے اور وہ اسی شہر میں برسرروزگارہے۔ باتوں باتوں میں ایک دن اس نے ہم سے پتا لیا اور بغیر بتائے ہمارے گھر پر آ پہنچا اور فون کر کے پوچھا کہ کہاں ہو؟ہم نے سچ بولا کہ گھر ہیں تو کہنے لگا کہ دروازے پر آئو۔ موت، مصیبت اور ابن نیاز کسی وقت بھی نازل ہو سکتے ہیں۔ مرتے کیا نہ کرتے ہم باہر گئے اور مصافحہ کیا۔۔اندر لائے اور گفتگو شروع ہوئی۔۔ کچھ ہی دیر میں بیزاری پر شوق غالب آ گیا کیونکہ ابن نیاز کی گفتگو میں معلومات اور دلیل کے ساتھ ساتھ خلوص کی کمی نہیں۔ اس کے بعد ہم نے اس سے وٹے سٹے کا تعلق بنا لیا۔ کبھی وہ ہمیں اپنے دفتر بلا لیتا کبھی ہم اس کے دفتر چلے جاتے۔یہ تعلق پاکستان سے آنے تک برقرار رہا۔ اس کے بعد اب ہم فیس بک اور سکائپ کے ذریعے اک دوسرے سے رابطے میں ہیں۔

کالم نگاری کا سفر بھی ہم دونوں کا ایک ساتھ شروع ہوا اور اس ناچیز کے مشورے پر ہی لودھی ابن نیاز ہوا۔ہماری سی سی پی(کلمسٹ کونسل آف پاکستان) کی فیس کے پیسے بھی ابن نیاز نے ہ دیے جو کہ اب واپس کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں۔ ہمارا اور ابن نیاز کا ممبر شپ کارڈ بھی ایک ہی دن جاری ہوا۔ ان دنوں ہماری آنکھ میں تکلیف تھی جس کا احوال آپ پڑھ چکے ہیں۔ ایسے میں ہم نے اپنی وحشت میں لودھی کے رکنیت والے کارڈ پر لوگوں کے تبصروں پر شکریہ کہنا شروع کر دیا اور خود کو مبارک باد دے دی۔ مگر
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اب بھی ابن نیاز کے کالموں کے اکثر لنک ہمیں دیے جاتے ہیں۔ ہم ان پر یہ ظاہر کر کے کہ یہ ہمارا کالم نہیں ہے دل آزاری کے مرتکب نہیں ہوتے۔ الٹا ہم ان صاحبان کا شکریہ ادا کرتے ہیں مگرساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ پذیرائی کا شکریہ ورنہ من آنم کہ من دانم۔ امید ہے کہ اگر ابن نیاز کو بھی ہمارے کالموں کا لنک کوئی نادانستگی میں بھیج دے تو وہ بھی اسی وسعت قلبی کا مظاہرہ کریں گے۔

ہمارے اور ابن نیاز کے درمیان ایک ان کہا معاہدہ ہے کہ من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو۔ ہم نے ایک دوسرے کی تعریف ہی کرنی ہے خواہ ہم کتنی ہی فضول تحریر کیوں نہ لکھیں۔ جوںہی ان کا کوئی کالم ہماری نظر سےگزرے ہم نا صرف اظہار پسندیدگی کرتے ہیں بلکہ اپنے الفاظ میں ابن نیاز کی مدح بھی کرتے ہیں۔ کس مہارت سے موضوع کو قلم بند کیا ہے۔انداز بیان کیا خوبصورت ہے اور کیا خوب آپ نے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے۔ابن نیاز کا بھی یہی معمول ہے۔ابن ریاض موجودہ دور کا ابن انشا ہے۔ خوبصورت مزاح۔ لکھتے رہو اور ہمیں محظوظ کرتے رہو۔

پہلے ہم ایک دوسرے کے کالموں کی تعریف کرتے تھے۔ اب ہم نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ابن نیاز کی مدح میں پورا کالم لکھ دیا۔ اور ان کا شمار اب ان نایاب لوگوں میں کروا دیا کہ جن کی ثنا ان کی زندگی میں ہوئی ورنہ ہمارے پیارے ملک میں یہ کام بعد از مرگ کیا جاتا ہے۔ اب ابن نیاز سے بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری اس کاوش کا مثبت جواب دیں گے اور ہمیں اگر اپنے کسی اگلے کالم میں مزاح کے نئے اسلوب کا بانی یا مزاح نگاری کا اقبال یا غالب قرار دیں تو آپ کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں( ہم البتہ خود کو کسی سے کم نہیں سمجھتے)۔ اسے بس ایک کالم سمجھیے گا اور یہ جانئے گا کہ دوست نے دوست کا قرض اتار کے حق دوستی ادا کیا ہے۔

اردوکے دبستان لکھنو کابانی ، شیخ امام بخش ناسخ از ایم پی خان
April 25, 2016

اردوکے دبستان لکھنو کابانی ، شیخ امام بخش ناسخ

ایم پی خان

اردوادب سے تھوڑابہت شغف رکھنے والوں کے لئے شیخ امام بخش ناسخ کانام نیا یاغیرمانوس نہیں ہے۔شیخ امام بخش 1772کو فیض آبادمیں پیداہوئے ۔انکے والد کانام شیخ خدابخش لاہوری تھا، تاہم یہ بحث نزاعی ہے ، بعض ناقدین کہتے ہیں کہ ناسخ شیخ خدابخش کے حقیقی بیٹے تھے جبکہ بعض کے نزدیک متبنیٰ تھے، تاہم خدابخش کی وفات کے بعدناسخ کووراثت میں خاصی دولت ملی اوربقیہ زندگی خوب فراغت سے بسرہوئی۔ناسخ کو ورزش اورپہلوانی کابہت شوق تھا۔خودبھی ورزش کرتے اوردوست احباب میں جس کو ورزش کاشوق دیکھتے توخوش ہوتے۔خوش خوراک، خوش لباس اورخوش وضع انسان تھے اوراس پر مستزاد بااخلاق اورمہذب بھی تھے۔شیخ صاحب نہ صرف جسمانی لحاظ سے پہلوان تھے بلکہ انہوں نے اردوزبان میں جومہارت حاصل کی تھی اوراس کی جس طرح تحقیق کرکے آبیاری کی ، اسی وجہ سے انہیں پہلوان سخن کاخطاب دیاگیاہے۔امام بخش بچپن میں لکھنو چلے آئے اوریہاں فارسی اورعربی کی تعلیم حاصل کی، تاہم بقول محمدحسین آزادانہیں عربی زبان پر فاضلانہ دسترس حاصل نہ تھی۔
شیخ امام بخش ناسخ لکھنو کے ارباب کمال میں تھے۔ وہ نہ صرف ایک خاص طرز کے بانی ہیں بلکہ اساتذہ ادب کے خیال میں اردوشاعری کے موجودہ اسلوب کے موجدہیں۔ناسخ کو دبستان لکھنوکامعمارقراردیاگیاہے۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنوکے علاوہ دہلی کے شاعربھی تھے۔ناسخ کاسب سے بڑاکارنامہ اصلاح زبان ہے۔تاہم تذکرہ نویس اورنقادوں نے ناسخ کی شاعری پر رائے زنی کے سلسلے میں غفلت کامظاہرہ کیاہے، کیونکہ وہ ناسخ کی اصلاح زبان کی کوششوں کاذکرکرتے ہوئے انکی دشوارپسندی ، ادق نگاری ، رعایت لفظی ، بے کیفی اورتصنع وتکلف کااس زورسے ڈنڈورا پیٹے ہیں کہ انکی شاعری کی دیگرخوبیاں نظروں سے پوشیدہوجاتے ہیں۔بعض نقادوں نے توسرے سے ناسخ کی شاعری میں میں اچھے اشعارکی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ہے ۔

ناسخ

ناسخ

یہاں تک کہ حسرت موہانی جیسے اردوشاعری کے نباض نے بھی انہیں ریگِ رواں کہاہے۔حسرت نے انکے کلام کے انتخاب کے سلسلے میں لکھاہے ۔’’ایسااستاداورکامل فن دیکھنے میں نہیں آیا،جسکے سینکڑوں اوراق پڑھنے کے بعدبھی کام کاشعرنہ ملتاتھا۔‘‘شیفتہ نے ناسخ کے کلام کااعتراف ضرورکیاہے، مگرمثال میں زیادہ ترانکے ماہرانہ رنگ کے اشعارمنتخب کئے ہیں ۔ ان تمام باتوں سے یہ امرواضح ہوتاہے کہ غالباً ساری اردوشاعری میں کسی کے ساتھ اتناظلم نہیں ہواہے ، جتنا ناسخ کے ساتھ ہواہے۔انکی شاعری کاصرف بدنمارخ پیش کیاگیاہے اورزبان وبیان کے لحاظ سے ان کے لطیف اورخوشگوارنیز سوزوگداز سے لبریز اورجذبات سے مملواشعارنظراندازکئے گئے ہیں۔شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ اردوشاعری میں جوکام ناسخ نے کیا، اسکی وجہ سے ماہرانہ قسم کے اشعارانہیں زیادہ کہنے پڑے اوروہ اپنے زمانہ کے میلان سے بھی مجبورتھے ۔چنانچہ انکے اس قسم کے اشعارکو ان کانمائندہ کلام سمجھ کر پیش کیاگیا۔مگراسکایہ مطلب ہرگزنہیں کہ ناسخ کے ہاں عمدہ شاعری بالکل مفقودہے۔ناسخ کااردوزبان پرخاصااحسان ہے ۔ انہوں نے قدماکی زبان کے فحش اورغیرفصیح الفاظ کو متروک قراردیا اورہندی الفاظ خارج کرکے اسکی جگہ عربی اورفارسی الفاظ اورتراکیب کو رواج دیا، جس کی وجہ سے اردوشاعری میں وزن کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کاوقارپیداہو۔ناسخ نے اردومیں مستعمل عربی، فارسی اورہندی الفاظ کے لئے تذکیروتانیث کے قاعدے وضع کئے اورمحاورات درست کئے ۔شیخ امام بخش ناسخ کو اس وجہ سے متروکات کاناسخ بھی کہاجاتاہے۔انہوں نے بیدل اورصائب کی پیروی کی ،انکی تقلید غالب نے کی اورغالب کی تقلید اقبال نے کی۔اگراردوشاعری کاموجودہ small_intikhab-e-ghazliyat-e-nasikh-ebooksاندازبیان غالب اوراقبال سے متاثرہے توبلاشبہ ناسخ اسکے موجدہیں۔ناسخ میرکے بھی معتقدتھے ، جس کااظہارغالب نے اس شعرمیں کیاہے۔
غالب اپنایہ عقیدہ ہے بقول ناسخ آآپ بے بہرہ ہے جومعتقد میرنہیں
لیکن محمدحسین آزادنے آب حیات میں ایک واقعہ نقل کیاہے کہ ناسخ کو شاعری میں کسی کے استادی میسرنہیں ہوئی ہے ، تاہم ابتدائے شاعری میں ذوق سخن نے بے اختیارکیاتواپنی کچھ غزلیں میرتقی میرکی خدمت میں لے گیا۔میرصاحب نے اصلاح دی لیکن شایدطبیعت خراب ہونے کے باعث یاکسی اوروجہ کے، کچھ ایسی باتیں کہیں، جس کی وجہ سے ناسخ دل شکستہ ہوکر واپس آیا اورکہا۔’’میرصاحب بھی آخرآدمی ہیں ،فرشتہ نہیں۔اپنے کام کوآپ اصلاح دوں گا۔‘‘خوداپنے کلام پر توجہ دی۔ لکھتے اورپھر اصلاح کے لئے بارباردیکھتے اورپڑھتے۔ یہاں تک کہ کلام میں رفتہ رفتہ ایسی پختگی آئی کہ شیخ صاحب، ہمیشہ کے لئے شیخ امام بخش ناسخ بن گئے۔انکے دیوان سے کچھ منتخب اشعاریہ ہیں
لبریزاسکے ہاتھ میں ساغرشراب کا بنتاہے عکس رخ سے کٹوراگلاب کا
جوہرہیں برگ گل ترے چہرے کے عکس سے بن جائے کیوں نہ آئنہ تختہ گلاب کا
آتاہے رشک اے دل پرآبلہ مجھے کیاجلد پھوٹتاہے پھپھولا گلاب کا
ایک اورخوبصورت شعر

دوستوں جلدی خبرلیناکہیں ناسخ نہ ہو قتل آج اسکی گلی میں کوئی بے چارہ ہواindex
ٍٍٍُُُُاس طرح شیخ امامام بخش ناسخ سوداکی شاعری کا بھی متعقد رہاہے،

جس کااعتراف اس نے اس شعرمیں کیاہے ۔
پہلے اپنے عہد سے افسوس سودااٹھ گیا کس سے مانگیں جاکے ناسخ اس غزل کی داد ہم
شیخ امام بخش ناسخ16اگست 1838کو لکھنومیں وفات پائے۔انکے کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں ، قطعات ، تاریخیں اورایک مثنوی ’’نظم سیراج ‘‘شامل ہیں۔

نایاب ہیں ہم از ابن ریاض
April 25, 2016

نایاب ہیں ہم
تحریر: ابنِ ریاض


یہ جمعہ بائیس اپریل 2011ء کا سہ پہر تھی بلکہ شام ہو رہی تھی۔پانچ بجے بجلی گئی اور شام چھ بجے آنی تھی۔ اور ہم نیم اندھیرے میں باتیں کر رہے تھے۔ ذکر ہو رہا تھا معین اختر کا کہ پاکستان ٹی وی کے ایک شو میں مرحوم عابد خان نے معین صاحب کو لاجواب کر دیا تھا۔ انھوں نے معین اختر سے عمر پوچھی تو معین صاحب نے ایک لمحے توقف کر کے کہا کہ پینتالیس سال۔ عابد خان نے فورًا کہا ‘راتیں نکال کے بتائی اپنی عمر’۔ حاضرین نے تالیاں بجائیں اور معین صاحب شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ عابد خان کو دیکھنے لگے۔ ابھی ہم یہ بات کر ہی رہے تھے کہ بجلی آئی اور وہاں بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ معروف اداکار اور کامیڈین معین اختر حرکتِ قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے۔ گمان بھی نہیں تھا کہ جس کا تذکرہ ہو رہا ہے وہ اب رہا ہی نہیں۔ اس دکھ اور تکلیف کی کیفیت کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اپنے گھر کا ایک فرد چلا گیا ہے۔
معین صاحب کثیر الجہت فنکار تھے۔اداکار، گلوکار اور بہترین میزبان بھی تھے۔ ان کا فنی سفر 1966 سے شروع ہوا اور ان کی وفات تک جاری رہا۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی فنکاروں میں ان کا شمار ہوتا ہے اور اس دور میں جب ریکارڈنگ کی سہولت نہیں تھی اور براہ راست اداکاری یا میزبانی ہوتی تھی انھوں نے اپنا لوہا منوایا۔ ان کی موجودگی کسی بھی ڈرامے پروگرام یا شو کی کامیابی کی ضمانت تھی۔ اسی اور نوے کی دہائی میں جب صرف پاکستان ٹیلی ویژن ہوتا تھا انھوں نے کئی لازوال پروگرام کیے۔ آنگن ٹیڑھا میں بھی ان کا کرایہ دار کا کردار تھا۔ منظور دانا والا کو کون بھول سکتا ہے اور ان سب سے بڑھ کر مس روزی۔ سٹوڈیو ڈھائی، سٹوڈیو پونے تین،پی ٹی وی کی سلور جوبلی اور 1999 میں کارگل کے شہداء پر خصوصی پروگرام کے میزبان معین اختر صاحب ہی تھے۔ ان کی میزبانی میں ان کے برجستہ و شائستہ مزاح کا حصہ تھا تو ان کی اداکاری میں ان کا مشاہدہ اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت کا کردار تھا۔ اس کے علاوہ وہ نقال بھی بہت ہی کمال کے تھے۔ اور اس صلاحیت کی بنا پر انھوں نے کئی یادگار پیروڈیز بھی کیں۔ ان کا موازنہ کسی بھی ملک کے کسی بھی دوسرے اداکار سے کیا جا سکتا ہے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ بھارتی شوز کی میزبانی کے لئے بھی انھیں ہی مدعو کیا جاتا تھا اور جب پاکستان بھارت کے تعلقات کشیدہ ہونے کے باعث ان کا وہاں آنا ممکن نہ ہوتا تو کئی شو دوبئی اور دوسرے ممالک میں بھی کئے گئے۔ اختتامی ایام میں’ ڈارلنگ’ پروگرام میں خالد عباس ڈار نے ان سے پاکستانی اداکاروں کے بھارت جانے کی بابت پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ تو بھارت تب ہو آئے تھے جب اداکاروں کی ہجرت کا تصور بھی نہ تھا تاہم نئے جگہ جانا، نئے ماحول میں کام کرنا ان کے لئے کچھ معیوب بھی نہیں تھا۔ تاہم ان کو ایک بار ایک کامیڈی شو میں منصف کے فرائض دینے کی پیشکش ہوئی تو انھوں نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ اگر میں سنجیدہ رہا تو وہ مغرور جانیں گے اور اگر میں بات بے بات مسکرایا تو کہا جائے گا کہ ہر کسی کا کام اسے پسند آ رہا ہے تو یہ فیصلہ کیسے کرے گا تو میں نے منع کر دیا کہ ایسا کام کرنے کا کیا فائدہ جو ہر صورت متنازع ہی رہنا ہے’۔
یہ سب خوبیاں تھیں کہ معین صاحب کا شمار اب بھی پاکستان کے سب سے بڑے اداکاروں میں ہوتا ہے اور نئے اداکار اور میزبانوں کے لئے مشعل راہ ہیں مگر ان کی اصل خوبی ان کی انسانیت تھی۔ انھیں اللہ نے بہت دیا مگر ان کی گردن میں کبھی سریا نہیں آیا۔ وہ ہر کسی سے اسی شفقت و احترام سے ملتے تھے۔ اپنے ہم عصروں کی تعریف دل کھول کر کرتے تھے اور کبھی اس میں بخل نہیں دکھایا۔
ان کے تمام پروگرام خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کا مزاح مہذب اور شائستہ تھا۔ وہ مذاق کرتے تھے، مذاق اڑاتے نہیں تھے۔ اس کے علاوہ بہت ہی نرم دل اور خدا ترس تھے۔ بہت سے لوگوں کی وہ مدد کرتے تھے جس کا پتہ ان کی وفات کے بعد چلا جبکہ ساتھی فنکاروں کا بھی بہت احساس تھا انھیں۔ خالد انعم نے کہا تھا کہ وہ محض نام کے ہی معین نہیں تھے بلکہ حقیقتًا ہر کسی کے مددگار تھے۔ کئی اداکاروں کی مالی معاونت کے لئے انھوں نے شو کیے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم ان کی مدد کے لئے استعمال کی گئی۔
شخصیت بھی ان کی انتہائی پر کشش تھی۔ چہرے پر نورانی مسکراہٹ اور اس پر خوش لباسی۔ ان کے لہجہ بھی کمال تھا اور اس پر امتزاد ان کی مدلل گفتگو۔ کسی بھی موضوع پر ان کے خیالات جان لیجیے وہ بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے تھے۔
معین اختر سے ایک انٹرویو میں سوال سے قبل ‘ ایک لڑکا’ نظم پڑھی گئی تھی اوسوال کیا گیا تھا کہ کیا آپ کے بچپن میں بھی کچھ اس سے مماثل تھا تو انھوں نے کہا کہ جواب سے پہلے میں یہ بتا دوں کہ میری زندگی میں ابنِ انشاء کی بہت اہمیت ہے کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں جو پہلا انعام جیتا تھا وہ ایک تقریری مقابلہ تھا اور اس میں انعام مجھے ابنِ انشاء نے ہی دیا تھا۔ ہماری نظر میں تو معین اختر کی عزت اور بڑھ گئی یہ اقرار سن کر۔
ہماری نظر میں معین اختر صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان جیسے ملک میں بغیر اسکینڈل کے زندگی گزارنا ہے۔ ایسا خطہ کہ جہاں قائد اعظم، ڈاکٹرعبدالقدیر خان اور عبد الستار ایدھی جیسے لوگ اسکینڈلز سے نہ بچ سکے، یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ نوے کی دہائی میں ان کے ایک اداکارہ سے عشق کے چرچے کچھ دن ضرور رہے تھے مگر یہ بات بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی تھی۔

کراچی کو ہم جن لوگوں کی وجہ سے محترم شہر گردانتے ہیں ان میں اب معین اختر بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل یہ فہرست قائد اعظم، ابن انشاء اورحکیم محمد سعید پر مشتمل تھی۔

مہر بہ لب از ابن ریاض ۔۔۔
February 15, 2016

تحریر: ابنِ ریاض

ہمارے بچپن کی بات ہے (زیادہ دور کی نہیں) کہ ملک میں صرف ایک ہی ٹی وی چینل تھا۔ ملک میں ٹی وی چینلز کا سیلاب نہیں آیا تھا۔ ۔۔۔۔۔ مزید پڑھئے۔۔

2julyb

پاکستان میں افسر شاہانہ اور پروٹوکول کلچر
February 10, 2016

تحریر: ایم ۔پی خان

میرے ایک دوست جوکافی عرصہ بعدبیرون ملک سے پاکستان آیا۔اس نے زندگی کازیادہ عرصہ ایسے ملک میں گزاراتھا، جہاں ہرطرف خوشحالی ہے۔ریاست کی ترقی اوراسکے استحکام کایہ عالم ہے کہ ایک عام آدمی سے لیکر وزیراعظم تک کی زندگی کامعیارایک جیسا ہے۔ میرادوست کہتاہے کہ اس نے کئی دفعہ وزیراعظم کو مارکیٹ میں شاپنگ کرتے ہوئے دیکھااورمزید دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی بغیرکسی پروٹوکول کے ، نہ سیکورٹی گارڈزتھے، نہ لوگوں کاتانتالگارہتاہے اورنہ کسی خاص مارکیٹ سے ،خاص معیارکی چیزیں خریدنے آتے ہیں بلکہ مارکیٹ میں جوچیزیں عام آدمی کے استعمال کے لئے ہوتی ہیں ، وہی چیزیں وزیراعظم بھی استعمال کرتے ہیں۔اس نے مزیدکہاکہ جب وہ پاکستانی ہوائی اڈے پراترے، توسماں ہی کچھ اورتھا۔ سارے لوگ بیمار، پریشان اوراداس دکھائی دیتے تھے۔ دوسری طرف یہاں کی وی آئی پیز کاجوپروٹوکول دیکھاتودنگ رہ گیاکہ اس قدرغریب ملک میں ، گنتی کے چندلوگ اس قدرشاہانہ زندگی کیسے گزارتے ہیں۔ صدر ،وزیراعظم ،وفاقی اورصوبائی وزراء،اراکین قومی اورصوبائی اسمبلی،صوبائی اوروفاقی سیکرٹریز، بیوروکریٹس، پولیس اورفوج کے بڑے بڑے افسران،جرنیل، ججز ، بڑے بڑے وکلاء، اہم سیاست دان اورانکے کارندے ، سیاسی مولوی، مختلف محکموں میں تعینات آفیسر ، تاجر ، بڑے بڑے نواب، جاگیردار، چودھری، خان، وڈیرے اورنہ جانے اس تسلسل میں اورکتنے لوگ ہیں، جو شاہانہ طرززندگی گزارتے ہیں اورانکی اولاد شہزادوں کی طرح دولت کے ساتھ کھیلتے ہوئے عالم رنگ وبومیں مدہوش رہتے ہیں۔ریاست کی پوری مشینری انکی خدمت گزاری میں لگی رہتی ہے۔میراوہ دوست بہت حساس طبیعت کے مالک ہے ، زندگی کی اس تفاوت کے بارے میں انکے تاثرات میرے دل ودماغ پر نقش ہیں۔اگلی صبح جب میں آفس جارہاتھا، توایک معمولی آدمی کے گھرکے باہر،ایک پولیس اہلکار اسکی موٹرکار کی صفائی کررہاتھا۔ دراصل وہ پولیس اہلکاراس آدمی کا سیکورٹی گارڈ تھا، جو اپنی ذاتی اثررسوخ کی بنیاد پر اس نے محکمہ پولیس کے کسی بڑے آفسر کی سفارش سے حاصل کیاتھا۔اس طرح بے شمارسیاسی اورسماجی شخصیات کے ڈیروں پر پولیس اہلکارمعمولی معمولی کام سرانجام دیتے ہیں، جوسکیورٹی کے نام پر انہیں الاٹ کئے جاتے ہیں۔ کیایہ پولیس فورس کی توہین نہیں ہے۔ دنیاکے ہرملک میں پولیس فورس کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔ ان کاایک خاص اورمنفردمقام ہوتاہے۔ جبکہ پاکستان میں پولیس فورس کے ساتھ یہ شرمناک رویہ سیاسی اثررسوخ اورافسران بالا کے ساتھ ذاتی گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں اپنایاجاتاہے۔ یہ توایک عام اورمعمولی اثررسوخ والے شخص کاحال ہے اور یہ پروٹوکول کلچرکی ادنیٰ سیڑھی ہے۔یہاں سے عوام اورخواص کے درمیان اس تفاوت کاآغازہوتاہے اورپھربتدریج اسکی شدت میں اضافہ ہوتاہے ، یہاں تک کہ وزیراعظم تک پہنچتے پہنچتے یہ پروٹوکول کلچربھاری بھرکم صورت اختیارکرلیتی ہے۔پچاس پچاس گاڑیوں کاقافلہ، دودوہیلی کاپٹر، سینکڑوں پولیس اہلکار ایک ہی وقت میں وزیراعظم کے پروٹوکول میں شامل ہوتے ہیں۔اسی طرح وزیراعلیٰ اوردیگروزراء کے پروٹوکول اورسکیورٹی کاحال دیکھ کر یوں لگتاہے کہ پاکستان میں پولیس فورس کے قیام کابنیادی مقصدافسرشاہانہ کی خدمت گزاری ہے۔ ملک کے تمام وسائل اس محدودطبقہ کے شاہانہ طرززندگی، بہترین سے بہترین رہائش ، انکی سکیورٹی، انکے دوروں، انکے بچوں کی تعلیم ، انکے بیرون ملک علاج معالجوں ، انکی عزیزواقرباکے تواضع اورتاحیات مراعات دینے پر صرف ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک بہت بڑاطبقہ مفلسی اورکس مپرسی کی زندگی گزاررہاہے۔ انکی زندگی غیرمحفوظ، انکے بچے تعلیم سے محروم، صحت ، روزگاراوانصاف کے دروازے انکے لئے بند ہوتے ہیں۔یہی حالات ریاست میں عدم استحکام کوجنم دیتے ہیں اورآئے دن ملک میں دہشت گردی کے نئے نئے واقعات رونماہوتے ہیں، جس کاشکاریہی مفلوک الحال طبقہ بنتاہے۔پاکستان کو کامیاب ریاست بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تبدیلی کاآغاز اس مراعات یافتہ طبقہ سے کیاجائے۔جتنے بھی لوگ بڑے بڑے عہدوں پرذمہ داریاں نبھارہے ہیں ، اگروہ سچے پاکستانی ہیں اورانکے اندر ذرا برابربھی حب الوطنی موجودہے ، تو وہ بغیرپروٹوکول کے اپنے ملک کی خدمت کرے۔کیونکہ ان کااس ملک پر اوراس ملک کے عوام پراحسان ہے کہ وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اورملک کی ترقی کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں ۔فرض کریں کسی وزیر، گورنر، سینٹر، بیوروکریٹ، سیکرٹری یاکسی اوربڑے آفسرکواپنے ملک میں اپنی زندگی غیرمحفوظ معلوم ہوتی ہے اوراسکو ذاتی تحفظ کے لئے پولیس فورس کی ضرور ت ہے ، ، تووہ بے شک پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیربادکہہ دے ، کیونکہ جس میں ملک میں اورجس عہدہ میں وہ اپنے آپکو غیرمحفوظ دیکھ رہے ہیں ، وہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو کیوں بربادکررہے ہیں۔بے شک وہ کسی ایسے ملک میں چلے جائے، جہاں وہ اورملک کاوزیراعظم ایک ہی قطارمیں کھڑے ہوکر اورایک ہی مارکیٹ میں شاپنگ کرسکے۔ورنہ یہ عہد کرلے ، کہ ہم نے پاکستان کو بھی ایساملک بنائیں گے ، جہاں پولیس فورس کی کوئی اورذمہ داری ہے ، نہ کہ افسرشاہانہ کی سیکورٹی اورپروٹوکول ۔ آپ بھی عام لوگوں کی طرح نکل آئیں ، مارکیٹ میں آئیں، بازاروں میں آئیں ، پروگراموں میں جائیں، کھیل تماشے بھی دیکھیں، میلوں ٹھیلوں کی سیربھی کریں، اپنے ملک کی خوبصورتی سے محظوظ بھی ہوجائیں ، اپنے بچوں کے سکولوں میں بھی جائیں ، سرکاری ہسپتالوں میں اپنے اوراپنے بچوں کاعلاج بھی کروائیں ، کسی بینک یادیگرکسی ادارے کے سامنے اپنے کام کے سلسلے میں قطارمیں بھی کھڑے ہوجائیں۔کبھی کبھی کسی ہوٹل میں کھانابھی کھائیں اورکبھی کسی چمن ، باغ یاپارک میں ٹہلتے ہوئے بھی نظرآئیں ۔۔۔تاکہ عام لوگ آپ کو دیکھ لے اورآپ پرفخرکرلے۔ ہاں یہ بات یاد رکھیں، آپکی زندگی بہت قیمتی ہے ، بالکل جسطرح ایک عام پاکستانی کی زندگی ہے۔ اس بات پر دل سے یقین رکھیں کہ آپکی زندگی کاتحفظ اﷲ کرے گا۔ اگرآپ دیانت داری اورایمانداری سے اپنی قوم کی خدمت کررہے ہیں ، توآپ کو کچھ نہیں ہوگا۔پروٹوکول کلچرکے خلاف آپکی یہی طرززندگی پاکستان کو کامیاب ریاست بنانے کی ضمانت ہے۔

saday chinar