Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

پاکستانیت کے افسانے

پاکستان زندہ باد
April 12, 2016

پاکستان زندہ باد

نعرہ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر
فضا میں ایک زوردار نعرہ گونج اٹھا۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کرنے والا کون تھا، بس جواب میں شاید ہی وہاں کوئی موجود لوگوں میں سے خاموش رہا ہو۔ اور کیوں جواب نہ دیتا۔ سب کے جذبات اس وقت ایک جیسے تھے۔ سب اس وقت ٹیلی ویڑ ن کے سامنے بیٹھے خبریں سن رہے تھے۔ کہ نیوز کاسٹر نے تازہ خبر کا کہہ کر خبر سنائی کہ ’’ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘ ‘۔ پھر چند منٹ کے بعد تفصیل سے بتایا کہ 3 بج کر 16 منٹ پر پہلا دھماکہ کیا اور پھر چند منٹ کے وقفے سے چاردھماکے مزید کر دیے تھے۔ تو کیوں نہ پاکستانی عوام جذبات میں آتی۔ وہ آئی اور
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

Yome taqbeer - chagi mountainکے مصداق سب کیا مسلمان، کیا پاکستان کے ہندو، کیا سکھ، سب کے سب بھنگڑے ڈالنے لگے۔ اگر کوئی مسجد کا طالبعلم تھا یا سکول کالج یا یونیورسٹی کایا کوئی دکاندار یا نمازی۔ سب کے لبوں پر صرف ایک ہی نعرہ تھا، نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر۔
جب 12مئی کو انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے تو ساتھ ہی پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی تھیں۔ کہ گویا اب وہ علاقے کا تھانیدار بن گیا ہے۔ اور اس زعم میں اس نے لاکھوں کی فوج بھی پاکستان کے مشرقی سرحدوں پر لا کھڑی کر دی تھی۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا یا پھر وہ بھول گیا تھا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔1965 کی جنگ کے زخم اسکے دماغ سے نکل گئے تھے۔ لگتا تھا کہ اس نے ایک دفعہ پھر منہ کی کھانے کے لیے پاکستان سے پنگا لینا چاہا ہے۔ انڈیا کے دھماکوں کے ساتھ ہی پاکستان کی عوام نے اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا کہ اگر 1976 سے اب تک پاکستان ایٹمی پروگرام پر عمل کرتا رہا ہے تو یہ ہی موقع ہے کہ انڈیا پر بالخصوص اور تمام دنیا پر بالعموم ایٹمی دھماکے کر کے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ حکمران تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے محاورے پر عمل کرنے کی سوچ رہے تھے۔ ان پر غیر مسلم قوتوں کا بیرونی دباؤ بڑھ گیا تھا کہ پاکستان صبر سے کام لے۔ اور بظاہر حکمرانوں کے رویے سے پتہ چلتا تھا کہ شاید وہ بیرونی دباؤ میں آ جائیں گے۔لیکن اندرونِ خانہ کیا کھچڑی پک رہی تھی، یہ یا تو خدا جانتا تھا یا پھر کھچڑی پکانے والے۔

12 مئی سے آج16 مئی ہو گئی تھی۔ لیکن شیراز شاید ایک منٹ بھی سکون سے نہ سو سکا تھا۔وہ پاکستان کے ایک خفیہ ادارے میں کام کرتا تھا۔ اور اس کا دل ہر وقت پاکستان کے نام کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ دھماکہ تو اسی وقت ہو جانا چاہئے تھا جب انڈیا نے دھماکہ کیا تھا۔ لیکن حکمرانوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس نہج پر جا رہے تھے۔ اسکو ایک پل بھی چین نہیں تھا۔ جیسے حالات اس کے تھے، اسی طرح کے خیالات اور جذبات اسکے سینئرز افسران کے تھے۔ لیکن سب ملک کے قانون کے آگے مجبور تھے کہ جس نے انھیں یہ سبق سکھایا تھا کہ حکومت وقت کی ماننی ہے۔ اگر وہ نہ بھی مانتے تو بھی کیا کر سکتے تھے۔ حکمرانوں کی طرف سے ا ن کے ادارے پر بہت زیادہ دباؤ تھا کہ وہ ہر حال میں خاموش اور پر سکون رہیں۔ ورنہ تو انکا دل اور خاص طور پر شیراز کا دل چاہتا تھا کہ وہ انڈیا کے اندر گھس کر ان کو وہ زخم دے کر آئے کہ وہ برسوں اپنے زخم چاٹتے رہیں۔ لیکن وہ مجبور تھا۔ پھر اس پر پریشر اتنا بڑھا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور تین ہفتوں کی چھٹی کے لیے درخواست دے دی۔اسکی چھٹی منظور ہو گئی۔ کیونکہ اسکے سارے سینئر آفیسرز جانتے تھے کہ اگر اس وقت شیراز کو ذہنی آرام نہ دیا گیا تو شاید وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Yome taqbeer 28 may
چھٹی منظور ہوتے ہی وہ گھر آگیا۔ لیکن یہاں بھی وہ نچلا نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے ایک مشن بنا لیا۔ اس نے اپنے کالج کے ، یونیورسٹی کے زمانے کے سارے دوستوں سے رابطہ کیا۔ سب کو قائل کیا کہ اگر وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو اپنے اپنے لیڈران کو قائل کریں کہ وہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کے دباؤ میں نہ آئیں بلکہ انڈیا کے پانچ دھماکوں کے مقابلے میں کم از کم پانچ ہی دھماکے کر کے منہ توڑ جواب دیں۔
“لیکن ہو گا کیا؟ ایٹمی دھماکہ کرنے سے آخر پاکستان کیا فائدہ اٹھا لے گا؟” عامر نے جو کہ ایک بزنس مین تھا، شیراز سے پوچھا۔
“کیا مطلب؟ یہ فائدہ کم ہو گا کہ دنیا کی نظر میں پاکستان کا ایک مقام بن جائے گا۔امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور دوسرے دشمن ممالک پاکستان کے بارے میں اپنے ذہن میں غلط خیال لانے سے قبل سو بار سوچیں گے۔” شیراز نے جواب دیا۔
“لیکن یہ بھی تو دیکھو یار کہ پاکستان پر جو پابندیاں لگیں گی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی معشیت بہت پیچھے رہ جائے گی۔” عامر اپنے بزنس کے نقطہ نظر سے ہی سوچ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا۔ کیا ہم ہمیشہ امریکہ کے غلام رہیں گے۔ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔رزاق اللہ ہے یا امریکہ۔” شیراز کو غصہ آگیا۔
“ارے ارے مت لڑو یار۔ بس جو کچھ ہو وہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو۔”سہیل ثانی نے ان کے بیچ میں آتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے۔ پھر کوئی پلان بناؤ۔ہمیں بتاؤ کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔”فضلو فٹ بالر جو کالج سے آگے نہ پڑھ سکا تھا، لیکن پکا پاکستانی تھا، شیراز کے کندے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
شیراز نے کامران کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہا تھا اور آنکھوں میں شیراز کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
“تو ایسا کرتے ہیں کہ کچھ جلسے جلوس نکالتے ہیں، لیکن پر امن۔ اور یہ سب کے ذہن میں رہے کہ کسی کو علم نہ ہو کہ ان جلوسوں کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔اگر آپ نہیں بتائیں گے تو کسی کو علم نہیں ہو گا۔ “شیراز نے فوراً سے ایک پلان بتا دیا۔
“اوکے ڈن۔ تم جو کہو گے اسی طرح ہو گا۔”سب نے حامی بھری اور شیراز کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گویا عہد کیا۔

چونکہ شیراز کا تعلق خفیہ سے تھا تو اپنی ٹریننگ سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ روزانہ کسی نہ کسی روپ میں کسی ایک جگہ جلسہ نما جلوس اکٹھا کر لیتا اور باقاعدہ ایک جذبات سے بھرپور تقریر شروع کر دیتا۔ عوام کو بھرپور دلائل دیتا کہ آج اگر ہم لوگ چپ بیٹھ گئے تو کل اسی انڈیا نے ہم کو کچا چبا دینا ہے۔کیونکہ آج جس طرح باقی غیر مسلم ممالک انڈیا کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان کے حکمرانوں کو کوئی بھی قدم لینے سے روک رہے ہیں۔ اسی طرح کل ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میں اس نے ہم پر حملہ کر دینا ہے اور اپنا اٹوٹ انگ کا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کو اپنا حصہ بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنی ہے۔ اور یاد رہے کہ سب نے اسکا ساتھ دینا ہے چاہے وہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو یا فرانس۔ سب مل کر اس انڈیا، ہمارے ازلی دشمن کو ہر قسم کی امداد دیں گے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے شیراز کی ان باتوں کا برا منایا اور اسے کہا کہ اگر ہم نے ایٹمی دھماکہ کر دیا تو امریکہ ہماری امداد بند کر دے گا۔ اقوام متحدہ ہم پر پابندیاں لگا دے گا۔ پھر ایٹمی دھماکہ کر کے ہمیں ملے گا بھی کیا۔ کچھ نہیں۔ شیراز نے کہا کہ ہمیں بہت کچھ ملے گا۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ دھماکے صر ف پاکستان کے ہی نہیں ہو ں گے بلکہ بہت سے اسلامی ممالک کی دلی خواہش ہے۔ پھر دوسری بات یہ کہ انڈیا کو کم از کم اتنی جرات بھی نہیں ہو گی کہ وہ اونچی آواز میں بات کر سکے چہ جائیکہ کہ وہ پاکستان کی سرحدو ں پر اپنی فوجیں کھڑی کر دے۔ 

جو بھی شیراز سے اس معاملے پر بحث کرتا وہ اسکو بھرپور دلائل دیتا۔ اسکا ساتھ دینے کے لیے اسکے دوست آگے بڑھ آتے او ر اپنے اپنے انداز میں پاکستان کے دھماکہ کرنے کے حق میں بات کرتے ۔اس طرح کرتے کرتے اس نے بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر اکثر شام کو وہ ایک بڑی تعداد لے کر ایک انتہائی پر امن جلوس نکالتا۔ شہر کے کھیلوں کے میدان میں پہنچ کر وہاں باقاعدہ پھر انکے جذبات کو ابھارتا۔ اور پھر پر امن طریقے سے جلوس منتشر ہو جاتا۔ کیا مجال کہ کبھی ایک آنے کا کسی کا بھی نقصان ہوا ہو۔ وہ جب بھی جلوس کا آغاز کرتا تو ایک بات ضرور کرتا کہ یہ جلسہ ہم اپنے جذبات کے لیے کر رہے ہیں، اپنے حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔اس لیے کسی کا بھی کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ نہ ہی کوئی چلتی ٹریفک میں خلل واقع ہونا چاہیے۔ اسکے جلسوں کی شہرت اسکے شہر سے نکل کر قریبی شہروں تک پھیل گئی۔ اسکی پیروی کرتے ہوئے دوسرے شہروں میں بھی پرسکون جلوس ہونے لگے۔ ایک خاص وقت پر شروع ہوتے، تقریریں ہوتیں، بارگاہِ خدا وندی میں دلی آہ و زاری ہوتی، آہوں سسکیوں کی آوازیں شاید سیٹلائٹ کے ذریعے ، انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ تک بھی جاتی ہوں گی۔ اگرچہ صرف 10, 9 دن ہی گزرے تھے مگر عوام کی جائید اد کو رتی بھر بھی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البتہ انکے دل ہر گزرے دن کے ساتھ دھک دھک کی صدا بڑھاتے جا رہے تھے۔ 
Yome takbeer stamp
وہ 28 مئی کا دن تھا۔ روز کی طرح اپنے جلوس سے فارغ ہو کر وہ بازار میں کچھ گھرکے لیے خریدو فروخت کر رہا تھا۔کہ اچانک اسکے کانوں میں ایک آواز آئی۔ ’’ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘‘۔ اسکو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ فوراً ایک قریبی دکان میں گھس گیا جہاں ٹیلی ویڑن لگا ہوا تھا اور نیوز کاسٹر خبریں سنا رہا تھا۔ شد ت جذبات سے اسکی آواز بھی مشکل سے نکل رہی تھی۔جب شیراز نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے لکھا ہو اپڑھا تو اسے اپنے آپ قابو نہ رہا۔ جھٹ دکان سے نکلا اور انتہائی بلند آواز میں نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کی۔ اس وقت بازار میں جتنے بھی لوگ تھے چاہے دکاندار تھے یا خریدار۔ سب نے ایک آواز ہو کر اسکا جواب دیا ’’ اللہ اکبر‘‘۔ پھر ایک صدا گونجی ’’ نعرۂ تکبیر۔ اللہ اکبر۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر۔

شیراز خوشی سے اور جذبات سے بے قابو ہو چکا تھا۔ اسکو اپنی محنت کا پھل مل چکا تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کے لیے بازار میں موجود ایک مسجد میں گھس گیا۔ دیکھا تو وہاں ایک جم غفیر جمع تھا اور کوئی سجدے میں تھا کوئی رکو ع میں تھا تو کوئی ہاتھ اٹھائے ، آنکھوں سے آنسو بہائے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔جس نے آج پاکستان کو اسلامی دنیا میں میں سرخرو کر دیا تھا۔ اس نے بھی سجدے میں سر رکھ دیا اور خدا کے حضور آنسوؤں کے نذرانے پیش کرنے لگا۔
پاکستان زندہ باد۔

پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔ زندہ باد
February 10, 2016

یومِ تکبیر کے حوالے سے ایک افسانہ۔۔۔

———————————–

نعرہ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر
فضا میں ایک زوردار نعرہ گونج اٹھا۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کرنے والا کون تھا، بس جواب میں شاید ہی وہاں کوئی موجود لوگوں میں سے خاموش رہا ہو۔ اور کیوں جواب نہ دیتا۔ سب کے جذبات اس وقت ایک جیسے تھے۔ سب اس وقت ٹیلی ویڑ ن کے سامنے بیٹھے خبریں سن رہے تھے۔ کہ نیوز کاسٹر نے تازہ خبر کا کہہ کر خبر سنائی کہ ’’ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘ ‘۔ پھر چند منٹ کے بعد تفصیل سے بتایا کہ 3 بج کر 16 منٹ پر پہلا دھماکہ کیا اور پھر چند منٹ کے وقفے سے چاردھماکے مزید کر دیے تھے۔ تو کیوں نہ پاکستانی عوام جذبات میں آتی۔ وہ آئی اور
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

کے مصداق سب کیا مسلمان، کیا پاکستان کے ہندو، کیا سکھ، سب کے سب بھنگڑے ڈالنے لگے۔ اگر کوئی مسجد کا طالبعلم تھا یا سکول کالج یا یونیورسٹی کایا کوئی دکاندار یا نمازی۔ سب کے لبوں پر صرف ایک ہی نعرہ تھا، نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر۔
جب 12مئی کو انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے تو ساتھ ہی پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی تھیں۔ کہ گویا اب وہ علاقے کا تھانیدار بن گیا ہے۔ اور اس زعم میں اس نے لاکھوں کی فوج بھی پاکستان کے مشرقی سرحدوں پر لا کھڑی کر دی تھی۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا یا پھر وہ بھول گیا تھا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔1965 کی جنگ کے زخم اسکے دماغ سے نکل گئے تھے۔ لگتا تھا کہ اس نے ایک دفعہ پھر منہ کی کھانے کے لیے پاکستان سے پنگا لینا چاہا ہے۔ انڈیا کے دھماکوں کے ساتھ ہی پاکستان کی عوام نے اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا کہ اگر 1976 سے اب تک پاکستان ایٹمی پروگرام پر عمل کرتا رہا ہے تو یہ ہی موقع ہے کہ انڈیا پر بالخصوص اور تمام دنیا پر بالعموم ایٹمی دھماکے کر کے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ حکمران تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے محاورے پر عمل کرنے کی سوچ رہے تھے۔ ان پر غیر مسلم قوتوں کا بیرونی دباؤ بڑھ گیا تھا کہ پاکستان صبر سے کام لے۔ اور بظاہر حکمرانوں کے رویے سے پتہ چلتا تھا کہ شاید وہ بیرونی دباؤ میں آ جائیں گے۔لیکن اندرونِ خانہ کیا کھچڑی پک رہی تھی، یہ یا تو خدا جانتا تھا یا پھر کھچڑی پکانے والے۔

12 مئی سے آج16 مئی ہو گئی تھی۔ لیکن شیراز شاید ایک منٹ بھی سکون سے نہ سو سکا تھا۔وہ پاکستان کے ایک خفیہ ادارے میں کام کرتا تھا۔ اور اس کا دل ہر وقت پاکستان کے نام کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ دھماکہ تو اسی وقت ہو جانا چاہئے تھا جب انڈیا نے دھماکہ کیا تھا۔ لیکن حکمرانوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس نہج پر جا رہے تھے۔ اسکو ایک پل بھی چین نہیں تھا۔ جیسے حالات اس کے تھے، اسی طرح کے خیالات اور جذبات اسکے سینئرز افسران کے تھے۔ لیکن سب ملک کے قانون کے آگے مجبور تھے کہ جس نے انھیں یہ سبق سکھایا تھا کہ حکومت وقت کی ماننی ہے۔ اگر وہ نہ بھی مانتے تو بھی کیا کر سکتے تھے۔ حکمرانوں کی طرف سے ا ن کے ادارے پر بہت زیادہ دباؤ تھا کہ وہ ہر حال میں خاموش اور پر سکون رہیں۔ ورنہ تو انکا دل اور خاص طور پر شیراز کا دل چاہتا تھا کہ وہ انڈیا کے اندر گھس کر ان کو وہ زخم دے کر آئے کہ وہ برسوں اپنے زخم چاٹتے رہیں۔ لیکن وہ مجبور تھا۔ پھر اس پر پریشر اتنا بڑھا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور تین ہفتوں کی چھٹی کے لیے درخواست دے دی۔اسکی چھٹی منظور ہو گئی۔ کیونکہ اسکے سارے سینئر آفیسرز جانتے تھے کہ اگر اس وقت شیراز کو ذہنی آرام نہ دیا گیا تو شاید وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

چھٹی منظور ہوتے ہی وہ گھر آگیا۔ لیکن یہاں بھی وہ نچلا نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے ایک مشن بنا لیا۔ اس نے اپنے کالج کے ، یونیورسٹی کے زمانے کے سارے دوستوں سے رابطہ کیا۔ سب کو قائل کیا کہ اگر وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو اپنے اپنے لیڈران کو قائل کریں کہ وہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کے دباؤ میں نہ آئیں بلکہ انڈیا کے پانچ دھماکوں کے مقابلے میں کم از کم پانچ ہی دھماکے کر کے منہ توڑ جواب دیں۔
“لیکن ہو گا کیا؟ ایٹمی دھماکہ کرنے سے آخر پاکستان کیا فائدہ اٹھا لے گا؟” عامر نے جو کہ ایک بزنس مین تھا، شیراز سے پوچھا۔
“کیا مطلب؟ یہ فائدہ کم ہو گا کہ دنیا کی نظر میں پاکستان کا ایک مقام بن جائے گا۔امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور دوسرے دشمن ممالک پاکستان کے بارے میں اپنے ذہن میں غلط خیال لانے سے قبل سو بار سوچیں گے۔” شیراز نے جواب دیا۔
“لیکن یہ بھی تو دیکھو یار کہ پاکستان پر جو پابندیاں لگیں گی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی معشیت بہت پیچھے رہ جائے گی۔” عامر اپنے بزنس کے نقطہ نظر سے ہی سوچ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا۔ کیا ہم ہمیشہ امریکہ کے غلام رہیں گے۔ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔رزاق اللہ ہے یا امریکہ۔” شیراز کو غصہ آگیا۔
“ارے ارے مت لڑو یار۔ بس جو کچھ ہو وہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو۔”سہیل ثانی نے ان کے بیچ میں آتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے۔ پھر کوئی پلان بناؤ۔ہمیں بتاؤ کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔”فضلو فٹ بالر جو کالج سے آگے نہ پڑھ سکا تھا، لیکن پکا پاکستانی تھا، شیراز کے کندے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
شیراز نے کامران کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہا تھا اور آنکھوں میں شیراز کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
“تو ایسا کرتے ہیں کہ کچھ جلسے جلوس نکالتے ہیں، لیکن پر امن۔ اور یہ سب کے ذہن میں رہے کہ کسی کو علم نہ ہو کہ ان جلوسوں کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔اگر آپ نہیں بتائیں گے تو کسی کو علم نہیں ہو گا۔ “شیراز نے فوراً سے ایک پلان بتا دیا۔
“اوکے ڈن۔ تم جو کہو گے اسی طرح ہو گا۔”سب نے حامی بھری اور شیراز کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گویا عہد کیا۔

چونکہ شیراز کا تعلق خفیہ سے تھا تو اپنی ٹریننگ سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ روزانہ کسی نہ کسی روپ میں کسی ایک جگہ جلسہ نما جلوس اکٹھا کر لیتا اور باقاعدہ ایک جذبات سے بھرپور تقریر شروع کر دیتا۔ عوام کو بھرپور دلائل دیتا کہ آج اگر ہم لوگ چپ بیٹھ گئے تو کل اسی انڈیا نے ہم کو کچا چبا دینا ہے۔کیونکہ آج جس طرح باقی غیر مسلم ممالک انڈیا کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان کے حکمرانوں کو کوئی بھی قدم لینے سے روک رہے ہیں۔ اسی طرح کل ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میں اس نے ہم پر حملہ کر دینا ہے اور اپنا اٹوٹ انگ کا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کو اپنا حصہ بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنی ہے۔ اور یاد رہے کہ سب نے اسکا ساتھ دینا ہے چاہے وہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو یا فرانس۔ سب مل کر اس انڈیا، ہمارے ازلی دشمن کو ہر قسم کی امداد دیں گے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے شیراز کی ان باتوں کا برا منایا اور اسے کہا کہ اگر ہم نے ایٹمی دھماکہ کر دیا تو امریکہ ہماری امداد بند کر دے گا۔ اقوام متحدہ ہم پر پابندیاں لگا دے گا۔ پھر ایٹمی دھماکہ کر کے ہمیں ملے گا بھی کیا۔ کچھ نہیں۔ شیراز نے کہا کہ ہمیں بہت کچھ ملے گا۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ دھماکے صر ف پاکستان کے ہی نہیں ہو ں گے بلکہ بہت سے اسلامی ممالک کی دلی خواہش ہے۔ پھر دوسری بات یہ کہ انڈیا کو کم از کم اتنی جرات بھی نہیں ہو گی کہ وہ اونچی آواز میں بات کر سکے چہ جائیکہ کہ وہ پاکستان کی سرحدو ں پر اپنی فوجیں کھڑی کر دے۔ 

جو بھی شیراز سے اس معاملے پر بحث کرتا وہ اسکو بھرپور دلائل دیتا۔ اسکا ساتھ دینے کے لیے اسکے دوست آگے بڑھ آتے او ر اپنے اپنے انداز میں پاکستان کے دھماکہ کرنے کے حق میں بات کرتے ۔اس طرح کرتے کرتے اس نے بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر اکثر شام کو وہ ایک بڑی تعداد لے کر ایک انتہائی پر امن جلوس نکالتا۔ شہر کے کھیلوں کے میدان میں پہنچ کر وہاں باقاعدہ پھر انکے جذبات کو ابھارتا۔ اور پھر پر امن طریقے سے جلوس منتشر ہو جاتا۔ کیا مجال کہ کبھی ایک آنے کا کسی کا بھی نقصان ہوا ہو۔ وہ جب بھی جلوس کا آغاز کرتا تو ایک بات ضرور کرتا کہ یہ جلسہ ہم اپنے جذبات کے لیے کر رہے ہیں، اپنے حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔اس لیے کسی کا بھی کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ نہ ہی کوئی چلتی ٹریفک میں خلل واقع ہونا چاہیے۔ اسکے جلسوں کی شہرت اسکے شہر سے نکل کر قریبی شہروں تک پھیل گئی۔ اسکی پیروی کرتے ہوئے دوسرے شہروں میں بھی پرسکون جلوس ہونے لگے۔ ایک خاص وقت پر شروع ہوتے، تقریریں ہوتیں، بارگاہِ خدا وندی میں دلی آہ و زاری ہوتی، آہوں سسکیوں کی آوازیں شاید سیٹلائٹ کے ذریعے ، انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ تک بھی جاتی ہوں گی۔ اگرچہ صرف 10, 9 دن ہی گزرے تھے مگر عوام کی جائید اد کو رتی بھر بھی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البتہ انکے دل ہر گزرے دن کے ساتھ دھک دھک کی صدا بڑھاتے جا رہے تھے۔ 

وہ 28 مئی کا دن تھا۔ روز کی طرح اپنے جلوس سے فارغ ہو کر وہ بازار میں کچھ گھرکے لیے خریدو فروخت کر رہا تھا۔کہ اچانک اسکے کانوں میں ایک آواز آئی۔ ’’ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘‘۔ اسکو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ فوراً ایک قریبی دکان میں گھس گیا جہاں ٹیلی ویڑن لگا ہوا تھا اور نیوز کاسٹر خبریں سنا رہا تھا۔ شد ت جذبات سے اسکی آواز بھی مشکل سے نکل رہی تھی۔جب شیراز نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے لکھا ہو اپڑھا تو اسے اپنے آپ قابو نہ رہا۔ جھٹ دکان سے نکلا اور انتہائی بلند آواز میں نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کی۔ اس وقت بازار میں جتنے بھی لوگ تھے چاہے دکاندار تھے یا خریدار۔ سب نے ایک آواز ہو کر اسکا جواب دیا ’’ اللہ اکبر‘‘۔ پھر ایک صدا گونجی ’’ نعرۂ تکبیر۔ اللہ اکبر۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر۔

شیراز خوشی سے اور جذبات سے بے قابو ہو چکا تھا۔ اسکو اپنی محنت کا پھل مل چکا تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کے لیے بازار میں موجود ایک مسجد میں گھس گیا۔ دیکھا تو وہاں ایک جم غفیر جمع تھا اور کوئی سجدے میں تھا کوئی رکو ع میں تھا تو کوئی ہاتھ اٹھائے ، آنکھوں سے آنسو بہائے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔جس نے آج پاکستان کو اسلامی دنیا میں میں سرخرو کر دیا تھا۔ اس نے بھی سجدے میں سر رکھ دیا اور خدا کے حضور آنسوؤں کے نذرانے پیش کرنے لگا۔
پاکستان زندہ باد۔