Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

شخصی تحریریں

میری دادی جان
January 17, 2018

میری دادی جان

میری دادی ماں، جنھیں میں ماں جی کہہ کر پکارتا تھا، نے مجھے چاند پر پریوں کی کہانی تو کبھی نہیں سنائی، البتہ دین سے رغبت انہی کی وجہ سے ہے۔ اگرچہ مجھ سے بڑا منافق اس روئے زمین پر شاید ہی کوئی ہو، لیکن دین سے لگاؤ جتنا بھی ہے اس کی بنیادی وجہ وہی بنیں۔
انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے قصے، تاریخی واقعات ان کی زبانی بہت سے سنے۔ وہ اپنے وقت کی ماشاء اللہ بڑی عالم تھیں۔ جب تک وہ گاؤں میں رہیں، شاید ہی کوئی فرد بچے سے لے کر بوڑھے مرد و خواتین تک سب نے قرآن پاک ان سے پڑھا۔ خواتین ہفتے میں دو تین بار ان سے احادیث سننے آتی تھیں۔ کوئی مسلہ آتا جس کا اسلامی حل ان کو چاہیے ہوتا تھا تو ہماری دادی کے پاس دوڑے چلی آتی تھیں۔
جہاں تک ہماری دادی ماں کا اپنے پوتے پوتیوں، نواسوں اور نواسیوں سے تعلق کا تعلق ہے تو میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ شاید ہی مجھ سے آگے اس معاملے میں کوئی آگے ہو۔ ان کا مجھ سے اور میرا ان سے ایک خاص لگاؤ تھا۔ ان کے دنیا سے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ لگاؤ اسی دینی تربیت کی وجہ سے تھا جو مجھے دی گئی تھی۔ میں نے قرآن و احادیث کا علم حاصل کیا تو کئی احادیث و واقعات ان کو تصیح کرکے سنائے کہ جو آپ سناتی ہیں وہ اس طرح نہیں، اس طرح ہیں۔ ان کو اس بات کی بہت خوشی ہوتی تھی جب میں ان سے اسلام کی کوئی بات کرتا تھا یا کوئی نئی بات ان کو سناتا تھا۔
میری جب آج سے چودہ سال پہلے اسلام آباد میں جاب لگی تو مجھے ویک اینڈ پر ہی گھر جانا ہوتا تھا۔ اکثر دیر سے رات گئے گھر پہنچتا تھا۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ میں گھر پہنچا ہوں اور جاگ نہ رہی ہوں۔ جب تک میرے ماتھے پر پیار کا بوسہ نہیں دیتی تھیں تب تک سوتی نہیں تھیں۔ اسی طرح صبح سویرے جب اسلام آباد کے لیے نکلنا ہوتا تھا تو میری کوشش ہوتی تھی کہ ان کو نہ جگایا جائے کہ میں نے فجر کی نماز اکثر راستے میں پڑھنی ہوتی تھی۔ لیکن ان کو تو جیسے کوئی پاؤں ہلا کر جگا دیتا تھا کہ پوتا اسلام آباد کے لیے نکل رہا ہے بنا ماتھے پر بوسہ لیے ہوئے۔ اِدھر میں بیگ اٹھا کر اپنے کمرے سے نکلتا تھا، اُدھر وہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی میرا انتظار کر رہی ہوتی تھیں۔
ہمارے پورے خاندان میں ان جیسا شاید ہی کوئی ہو گا۔ میں ان کی بحیثیت خاتون بات کر رہا ہوں۔ جیسا کہ ذکر کیا وہ صاحبِ علم تھیں۔ ہمارے اکثر رشتہ دار ان کے پاس ہفتے میں ایک آدھ بار ان کے پاس آکر مختلف مسائل پر بات چیت کرتے تھے اور ا ن کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ میری دادی بتاتی تھیں کہ ان کے والدین بھی در حقیقت بہت بڑے عالم تھے۔ ایک مرتبہ شاید ان کے شناختی کارڈ کے لیے فارم بھرنا تھا تو اس میں والدہ اور والد کا نام بھی لکھا جاتا ہے۔ ان سے ان کے والدین کا نام پوچھا تو کہنے لگیں علم میں وہ اتنا آگے تھے کہ اگر ان کا نام بنا وضو کے لیا جائے تو شاید گستاخی ہو۔ لیکن چونکہ وہ نہ تو صحابی تھے نہ تابعی، تو اس لیے وہ بتا دیتی ہیں۔
ان کی علم کی صرف ایک خامی جو شاید میں ہی جج کر پایا تھا کہ ان کواحادیث تو کثرت سے یاد تھیں لیکن ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان میں سے صحیح احادیث کون سی ہیں اور ضعیف احادیث کون سی۔ اسی بنا پر وہ مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی حدیث سنا دیتی تھیں۔ میں نے جب قرآن و حدیث کو پڑھنا شروع کیا اور میں نے جاناکہ احادیث کی قسمیں کیا ہیں اور کس بنا پر کسی حدیث کو رد کیا جاتا ہے اور احادیث کی کس کتاب کو مستند مانا جاتا ہے تو پھر اگر میری موجودگی میں وہ کوئی حدیث بیان کرتیں تو میں اکثر بعد میں ان کی تصیح کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن یہ سب کچھ ایک ادب کے دائرے میں ہوتا۔ میں اگر حدیث کو ضعیف قرار دیتا تو اس کا باقاعدہ حوالہ دیتا یا قرآن پاک سے اس کی مخالفت ثابت کرنے کی کوشش کرتا۔ اس بات پر ماں جی بہت خوش ہوتی تھیں اور علم میں مزید اضافے کی دعائیں ملتی تھیں۔
اللہ نے ان کی چھٹی حس کچھ زیادہ طاقت ور رکھی تھی۔ ان کو آنے والے وقت کا اندازہ ہو جاتا تھا کہ کیا واقعہ ہو سکتا ہے۔ البتہ وہ اس کو بیان نہیں کر پاتی تھیں۔ جیسے ان کو الہام ہوتا ہو۔ کسی بچے کے بارے میں کہتیں یا پوچھتیں کہ وہ بیمار تو نہیں ہے، یا کوئی ملنے آتا تو اس سے پوچھتیں کہ اس نے دوائی وقت پر لی ہے۔ جس پر وہ بھی اور دیگر بھی حیران ہوتے کہ وہ بیمار تو ہے نہیں تو دوائی کی کی ضرورت۔ لیکن اگلے ایک دو دنوں میں وہ بیمار ہو جاتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے کچھ رقم کی اشد ضرورت تھی لیکن سوائے خدا کے اور کوئی وسیلہ نہیں تھا اور اللہ کی حکمتوں سے وہ ذات خود ہی واقف ہے۔میں نے دادی ماں سے ذکر کیا تو کہنے لگیں کہ یہ بھی کوئی بات ہے۔ اللہ سب بھلا کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ شاید چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ میرا مسلہ یوں حل ہوا کہ مجھے علم بھی نہ ہوا۔
ان کی تاریخ پیدائش کیا تھی کسی کو نہیں معلوم۔ لیکن ان کی اپنی معلومات کے حساب سے جو حساب کتاب لگایا گیا تھا ،دنیا سے رخصت ہوتے وقت ان کی عمر تقریباً ایک سو سات برس تھی۔ یہ ان پر اللہ کا احسان تھا کہ تا مرگ انھوں نے عینک کا استعمال نہیں کیا۔ قرآن پاک کی تلاوت اور پانچ وقت نماز کا کبھی ناغہ نہیں کیا۔ لاٹھی ان کو ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں لا کر دی تھی جب وہ بخار کی وجہ سے تھوڑی کمزور ہو گئی تھیں۔ لیکن وہ اس لاٹھی کو بطور سہارا بہت کم استعمال کر پائی تھیں۔ ان کا دل نہیں چاہتا تھا۔ البتہ آخری دو سال اگر کوئی بیس تیس فٹ چلنا ہوتا تو لاٹھی کا استعمال کر لیتی تھیں ورنہ وہ ہاتھ میں ہوتی تھی اور بنا استعمال کے چلتی تھیں۔یہ اللہ پاک ان پر بہت بڑا احسان تھا۔
گیارہ مئی 2011 کو وہ وضو کے لیے جا رہی تھیں کہ گر گئیں۔ ان کے کولہے کی ہڈی متاثر ہوئی بلکہ فریکچر ہوئی۔ اب ان کی عمر ایسی تھی کہ پلستر نہیں کیا جا سکتا تھا تو ڈاکٹرز نے راڈز ڈال دیے۔ اب اللہ کا کرنا ایسا تھا کہ جس دن وہ گریں اس دن کے بعد سے وہ مکمل ہوش میں نہیں آئیں۔ جس دن آپریشن ہوا تھا اس کے بعد سے صرف تکلیف کی وجہ سے وہ کراہتی تھیں ۔ لیکن زیادہ تر کومہ کی حالت میں رہی تھیں۔ صاحبِ علم تھیں۔ چونکہ ہر وقت ذکر خدا ان کی زبان پر ہوتا تھا کہ تمام عمر ان کے ہاتھ میں تسبیح رہی اور گردش میں رہی۔ البتہ میں نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ جب وہ بات کر تی تھیں تو ان کی تسبیح رک جاتی تھی۔ نہ کہ آج کل کے نام نہاد تسبیح مارنے والوں کی طرح جو بات بھی کرتے تھے اور ساتھ میں تسبیح کے دانے بھی چلتے تھے۔
گرنے کے بعد سے بیس دن تک وہ بستر پر رہیں۔ ان کو گلوکوز لگتے رہے یا مائع خوراک دی جاتی تھی وہ بھی چمچ کے ذریعے ان کے دہن میں اتاری جاتی تھی۔ اللہ کی مرضی کی بات ہے کہ ان پورے بیس دن ان کو واش روم کی حاجت نہیں لگی۔ 31 مئی 2011 کو وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ محلے کی ایک خاتون آئیں اور میری امی جان سے کہا کہ انھوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک پکارنے والا کہہ رہا ہے کہ راستے کو صاف کرو اللہ کا قریبی دوست آرہا ہے۔ پھر میں نے اس گھر سے جنازہ نکلتے دیکھا۔ ان کے جنازے میں ایک جمِ غفیر نے شرکت کی تھی۔ ہمارا پورا گاؤں اٹھ کر آگیا تھا ۔ خواتین نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی روحانی ماں دنیا سے رخصت ہو گئی ہے۔آج وہ حقیقی معنوںمیں یتیم ہو گئی ہیں۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے، آمین۔

سگنل کی تلاش اور کھانا
September 15, 2017

سگنل کی تلاش اور کھانا

دعوت طعام کا اعلان ہوا تو ندیدوں نے صبح کا ناشتہ ہی چھوڑ دیا. پھر پتہ چلا کہ دو نے تو دوپہر کو کھانا ہی نہیں کھایا. کہ بھابھی کے ہاتھ میں سنا تھا بہت ذائقہ ہے.اس میں تو کوئی شک نہیں نکلا کہ واقعی بہت ذائقہ دار تھا. لیکن جو پرابلم سب سے زیادہ ہوئی وہ سگنل کی گمشدگی تھی. بہت کوشش کی گئی لیکن سگنل ظاہر ہوتے ہوئے بھی نہیں تھے. برقی پیغام بھیجنے کی کوشش کی تو جوا ب ملا آپ کون. یہ آپ کون مخالف پارٹی کا نہیں تھا بلکہ نیٹ ورک کی طرف سے کچھ اس طرح کی وارننگ تھی. پھر ایک تجربہ کیا گیا. اس نمبر پر ایک دوسرے نمبر سے پیغام بھیجا گیا. وہ چلا گیا. نتیجہ یہ نکلا کہ موبائل میں فرق ہے. اب کیا کیا جائے. میزبان نے دخل در معقولات کی اور ایک سمت کا بتایا جہاں سے سگنل دستیاب ہو سکتے تھے. بس جی اندھے کو کیا چاہیے. دو ہاتھ. یا کچھ اور .. خیر جو بھی چاہیے. تو یہاں بھی یہ ہوا، اسی سمت میں کبھی موبائل کو ریموٹ کی طرح پکڑا جا رہا ہے، کبھی الٹا کیا جا رہا ہے، کبھی جیسے بوتل کو الٹا کر کے پیچھے سے تھپکی دی جاتی ہے کہ جو کچھ ہے اس میں سے نکل جائے، اسطرح موبائل کیساتھ بھی کیا گیا. اسکو اس سمت میں پکڑ کر تھپکیاں تک دی گئیں. کہ شاید باہر سے تو نہیں، اندر سے ہی سگنل نکل آئیں. لیکن وہی ڈھاک کے تین پاٹ. نہ ملنے تھے سگنل، نہ ملے. تو چونکہ یہ پیغام بھیجنا مجبوری تھا، بلکہ اشد ضروری تھا کیونکہ نہ بھیجنے کی صورت میں گھر میں گھسنا کار دارد مشکل تھا. اس کا حل اس وقت یہ نکلا کہ ایک اور ساتھی سے موبائل ادھار لے کر پیغام بھیجا گیا. ویسے یہ کنفرم نہیں ہے کہ بھیجا بھی یا نہیں. بس بھیجنے کی اداکاری کی گئی.
ایک بڑے سیب کا جوس جب سامنے آیا تو عقدہ کھلا کہ موصوف نے تو صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا. لیکن اس پر ہی کیا بس تھی، ایک دوسرے کونے سے دو آوازیں آئیں، ہم بھی کسی سے کم نہیں. ہم نے بھی تو دوپہر کا کھانا نہیں کھایا. لہٰذا اس جوس سے اپنے کا کچھ نہیں ہونے کا. تو پردے کے پیچھے سے آواز آئی کہ یہ تو آغاز ہے. بس انتظار کرتے رہیں، اور جو کچھ آتا جائے پیٹ میں ٹھونستے رہیں. یہ ٹھونسنے کے الفاظ صرف ایک ہی اندھے کے لیے تھے. لیکن قارئین کرام، یہ الفاظ پردے کے پیچھے سے سننے کی حسرت ہی رہی کیونکہ میزبان نے ہماری گناہ گار آنکھوں کے سامنے یہ الفاظ کہے. تو ہمیں ہمارے موبائل کے سگنل بھی گم ہوتے دکھائی دیے. کیونکہ جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا آجاتا ہے تو سب کچھ غائب ہوتا ہی دکھائی دیتا ہے.
جب جوس سامنے لایا گیا تو پہلے ٹائی اتری، پھر کوٹ کو اتارا گیا. پھر اپنی شرٹ کی طرف ہاتھ کیا تو مجبورا ہاتھ جوڑنے پڑے کہ بھائی شریفوں کا گھر ہے. اور مزید مہمان بھی شریف ہیں. تو تھوڑا احساس ہوا اور مارے ندامت کے صرف گلے کو درست کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا.سونے پہ سہاگہ سیب کے جوس کے بعد چائے سے تواضع کی گئی. وہ زبان ہی کیا جو رک جائے. جھٹ سے بات نکلی اور میزبان کے کان تک پہنچی. یہ تو کچھ الٹی گنگا بہہ رہی ہے. موبائل ہاتھ میں تھا. میں سمجھا کہ شاید سگنل مل گئے ہیں تو یہ بات کی. موبائل کو دیکھا تو وہ تو ٹیبل پر پڑا تھا. خیر کوئی بات نہیں.ہم بھی کسی سے کم نہیں تھے. مسلسل نظر میں رکھا کہ کہیں سگنل کا بہانہ کر کے ہمارا موبائل ہتھیانے کے چکر میں نہ ہوں.
کھانے کے دسترخوان پر تو موصوف نے وہ وہ حرکتیں کیں کہ بتانے کے قابل نہیں ہیں. پہلا نوالا ڈالتے ہی سسکاری بھری. یہ سمجھ نہ آئی کہ کھانے کے ذائقہ دار ہو نے کا احساس دلا رہے ہیں یا ٹھنڈی آہ بھر رہے ہیں. لیکن ہم سب سے زیادہ میزبان تیز نکلے. فورا جانچ گئے کہ دال میں کچھ کالا ہے. جھٹ سے کہہ بیٹھے، تجھے مرچی لگی تو میں کیا کروں، سب کیا دھرا تو بیگم کا ہے. ادھر سسکیاں نکل رہی تھیں، ادھر انکے بغل سے کسی کی آنکھ سے آنسو نکل رہے تھے اور ناک سے سوں سوں کی آوازیں آرہی تھیں. کیا مرچیں بہت تیز ہیں. نہیں تیز نہیں لیکن میں کھانے کا عادی نہیں. دوسرے کونے سے نیلی سی آواز آئی . عادی تو ہم بھی نہیں، لیکن کھانا بہت اچھا ہے تو کھانا تو پڑے گا. رہ گیا میں تو میں تو تین میں نہ تیرہ میں. اگرچہ مرچوں سے پرہیز ہی کرتا ہوں کیونکہ تھوڑا ڈاکٹر نے پرہیز کا کہا ہوا ہے. لیکن جب انگلیاں بھی چاٹنے کو جی چاہے تو بندہ بشر رک کیسے سکتا ہے. تو ہم بھی کھاتے رہے اور دل میں آنسو بہاتے رہے.
جب نمکین کھانوں کی باری ختم ہوئی تو میزبان صاحب نے اچانک ایک بڑا ڈونگا میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ دیکھا تو میٹھا تھا۔ جو کہ عین سنت کے مطابق تھا۔ مطلب کہ نمکین کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے۔ لیکن یہ کیا؟ اچانک میرے گھٹنے پر ایک ہلکی سی ضرب پڑی۔ دیکھا تو بائیں بازو کی تحریک کے علمدار نے آنکھ سے اشارہ کیا کہ سارا ڈونگا اسے دے دیا جائے۔ میں نے بھی دے دیا کہ بے چارہ صبح کا بھوکا ہے۔ چائے بھی نہیں پی، تو میٹھی چائے کی جگہ یہ میٹھا ہی ہو جائے۔ لیکن مروت سے کام لے کر بس چھوٹی پیالی میں تھوڑا سا ڈالا اور بسم اللہ کہہ کر چمچ سے پینا شروع کر دیا۔ یہ کیا؟ یار ایک ہی بار میں کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ کتنا پیارا جواب تھا۔ خیر میٹھے سے ہم نے بھی اپنی سلام دعا جاری رکھی۔ اور جن کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، ان کو روکنے میں بہت مدد ملی اور سسکیاں پھر آہوں میں بدل گئیں۔ کہ پہلے کیوں نہ آئے۔
لطیفے تخلیق ہوئے، ہنس ہنس کو لوٹ پوٹ ہوئے. بہت سی باتیں ہوئیں. بہت بہترین وقت گزرا. لیکن ایک پرابلم پھر بھی رہی کہ سگنل نہ ملنے تھے، نہ ملے. اور لوٹ کے بدھو گھر کو چلے۔ جن موصوف کا ذکر کیا گیا ہے وہ آج کے کالم نویس مستقبل کے بہترین لکھاری اور ایک کتاب کے تخلیق کار ہیں۔ اور ان شاء اللہ مزید عروج پائیں گے۔

(مارچ 29، 2017)

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
September 14, 2017

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

مجھے اپنی عمر تو یاد نہیں شاید آٹھ سال یا دس سال لیکن اسی کی دہائی کے ابتدائی سال تھے۔ جب میں نے ایک جاسوسی ناول زرد لفافہ پڑھا۔ اس سے پہلے میں سسپنس ڈائجسٹ کا ذائقہ چکھ چکا تھا۔ خیر زرد لفافہ ناول اگر چہ یہی کوئی سو صفحات کا تھا لیکن اس کے بعد جو چسکا جاسوسی ناولوں کا لگا تو ایسا لگا کہ آج چالیس کی حد پار ہو گئی ہے لیکن شاید ہی کوئی ناول ایسا ہو جس کو سلور فش یا کتابی کیڑے کی طرح نہ چاٹا ہو۔ انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران مرز یا شوکی سیریز سے پھر چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔ خود تو خرید نہیں سکتا تھا کہ والد مرحوم نصابی کتابوں کے علاوہ اور کسی کتاب کی طرف نگاہ ڈالنے کی اجازت تک نہیں دیتے تھے چہ جائیکہ جاسوسی ناول۔اس کا حل یہ نکالا کہ اس وقت کے جو یار دوست ناولوں کے شوقین تھے اور ان کا جیب خرچ اتنا تھا کہ بازار سے ناول خرید سکتے تھے، انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مارکیٹ میں جمشید، کامران مرزا یا شوکی سیریز کا ہر آنے والا ناول خردیں۔ مزے کی بات ہے کہ انھوں نے بھی یہ ناول پڑھ کر ہی حامی بھری تھی۔

غیر نصابی کتابوں کو بھی شوق چرایا۔ لیکن ناولوں نے کچھ ایسا من میں بسیرا کر لیا تھا کہ شاید غالب کا یہ مصرعہ کہ چھٹتی نہیں ہے یہ کافر منہ کو لگی ہوئی، مجھ پر سو فیصد لاگو ہو تا تھا۔اس حد تک ناولوں کا شوق چڑھ گیا تھا کہ سکول میں ٹیچر سبق پڑھا رہے ہوتے تھے اور میں کتاب کے اندر ناول رکھ کر پڑھا کرتا تھا۔ کئی بار ٹیچر نے ناول قبضہ کر کے نقصان بھی دیا، کئی بار مرغا بھی بنا، ہاتھوں پر بید سے مار بھی کھائی، لیکن کیا مجال کہ منہ کا ذائقہ بدلا ہو۔ نوبت یہاں تک آپہنچی تھی کہ دسویں کے امتحانات شروع ہونے میں دس بارہ دن رہتے تھے۔ سارے کلاس فیلوز، سارے ساتھی اپنی نصابی کتابوں کو چاٹ رہے تھے، رٹے پہ رٹا لگا رہے تھے اور کچھ بوٹیاں بنانے میں مصروف تھے۔ جب کہ مابدولت ان دنوں میں بھی دن میں کم از کم دو سے تین ناول نہ پڑھ لیں ریاضی کے سوالات سمجھ ہی نہیں آتے تھے۔ جغرافیہ کی یہ صورت حال تھی کہ چین پاکستان کے مغرب میں نظر آتا تھا اور پاکستان کے جنوب میں واقع بحرِ ہند میں افغانستان دکھائی دیتا تھا۔پہلے پرچے سے کوئی چار دن پہلے والد صاحب کو شک سا پڑھا کہ اتنا پڑھاکو تو نہیں ہے کہ ہر وقت کمرے میں گھسا رہتا ہے۔انھوں نے کمرے کی تلاشی لینی شروع کی تو بستر کی پیٹی کے پیچھے سے کوئی تیس کے قریب جمشید، کامران مرزا اور شوکی نکلے۔اس وقت آپ کے اس لکھاری کو اللہ نے بچایا ورنہ آج میں یہ تحریر نہ لکھ رہا ہوتا۔
سچ کہوں تو وہ ناول ناول نہیں تھے بلکہ ایک اکیڈمی تھے۔ انھوں نے مجھے ذاتی طور پر بہت کچھ سکھایا۔ زندگی میں جینا سکھایا۔ پریشانی میں ، تکلیف میں انکا مقابلہ کرنا سکھایا۔کسی بھی مشکل میں ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھنا بلکہ اس کا حل کیسے ڈھونڈھنا ہے، یہ سکھایا۔اردو کے حوالے سے جس لیول کا بھی امتحان دیا، کبھی فیل نہیں ہوا۔ کیونکہ مجھے یقین ہوتا تھا کہ میں نے اردو میں جو بھی مضمون لکھا ہے، کسی شعر کی تشریح لکھی ہے تو خوب لکھی ۔ محاورات و ضرب الامثال کا استعمال بھی موقع محل کے مطابق خوب سے خوب تر کیا ہے۔ پھر روزمرہ کی بات چیت میں جو کسی حد تک حاضر جوابی سیکھی یا کسی کی بات کو گھما پھرا کر اسے چکر پر چکر دیے، یہ بھی فاروق اور آفتاب یا مکھن نے سکھایا۔اپنے وطن سے محبت کا جذبہ بڑھتا گیا اور تناورد رخت بنا۔ سب سے بڑھ کر اللہ سے، اسکے رسول پاک ﷺ عشق کا سبق پڑھا اور پھر چھٹی نہ ملی کہ مکتب عشق میں داخلہ مل چکا تھا۔یہ سب اگر کمال تھا ، یہ سب حسن جمال تھا توواقعی اشتیاق احمد لازوال تھا۔ یہ سب کچھ صرف میں نے ہی نہیں حاصل کیا بلکہ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے لاکھوں افراد اس مرحلہ سے گزرے ہوں گے۔ جھوٹ نہیں بولنا، بڑوں کی عزت کرنی ہے، بے شک اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے، لیکن دل جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ، تو اشتیاق احمد دل سے لکھتے تھے اور قاری دل سے پڑھتے تھے۔ تو دل والے جب دل والوں سے ملتے ہیں تو متأثر ہوئے بنا نہیں رہتے۔اور اشتیاق احمد نے لاکھوں افراد کو متأثر کیا۔
محترم اشتیاق احمدصرف ایک جاسوسی ناول نگار ہی نہیں تھے بلکہ انھوں نے عبداللہ فارانی کے نام سے بھی بہت سی اسلامی کتابیں لکھیں۔سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم، سیرت صحابہ قدم بہ قدم، سیرت صحابیات قدم بہ قدم اور ڈھیروں اسلامی کتابیں ان کے قلم سے قلم بند ہوئیں۔ تحریک ختم نبوت ﷺ کے داعی تھے۔ گستاخِ رسول ﷺ قادیانوں کے خلاف جب جب، جہاں جہاں ان کو موقع ملا انھوں نے قلمی، زبانی جہاد کیا۔مجھے یقین ہے کہ اللہ پاک کو اگر کچھ بھی پسند نہ آئے، جو انھوں نے آقائے نامدار احمد مجتبٰی ، محمد مصطفی ﷺکی شان بلند کی، ان کی حرمت کا دفاع کیا، یہ اللہ کے دربار میں ضرور قابلِ قبول ہو گا۔ اسلامی کتابیں لکھنے کا انداز بھی اتنا منفرد اور سہل تھا کہ اگر پانچویں کلاس کا بچہ بھی پڑھے تو بہت آسانی سے سمجھ لے گا۔ناول تو تھے ہی بچوں کے لیے ۔ لیکن یہی بچے ان کے ناول پڑھتے پڑھتے پوری ایک نسل پروان چڑھ گئے۔ انھوں نے ۱۹۷۳ ؁ء میں لکھنا شروع کیا تھا اور آج بیالیس سال ہو گئے ہیں، تو ایک نسل جوان تو کیا ادھیڑ عمری میں پہنچ گئی۔ میں نے عمران سیریز پڑھیں، ہر مصنف کی پڑھیں لیکن سب میں منفرد ابنِ صفی مرحوم ہی تھے کہ انکا ہر ناول ایک دوسرے سے جدا ہوتا تھا۔مظہر کلیم صاحب نے ابنِ صفی کے بعد عمران سیریز کو آگے بڑھایا چار سو کے لگ بھگ ناول لکھے لیکن کبھی کبھی کسی ناول میں احساس ہوتا تھا کہ یہ تو پہلے ہی کسی ناول میں ہو چکا ہے۔کبھی کبھی بوریت ہو جاتی تھی۔پھر ظہیر احمد آئے جن کا ہرتیسرا ناول یہ احساس دلاتا ہے کہ پورا ناول ہی پہلے پڑھا ہوا ہے، تو سارا مزہ کرکرا ہو جاتا ہے۔
اس کے بالعکس محترم اشتیاق احمد کا ہر ناول ایک دوسرے سے ہمیشہ مختلف ہوتا تھا۔ کبھی بھی کسی ناول میں یہ احساس نہیں ہوا کہ پہلے پڑھا ہوا ہے۔ انسپکٹر جمشید، انسپکٹر کامران مرزا یا شوکی سیریز کے علیحدہ علیحدہ ناول ہوں یا انکے مشترکہ خاص نمبر، ہر ایک کی ایک جداگانہ حیثیت ہوتی تھی۔ واقعی میں اللہ نے اشتیاق احمد صاحب کو خداداد صلاحیت بخشی تھی۔ کافی لمبے عرصے تک وہ ہر ماہ چار ناول لکھتے رہے۔ انکی زندگی میں کافی نشیب و فراز آئے۔ کبھی پبلشرز کی طرف سے تو کبھی تقسیم کار کی جانب سے۔ لیکن جب وہ خود دوسروں کو یہ سبق دیتے تھے کہ ہمت نہیں ہارنی بلکہ ہر مشکل کا مقابلہ کرنا ہے تو خود کیسے پیچھے رہتے۔جب وہ چار ناول ہر ماہ لکھتے تھے تو گویا ایک سال کے اڑتالیس ناول۔ مجھے نہیں یقین کہ دنیا کے کسی بھی مصنف نے یا ناول نگار نے اس طرح کے منفرد ناول اتنی تعداد میں لکھے ہوں۔
ان کے ناولوں کی تعداد مشہور تو آٹھ سو ہے۔جو صرف جاسوس ہیں۔لیکن میرے خیال میں یہ تعداد ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اگر حکومت پاکستان تھوڑی سی ہمت کر لے تو ایک تو محترم اشتیاق احمد کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہو سکتا ہے اور شاید بہت لمبے عرصے تک رہے۔ دوسرا بعد از وفات انہیں ادب کا نوبل انعام بھی مل سکتا ہے کہ انھوں نے اردو ادب کی اتنی خدمت کی۔بے شک جاسوسی ناولوں کو ادب میں نہیں گردانا جاتا لیکن بحیثیت مصنف تو ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاسکتا ہے۔جنھوں نے آج تک کوئی بھی کارہائے نمایاں نہیں انجام دیے ان کو تو پرائیڈ آف پرفامنس ایوارڈ مل سکتا تو جنھوں نے ایک پوری نسل کی زندگی سنوار دی ، انہیں کیوں نہیں نوازا جا سکتا۔یہ ہماری طرف سے ان کے لیے کم سے کم خدمت ہو گی۔
کہیں پڑھا تھا کہ جس میدان کا شہسوار ہو وہ اسی میدان کا ہیرو ہوتا ہے اور اسی میدان میں ہی لوگوں کے دل جیت سکتا ہے۔ وہ کھلاڑی کسی دوسرے میں میدان میں ہر گز اپنے جوہر نہیں دکھا سکتا۔ لیکن محترم اشتیاق احمد نے ہر قسم کے ناول لکھ کر یہ ثابت کیا کہ وہ علم کا ایک سمندر ہیں۔ ان کے ناولوں میں جدید سائنس کا استعمال، تاریخ کی باتیں، جنگل کی یا سمندر کے حوالے سے انھوں نے اپنا علم بچوں کے ذریعے عوام تک پہنچایا۔ناولو ں کا کونسا شعبہ تھا جو زیرِ قلم نہیں آیا۔ ہاں نہیں آیا تو واہیات نہیں لکھا۔مرد عورت کو خلوت میں کبھی نہیں لکھا۔بچوں کی صحیح معنوں میں تربیت میں اپنا کما حقہٗ کردار ادا کیا۔ واقعی انسان اپنے کردار اور کارناموں سے فاتح بنتا ہے نہ کہ میدان اور میدان کے دلداروں سے…اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو کشادہ فرما کر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کو بلا حساب جنت میں داخل فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے، آمین، ثمہ آمین۔

؂ فاتح جو ہر میدان کے تھے وہ تو گزر گئے
دن زندگی کے چار وہ کر کے بسر گئے

******************************

جناب حسن نثار صاحب کی خدمت میں
April 9, 2016

Allama Iqbal

Allama Iqbal

جناب حسن نثار صاحب کی خدمت میں

حسن نثار صاحب کسی زمانے میں بہت اچھا لکھتے اور اب بھی بہت اچھا لکھتے ہیں لیکن جب سے ان کو لوگ پہچاننے لگے ہیں ان کے قلم میں خم آگیا ہے۔ اب ان کے لکھنے کا انداز دوسروں کی باتوں میں سے باتیں نکالنے سا ہو گیا ہے، جسے ہم عرف عام میں مین میخ نکالنا کہتے ہیں۔ علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کے یومِ ولادت پرانھوں نے ایک کالم لکھا تھا جس میں انھوں نے اقبال جیسے مردِ مومن کو ایک عام سا شاعر کہا تھا۔ علامہ اقبال کو انھوں نے اس درجے کا شاعر کہا تھا کہ جن کی شاعری کو بالکل بھی توجہ نہیں دینی چاہیے۔ وہ علامہ اقبال جن کا کلام گویا قرآن پاک کا منظوم مفہوم شدہ ترجمہ ہے۔ رسول پاک سے عشق کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ۖ کا نام مبارک علامہ کے سامنے لیا جاتا تھا تو انکی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آجاتے تھے ۔ بے اختیار ان کے لبوں پر درود پاک جاری ہو جاتا تھا۔ ان کا کلام ایران میں پڑھایا جاتا ہے۔ اور حسن نثار صاحب کہتے ہیں کہ وہ ایک اناڑی اور عام سے عمومی شاعر تھے۔ کالم نویس کے نام کے ساتھ میں نے صاحب اس لیے لگایا کہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، ورنہ میرا دل ہر گز نہیں چاہتا۔

بے شک حسن نثار صاحب کا علم بہت زیادہ ہے اور وہ اس علم کا استعمال بھی بہت کرتے ہیں۔ اپنے کالمز میں ، ٹی وی پروگرامز میں وہ دوسروں کی دال نہیں گلنے دیتے۔ اپنے علم میں وہ اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں کہ انکی سمجھ کے مطابق ان سے آگے کوئی نہیں ہے۔ جو بھی ان کے آگے بات کرتا ہے، حسن نثار صاحب ان کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ اپنے آپ کو مفکر، علامہ، مفتی سمجھتے ہیں۔ اور میرے خیال میں انھوں پچھلے کچھ عرصہ سے اسلامی کتابیں بھی پڑھنا شروع کی ہیں، وہ کتابیں جو تحریفوں سے بھری پڑی ہیں، جو ان لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں جنھوں نے ان کو لکھنے کے لیے باقاعدہ دوسری اقوام سے وعدے کیے ہیں۔ یا پھر ان کو اسلام کی تعلیمات پسند نہیں آئیں کہ وہ انکی زندگی میں قدغن لگاتی ہیں۔ ان کو صغیرہ و کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے بچاتی ہیں۔ تب ہی جناب حسن نثار صاحب بھی مختلف معاملات کی اپنی مرضی کی تشریح کرتے ہیں۔

آج ہی میری نظر سے ان کی ایک مختصر تحریر نظر سے گزری جو کہ ویلیٹائن ڈے سے متعلق تھی۔اس تحریر کی پہلی سطر ہی دل کو دہلا دینے والی تھی۔ اللہ پاک کے اس فرمان سے بالکل الٹ تھی جس کے مفہوم کے مطابق جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا کل کو اسی قوم کے ساتھ اٹھا یا جائے گا۔ پھر یہ کے بے حیائی کے کاموں کو جو پھیلانے میں جس حد تک مدد دے گا، وہ گویا اس بے حیائی کے گناہ کو پھیلانے میں پورا پورا گناہ میں شامل ہو گا۔ اور حسن نثار صاحب کہتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے منانا چاہیے یا نہیں، یہ ایک فضول بحث ہے۔ جو منانا چاہتا ہے منائے اور جو نہیں چاہتا وہ نہ منائے۔ میرا سوال حسن نثار صاحب سے یہ ہے کہ آپ مسلمان ہیں۔ اللہ اور اسکے رسول پاک ۖ کا کلمہ پڑتے ہیں۔ کل بہت سے ہندوئوں کو دیکھتے ہوئے آپ کا جی چاہے کہ آپ بھی کسی بھگوان کے آگے سجدہ کریں، تو کیا کر لیں گے؟ کل آپ کا جی چاہے کہ آپ لوگوں سے کہیں کہ لازمی نہیں کہ آپ کسی نامحرم سے ہی شادی کریں، بلکہ آپ کو اگر اپنی بہن اس حد تک اچھی لگتی ہے کہ اس کے بنا آپ کو گھر سونا لگتا ہے تو آپ اپنی بہن سے ہی شادی کر لیں تو کیا آپ کہہ لیں گے؟ یقینا آپ یہ بات عوام سے کہہ دیں گے۔کل آپ کہیں گے کہ جس کا جی چاہے نکاح کرے، جس کا نہیں چاہتا نہ کرے، بنا نکاح کے اکٹھے رہ لیں۔

Allah

Allah

اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں کہ مسلمان کا یہ حق ہے کہ وہ نیکی کے کاموں کی طرف لوگوں کو بلائے اور برے کاموں سے ان کو روکے۔ تو یہ جو ویلنٹائن ڈے منانے سے پاکستانی قوم کو اور بالخصوص مسلمانوں کو روکا جا رہاہے وہ قرآن کے اسی حکم کے تحت ہے۔ آپ نے تو گویا قرآن کا ہی انکار کر دیا۔ یا کم از کم اس آیت اور اس جیسی آیات کا انکار کر دیا۔ پھر جو آپ نے دوسری بات کی کہ بہت سوں کے پلے یہ بات نہیں پڑ رہی کہ اب کوئی تہوار کسی کا ذاتی نہیں رہا۔ بلکہ دنیا کے گلوبل ویلج ہونے کے ناطے سارے تہوار آپس میں مل جل گئے ہیں اور یہ لازم ہے کہ وہ گھُل مل جائیں۔آپ کے بقول ہمارا کھانا پینا، پہننا گہری مماثلت رکھتا ہے۔ جناب عالی! انگریز تقریباً ہر ممنوع جانور کا گوشت کھاتے ہیں جن میں خنزیر، چوہے، کیکڑے، سیہہ، وغیرہ شامل ہیں۔ جب کہ مسلمان ، اللہ ہمیشہ محفوظ رکھے، ان جانوروں کا گوشت کھانے سے دور دور بھاگتے ہیں۔ انگریز چرچ میں جا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ بااللہ، اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ جب کہ ہم مسلمان انہیں کلمتہ اللہ اور روح اللہ اور اللہ کا نبی مانتے ہیں۔ ہم چرچ کی بجائے مسجد میں پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں۔ پھر ہمارے عید کے تہوار ہوتے ہیں، جو کہ کسی بھی دوسرے مذہب میں نہیں ہیں۔ تو ہمارا کلچر کیسے ایک ہو گیا۔ ہمارے مذہب کے مطابق اگر ہم ماں باپ کی نافرمانی کریں گے تو اللہ بھی ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ یہ ہمارا مذہب ہی ہے جس نے ہمیں اپنے والدین کی عزت کرنا سکھایا۔ جس نے یہ کہا کہ اگر ہمارے ماں باپ بوڑھے ہو جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو۔ جب کہ انگریزوں نے اولڈ ہائوسز بنائے ہوئے ہیں جیسے ہی اولاد بالغ ہوتی ہے یا شادی کر لیتی ہے تو وہ اپنے ماں باپ کو ان اولڈ ہاوسز میں بھیج دیتے ہیں پھر بھول کر بھی شاید ان کی طرف نہیں جاتے۔ اور آپ کہتے ہیں کہ ہمارے کلچر ایک ہیں۔

کیا کاروں، ایئر کنڈیشنز، ٹی وی وغیرہ ایک جیسے ہونے سے بھی کبھی کلچر ایک ہوتا ہے۔ یہ تو استعمال کی چیزیں ہیں جو ہر گھر میں ہوتی ہیں۔ جبکہ کلچر تو ہماری زندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ تہوار کسی کے ذاتی نہیں ہوتے ۔ بے شک تہوار کسی کے بھی ذاتی نہیں ہوتے۔ اور خاص طور پر مسلمانوں کے جو چند تہوار ہیں وہ تو بالکل بھی ذاتی نہیںہیں، کیونکہ وہ اللہ کے حکم کے تحت منائے جاتے ہیں نہ کہ اس میں کسی بھی انسان کی ذاتی کوشش ہوتی ہے۔ تو جو تہوار اللہ کے حکم کے مطابق ہوئے، وہ ہندو کیسے منا سکتے ہیں، یہودی ، عیسائی کیسے ان تہواروں کو اپنا سکتے ہیں ۔ وہ ہر گز ان تہواروں کے قریب بھی نہیں جا سکتے کہ اس کے لیے انہیں حضرت محمد ۖ کی نبوت پر ایمان لانا ہو گا، انہیں خاتم النبیین سمجھنا ہو گا۔

بے راہ روی کو آپ بے حیائی نہیں کہتے۔ تو اپنے رشتہ دار خواتین کو پھر ہر وہ کام کرنے کی کھلی اجازت دے دیں جو انگریز کرتے ہیں۔ جس طریقے سے وہ بارز، پبز میں جاتے ہیں، شراب پی کر مخلوط محافل سجاتے ہیں، اپنی رشتہ دار خواتین کو بھی یہ سارے کام اسی طرح انجام دینے کی اجازت دے دیں۔ انہیں تنہائی میں دوسرے مردوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے گلے ملنے کی اجازت دیں۔ کیوںکہ یہ تو انکا آزادانہ حق ہے، بے راہ روی ہر گز نہیں۔ کوئی بھی آپ کی طرف انگلی نہیں اٹھائے گا، اگر اٹھائے گا تو وہ آپ کی ذاتی زندگی میں گویا دخل اندازی کرے گا۔ ظاہر ہے یہ بات آپ کو ہر گز قبول نہیں ہو گی۔

آپ نے جن اجتماعی بیماریوں کی بات کی ہے وہ بالکل درست کی ہے۔ کسی کی بھی ان کی طرف توجہ نہیں۔ تو حضرت ان کے بارے میں بھی میں یہی کہوں گا کہ وہ بھی انفرادی حیثیت میں شروع ہوتی ہیں اور اجتماعیت تک جاتی ہیں۔کوئی اگر ٹیکس چوری کرتا ہے تو یہ اسکا انفرادی فعل ہے۔ اس کو یہ سمجھایا جائے کہ اسلام کی رو سے حکومتِ وقت نے جو ٹیکس لگایا ہے اگر وہ نہیں دے گا تو اسلام کے احکامات کی خلاف ورزی ہو گی۔ جب وہ اس بات کو سمجھے گا تو لازمی ہے کہ وہ ٹیکس دے گا۔ جب ایک فرد ٹیکس دے گا تو وہ دوسروں کو بھی قائل کرے گا، جس کی وجہ سے معاشرے میں ٹیکس دینے کا رواج بڑے گا۔شادی غمی پر ٹینٹ لگا کر راستے روکنے کو آپ نے بے راہ روی اور بے حیائی کا نام دیا ہے۔ میں یہ تو مانتا ہوں کہ یہ راستہ روکنے والی بات غلط ہے ۔ لیکن آپ نے یہ نہیںلکھا کہ شادی میں جو بے جا اخراجات ہوتے ہیں وہ کیا ہیں؟ کیا وہ کسی غریب کی چادر سے باہر تو نہیں۔کم تولنا، جھوٹ بولنا، ملاوٹ کرنا یقیناً غلط ہے۔ نہ صرف غلط ہے بلکہ کم تولنے کی وجہ سے تو حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب بھی نازل ہوا تھا۔ لیکن آخر عوام ان بیماریوں میں مبتلا کیوں ہے؟ اس کی وجہ تو آپ نے لکھی ہی نہیں۔

محترم جناب حسن نثار صاحب، میں کم فہم، کم عقل، کم علم ، کم حیثیت کا بندہ ہوں۔ لیکن اگر آپ یا کوئی اور بھی اس طرح کی بات کرے گا تو ظاہر ہے کوئی بھی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہو گا کہ آپ نے درست کہا۔ہمارے معاشرے میں یہ جو اخلاقی بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں، ان کے پھیلنے کی پہلی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ اور دوسری وجہ حکومت وقت کے بے جا مظالم۔ اور تیسری وجہ عوام کی جائز ضروریات پوری نہ کرنا۔ جب ان کو سرکاری ہسپتال میں اچھا علاج نہیں ملے گا، ڈاکٹر انہیں پرائیویٹ ہسپتال میں جانے کا کہے گا جس کے اخراجات انکی جیب خرچ سے زیادہ ہوں گے تو وہ لازمی کم تولنے پر، ملاوٹ کرکے اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جب کسی دفتر میں ماتحت کو کسی جائز کام کے لیے چھٹی چاہیے ہو گی اور اس کا افسر اسکو چھٹی نہیں دے گا تو پھر ماتحت جھوٹ بول کر کوئی ایسا بہانہ بنائے گا جس کی وجہ سے باس چھٹی دینے پر مجبور ہو گا۔شادی میں جب لڑکے والے جہیز کی ایک لمبی فہرست لڑکی والے کے ہاتھ میں تھما دیں گے یا لڑکی والے حق مہر میں لاکھوں روپے لکھوائیں گے ساتھ میں پلاٹ اور مکان بھی لڑکی کے نام کرائیں گے تو دونوں خاندان مجبور ہوں گے کہ رقم کمانے کے لیے وہ ناجائز ذرائع استعمال کریں۔ تو قصور کس کا ہوا؟