Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

طنز و مزاح

ماہ رمضان کی آمد آمد اور ڈھونگیوں کے فریب
June 4, 2018

ماہ رمضان کی آمد آمد اور ڈھونگیوں کے فریب

علامہ اقبال رحمہ اﷲ نے کیا خوب فرمایا ہے۔۔
واعظِ قوم کی وہ پْختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شْعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، رْوحِ بِلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
واقعی میں اﷲ نے علامہ اقبال کو ان صفات سے نوازا تھا کہ اگر ختم نبوت کا دروازہ خاتم النبین نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم پر بند نہ ہوا ہوتا تو شاید یہ نبی کو درجہ پا جاتے۔ اب مندرجہ بالا اشعار کو دیکھ لیں۔ ایک صدی یا کچھ کم سال پہلے کہے گئے یہ اشعارآج کی صورت حال کو کس قدر واضح کر رہے ہیں۔ ہمارے رہنما صرف نام کے رہ گئے ہیں۔ ظاہر ہے آج کے دور میں انہیں سیاستدان کہا جاتا ہے، اور سیاست میں جھوٹ کے پلندے نہ تولے جائیں تو وہ سیاست نہیں کہلائے گی۔ سیاست میں گند نہ کیا جائے ، سیاست میں مخالف کی پگڑی نہ اچھالی جائے، اس کے گھراور چار دیواری کے اندر کے راز نہ کھولے جائیں (سچ اس میں کم ہی ہوتا ہے) تو وہ سیاستدان نہیں کہلائے گا۔ ایک طرف جلسے میں ایک لیڈر کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ لاہور کو پیرس اور کراچی کو نیویارک بنائے گا یعنی ملک کو انگریزوں کی پیروی میں ڈالے گا۔۔ تو دوسری طرف دوسرا لیڈر کھڑے ہو کر ببانگِ دہل اعلان کرتا ہے کہ اگر موقع ملا تو پاکستان کو مدینہ کی طرح فلاحی مملکت بنائے گا جب کہ اسی لمحے اسی کے سٹیج کے نیچے خواتین ننگے سر ہر چلنے والے گانے پر رقص کرتی ہیں۔ کیا مدینہ جیسی فلاحی ریاست میں یہ فلاح ملتی تھی؟ جلسے سے پہلے اعلان کیاجاتا ہے کہ خواتین گھروں سے باہر نکلیں اور جمہوریت کو مستحکم کریں۔ جب کہ اﷲ پاک کا فرمان ہے کہ خواتین گھروں میں چادر اور چاردیواری میں رہیں کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ کیا ہمارا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے؟ وقت کی پابندی کس قدر لازمی ہے جو کہ ہمیں نماز جیسا دین کا اہم رکن بتاتا ہے۔ اگر وقت پر نماز باجماعت قائم کی جائے توستائیس درجے نیکیاں ورنہ ایک نیکی۔ لیکن اب کیا ہے پہلے تو نماز ہی نہیں رہی۔ مسجدیں روزانہ ہر نماز کے وقت پکارتی ہیں کہ کہاں ہیں وہ نمازی جو وقت نماز کانپ اٹھتے تھے، جب تک مسجد کے اندر صف میں کھڑے نہیں ہو جاتے تھے ان کی کپکپی ختم نہیں ہوتی تھی۔ اب صورتِ حال ہر گز ایسی نہیں رہی۔

دوسری طرف رمضان المبارک کے مبارک ماہ کی آمد آمد ہے۔جتنے چینل چل رہے ہیں ، جتنے بھی ماہر رقاص ہیں جو اپنے اپنے پروگرامز میں گھٹیا اور اخلاق باختہ ڈانس کرواتے ہیں، وہ دین کے طریقے سکھانے کے لیے اپنے اپنے بلوں سے نکلیں گے۔ مختلف قسم کے روپ بہروپ میں آئیں گے۔ مخلوط محافل میں لوگوں کو دین سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کونسا دین، اپنے اپنے فرقے کا دین۔ کاش کوئی وہی سیکھ لے۔ لیکن وہ بھی سیکھ نہیں پاتا۔ کیسے سیکھے؟ نظریں کہیں اور، دل میں کچھ اور اور دماغ میں کچھ اور چل رہا ہوتا ہے۔ خواتین کو خوشبو لگا کر باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور جو ایسا کرے اس پر فرشتوں کی لعنت کہی گئی ہے۔ لیکن یہاں پر یوڈی کلون اور دوسری ہزار ہا قسم کی تیز ترین خوشبوئیں کہ جس کی مہک (معطر اور بھینی تو نہیں کہوں گا)میلوں دور سے آتی ہے، اپنے جسم پر ، کپڑوں پر انڈیلی جاتی ہیں۔اور پھر اس خوشبو کے ساتھ بھڑکیلے لباس پہنے وہ اپنے مردوں کے ساتھ کم، دوسرے مردوں کے ساتھ زیادہ قریب بیٹھ کر دین سیکھ رہی ہوتی ہیں۔

یہ میزبان جو سارا سال رقص سکھاتے ہیں، وہ دین سکھائیں گے۔ سارا سال جو جھوٹ بول بول کر عوام کا قافیہ تنگ کیے ہوتے ہیں وہ دین سکھاتے ہیں۔ اس طرح کبھی بھی دین نہیں سکھایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ دین لفظوں سے کم اور اپنے اخلاق اور عمل سے زیادہ سکھایا جاتا ہے۔ہم اپنے آقائے نامدار حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کو دیکھیں تو کل تریسٹھ سال کی زندگی میں چالیس سال ان کے نبوت سے پہلے کے ہیں۔ ان چالیس سالوں میں انھوں نے اپنے عمل سے ، اپنے اخلاق سے لوگوں کے دل جیتے۔ جب انھوں (ﷺ)نے نبوت ملنے کے بعد ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر کفارِ مکہ سے یہ کہا کہ اگر وہ کہیں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے دشمن کی ایک فوج مکہ پر حملہ کرنے آرہی ہے تو کیا وہ یقین کریں گے؟ تو سب بول اٹھے کہ بالکل۔ کیونکہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کو کبھی بھی جھوٹ بولتے ہوئے نہیں دیکھا نہ کبھی سنا۔ ہجرت کی رات جب آپ ﷺ نے مکہ چھوڑا تو اس وقت بھی ان ہی کفار کی امانتوں کی ایک بڑی تعداد آپ ﷺ کے پاس موجود تھی۔ کیونکہ وہ اس وقت بھی آپ ﷺ کو صاد ق اور امین مانتے تھے اور جانتے تھے۔

چالیس سال تک اﷲ پاک رسول اﷲ ﷺ کے کردار کو چمکاتے رہے ۔ کہ اس کردار کی چمک جب لوگوں کے دلوں پر پڑے تو ان سے آپ ﷺ کی بات سننے اور سن کر ماننے میں کوئی تاویل نہ بن پڑے۔ پھر جب اعلانِ نبوت ہوا تو صرف بغض میں آکر انھوں نے دین قبول نہ کیا ورنہ اس وقت بھی آپ کے کردار پر ، اخلاق پر وہ انگلی نہیں اٹھا سکے تھے۔ جب ابو سفیان سے ہرقل، قیصر روم نے رسول اﷲ ﷺ کے اخلاق و کردار کے بارے میں سوال کیے تو اس وقت بھی ابو سفیان سے جھوٹ نہ بولا گیا۔

لیکن اس ماہ مبارک میں جب ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا درجہ بھی ستر اور کئی سو گنا بڑھ جاتا ہے ، ایسے میں یہ ڈھونگی اور فراڈیے دھڑلے سے دین کے ٹھیکیدار بن کر سامنے آجاتے ہیں۔ جو سارا سال جھوٹ کے طومار باندھتے رہتے ہیں، وہ ماہ مبارک میں دین سکھانے آجاتے ہیں۔ خاص طور پر ایک شخص جو ہر فرقے کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ تو اپنے آپ کو مکمل دین کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے۔ جی ہاں، بزعمِ خود ڈاکٹر، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین۔۔ پیمرا سے، حکومت سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی جاتی ہے کہ خدارا ، ان محافل سے عوام کی جان چھڑائیں۔ کیا چینل کی ریٹنگ بڑھانے کا اور کوئی طریقہ نظر نہیں آتا۔ کیا دین سے کھلواڑ ضروری ہے۔ ؟ یہ درحقیقت وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اﷲ نے فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے لہٰذا نہ ان کی تجارت میں نفع ہوتا ہے اور نہ انہیں صحیح راستہ نصیب ہوتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بھی ان پروگراموں کے بدلے میں ایک خطیر رقم وصول کرتے ہیں۔ لوگوں میں گمراہی پھیلانے کے بدلے میں ان کو پیسے ملتے ہیں۔ تو حرام تو حرام ہوتا ہے، اس میں اگر بظاہر دنیاوی نفع مل بھی جائے تو آخرت میں گھاٹے کا ہی سودا ہے۔

سگنل کی تلاش اور کھانا
September 15, 2017

سگنل کی تلاش اور کھانا

دعوت طعام کا اعلان ہوا تو ندیدوں نے صبح کا ناشتہ ہی چھوڑ دیا. پھر پتہ چلا کہ دو نے تو دوپہر کو کھانا ہی نہیں کھایا. کہ بھابھی کے ہاتھ میں سنا تھا بہت ذائقہ ہے.اس میں تو کوئی شک نہیں نکلا کہ واقعی بہت ذائقہ دار تھا. لیکن جو پرابلم سب سے زیادہ ہوئی وہ سگنل کی گمشدگی تھی. بہت کوشش کی گئی لیکن سگنل ظاہر ہوتے ہوئے بھی نہیں تھے. برقی پیغام بھیجنے کی کوشش کی تو جوا ب ملا آپ کون. یہ آپ کون مخالف پارٹی کا نہیں تھا بلکہ نیٹ ورک کی طرف سے کچھ اس طرح کی وارننگ تھی. پھر ایک تجربہ کیا گیا. اس نمبر پر ایک دوسرے نمبر سے پیغام بھیجا گیا. وہ چلا گیا. نتیجہ یہ نکلا کہ موبائل میں فرق ہے. اب کیا کیا جائے. میزبان نے دخل در معقولات کی اور ایک سمت کا بتایا جہاں سے سگنل دستیاب ہو سکتے تھے. بس جی اندھے کو کیا چاہیے. دو ہاتھ. یا کچھ اور .. خیر جو بھی چاہیے. تو یہاں بھی یہ ہوا، اسی سمت میں کبھی موبائل کو ریموٹ کی طرح پکڑا جا رہا ہے، کبھی الٹا کیا جا رہا ہے، کبھی جیسے بوتل کو الٹا کر کے پیچھے سے تھپکی دی جاتی ہے کہ جو کچھ ہے اس میں سے نکل جائے، اسطرح موبائل کیساتھ بھی کیا گیا. اسکو اس سمت میں پکڑ کر تھپکیاں تک دی گئیں. کہ شاید باہر سے تو نہیں، اندر سے ہی سگنل نکل آئیں. لیکن وہی ڈھاک کے تین پاٹ. نہ ملنے تھے سگنل، نہ ملے. تو چونکہ یہ پیغام بھیجنا مجبوری تھا، بلکہ اشد ضروری تھا کیونکہ نہ بھیجنے کی صورت میں گھر میں گھسنا کار دارد مشکل تھا. اس کا حل اس وقت یہ نکلا کہ ایک اور ساتھی سے موبائل ادھار لے کر پیغام بھیجا گیا. ویسے یہ کنفرم نہیں ہے کہ بھیجا بھی یا نہیں. بس بھیجنے کی اداکاری کی گئی.
ایک بڑے سیب کا جوس جب سامنے آیا تو عقدہ کھلا کہ موصوف نے تو صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا. لیکن اس پر ہی کیا بس تھی، ایک دوسرے کونے سے دو آوازیں آئیں، ہم بھی کسی سے کم نہیں. ہم نے بھی تو دوپہر کا کھانا نہیں کھایا. لہٰذا اس جوس سے اپنے کا کچھ نہیں ہونے کا. تو پردے کے پیچھے سے آواز آئی کہ یہ تو آغاز ہے. بس انتظار کرتے رہیں، اور جو کچھ آتا جائے پیٹ میں ٹھونستے رہیں. یہ ٹھونسنے کے الفاظ صرف ایک ہی اندھے کے لیے تھے. لیکن قارئین کرام، یہ الفاظ پردے کے پیچھے سے سننے کی حسرت ہی رہی کیونکہ میزبان نے ہماری گناہ گار آنکھوں کے سامنے یہ الفاظ کہے. تو ہمیں ہمارے موبائل کے سگنل بھی گم ہوتے دکھائی دیے. کیونکہ جب آنکھوں کے سامنے اندھیرا آجاتا ہے تو سب کچھ غائب ہوتا ہی دکھائی دیتا ہے.
جب جوس سامنے لایا گیا تو پہلے ٹائی اتری، پھر کوٹ کو اتارا گیا. پھر اپنی شرٹ کی طرف ہاتھ کیا تو مجبورا ہاتھ جوڑنے پڑے کہ بھائی شریفوں کا گھر ہے. اور مزید مہمان بھی شریف ہیں. تو تھوڑا احساس ہوا اور مارے ندامت کے صرف گلے کو درست کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا.سونے پہ سہاگہ سیب کے جوس کے بعد چائے سے تواضع کی گئی. وہ زبان ہی کیا جو رک جائے. جھٹ سے بات نکلی اور میزبان کے کان تک پہنچی. یہ تو کچھ الٹی گنگا بہہ رہی ہے. موبائل ہاتھ میں تھا. میں سمجھا کہ شاید سگنل مل گئے ہیں تو یہ بات کی. موبائل کو دیکھا تو وہ تو ٹیبل پر پڑا تھا. خیر کوئی بات نہیں.ہم بھی کسی سے کم نہیں تھے. مسلسل نظر میں رکھا کہ کہیں سگنل کا بہانہ کر کے ہمارا موبائل ہتھیانے کے چکر میں نہ ہوں.
کھانے کے دسترخوان پر تو موصوف نے وہ وہ حرکتیں کیں کہ بتانے کے قابل نہیں ہیں. پہلا نوالا ڈالتے ہی سسکاری بھری. یہ سمجھ نہ آئی کہ کھانے کے ذائقہ دار ہو نے کا احساس دلا رہے ہیں یا ٹھنڈی آہ بھر رہے ہیں. لیکن ہم سب سے زیادہ میزبان تیز نکلے. فورا جانچ گئے کہ دال میں کچھ کالا ہے. جھٹ سے کہہ بیٹھے، تجھے مرچی لگی تو میں کیا کروں، سب کیا دھرا تو بیگم کا ہے. ادھر سسکیاں نکل رہی تھیں، ادھر انکے بغل سے کسی کی آنکھ سے آنسو نکل رہے تھے اور ناک سے سوں سوں کی آوازیں آرہی تھیں. کیا مرچیں بہت تیز ہیں. نہیں تیز نہیں لیکن میں کھانے کا عادی نہیں. دوسرے کونے سے نیلی سی آواز آئی . عادی تو ہم بھی نہیں، لیکن کھانا بہت اچھا ہے تو کھانا تو پڑے گا. رہ گیا میں تو میں تو تین میں نہ تیرہ میں. اگرچہ مرچوں سے پرہیز ہی کرتا ہوں کیونکہ تھوڑا ڈاکٹر نے پرہیز کا کہا ہوا ہے. لیکن جب انگلیاں بھی چاٹنے کو جی چاہے تو بندہ بشر رک کیسے سکتا ہے. تو ہم بھی کھاتے رہے اور دل میں آنسو بہاتے رہے.
جب نمکین کھانوں کی باری ختم ہوئی تو میزبان صاحب نے اچانک ایک بڑا ڈونگا میرے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ دیکھا تو میٹھا تھا۔ جو کہ عین سنت کے مطابق تھا۔ مطلب کہ نمکین کھانے کے بعد میٹھا کھانا سنت ہے۔ لیکن یہ کیا؟ اچانک میرے گھٹنے پر ایک ہلکی سی ضرب پڑی۔ دیکھا تو بائیں بازو کی تحریک کے علمدار نے آنکھ سے اشارہ کیا کہ سارا ڈونگا اسے دے دیا جائے۔ میں نے بھی دے دیا کہ بے چارہ صبح کا بھوکا ہے۔ چائے بھی نہیں پی، تو میٹھی چائے کی جگہ یہ میٹھا ہی ہو جائے۔ لیکن مروت سے کام لے کر بس چھوٹی پیالی میں تھوڑا سا ڈالا اور بسم اللہ کہہ کر چمچ سے پینا شروع کر دیا۔ یہ کیا؟ یار ایک ہی بار میں کھانے کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ کتنا پیارا جواب تھا۔ خیر میٹھے سے ہم نے بھی اپنی سلام دعا جاری رکھی۔ اور جن کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے، ان کو روکنے میں بہت مدد ملی اور سسکیاں پھر آہوں میں بدل گئیں۔ کہ پہلے کیوں نہ آئے۔
لطیفے تخلیق ہوئے، ہنس ہنس کو لوٹ پوٹ ہوئے. بہت سی باتیں ہوئیں. بہت بہترین وقت گزرا. لیکن ایک پرابلم پھر بھی رہی کہ سگنل نہ ملنے تھے، نہ ملے. اور لوٹ کے بدھو گھر کو چلے۔ جن موصوف کا ذکر کیا گیا ہے وہ آج کے کالم نویس مستقبل کے بہترین لکھاری اور ایک کتاب کے تخلیق کار ہیں۔ اور ان شاء اللہ مزید عروج پائیں گے۔

(مارچ 29، 2017)

بکرے کے سو نخرے
September 4, 2017

بکرے کے سو نخرے

محاورہ مشہور ہے کہ بکرے کے سو نخرے۔ لیکن جو بکرا ہم نے خریدا ، اس کے اور نخرے تو کچھ نظر نہ آئے سوائے اس کے کہ وہ باتیں بہت زوردار کرتا ہے۔ اشاروں کی بین الاقوامی زبان جو جانوروں میں استعمال ہوتی ہے، نہ کہ آپ اور میں جو انگلیوں اور ہاتھوں کو نچا نچا کر استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ بکرا جس کا نام ہم نے ٹرمپ پلیئر رکھا ہوا ہے کہ وہ کتوں کے ساتھ کھیلنے کا عادی ہے، خاص طور پر ٹرمپ نامی کتے کے ساتھ، اپنے مخصوص اشاروں میں کل شام ہم سے گویا ہوا۔ یہ مومن والا گویا ہے، نہ کہ گیت گانے والا گویّا۔
ہوا یوں کہ ہماری نظر اچانک ہمارے بکرے پر پڑی۔ دیکھا تو اداس بیٹھا ہے اور دور کہیں گھور رہا ہے۔ میں نے غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھا تو ایک کہانی نظر آئی۔ میں نے آئی ٹی ٹی ای کا علم استعمال کرتے ہوئے اس کے دماغ سے وہ کہانی نکالی۔ وہ کہانی کیا تھی؟
“میں اپنی ماں کا شریف بچہ تھا (ابھی بھی ہوں)۔ کافی ہینڈ سم ہوں، کیا نظر نہیں آرہا کہ کیسا گوشت مجھ پر ہے، سکس (6) پیکس بنائے ہوئے ہیں۔میں خوبصورت بھی بہت ہوں۔ یہ میری ایک آنکھ کے ارد گرد سفید ہالا جو نظر آرہا ہے ، میری خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ خیر، اب یہاں پہنچنے کی داستان سنو۔
ایک دن میں نے اپنی ماں کو الو بنایا لیکن کہا ہر گز نہیں۔ کیونکہ ماں تو ماں ہوتی ہے نا۔۔ لیکن پھر بھی ماں کو میری الو بنانے والی بات پسند نہ آئی۔ اس نے یہ بات دل میں رکھی ۔ ایک دن جب چرواہا ہمیں فیصل آباد کے ہرے بھرے میدانوں ، کھیتوں اور کھلیانوں میں چرنے لے گیا تو وہاں ایک عجیب صورت شخص آیا۔ یہ لمبے بال الجھے ہوئے گویا کسی حسینہ کی لٹھ کی مانند ، گھنی موچھیں یو لٹک رہی تھیں جیسے گھڑی کا پنڈولم بنا بیٹری سیلوں کے لٹک رہا ہوتا ہے۔ ہرے رنگ کی عینک پہنے ہوئے سب کو ہرا ہرا سمجھ رہا تھا۔ اس نے ہمارے مالک یعنی چرواہے سے کچھ بات کی۔ بات کرنے کے دوران للچائی ہوئی نظروں سے ہر بکرے اور بکری پر نظر ڈال رہا تھا۔ جیسے اس نے کبھی زندگی میں کوئی بکرا نہ دیکھا ہوا یا بکری کا دودھ کوئی قطرہ اڑ کر بھی کبھی اس کی داڑھوں کو گیلا نہ کر سکا ہو۔ اللہ اللہ کرکے اس کی لالچی کمینی شرابی نظریں ہم پر سے ہٹیں۔ لیکن یہ کیا؟ ایک منٹ بعد ہی اس نے میرے ایک کزن پر ہاتھ رکھا، جو ہم سب میں سے قد آور اور حسین ترین بکرا تھا۔ ہم میں سے جو بکریاں کزن تھیں، سب کی خواہش تھی کہ ہمارے اس کزن کےساتھ دوستی رکھیں۔ دوستی کیا، شادی تک کرنے کو تیار تھیں۔ لیکن وہ بکرا کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتا تھا۔ البتہ بکروں میں سے اس کی میرے سے خاص الخاص دوستی تھی۔ ارے یہ کوئی انگریز مردوں کی آپس کی دوستی نہیں تھی۔ شرم کرو، انسانوں کی طرح ہی سوچو گے۔
خیر پھر اس سبزقدم شخص نے تین اور بکروں کو منتخب کیا۔ اس کے بعد اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ کاغذنکالے، جو بعد میں علم ہوا کہ ان پر ہمارے وطن پاکستان کے بانی قراقل ٹوپی والے بابا جی کو فوٹو چھپی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کے وہ ہمارے مالک کے ہاتھ میں وہ کاغذ تھماتا، اس کی نظر اچانک مجھ پر پڑی۔ کبھی نہ پڑتی، لیکن میری ماں نے ایک زمانہ دیکھا ہوا تھا۔ آج کل ویسے بھی اس کے ایک بڈھے بکرے کے ساتھ ڈورے پڑ رہے تھے، تو اس کو میری فکر ہر گز نہیں تھی۔ میں اس وقت جب وہ سبزآنکھوں والا بکرے منتخب کر رہا تھا ، اس سے دور دور ہی رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن غیر محسوس طور پر میری ماں مجھے آہستہ آہستہ کبھی سینگوں سے اور کبھی اپنے مٹکتے کولہوں سے دھکے دیتے ہوئے ہمارے مالک اور اس شخص کے قریب لے آئی تھی۔ عین اس وقت جب اس نے وہ کاغذ ہمارے مالک کو دینے چاہے ، اس کی نظر مجھ پر پڑ گئی تھی۔ بس جی، اس نے وہ کاغذ ہاتھ میں ہی رکھے اور اپنی منحوس موتی بھدی انگلی اٹھا کر میری طرف اشارہ کر دیا۔ میں اپنے مالک کو بہت پیارا تھا۔ اس نے زور زور سے سر انکار کی صورت میں ہلایا۔ سر کچھ زیادہ زور سے ہل گیا اور اس کے سر پر موجود پگڑی قریبی جھاڑیوں پر جا گری۔ لیکن وہ سبز قدم بہت تیز تھا۔ اس نے انتہائی تیزی سے اپنی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ چرواہا مالک سمجھا کہ وہ پستول نکال رہا ہے۔ تو ایک دم سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ اس سبزے نے اس کے ہاتھ کو آرام سے تھاماا ور شلوار کی جیب سے کچھ کاغذ اور نکالے۔ جو پہلے کاغذوں سے حجم میں بڑے تھے۔ میرے مالک نے زبان پر ہونٹ پھیرتے ہوئے پہلے ان کاغذوں کو دیکھا اور پھر مچھر مگ کے آنسوؤں سے مجھے بھی ان چار بکروں کے ساتھ کھڑا کر دیا۔ دو منٹ بعد وہاں ایک گاڑی آگئی ، پتہ نہیں اس کو کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ ہم پانچ شکار تیار ہیں۔ وہ بھورے اور سبز کاغذ مالک نے اپنی قمیض کے نیچے پہنی بنیان کی جیب میں ٹھونسے۔ جھاڑیوں سے اپنی پگڑی اٹھا کر سر پر لگائی۔ پھر اس بدبخت کے ساتھ ہم سب کزنز اور ساتھیوں کو اس گاڑی میں سوار کرایا۔ گاڑی چل پڑی۔ گاڑی میں پانی سے بھرا ایک برتن بھی موجود تھا۔ ہم سب بکروں نے جلدی جلدی پانی پیا۔ پھر جب آنکھ کھلی تو ہم ایک میدان میں تھے، جس میں چاروں طرف لنگڑے لولے، کانے، ایک کان والے ، ڈیڑھ سینگ والے بظاہر ہر لحاظ سے صحت منت جانور نظر آرہے تھے۔
ہائے میرا نصیب، کتنا ماڑا ہے، کہ پھر تمھارا آنا وہاں ہو گیا۔ اور تم نے اس سبز قدم سے ہمیں اسی طرح کے کاغذات دے کر خرید لیا۔ اور اب دو دن سے میں تمھارے یہاں بندھا میں میں کر رہا ہوں۔”
میں نے اس بکرے سے کہا جس دن اس نے اور اس کے دیگر ساتھیوں نے میں میں ختم کر دی، ان کی کامیابی ہو جائے گی۔ پھر ان کو اس طرح بے ہوشی کا پانی کوئی نہیں پلا سکے گا۔ نہ ہی ان کے بدلے میں کوئی کاغذات دیے جائیں گے۔ بات ساری میں کو ختم کرنے کی ہے، اور تو میں سمانے کی ہے۔ جب من و تو کا جھگڑا تمھارے اندر سے ختم ہو جائے گا تو پھر اللہ ہو، تو ہی تو۔۔

چار (4) سالہ بچہ خطرناک ڈان
October 6, 2016

چار (4) سالہ بچہ خطرناک ڈان

پاکستان کی پولیس بھی کبھی کبھی کیا کیا گل کھلاتی ہے۔ کبھی کسی بوڑھے کو پکڑ کر جو بیساکھیوں کے سہارے مشکل سے گھسٹ گھسٹ کر چل رہا ہوتا ہے اسے خطرناک ڈاکو بنا دیتے ہیں تو کبھی معصوم بچوں کو ڈان۔ آج ایک خبر نظر سے گزری کہ لاہور میں پولیس نے ایک چار (۴) سالہ بچے کو ڈان بناتے ہوئے بغیر تفتیش کے اس کے خلاف فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا۔ سیشن عدالت نے بھی پولیس سے تفتیش کا استفسار نہیں کیا، جہا اس بچے کا مقدمہ ضمانت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔عدالت نے بجائے اس کے کہ پولیس کو تنبیہ کرتی کہ کیا اتنا چھوٹا سا بچہ اسحاق جو عدالت میں اپنے والد کی گود میں بیٹھے فیڈر ختم ہونے پر رو نا شروع کر دیا تھا، کیا ممکن ہے کہ وہ کسی بھی قسم کا جرم کر سکے، پہلے تفتیش کرے پھر اصل ملزم کو عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے اس بچے کی سترہ (۱۷) اکتوبر تک عبوری درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے تھانہ چوہنگ پولیس سے مقدمہ کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مخالفین کو دھمیا دینے اور فائرنگ کے الزام کے تحت چوہنگ پولیس نے ۴ سالہ اسحاق کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جناب سیف اللہ سوہل نے کیس کی سماعت کی۔
یہ ہے ہمارا پولیس کا نظام اور عدالتی سسٹم۔ ایک چار سالہ بچہ جو شاید ابھی اچھے طریقے سے بول بھی نہیں سکتا ہو گا، اس کے خلاف کسی کی بے بنیاد درخواست پر ددھمکیاں دینے اور ہوائی فائرنگ کے الزام میں جان بوجھ کر چوہنگ پولیس نے ملوث کیا۔ وہ بچہ جس کو شاید اس کے استعمال میں موجود فیڈر سے تھوڑا بڑا فیڈر دے دیا جائے تو اس کو سنبھالنا مشکل ہو گا، چہ جائیکہ وہ ایک پستول یا کسی رائفل سے ہوائی فائرنگ کرے۔ اس عمر کا بچہ جتنا بھی بہادر ہو، پستول یا رائفل کا فائر اگر اس کے آس پاس بھی ہو جائے تو وہ ڈر کر رونے لگتا ہے اور کہاں وہ خود اسلحہ اٹھا کر ہوائی فائرنگ شروع کر دے۔ افسوس کا ہی نہیں بلکہ یہ مقام تو مقام آہ و فغاں ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ Common sense is a sense which is not very common اور بہت درست کہا تھا۔ آخر یہ چوہنگ پولیس والے یا کسی بھی تھانے کی پولیس اپنی عقل کا استعمال کیوں نہیں کرتے۔ ہمیشہ روایتی طریقہ ہی کیوں استعمال کرتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی پولیس کہاں تک پہنچ گئی ہے، تفتیش کے سائنسی طریقے استعمال ہو رہے ہیں ، ملزم کے گرد گھیرا ڈالا جاتا ہے کہ وہ کہیں فرار نہ ہوسکے۔ لیکن اس کو گرفتار ہر گز نہیں کیا جاتاجب تک اس کے خلاف بہترین ثبوت نہیں مل جاتے۔ بہت کم اس طرح دیکھا گیا ہے کہ ملزم کو تفتیش کے لیے گرفتار کر کے لایا جائے۔
یہ صرف ایک چوہنگ پولیس تھانہ لاہور کا کیس نہیں ہے۔ تقریباً پورے پاکستان میں چند ایک تھانوں کو چھوڑ کر کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ پہلے تو وہ کسی کیس کی ایف آئی آر ہی درج نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان کے روزنامچہ میں درج ہو جاتی ہے ۔پھر ان کو باقاعدہ اس کی تفتیش کرنی پڑتی ہے۔ میرے ایک جاننے والے کے تعلیی اسناد اس کے لیپ ٹاپ اور موبائل سمیت چوری ہوگئیں۔ اس نے متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی تو لیپ ٹاپ اور موبائل کا ذکر گول کرکے تھانیوالے کہنے لگے کہ تعلیمی اسناد کے لیے اخبارات میں اشتہار دو۔ان کو کہا کہ لیپ ٹاپ اور موبائل کی ایف آئی تو کاٹیں تو کہنے لگے کہ بھائی وہ ملنا نہیں۔حالانکہ اس جاننے والے نے لیپ ٹاپ اور موبائل کا پورا ڈیٹا ان کو فراہم کر دیا تھا۔ جس کواگر کسی کمپییوٹر ایکسپرٹ کو دیا جائے تو وہ آسانی سے ان کی لوکیشن معلوم کر سکتا ہے۔ اس مہارت سے یہ خیال آیا کہ ہر تھانے میں یا کم از کم ان کے انچارج تھانے میں کم از کم ایک عدد ہیکر یا ڈیٹا کریکر ٹائپ کا ایکسپرٹ ضرور ہونا چاہیے جو اس طرح کے کام کر سکے۔ اس طرح کے سے بہت آسانی سے اس طرح کی چیزیں ٹریک کی جاسکتی ہیں جن میں کوئی بھی ٹریکنگ نظام لگا ہو۔ لیکن انھوں نے لیپ ٹاپ اور موبائل کی بابت بالکل کورا جواب دے دیا کہ وہ ایف آئی آر نہیں کاٹ سکتے۔ان کو سفارش کروائی گئی تو انھوں نے کہا کہ وہ اپنی تعلیمی اسناد کی گمشدگی کی رپورٹ داخل کروا دیں۔ اس کے بدلے میں اسے تھانے سے کوئی رپورٹ مل جائے گی، جس کے بدلے میں وہ ڈپلیکیٹ اسناد بنوا سکے گا۔ کوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا۔
اسی طرح ایک جاننے والے کے بھائی سے ۲۰۰۲ میں ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ گاڑی کی رفتار نارمل تھی۔ بس اتفاق ایسا تھا کہ جس جگہ گاڑی روڈ سائیڈ کی ٹکر توڑ کر نیچے گری وہاں ایک تو کسی گاڑی کا تیل لیک ہوا تھا دوسرا کچھ دیر پہلے بارش بھی ہوئی تھی۔و گاڑی نارمل رفتار پر تھی۔ اچانک اگلی گاڑی نے پہلے بریک لگائی اور پھر رفتار پکڑی تو ان کی گاڑی بریک لگانے کی وجہ سے پھسل گئی اور سائیڈ کی ٹکر توڑتی ہوئی نیچے جاگری۔ گاڑی میں تین افراد سوار تھے۔ جس میں سے ایک فرنٹ پر پسنجنر سائیڈ پر بیٹھا لڑکا فوت ہو گیا۔ ڈرائیور بھی خاصا زخمی ہوا۔ فوت ہونے والے کے گھر والوں نے پولیس کے کافی اصرار کے باوجود کوئی ایف آئی آر نہ کاٹی۔ بلکہ اللہ کی مرضی جان کر اس کا جنازہ پڑھ کر دفنا دیا۔پولیس والوں نے ڈرائیور کے خلاف خود ہی کیس بنا کر خود ہی مدعی بن گئے۔کیس بھی تیز رفتاری کا کاٹا۔ حالانکہ وہاں سڑک پر صاف طور پر گاڑی کے تیل کی چکنائی کے داغ نظر آرہے تھے۔ڈرائیور نے بہت کہا کہ اس سے آگے والی گاڑی کی غلطی تھی۔ لیکن پولیس نے بالکل نہ مانا۔ جب ماننے لگے تو اس وقت اس سے ایک لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی اور پچاس ہزار پر آکر اڑ گئے۔ لیکن اس ڈرائیور کے گھر والے اتنے امیر نہیں تھے کہ اتنے پیسے دے سکتے۔ بہرحال ان کے ایک جاننے والے وکیل نے پہلی پیشی میں ہی اسکی ضمانت کروادی۔ پھر ۲۰۰۶ تک کیس چلتا رہا۔ چونکہ پولیس کے علاوہ مدعی کوئی تھا ہی نہیں تو کیس لٹکتا ہی رہا۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ جج خود اپنے طور پر کوئی فیصلہ کیوں نہیں لے سکا۔ آخر چار سال تک کیس کو لٹکانے کی ضرورت کیا تھی۔ پھر ایک ایڈیشنل سول جج سے سفارش کروائی گئی تو سیشن جج نے کیس یہ فیصلہ دیتے ہوئے خارج کر دیا کہ چونکہ اس کیس میں کوئی گواہ نہیں، اور نہ ہی کسی نے دعویٰ کیا ہے ۔ کیا یہی فیصلہ چار سال پہلے کچھ تاریخوں کے بعد نہیں ہو سکتا تھا؟
میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارا پولیس کا سارا نظام ہی خراب ہے۔ اسی پولیس میں بہت اچھے پولیس والے بھی موجود ہیں۔ جو اپنے تھانے میں لائے گئے ملزمان کی باقاعدہ نفسیاتی باتوں سے تفتیش کرتے ہیں۔ چونکہ پولیس والوں کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ جھوٹ سچ کا علم کیسے ہو گا تو وہ بھی اپنے تجنربے کی بنا پر جان سکتے ہیں کہ مخالف سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ بہت سے پولیس والوں سے ملنا جلنا ہوتا ہے، اکثر کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے رویے سے نالاں رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ان کو اچھا بھلا علم ہوتا کہ یہ بندہ ملزم نہیں ہے لیکن پھر بھی ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے اس کو اٹھا لائے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک میں سائنسی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جسمانی ٹارچر کرنے کی بجائے نفسیاتی طریقے سے اگر ملزم یہ تو اس پر لگے الزام کو ثابت کیا جاتا ہے۔تب اس کو مجرم گردانا جاتا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام بھی ظاہری گواہان و ثبوت پر چلتا ہے۔ جج یہ جانتے ہوئے کہ یہ ملزم ہر گز نہیں ہے، پھر بھی ان ظاہری ثبوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو سزا سنا دیتا ہے حالانکہ جج صاحبان کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ پولیس کو درست راہ دکھا کر کیس کو مہینہ دو کے لیے ملتوی کر دیں۔ سب جج ایسے نہیں ہیں۔ خدا ترس جج بھی بہت ہیں۔ اب خدارا مجھے توہین عدالت کا نوٹس نہ بھیج دیجئے گا۔ میں نے تو سچ لکھا ہے۔

don-aflak

ہم بہت کرپٹ ہیں
July 29, 2016

ہم بہت کرپٹ ہیں

Corruption

Corruption

کچھ سال پہلے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے پی کے اور دیگر مختلف محکمہ جات میں اینٹی کرپشن کے محکمہ کی طرف سے بینر ز لگائے گئے کہ آپ کو کہیں پر کسی بھی محکمہ میں کوئی رشوت لیتا یا دیتا نظر آئے تو اینٹی کرپشن کے محکمہ کو اطلاع دی جائے۔یہ بینرز نہ صرف محکمہ جات میں بلکہ سڑکوں کنارے مختلف مقامات پر بھی آویزاں کیے گئے۔جس دن اداروں میں یہ بینرز آویزاں کیے گئے اسی دن دوپہر کا کھانا ایٹنی کرپشن والوں نے ان اداروں میں بیٹھ کر کھایا۔ جب مختلف کسٹمرز نے یا کسی بھی کسی قسم کا تعلق رکھنے والوں نے ان اداروں میں کام کرنے والوں کو کہا کہ اب ہم ہر کام کروانے سے پہلے اینٹی کرپشن کے ان فون نمبرز پر اطلاع دے کر آیا کریں گے کہ ہم فلاں محکمہ میں جا رہے ہیں جہاں روپے پیسے کے علاوہ دوسری بات ہی نہیں کی جاتی تو ان اداروں میں کام کرنے والے ان لوگوں پر ہنسنے لگے۔

پوچھنے پر بتایا کہ بھائی جی آ پ بہت سادہ ہیں۔ اندر جا کر دیکھ لیں، اینٹی کرپشن والے اندر بیٹھے ہمارے صاحبان کے ساتھ روسٹ چرغے بھنبھوڑرہے ہیں۔ اور جاتے ہوئے اپنی خالی جیب کو بھر کر جائیں گے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ اگر عوام سے کام کے بدلے میں رشوت لیتے ہیں تو وہ اپنے زور پر لیتے ہیں۔ ہر گز نہیں۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ اینٹی کرپشن والوں کو جاتا ہے اور بعد میں اور لوگوں کو۔میں ٹھہرا سادہ آدمی۔ مجھے جس نے یہ بات بتائی میں ہر گز نہ مانا۔ اس نے کہا کہ یہ تو بہت معمولی بات ہے۔ در حقیقت جس طرح مشہور ہے کہ پولیس کا سپاہی رشوت تب لیتا ہے جب اس کو اوپر سے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپاہی کو اپنے انسپکٹر کو، اس نے ڈی ایس پی، ایس پی اور اوپر تک سب کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔

بے شک ڈی آئی جی، آئی جی نہ لیتے ہوں، جو کہ اندھوں میں کانا راجا والی بات ہے، لیکن صوبائی وزرائ، وزرائے مملکت اور دیگر وزیر وں کے گھروں میں راشن پانی دینا پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کریں تو پھر نہ اس سپاہی، انسپکٹر یا اوپر افسران کی نوکری رہے گی، نہ وہ خود اپنے بال بچوں کو کوئی آسانی مہیا کر سکیں گے۔اسی طرح مختلف محکموں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ بے شک ان اداروں کا سربراہ کچھ بھی نہ لے، لیکن اس سے نیچے جو ان کے پرائیویٹ سیکرٹری ، ڈائریکٹران وغیرہ ہوتے ہیں، ان سے اسی کے محکمے کے نیچے کے افراد نے کام نکالنے کے واسطے اپنی فائل کے اندر قائدِ اعظم کی خوبصورت سی تصاویر لگانی بہت ضروری ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہر دوسرے شخص کو قائدِاعظم سے بہت پیار ہے۔ جس طرح بلوچستان کے ایک سیکرٹری کے گھر کی پانی کی ٹینکی سے اربوں روپے برآمد ہوئے۔

Quaid e Azam

Quaid e Azam

میڈیا پر چلا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک سیکرٹری کو قائدِ اعظم سے ازحد محبت بہت مہنگی پڑ گئی۔ تو اسی طرح ان افسران کو بھی قائدِ اعظم سے بہت محبت ہوتی ہے۔ جب تک کام کے ساتھ ساتھ قائدِ اعظم کی تصویر نہ دیکھ لیں، ان کو نہ کھانا ہضم ہوتا ہے، نہ وہ اپنی کرسی پر ٹک کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ بھی کتنے افسوس کی بات ہے کہ جہاں آج ہر جانب کرسی کی لڑائی ہے، وہاں ان افسران کو اس وقت تک کرسی بھی راس نہیں آتی جب تک اس کو لال، سبز ،نیلے پہیے نہ لگائے جائیں۔

میرے ایک جاننے والے نے مجھے قصہ سنایا کہ ان کے آفس میں کسی نے اپنی تبدیلی کرانی تھی جو کہ اس کا حق تھا، کیونکہ اس کی فیملی کہیں اور تھی اور اسکی پوسٹنگ کہیں اور تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ایک دوسرے کولیگ کو بھی یہی مسلہ تھا۔انھوں نے آپس میں مل کر آپس میں تبادلے کی درخواست دے دی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ یہ دونوں راضی تھے، اوپر سے ایک وزیر نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا کہ ان کا حق بنتا ہے کہ اپنے اپنے علاقے کے قریبی سٹیشنوں پر ان کی پوسٹنگ ہو۔ اب ہوا یہ کہ فائل ہر طرح سے مکمل ہو کر جب ادارے کے سربراہ تک پہنچی تو دروازے میں اٹک گئی۔ دروازے کا نام پرائیویٹ اسسٹنٹ تھا۔ اس نے کہا کہ فائل تب اندر جائے گی جب اس کو پہیے لگیں گے۔ دونوں میں سے ایک نے کہا کہ وہ تو ہر گز پہیے نہ لگائے، چہ جائیکہ کہ اس میں تو فلاں وزیر کی بھی جائز سفارش شامل ہے۔

پی اے صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ وزیر صاحب سے کہہ دو کہ پی اے ایسا کہہ رہا ہے۔ دیکھ لیں گے اس وزیر کو بھی۔ اور اب تو جب تک فائل کو سرخی پائوڈر نہیں لگے گا، تب تک فائل اس کی دراز میں پڑی رہے گی اور اس کے اوپر وزن بڑھتا رہے گا۔جتنی دیر کرو گے، وزن بڑھتا جائے گا، پھر شاید دن ہفتوں، مہینوں میں تبدیل ہو جائیں۔ اگرچہ پی اے کا مطالبہ کچھ زیادہ نہیں تھا، لیکن پھر بھی جائز طریقے سے ہونے والے کام کو روکا جا رہا تھا۔ جب ہر طرف سے ان دونوں کولیگز کی شنوائی نہ ہوئی تو مجبوراً کوئی دو ہفتوں کے بعد اس پی اے کو مطلوبہ رقم دینی پڑی ، تب اس نے وہ فائل سربراہ تک پہنچائی۔ یہ الگ بات کہ سربراہ نے بھی ہرگز نہ پوچھا کہ فائل پر آخری دستخط دو ہفتوں پہلے کا ہے، تو فائل اتنی لیٹ کیوں آئی۔ اگر سربراہ یہ بات پوچھ بھی لیتا تو بھی پی اے کے پاس گڑے گڑھائے جواب تیار ہوتے ہیں۔ کیونک پی اے ہمیشہ وہی لگتا ہے جو ایک تو گولی دینے کا ماہر ہو، دوسرا چرب زبان ہو اور اپنے باس کو ہر حالت میں قابو کرنے کا ہنر جانتا ہو۔

ہمارے اس دیس میں کرپشن کا یہ حال ہے کہ اکثر اداروں میں جس میں عوامی آمدو رفت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس کو اپنا انتہائی معمولی سا کام بھی کرانے کے لیے بہت زیادہ کوفت اٹھانا پڑتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کو اپنے ہی متعلق کچھ معلومات چاہیے ہوں، اپنی ہی فائل میں سے کسی لیٹر کی نقل چاہیے ہو ، جو اس کو لکھا گیا ہے اور اتفاق سے اس وقت وہ ساتھ نہیں لا سکا، جب کام کے لیے آیا ہے، تو اس نقل کی قیمت بھی اس کو چپڑاسی کو سو دو سو روپے ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ تو صرف ایک نقل کی مثال دی ہے۔ ورنہ کیا کچھ نہیں ہوتا۔ سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم سب ہی کرپٹ ہیں۔ ہر لحاظ سے۔ دکاندار ناپ تول میں ڈنڈی مارتا ہے۔ استاد پڑھانے میں کام چوری کرتا ہے۔ اپنی پوری تیاری کرکے نہیں آتا۔ چپڑاسی کو ایک کام کے ساتھ دوسرے کا کہا جائے تو کہتا ہے کہ اس کی یہ ڈیوٹی ہی نہیں ہے۔ حالانکہ کسی بھی دفتر میں کسی بھی فرد کو نوکری پر رکھتے ہوئے جب اس کو تقرر نامہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں ایک شرط یا شق یہ ضرور لکھی ہوتی ہے کہ ” کوئی اور اضافی فرض، جو کہ اس کو سینئرز کی طرف سے تفویض کیا جائے گا، اس کی ادائیگی۔”۔۔ تو اصولی طور پر کسی بھی ادارے کا کوئی بھی فرد اس شرط کی رو سے کسی بھی سرکاری ڈیوٹی سے کی انجام دہی سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ ہر تقریباً ادارے میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

Corrupt

Corrupt

ہر کوئی اپنے ساتھ کسی نہ کسی بڑے آدمی کا پاوا لے کر آتا ہے۔ اور اس پاوے کو تمام عمر کیش کراتا رہتا ہے۔ یوں پہلے کام چوری اور اس کے بعد کرپشن میں نام پیدا کرتا ہے۔ کرپشن لازمی نہیں کے روپے پیسے کی ہو۔ رشوت ہو یا غبن ہو۔ ہر وہ کام جو اللہ کی مرضی سے کسی بھی انسان کے ذمے لگایا گیا ہے، اسکی بہترین طریقے سے اپنی پوری استطاعت کے ساتھ ادا نہ کرنا بھی کرپشن ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ دھوکہ کرنا، جھوٹ بولنا، فریب کرنا وغیرہ اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر کوئی چاہے وہ کسی ادارے میں کام کرنے والے چپڑاسی ، چوکیدار سے لے کر ادارے کے سربراہ تک کوئی فرد ہو، یا پھر دین فرائض کے انجام دہی سے وابستہ کوئی فرد ہو، یا پھر کسی بھی شعبے سے اس کا تعلق ہو۔ اگر دیے گئے کام کو اس کی روح کے مطابق ادا نہیں کرتا تو میری نظر میں وہ کرپٹ ہے۔

اگر وہ اس کام کو وقت پر نہیں کرتا، جانتے بوجھتے یا سہل پسندی کی وجہ سے، تو بھی وہ کرپٹ ہے۔ ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے دل و دماغ، وقت و پیسے کی کرپشن ہے۔ اس کرپشن سے ہمیں جان چھڑانی ہو گی۔ تب ہی ہم دنیا میں ترقی کر پائیں گے۔ چین کا کوئی بڑا آدمی کسی زمانے میں پاکستان آیا۔ واپس گیا تو پاکستان کی سیر کے حوالے سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ معلوم نہیں پاکستان چل کس طرح رہا ہے۔ کہ لوگ اس کو اندر سے بھی کھا رہے ہیں اور باہر سے بھی۔

krupt-azad ryasat 29-7-16