Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

کتابوں پر تبصرہ

تمھاری یاد کے جگنو۔۔ تبصرہ
June 27, 2018

تمھاری یاد کے جگنو۔ نبیلہ خان کی کتاب پر تبصرہ

نبیلہ خان کی کتاب “تمھاری یاد کے جگنو” ایک بار نہیں کئی بار پڑھی. اس کی وجہ کچھ نظموں کا بہت عمدہ ہونا تھا اور ان نظموں کی وجہ سے کتاب کا ہر صفحہ پلٹا۔کچھ کتابیں واقعی قسمت والی ہوتی ہیں کہ کسی بھی ایک قاری کی نظروں سے اور ہاتھوں سے وہ کئی بار گزرتی ہیں۔کیونکہ ایک بار پڑھنے سے دل نہیں بھرتا۔
میں خود نثری نظمیں لکھتا ہوں۔ بھی کبھی آزاد نظموں پر بھی ہاتھ صاف کر لیتا ہوں۔ بے شک شاعری آمد کا نام ہے۔ جب تخیل جو صفحہ قرطاس پر بکھیرا جائے اور پڑھنے والے کو شاعری کا سا تا¿ثر ملے ا و ر اس تحریر کا ہر جملہ ٹکڑوں میں بٹ کر آپ کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ دے تو کسی کے یاد کے جگنو قاری کے تخیل میں جگمگانے لگتے ہیں۔
کچھ نظمیں بہت مکمل ہیں جیسے نظم “کاسہ” جس میں زمانے کی بے حسی بیان کی گئی ہے۔ تلخی سی گھلی ہوئی ہے۔ بے روزگاری کے منظر کو بیان کیا گیا ہے۔
“کل میں نے اک منظر دیکھا
اس منظر میں بھوک ہی بھوک تھی
ہر چہرہ تھ کرب کا مارا
دکھوں اور درد کا مارا
ہاتھ میں پکڑی فائلوں کو
سینے سے بھینچے لوگ کھڑے تھے
دو سیٹوں پر تھے لاکھوں لوگ
مکھیوں کی طرح تھے ٹوٹے پڑے۔۔۔۔
اسی طرح ”ماچس کی تیلی“، ” غریب بوڑھا“ ، ” یاقوت “جب آپ پڑھتے ہیں تو ایک منظر سا آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔
البتہ کچھ نظمیں ایسا لگتا ہے جیسے ادھوری ہوں۔ جیسے ان میں کچھ رہ گیا ہویا پھر شاعرہ کا تخیل حقیقت میں بدل گیا ہو تو اس نظم کو بیچ میں چھوڑ دیا۔ مثال کے طور پر ” اک بات کہنی ہے“، ” تعلق“ یا” پھر “مجھے ادھوری لگیں کہ میں بھی تخیل کو لکھتا ہوں۔ لیکن اس ادھورے پن میں بھی ایک احساس ہے کہ قاری بھی تو تخیل کو مکمل کر سکتا ہے.
کچھ تعلق واسطوں کی نظمیں ” اپنے پیارے ابو جی کے نام“، ”ماں“ ، ” عورت“ آپ کوشاید بے اختیار واہ کرنے پر مجبور کر دیں۔ آپ کے دل سے دعا نکلے کہ اللّٰہ ان رشتوں کو ہر کسی کے لیے صحت و تندرستی کے ساتھ قائم و دائم رکھے۔
جب شاعرہ اپنے دل سے محبت کی صدا نکالتی ہیں تو زندگی کے پنوں پر تحریر کرتی ہیں۔ ذرا اس نظم کو پڑھیے اور اندازہ لگائیے کہ نبیلہ خان کیسے اپنے اندر کی صدا کو باہر نکالتی ہیں اور قارئین کے دل پر اثر کرتی ہیں۔
تمھیں کیسے میں سمجھاﺅں”
میری” ڈائری کے پنوں میں”
تمھاری ” ذات کے رنگ” ہیں
سنو جاناں۔۔۔۔۔۔!
“تمھیں جانے نہ دوں گی میں”
کہ
“نگاہ شوق” میں میری
اک مدت سے “جلتے خواب”
“خزاں کی شام ” کے رنگ سے
تمھاری”یاد” ب±نتے ہیں
محبت کے ساتھ غم کا احساس بہت ذو معنی ہے۔ کیا لازمی ہے کہ جو محبت کرے وہ غم اور ہجر کے دور سے بھی گزرے اور تب ہی لفظوں کے خوبصورت موتی پروئے۔ نہیں ہر گز نہیں۔
نبیلہ خان کی شاعری سے ہمیں محبت کے ساتھ جرا¿ت کا احساس ہوتا ہے۔ اگر کبھی کسی دکھ، پریشانی کے دروازے پر دستک دی بھی ، تو ہمت و استقامت سے اس کا مقابلہ کرنا بھی آپ کی اپنی زندگی سے محبت کا ثبوت ہو گا۔ خوبصورت شاعری پر مبنی کتاب “تیری یاد کے جگنو” یہ تا¿ثر دیتی ہے کہ کوئی جتنا بھی دور ہو، ہجر کی گھڑیاں گزارنی پڑیں، وصل کے لمحات آکر رہتے ہیں کہ جگنو کی روشنی سے بھی ان لمحات کو پانے کی راہ مل سکتی ہے۔ آپ ایک ایک لفظ کو اس طرح پڑھیں گویا آپ پر وقت بیت رہا ہے تو آپ کو یہ محسوس ہو گا کہ یہ نظمیں گویا آپ کے لیے ہی صفحہ قرطاس پر بکھیری گئی ہیں۔نبیلہ خان نہ صرف نثری نظموں کی شاعرہ ہیں بلکہ وہ ایک بہترین لکھاری بھی ہیں۔ تجزیاتی تحریں بھی ان کا خاصہ ہیں۔ مختلف اخبارات میں کالمز بھی شائع ہوتے رہتے ہیں جو کہ کالم کم اور تجزیے اور مضامین کی صورت میں زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے افسانوںپر بھی مشق کی ہے اور کافی بہتر لکھ لیتی ہیں۔ مزید کامیابیوں کی دعائیں۔

نمل از نمرہ احمد
April 6, 2017

نمل از نمرہ احمد

تبصرہ: ماوی عمر

(بشکریہ کراچی اپ ڈیٹس)

زندگی میں ہمارے کردار وہ فیصلے متعین کرتے ہیں جو ہم لیتے ہیں لیکن بعض اوقات زندگی میں جو فیصلے ہم نہیں لے پاتے وہیں ہماری ساری زندگی کا تعین کر دیتے۔

’’نمل‘‘ بھی کچھ ایسے ہی فیصلوں کی کہانی ہے دو راستے ایک انتقام کا ایک انصاف کا دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ لیکن سکہ وہ جو فیصلہ کرتے کرتے یا تو انسان کو انتقام کی قبر میں سلا دیتا یا انصاف کی مشعل میں پگھلا دیتا۔

کہیں تو نمل کہانی ہے ایک بھائی کے انتقام کی اور کہیں نمل کہانی ہے ایک نوجوان کے انصاف کی جہد کی، لیکن نمل صرف انتقام ہی نہیں نمل اپنے اندر کو ڈھونڈ نکالنے کی ایک کوشش بھی ہے۔

نمل میں میرا سعدی ایک ایسا کردار ہے جو کہ مرکزی کردار سے بلکل ہٹ کر ہے۔ قاری کو یہ اپنی باتوں سے ایسے قابو کرتا ہے کہ جہاں نمل میں سعدی قلم اور کتاب کے ساتھ نظر آتا قاری خود بھی قلم لے کہ بیٹھ جاتا کیونکہ سعدی کے پاس جو علم ہے وہ چودہ سو چونتیس سال پہ محیط ہے۔

namal nirma 01قاری نمل پڑھتے ہوئے ہمیشہ خود کو ان کرداوں میں ہی پاتا ہے۔ نمل کہانی ہے حنین کی جو ایک عام لڑکی ہے اور جو عام ہی مسائل رکھتی ہے لیکن اس عام لڑکی کو خاص بناتا ہے ان مسائل کا حل۔ قاری کا آئینہ ہے یہ کردار۔

اور نمل کہانی ہے ایک مضبوط لڑکی زمر کی جو ہمیشہ خود کو چنتی ہے کیونکہ اس کو خود پہ بھروسہ ہے اور بھروسہ ہے اس کردار پر جو نمل کے انتقام کی کہانی کی ابتدا ہے فارس غازی۔ قاری کو لمحہ بہ لمحہ حیران کرنے والا کردار اگر آپ نمرہ کے جہان کو جانتے ہیں تو سمجھئے یہ ان کے مکاتب میں ہم جماعت رہ چکے ہیں۔

نمل کہانی کی ابتدا ہر بار نظم کی پیرائی میں کی جاتی اس کے ہر باب کے معنی کو ۔ نمل ڈائجسٹ کی دنیا میں پہلا ناول جس میں ہر باب کا ایک عنوان شامل ہے ،جو قاری کو کہانی سے جڑنے اور اس کے معنی ڈھونڈ نکلانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

ترغیب جو کہ ہے انتقام لینے کے لیے فارس غازی کے دل میں انتقام اپنے بھائی کا اپنے وقت کے فرعون ہاشم سے۔
نمل کے سب سے مضبوط کردار سے ملیں گے آپ اور قاری کے لیے ایسا ممکن ہی نہیں کہ اس کے سحر سے بچ پائے۔ اس ساحر سے انتقام لینے کی کہانی ہے یہ۔ کہانی ہے یہ اس ملک کے شاہ نوشیرواں جیسے بگاڑے ہوئے لڑکوں کو انصاف کے لئے عدالت میں لا کھڑا کرنے والے سعدی یوسف خان کی۔

قاری کو نمل کی کہانی اپنے آس پاس بکھری نظر آئے گی یہ تو زندگی انتقام کی راہ پہ چلے گی جو کبھی ختم ہیں نہیں ہوتی اور یہ انصاف کی راہ پہ جو اس ملک میں اگرچہ میسر نہیں پر ہمت ہے غلط کے خلاف کھڑے ہونے کی غیرت ہے ظالم کا گریبان پکڑنے کی۔

نمل ان چونٹیوں کی کہانی ہے جنہوں نے اپنے اپنے طریقے سے اپنا مورچال بچانے کی کوشش کی ہے کبھی قلم سے کبھی بات سے کبھی غصہ سے کبھی ہاتھ سے اور کبھی انتقام اور انصاف سے ظلم کی مات سے۔

احمر شفیع ، آبدار ، شهرین ، جواہرات جسے کردار بھی کہانی کا حصّہ ہیں جو کہانی کو مختلف موڑ دیتے ہیں ، نمل بلاشبہ نمرہ کی بہترین تحریروں میں سے ہے۔ عام کہانی کی ڈگر سے ہٹ کر نا صرف قاری کو تفریح بلکہ معلومات فراہم کرتی قاری کے ذوق کا ہر طرح سے مطمئن کرنے والا یہ ناول ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ نمل کے ساتھ قاری کا سفر بغیر تبدیلی کے ہو نمل پڑھنے سے پہلے اور بعد کے قاری میں ایک واضح تبدیلی آتی ہے۔

خس و خاشاک زمانے از مستنصر حسین تارڑ
June 9, 2016

خس و خاشاک زمانے از مستنصر حسین تارڑ

سافٹ کاپی کا لنک

ڈاؤن لوڈ کریں

اگر کسی کو ہارڈ کاپی یعنی مجلد کاپی 25 فیصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے ہو تو رابطہ کر سکتا ہے۔

تبصرہ از محمد ریاض شاہد

اتنے ضخیم ناول پر تبصرہ کرنا مجھ جیسے کم علم اور کاہل شخص کے لیئے تو ممکن نہیں البتہ جتنا کچھ ہے اسی پر گذارہ کریں ۔
کہانی کا آغازقیام پاکستان سے پہلے گوجرانوالہ کے ارد گرد دیہات میں آباد جاٹ مسلمان اور سکھ کرداروں کی بھائی چارے پر مبنی زندگی سے ہوتا ہے ۔ یہ گاوں اپنی معمول کی زندگی میں مست اسی انداز میں صدیوں سے زندگی بسر کر رہے تھے ۔ جاٹ اپنی جہالت ، تکبر اور فضول خرچی کی بنا پر مشہور تھے اور اسے اپنا قابل فخر اثاثہ سمجھتےے تھے ۔ کہانی کے دو کردار امیر بخش اور سرو سانسی( سانسی یا ساہنسی ۔ ہندوستانی ابورجن کا ایک خانہ بدوش قبیلہ جو مردار کھاتا ہے اور سماجی طور انتہائی نیچ اور ذلیل سمجھا جاتا ہے ۔ پنجاب میں ان کے دوسرے مشہور قبیلے چنگڑ اور گگڑے کہلاتے ہیں ۔ ) گاوں کی زندگی کی کلفتوں سے گھبرا کر لاہور آ جاتے ہیں ۔ جہاں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرتے کرتے وہ اپنی ایک کنسٹرکشن کمپنی قائم کر لیتے ہیں ۔ سرو سانسی کا ایک بیٹا قیام پاکستان کے بعد اپنی شناخت تبدیل کر کے سید بن جاتا ہے لیکن سرو سانسی اپنی اصل شناخت برقرار رکھنے والوں کا نمائندہ ہے ۔ سرو سانسی مسجد کی سیڑھیوں سے ایک لاولد نومولود اٹھا لیتا ہے جسے مسجد کا موذن حرامی جان کر سنگسار کرنے پر تُلا ہوتا ہے اور اسے منہ بولا بیٹا بنا لیتا ہے ۔ ناول میں 1947 کے فسادات میں ہونے والی قتل و غارت ، معاشرے میں لوٹ مار کے رحجان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ زماے کی بدلتی قدروں کی وجہ سے سرو سانسی اور امیر بخش ماضی گزیدہ بن جاتے ہیں۔ 1965 کی جنگ کے متعلق مصنف کا خیال ہے کہ اس کا دورانیہ مختصر تھا جس کی وجہ سے پاکستانیوں کے اندر جنگ سے ایک پر فریب رومانس کا رحجان پیدا ہوا ورنہ جنگ عظیم کی طرح اگر یہ لمبی چلتی تو معاشرہ یقیننا جنگ سے نفرت کرنے لگتا ۔ مناسب جنگی تیاریاں کیئے بغیر اور قوم کو بے خبر رکھ کر جنگ کی بھٹی دہکانے والے جرنیل کا حال یوں بیان ہوا ہے ۔
” ابھی کچھ روز پیشتر ہی ایک وجیہہ اور دراز قامت شخص کی آواز ریڈیو پر سنائی دی تھی ۔۔ جس نے کسی بھی میدان جنگ میں اُترے بغیر اپنی کابینہ کے مجبور کرنے پر بادل نخواستہ فیلڈ مارشل کا عہدہ قبول کر لیا تھا اور ابھی کچھ عرصہ پہلے کرسٹین کیلر نامی طوائف کی ننگی ٹانگوں کو ایک سوئمنگ پول میں سہلاتا تھا اب اپنے وزیر اطلاعات کی لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہا تھا کہ عزیز ہم وطنو ! دشمن نہیں جانتا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔۔
کس قوم کو ؟
دریائے راوی کے پُل پر شہر چھوڑنے والی ایک دوسرے کو دھکیلتی شہر سے فرار ہونے والی قوم کو یا اس قوم کو جو محب الوطنی کے فریب میں آ کر خالی ہاتھوں واہگہ کی جانب دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیئے رواں تھی وہ بھی ایک دوسرے کو دھکیلتی سب سے پہلے محاذ پر پہنچنا چاہ رہی تھی۔۔
کس قوم کو ؟ ”
چند سال کے بعد ہی ہونے والی 1971 کی جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے قوم کو ششدر مایوس اور بے حس کر دیا ۔ جس میں تارڑ فوج ، عوام اور سیاسی لیڈروں کو برابر کا قصور وار سمجھتا ہے۔ ناول میں فوجیوں کو بونوں اور شاہ دولہ کے چوہوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ رہی سہی کسر ضیا کے مارشل لا نے پوری کر دی جس میں مخالفت میں اُٹھنے والی ہر آواز کو کوڑوں کی مدد سے دبا دیا گیا ۔ انعام کا صحافی بھائی روشن بھی اپنے شائع ہونے والے ایک مضمون کی وجہ سے کوڑوں کی سزا کا حقدار ٹھرتا ہے اور اس کی زندگی کا اختتام ڈنمارک میں شائع ہونے والے نبی اکرم صل للہ علیہ وسلم کے گستاخانہ کارٹون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لاہور کے ہجوم کے ہاتھوں ہو جاتا ہے کیونکہ ہجوم اس کی شکل صورت سے یہ سمجھتا ہے کہ وہ غیر ملکی ہے ۔ انعام اللہ اپنی جان بچانے کے لیئے امریکہ بھاگ جاتا ہے جہاں نائین الیون کا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ زندگی مشکل ہونے کی وجہ سے سے وہ کینیڈا چلا آتا ہے ۔ سرو سانسی کا ایک اور بیٹا موتی سانسی بھی کینیڈا چلا آیا تھا جس کی وفات کے بعد اس کی بیٹی ، لا علمی میں انعام اللہ سے آ ٹکراتی ہے اور انعام اللہ سے شادی کرنا چاہتی ہے ۔ جب ان دونوں پر کھُلتا ہے کہ وہ اپنے ماضی کے دھتکارے ہوئے انسان ہیں تو وہ عطار کی مثنوی منطق الطیر کے پرندوں کی مانند حقیقت کی تلاش کے ذہنی اور روحانی سفر پر روانہ ہوتے ہیں اور اس سفر کے اختتام پر ان پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ آدم اور حوا کی مانند اب اس زمین کو نئے سرے سے آباد کرنے کی ضرورت ہے ۔
ناول میں تارڑ نے گوجرانوالہ کے گاوں اور لاہور میں گذرے اپنے بچپن کی تمام تر یادوں ، تجربات اور بعد میں لکھی گئی تصنیفات کے مسالے کو استعمال کیا ہے ۔ بعض اوقات پڑھتے پڑھتے مصنف کی کسی پرانی کتاب کی جھلک نظر آنے لگتی ہے حتی کہ بعض اوقات تو ڈائیلاگ بھی پرانی کتابوں سے اٹھا گئے ہیں مثلا چار مرغابیوں کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں والا ڈائیلاگ راکھ سے لیا گیا ہے اور من و عن اس ناول میں بھی دہرایا گیا ہے ۔ لیکن اس بات سے انکار کرنا ممکن نہیں کہ اس ناول میں تارڑ کا کہانی کو بیان کرنے کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے خصوصا فلیش بیک کی ٹیکنیک بار بار استعمال کی گئی ہے ۔ الفاظ کا چناو اور ان کا استعمال بڑی سوچ اور نفاست سے کیا گیا ہے ۔ ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کا وہ ماحول میں جو تارڑ اپنے ڈائیلاگ کی مدد سے پیدا کر دیتا ہے کہ قاری ناول کے اختتام تک اس کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکتا اور یہ انہیں کا خاصہ ہے ۔ حقیقت پسندی کا درس ناول کا تھیم ہے جسے تارڑ علامات کے ذریعے واضح کرتا ہے مثلا اچھو شیخ کا کردار جو مذہبی انتہا پسندی کا مظہر ہے گاوں کا فاترالعقل نوجوان ہے جو بار بار اپنی ماں سے نظر بچا کر گلی میں غلاظت کے ڈھیر سے شیشہ تلاش کر کے اپنی گردن پر پھیرنا شروع کر دیتا ہے جس سے اسے لذت ملتی ہے ۔ پتہ چلنے پر اس کی ماں آ کر اٹھا کر گھر لے آتی ہے لیکن وہ پھر موقع ملنے پر یہی عمل دہراتا رہتا ہے ۔
ذیل میں ناول سے ایک اقتباس دیا گیا ہے جو گیارہ ستمبر کے تناظر میں ہے تاکہ وہ افراد جو ابھی اس ناول کو نہیں پڑھ سکے ، اس ناول میں مصنف کی تحریر کے طرز بیاں کا اندازہ کر سکیں۔ بابل کے مینار ٹوئن ٹاورز کا استعارہ ہیں ۔ میں اس ناول کو اردو ادب کے رسیا افراد کو پڑھنے کی سفارش کرتا ہوں ۔
“جو ناگزیر تھا ۔۔۔ رقم تھا ان تمام ہواوں پر اور سنٹرل پارک میں گرنے والے ہر خزاں رسیدہ پتے پر ۔۔ اسے پڑھنے کے لیئے کسی فہم یا عینک کی ضرورت نہ تھی ۔۔ صاف پڑھا جا رہا تھا۔۔ بابل کے میناروں کو زمیں بوس کرنے والے انصاف اور انتقام سے کیسے فرار ہو سکتے تھے ۔ انہیں جو مجرم تھے ، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے میں صرف ایک پیچیدگی درپیش تھی کہ وہ سب بابل کے میناروں تلے دب کر ہلاک ہو چکے تھے ، تو پھر انتقام کس سے لیا جائے ۔۔ انہیں سے جنہوں نے اس کے گورو کو پناہ دے رکھی تھی۔۔ انصاف کے حصول میں دیر سویر ہو سکتی ہے لیکن انتقام لینے میں اگر ذرا سی بھی دیر ہو جائے تو مشتعل شدہ جذبات اور عزت نفس کی دکھن میں کمی ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔۔ اس لیئے ذرا سی بھی دیر نہ کی گئی ۔۔۔بابل کے میناروں کے انہدام کے پورے اٹھائیس روز بعد اُس ایک ملک پر ۔۔ جو پہلے ہی تباہ حال اور برباد تھا۔۔ مقدس امریکی جہاد کے ثمرات تلے جھکا جا رہا تھا یہاں تک کہ اس کا ہر بڑا شہر کھنڈر بن چُکا تھا اور روس کی بچھائی ہوئی لینڈ مائنز کی بدولت ہر تیسرا بچہ اپاہج ہو چکا تھا یہاں تک کہ بچے بھول رہے تھے کہ کیا کسی بچے کی دو ٹانگیں بھی ہو سکتی ہیں ۔۔ اس وسیع ویرانوں ، صحراوں اور بلندیوں والے ملک پر ۔۔ جہاں داڑھیوں کو مٹھی میں بھینچ کر انہیں غیر شرعی اور عورتوں کو جانور قرار دینے والے۔۔ بامیان کے بدھ مجسموں کو مسمار کر دینے والے ایک آنکھ کے ان حکمرانوں کے ملک پر ۔۔۔دنیا کی سب سے زورآور سلطنت کی قہرناکی کا مہیب سایہ چھا گیا ۔
اور وہ جو ناگزیر تھا وہ انعام اللہ کے تہ خانے میں ٹیلی ویژن کی سکرین پر مصور ہونے لگا ۔۔
ایک چیونٹی کو ہلاک کرنے کی خاطر سینکڑوں مشتعل ہاتھی چیختے چنگھاڑتے چلے آتے تھے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر بستی اور ہر صحرا کو روندتے چلے آتے تھے ۔
بیٹل شِپ کارل ونسن اور اِنٹرپرائز جو جانے کن دور دراز سمندروں میں تیرتے تھے ان کے عرشے سے مسلسل ٹوماہاک کروز میزائل جنم لے کر ان سمندروں کے پار افغانستان کے ریگزاروں اور آبادیوں پر گرتے انہیں بھسم کرتے تھے ۔۔۔اس ملک کو خشکی میں گھرا ہونے کا چنداں فائدہ نہ ہوا کہ سمندروں سے اجل کے پیام آتے چلے جاتے تھے ۔ بحر ہند کے جزیرے ڈیگو گارشیا سے بلند ہونے والے ہوائی جہاز وں کے پَرے کے پَرے اُڑان کرتے ۔۔ بے خطر افغانستان کے آسمانوں پر راج کرنے چلے آ رہے تھے ، انہیں گرانے کے لیئے ان کی زمینوں پر کوئ سٹنگر میزائل تھے اور نہ کوئی قابل ذکر اینٹی ایئر کرافٹ گنیں۔۔ وہ گویا سینٹرل پارک میں سیر کرنے چلے آ رہے تھے ، اپنا مہلک بوجھ گراتے ، اور واپس جاتے اور پھر سے بوجھل ہو کر لوٹ آتے۔۔ یہ سب کچھ وہ اپنی انتقامی تشقی کے لیئے کر رہے تھے ورنہ ان کے نیچے زمین پر بستیوں کے کھنڈروں کے سوا کچھ نہ تھا جنہیں وہ مزید کھنڈر کر رہے تھے ۔
سکرین پر پاکستانی شہر چمن میں ہزاروں اُجڑے ہوئے لوگ افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان میں داخل ہو رہے تھے۔۔ ان کی بے گھری مسلسل تھی ۔۔ سر جھکائے ہوئے ، ڈر اور بھوک کے مارے ہوئے وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا قصور کیا ہے ۔۔ نہ تو انہیں طالبان سے کوئی ہمدردی تھی اور نہ ہی وہ کسی ٹریڈ سنٹر کے ڈھے جانے کے بارے میں علم رکھتے تھے۔۔ ایک عمر رسیدہ افغان دہقان ٹیلی ویژن کے کیمرے کو یکدم سامنے پا کر ٹھٹھک جاتا ہے ، اُ سکی گود میں ایک پوٹلی ہے وہ اس پوٹلی کو اس لیئے کھول کر دکھاتا ہے تاکہ سرحدہ اہلکاروں کو یقین ہو جائے کہ اُ س میں ہتھیار نہیں ہیں۔۔ پوٹلی میں ایک بچے کا بارود میں بُھنا ہوا سیاہ دھڑ اور حیران آنکھوں والا مسخ شدہ سر ہے ۔۔ میں اُسے وہاں دفن نہ کر سکا وہ گھگھیا کر منت کرتا ہے ۔۔
صرف بحر ہند اور اس میں سے اُٹھنے والے بی ون لانسر ، بی ٹو اور بی ففٹی ٹو ، سٹراٹو فورٹریس طیارے ہی اس بے آب و گیا ہ ویرانوں والے ملک پر نہ سایہ کرتے تھے بلکہ انعام اللہ کے اوپر سے بھی گونجتے ہوئے طیارے پرواز کرتے چلے جا رہے تھے ، اور یہ بمبار اس لیئے اسے اپنے سر کے اوپر گذرتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے کہ وہ پشاور اور جیکب آباد کے امریکی ہوائی اڈوں سے ٹیک آف کر رہے تھے ۔۔
نصف شب کی قربت میں جب ایک کمانڈو جنرل جس کی جرآت اور شجاعت کا کچھ حساب نہ تھا ہڑبڑا کر اپنے بستر سے اٹھتا ہے ۔۔ اور فون اُٹھا کر اپنے شب خوابی کے لباس کے پاجامے کا ازار بند تھامتا ہے تو اٹینشن ہو جاتا ہے ۔۔۔ یس سر ۔۔ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں ۔۔ اگر نہیں تو ووئی ول بومب یو ٹو سٹون ایج۔۔
ہم آپ کے ساتھ ہیں سر ۔۔
اس نوعیت کے جتنے بھی شیر دلیر جنرل ہوتے ہیں ۔۔ سیسہ پلائے ہوئے دماغ کے ہوتے ہیں کہ اُن میں کچھ لچک نہیں ہوتی۔۔ کچھ اثر نہیں ہوتا البتہ ان کے پاوں ہمیشہ کچی مٹی کے بنے ہوتے ہیں ۔۔ اُن پر اگر دھمکی کی معمولی پھوار بھی پڑ جائے تو وہ گیلے ہو جاتے ہیں ۔۔ یس سر یس سر کہتے اوندھے منہ انہیں کے پاوں پر گر جاتے ہیں ۔۔ لیکن انعام اللہ کو ہرگز یہ گماں نہ تھا وہ جنرل جو اتا ترک کو اپنا رول ماڈل ماننے کے بعد ۔۔ اپنے پیارے کتوں کے ساتھ تصویریں اتروانے کے بعد جوق در جوق اپنے در پر حاضر ہونے والے مقدس چہروں اور چوہدریوں کو بھی اپنی آغوش میں لے لے گا ۔۔ اپنے جیکب آباد اور پشاور کو بھی رہن رکھ دے گا ۔۔ جیسے اس سے پیشتر مردہ مینڈک کی آنکھوں والے ایک جنرل نے عقیدے کے نام پر پورے ملک کو رہن رکھ لیا تھا اور پھر آسمانوں پر اُٹھا لیا گیا تھا ۔۔
یہ جنرل کبھی خود سے نہیں اٹھتے ۔۔ ہمیشہ اُٹھائے جاتے ہیں
امریکہ کے چہرے پر شادمانی کی دمک تھی ، ان کے کلیجے ٹھنڈے ہو رہے تھے ، سکائی نیوز کے نیوز کاسٹر چُلبلے ہو رہے تھے ، آپس میں چُہلیں کر رہے تھے ۔۔ ان کے پس منظر میں ایک کوہستانی گاوں کے کچے گھر ایک دھماکے سے مسمار ہو رہے تھے اور ایک دھول آلود گلی میں ایک دہشت زدہ بچہ بت بنا کھڑا تھا ۔
ایک بہت چوڑے دہن کی سنہرے بالوں والی مردانہ شکل کی نیوز کاسٹر اپنے ساتھی میزبان کو دیکھتے ہوئے ایک مرانہ قہقہ لگا کر کہتی ہے ۔۔ ہے آرتھر ۔۔ کیا تمہیں لطف آ رہا ہے؟
ہاں جینی ۔۔ زندگی اس سے بہتر نہیں ہو سکتی۔۔
تم کیا سمجھتے ہو کہ وہ داڑھی والا پاگل شخص اس وقت اپنے مٹی کے سوراخ میں ۔۔ کسی غار میں دبکا بیٹھا کیا کر رہا ہو گا ۔۔
جینی میں اندازہ لگا سکتا ہوں۔۔
پلیز پلیز آرتھر۔۔
وہ تو اس وقت اپنے ڈرٹ ہول سے باہر تو نہیں آ سکتا کہ باہر اس وقت ہمارے بوائزہیں ۔۔ وہ تو شاید اپنے دوپہر کے کھانے کے لیئے گائے کے گوبر کی آگ سلگا کر ایک برگر بنا رہا ہو گا اور تم جانتی ہو کہ اس میں گوبر کی بو ہو گی
تو پھر آسانی سے اسے ہم گوبر برگر کا نام دے سکتے ہیں۔۔ ہے آرتھر کیا تم ایسا برگر کھا سکتے ہو
نووے ۔۔ آرتھر صدمے اور حقارت سے سر ہلاتا ہے یہ شٹ صرف اسامہ ہی کھا سکتا ہے
انعام اللہ ان نیم خواندہ ۔۔ خیرات پر پلے ہوئے مدرسوں کے طالبعلموں کے لیئے جو دنیا کی حقیقتوں سے یکسر بے خبر تھے کچھ ہمدردی نہ رکھتا تھا ۔۔ اُن کے حمایتی اُن کی حکومت کے دفاع میں یہ جواز پیش کرتے چلے آئے تھے کہ انہوں نے افغانستان کی خانہ جنگی کا خاتمہ کر کے اسے کسی حد تک متحد کر کے امن وائم کر دیا تھا ۔۔پوست کی کاشت کو نابود کر دیا۔۔اپنی تنگ نظری کے باوجود وہ بکاو مال نہ تھے۔۔ لیکن وہ۔۔ نابینا تھے ۔۔ انہیں اپنی داڑھیوں کے پار اور کُچھ نظر نہ آتا تھا ، اگر وہ خود انعام اللہ ” ایک حرامی کی سرگزشت ” کا مصنف کابل میں ہوتا تو کب کا گناہگار عورتوں سے پیشتر وہاں کے سٹیڈیم میں سنگسار ہو چکا ہوتا۔۔
ان تمام زمینی حقائق کے باوجود انہیں جو ہاتھی ملیا میٹ کرنے کے لیئے دل بادل چلے آ رہے تھے اور وہ ان سے بھی کچھ ہمدردی نہ رکھتا تھا ۔۔
ایک اچھو شیخ خود اپنا گلا کاٹ رہا ہے۔۔ کانچ کے ایک ٹکڑے کو اپنی شہ رگ پر پھیر رہا ہے کیا اس پر حملہ آور ہو جانا ۔۔اسے ہلاک کر دینا جائز ہے؟۔۔
اسے یوں محسوس ہوا کہ افغانوں کی جنگ لڑنے والے جتنے بھی ہیں وہ غیر افغان ہیں۔۔قندھار کے میر واعظ ہسپتال میں محصور تقریبا ڈیڑھ سو غیر ملکی کئی دنوں تک امریکی فوجیوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتے ۔۔ آخری سانسوں تک لڑتے ہوئے سب ہلاک ہو جاتے ہیں ۔۔ ان میں عرب ،قازق ، چینی اور پاکستانی شامل ہیں ۔اور جس قبرستان مین وہ دفن ہوئے ، وہاں افغان لوگ ۔۔دور دراز کے فاصلے طے کر کے آتے ہیں اور ان کی قبروں پر چاول بکھیر کر اور پر ان مٹی آلود چاولوں کو سمیٹ کر اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔ کہ انہوں نے ان کو ولی اللہ کا درجہ دے دیا ہے ۔
قلعہ جنگی کے تباہ شدہ کھنڈروں میں بکھری ہوئی لاشیں جنہیں ڈیزی کٹر بموں نے کیا نفاست سے پارچوں میں تراش ڈالا تھا ۔۔ ان کے تلے تہ خانے میں محصور جب ایک حواس باختہ بھوک سے مسمار ہوتا ۔۔ امریکی طالبان باہر آتا ہے تو اپنے چہرے پر پڑتی فلیش لائٹ کی تاب نہ لا کر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور بڑبڑاتا ہے ۔۔ آئی ول ڈو اٹ اگین۔۔
افغانوں کی جنگ لڑنے والے جتنے بھی تھے بیشتر غیر افغان تھے۔۔
انعام اللہ یلغار کے ان شب و روز میں گویا اپنے نہیں قلعہ جنگی کے اس تہ خانے میں تھا جس میں میڈیا نے اسے ڈبونے کی خاطر اپنی کوریج کا پانی چھوڑ دیا تھا اور وہ بمشکل اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچا رہا تھا ۔
تہ خانے کے باہر گرین ویلج کے فٹ پاتھوں کے کناروں پر سایہ فگن ایلم اور صنوبر کے درختوں کے ہاتھ اکتوبر کے اس مہینے خالی ہو رہے تھے ۔ تجھے ہم کس پھول کا کفن دیں کہ تو جدا ایسے موسم میں ہوا جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے ۔
باہر۔۔ وہ جس تہ خانے میں محصور ٹیلی ویژن سکرین پر پہروں نظریں جمائے بیٹھا تھا اس کے باہر اس گاوں میں ایک زرد دوپہر اتر رہی تھی جس کی زد میں آنے والے چہرے ۔۔ فٹ پاتھ ، شجر۔۔ یہاں تک کہ اپنے مالکوں کے پیچھے دم دبائے کتے بھی زرد ہو رہے تھے ۔ اُن میں سے کوئی بھی آگاہ نہ تھا کہ وہ کسی ایسے تہ خانے کے روشندان کے قریب سے گذرتے ہیں جس کے اندر ڈیگو گارشیا اور جیکب آباد سے اڑان بھرنے والے بی ون لانسر ۔ بی ٹو سپنٹر اور بی ففٹی ٹو سٹراٹو فورٹریس اپنے بارود کا بوجھ کچے کھنڈروں اور گھروندوں پر گرا رہے ہیں اور وہاں ان گھروندوں کے اندر اُن کھنڈروں میں پناہ لیئے اُن جیسے لوگ ہیں ، اُن کے بچوں ایسے ہیں ۔۔ جو نہیں جانتے کہ اُس لمحے کسی گرین اچ گاوں میں ایک زرد دوپہر اُتر رہی ہے ۔ وہاں زندگی کی روانی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ۔ وہائٹ ہاوس کے شراب خانے میں مخمور آئرش پرحوش سیاح ڈیلن تھامسن کے گیت گاتے ہیں اور میزوں پر گرتے ہیں ۔ دکانوں کی اوٹ میں ہم جنس جوڑے شرماتے ہوئے ایک دوسرے کو چومتے ہیں ۔ ایک بیکری میں تازہ بیک شدہ کیک اور مکھن کی کوکیز حاصل کرنے والوں کی قطار فٹ پاتھ تک جا رہی ہے ۔۔ ایک نوآموز مصور لڑکی بے بسی سے اپنے بال جھٹکتی ہے کیونکہ اس کے کینوس پر اپس دوپہر کی زردی نہیں اُتر رہی ۔۔ کوئی بھی آگاہ نہیں ہے کہ وہ اُس لمحے مسمار ہوتے اپنے کچے گھروندوں میں زندہ دفن ہو رہے ہیں ۔۔
ہاں وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ اُن کے تابوتوں کی تعداد ہمارے تابوتوں سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکی ہے ۔ “

امجد جاوید کا امرت کور ۔ تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھا گیا ایک خوبصورت ناول
May 18, 2016

امجد جاوید کا امرت کور ۔تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھا گیا ایک خوبصورت ناول

ازرضا الحق صدیقی
amratkor
کیا یہ ضروری ہے کہ وہی ادیب مسلمہ ادیبوں کی فہرست میں شامل ہو گا یا ہو سکتا ہے جو میڈیا سنٹروں کی حدود میں قیام پذیر ہو،ہمارے ہاں جب بھی کسی تصنیف کا تذکرہ ہوتا ہے تو چند گنے چنے نام ہی لئے جاتے ہیں خاص طور پر ناول نگاری میں۔اس صنف کا ذکر آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں ناول لکھا ہی نہیں جا رہا اور اگر لیا بھی جاتا ہے تولے دے کر ایک انتظار حسین کا نام سامنے آتا ہے یا عبداللہ حسین ہیں،خواتین میں بانو قدسیہ ہیں،جمیلہ ہاشمی ہیں،اور بس لیکن کیا یہ درست ہے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا میں لکھنے والوں کی اپنی اپنی لابی ہے چند ناموں کی مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ ہمارے نقاد کی ناک کے نیچے اورنام نہیں آتے اور یہ نام بھی لکھنا ان کی مجبوری ہے کہ جب ناول کی تاریخ لکھی جاتی ہے تو یہ نام آتے ہی ہیں حالانکہ بے شمار نام لئے جا سکتے ہیں مثلاََ محمد حمید شاہد کا نام ہے مستنصر حسین تارڑ کا نام ہے  انیس ناگی کا نام ہے اور بہت سے نا م ہیں، میرا سوال تھوڑا مختلف ہے میڈیا سنٹرز سے دور ادب تخلیق ہو رہا ہے لیکن میڈیا سنٹرز کی حدود میں،کسی فورم پر کسی لیہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ،ساھیوال،حاصل پور وغیرہ کے کسی ادیب کی تصنیف کا ذکر کیا نام لینا بھی پسند نہیں کیا جاتا،
وہ عکس بن کے میری چشمِ تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے
ساھیوال جسے میڈیا سنٹر سے دور شہر میں مقیم  شاعرہ بسمل صابری کا یہ شعر جب سے میں نے ہوش  سنبھالا ہے انہی کی زبانی سنتا آیا ہوں لیکن ہوتے ہوتے یہ شعر بھی کسی اور شخص سے منسوب ہو گیا ہوا ہے،اس کا تو کیا کہنا مجید امجد کی معروف نظم کا چربہ جب میڈیا سنٹر کی حدود میں رہنے والا ایک نوجوان شاعر پیش کرتا ہے تو میڈیا سنٹروں کے بنائے ہوئے نقادوں نے خاموشی اختیار کرلی۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کیا اگر میڈیا سنٹرز کی حدود میں رہنے والا ناول لکھے تو وہ ناول ہوتا ہے ورنہ کہا جاتا ہے کہ ناول نہیں لکھا جا رہا۔مجھے یہ  سب کچھ لکھنے پر مجبور کیا حاصل پور میں مقیم امجد جاوید نے جن کے دو ناول،،امرت کور،، اور،،فیضِ عشق،، میرے زیرِمطالعہ ہیں،یہی  نہیں وہ اس کے علاوہ،،ذات کا قرض،،چہرہ،،جب عشق سمندر اوڑھ لیا،،عشق کا قاف،،عشق فنا ہے عشق بقا،،عشق کسی کی ذات نہیں،،عشق کا شین-2.عشق کا شین۔3،عشق سیڑھی کانچ کی،تاج محل،،روشن اندھیرے،، اس کے علاوہ ایک آپ بیتی اور چند شعری مجموعوں کے خالق امجد جاوید کا نام میں نے کسی نقاد کی فہرست میں نہیں دیکھا،اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیئیے کہ ہم آنکھوں پر پٹی بندھے بیل کی مانند ایک دائرے میں گھومے چلے جا رہے ہیں یا شمیم حنفی کے بقول بہت کچھ لکھا جا رہا ہے،میرے پاس بوریوں کے حساب سے ڈاک آتی ہے اب کسے اتنی فرصت ہے کہ ان پیکٹوں کو کھولے،ہمارے سرہانے تو حوالے کے چند ادیبوں کی کتابیں پڑی رہتی ہیں جن سے ہم بوقت ضرورت استفادہ کر لیتے ہیں۔ نقاد کے اسی رویے کو محسوس کرتے ہوئے امجد جاوید جید نقادوں کا رخ نہیں کرتا،اس نے کالم نگار جاوید  چوہدری کی طرح  پبلیشر پکڑا ہوا ہے جو اس کی کتابیں اس لئے چھاپے چلا جا رہا ہے کہ جاوید چوہدری کی مانند اس کا نام بھی بکتا ہے کالم کا تو میں کہہ نہیں سکتا لیکن یہ ضرور جانتا ہوں کہ آج کے اس کرب والم کے دور میں ذہنی سکون کے حصول کے لئے عشق کا عین ؒ ضرور بکتا ہے،اس کی کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن اس بات کے گواہ ہیں۔
ساھیوال میں ہمارے ایک محترم شاعر یسینٰ قدرت مرحوم بہت زود گو شاعر تھے،ہمیں ان پر حیرت ہوتی تھی کہ وہ اتنی تیزی سے اور اتنی زیادہ غزلیں کیسے کہہ لیتے تھے۔یہ کوئی چایس پنتالیس سال پہلے کی بات ہے اس زمانے میں وہاں ہمارے گھر کے قریب قائم فرزانہ آنہ لائبریری سے ہر ڈائجسٹ اور ابنِ صفی کا ہر نیا ناول اس شرط پر سب سے پہلے لے آتے تھے کہ صبح کالج جاتے ہوئے واپس کر دیا جائے اور جس برق رفتاری سے ہم انہیں ختم کرتے تھے آج  سوچ کر حیرت ہوتی ہے ہمیں وہ زمانہ اس لئے یاد آ گیا کہ اتنے طویل عرصے کے بعد ہم نے امجد جاوید کا ناول امرت کور اور دوسرا ناول فیضِ عشق ایک ایک نشت میں پڑھ ڈالااور اس طرح پڑھا کہ پروف کی غلطیاں بھی ہماری نظر کی سکینگ سے نہ بچ سکیں۔ہمیں اس وقت بھی حیرت ہوتی تھی کہ ڈائجسٹ میں قسط وار کہانیاں لکھنے والے ہر ماہ اتنی لمبی قسط اتنے دلچسپ انداز میں کیسے لکھ لیتے ہیں،ہمیں آج بھی یہی تجسس ہے کہ امجد جاوید اتنے لمبے لمبے اور ضخیم ناول کیسے لکھ لیتا ہے۔ہم سے تو کسی کتاب پر مضمون /کالم لکھنا ہو تو عذاب لگتا ہے۔ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم کتاب پڑھے بغیر لفافے کا نفسِ مضمون بھانپنے کا فن نہیں جانتے کیونکہ ہم صرف تبصرہ نگار ہیں نقاد نہیں۔
امجد جاوید کا ناول امرت کور بظاہر تقسیمِ ہند کے تناظر میں لکھی گئی پریم کتھا ہے لیکن ناول پڑھتے ہوئے محسوس ہوا کہ یہ اصل پریم کتھا نہیں ہے،پریم کہانی تو کوئی اور ہے امجد جاوید عشق کی عین پکڑ کر قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہے پھر اسے تقسیمِ ہند کی ہول ناکیوں اورکشت و خون کے سمندر میں سے گذارتا ہوا کتھارسس کی جانب لے جاتا ہے۔یہ ناول تقسیمِ ہند کے موقع پر سکھوں کی جانب سے قتل و غارت کے پس منظر میں لکھا گیا ہے لیکن امجد جاوید نے جلیانوالہ باغ کے ایک حوالے کے علاوہ تاریخ کی بساکھی نہیں پکڑی۔ناول رومانوی بھی ہے لیکن خون آلود ہے۔
اس ناول  کا جائزہ لینے کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق ضرور پلٹنے پڑیں گے۔پریم چند کے کہانی بیاں کرنے کی تاریخ سے پہلے اردو افسانوں اور ناولوں کا جو رنگ تھا ان میں سوائے خیالی بایوں کے ایسی چیزیں کم نظر آتی ہیں جن کا تعلق تھوس حقیقتوں سے ہو زندگی کی ٹھوس حقیقتیں کیا تھیں اگر ہم زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کے عقب میں ژاں پال سارتر کی آواز سنیں تو منکشف حقیقت ہمیں نو آبادیاتی معاشرے کے ان رویوں تک لے جاٗئے گی جہاں شناخت لمحوں اور رشتوں کے انضباط سے بے کسی، بے بسی، بے جینی اور مایوسی جھلکتی ہے ایسے پر آشوب اور گماشتہ اور ابتلا میں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کا ادراک
 اور پھر جرآتِ اظہار،فکر کے استعاروں کو فضیلت عطا کرتے ہیں۔پریم چند نے حقیقت بگاری کی جو بنیاد قائم کی ہمارا بعد کا آنے والا تمام ادب انہی بنیادوں پر کھڑا ہے۔میں یہاں پریم چند کے بارے میں اپنی بات روک کر بات آگے بڑھاتا ہوں کہ  ہر دور اپنے ساتھ اپنی پہچان کے رشتے،رنگ ڈھنگ،طور طریقے لے کر آتا ہے۔
لفظ کی صنعت گری ایک مشکل فن ہے یہ جہاں فن کے اظہار کا وسیلہ ہے وہیں فن کار کے مقام کا تعین بھی کرتا ہے۔ اسلوب فن کاری کی پہچان کا ایک وطیرہ بھی ہے چنانچہ تخلیقِ فن میں لفظوں کا چناؤ خیال کو صقیل کرتا ہے تو فن کار کوممیز کرلے حسِ ترتیب،سلاستِ بیان اور ہیت میں امتیاز بھی دیتا ہے۔امرت کور امجد جاوید کے اظہارِ فن میں لفظوں کے درست چناؤ اور حسِ ترتیب کا شاہکار ہے۔
کہانی ناول کا مرکزہ ہے جسے کرداروں نے سنبھالا ہوا ہوتا ہے۔یہ کردار کہانی یا پلاٹ کے ادبی تسلسل کا ایک حصہ ہوتے ہیں اورپلاٹ یا کہانی کی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کسی ناول کے مقام کا تعین کرنے کے لئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ مصنف نے کتنے جاندار کردار تخلیق کئے ہیں۔اور ان کرداروں کا محاورہ کیسا نظر آتا ہے۔کرداروں کے استعمال سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کہانی کی اٹھان کیسی ہے۔ڈاکٹر گیان چند جین کا کہنا ہے کہ داستان ایک یا چند کرداروں کی سرگذشت ہے جو بغیر کسی انقطاع کے مسلسل بیان کر دی جاتی ہے۔امرت کور کی داستان بیان کرنے میں امجد جاوید نے بلال کا کردار تخلیق کیا اس کی محبوبہ زویا کا کردار سامنے لایا گیا لندن میں ان کی محبت کو پروان چڑھایا۔ان کا وہاں ایک سکھ دوست بھان سنگھ دکھایا گیا۔ منظر نامے میں لندن،لاھور اور امرتسر کو پیش کیا گیاامرتسر کے ایک پسماندہ گاؤں اس لئے دکھایا گیا کہ ایک تو بھان سنگھ وہاں سے تھا پھر امرت کور بھی تو وہیں کی تھی۔
اس کہانی کا ہیرو بلال اپنے سکھ دوست کے مجبور کرنے پر اپنی محبت کو پانے کے لئے لندن سے امرتسر کے گاؤں اپنے دوست بھان سنگھ کے ساتھ پہنچتا ہے۔ کیونکہ اس کے دوست کا اعتقاد تھا کہ،،کاش تم میرے گاؤں کی اس پاگل عورت امرت کور سے مل سکتے۔یقین کرو یار تجھے تیری محبت یوں مل جائے کہ خود تجھے احساس نہ ہو،یہ جو درمیان میں رکاوٹیں ہیں نا،ان کے دور ہو جانے  کا پتہ ہی نہ چلے اور زویا تیری ہو جائے،،
امجد جاوید نے امرت کور کا کردار اسی انداز میں تخلیق کیا ہے۔بلا کا سکھ دوست  کہتا ہے کہ امرت کور اگر تیرے سر پر ہاتھ رکھ دے تو تجھے تیری محبت یوں مل جاٗے کہ خود تجھے احساس نہ ہو۔امرت کور جب بلال کو دیکھتی ہے تو اس کے وجود میں زلزلے آ جاتے ہیں اور برسوں کی چپ کا قفل ٹوٹ جاتا ہے۔وہ  بڑے جذب کے عالم میں کہتی ہے
،،آ گیا تو۔۔ تجھے آنا ہی تھا،،
یہاں سے جذبہِ عشق کی ایک لازوال داستان کا انکشاف ہوتا ہے اور یہی اس کہانی کا کلائمکس ہے۔اس کلائمکس کو بیان کرنے کے لئے یہاں امجد جاوید نے دو اور کردار تخلیق کئے ہیں،جن میں سے ایک مرکزی کردار ہے نور محمد،گاؤں کا گبرو نوجوان جس پر امرت کور مر مٹی ہے لیکن وہ لنگوٹ کا پکا ہے وہ امرت کور کو دھتکار دیتا ہے،امرت کور اسے ایک ویرانے میں لے جا کر آخری بار ورغلاتی ہے انکار پر اسے بے ہوش کرکے رسیوں سے باندھ دیتی ہے۔امرت کور کے بعد دوسرا جاندار کردار جس کے گھر کا ہر فرد سکھوں کی نفرت کا شکار ہو کر فسادات میں جل گیا۔دوسرا کردار رگھبیر سنگھ جو مسلم سکھ فسادات کی جڑ تھا۔
نور محمد اور امرت کور کی داستانِ عشق،مذہب اور محبت کی کشمکش کی داستان ہے۔جسے امجد جاوید نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ناول کے تمام لوازمات کو پورا کرتا ہوا ایک خوبصورت ناول ہے۔
پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان
April 21, 2016

پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان

Piya Rang Kala By Baba yahya Khanمصنف: بابا محمد یحییٰ خان
صفحات: 722

بابا محمد یحییٰ خان موجودہ دور کے بابا ہیں۔ آپ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کے قبیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ بابا جی کے بارے میں کئی لوگ جانتے ہوں گے۔ زیر گفتگو کتاب “پیا رنگ کالا” بظاہر بابا محمد یحییٰ خان کی آپ بیتی ہے۔ بظاہر کا لفظ یہاں اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس کتاب میں بہت ساری ایسی ماورائی اور بعید از عقل باتیں موجود ہیں جن کی حقیقت کی سند دینا بہت مشکل ہے۔ ایسی باتوں کی موجودگی کی بنا پہ عقل پسند لوگ اس کتاب کو ناول کا درجہ دیتے ہیں اور اگر انہی کی بنیاد پہ کئی ماننے والے بابا جی کو “علم” والے بندے کا درجہ دے دیتے ہیں۔ تاہم حقیقت کیا ہے یہ یا بابا جی جانتے ہیں یا پھر اللہ تعالیٰ۔

پیا رنگ کالا، بابا محمد یحییٰ خان کے روحانیت کے سفر کی داستان ہے۔ اس کتاب میں کئی رمزیہ باتیں ہیں اور کئی پر حکمت۔ کتاب کا آغاز ان کی پیدائش کی کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ بابا جی کے مطابق وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور ایک فقیر کی دعا کے نتیجے میں آپ کی پیدائش ہوئی تھی۔ کتاب میں آپ کے بچپن کے واقعات درج ہیں جن میں سب سے اہم کردار آپ کی چاچی جی کا ہے جو خود بھی کچھ علم اور نظر رکھتی تھیں اور انہوں نے ہی سب سے پہلے آپ کو “کاگا” یعنی کوے کا سروپ قرار دیا تھا۔ اگر کتاب کو حقیقت مان کے چلا جائے تو یہ اسراروں کی ایک الگ دنیا میں لے جاتی ہے۔ کتاب میں کئی ایسے واقعات موجود ہیں جو اللہ کے کام کے پیچھے موجود مصلحتوں سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ جیسے کتاب میں ایک لڑکی کا ذکر ہے جس کے چہرے پہ چیچک نکل آئی اور اس کے داغ رک گئے جس کی وجہ سے اس کا چہرہ بدنما نظر آنے لگا۔ بظاہر یہ اس لڑکی کے لئے تکلیف دہ صورتحال تھی لیکن بعد میں یہی چیچک کے داغ طوائف کے کوٹھے پہ اس کی عزت کے محافظ بن گئے۔ اس کے علاوہ کتاب میں ایک پراسرار جزیرے اور اس کی یہودی مالکن کا قصہ بھی موجود ہے جو یہودیوں کی سوچ اور کردار کے ایسے پہلوؤں پہ روشنی ڈالتا ہے جو عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ اسی طرح اسپین کے ساحلوں پہ چیچک ذدہ افراد کی موجودگی اور ان کے علاج کا قصہ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کتاب میں گرچہ کئی واقعات پیش کئے گئے ہیں تاہم اس میں بنیادی ربط کی کمی ہے۔ گو مصنف کو زبان و بیان پہ مکمل عبور حاصل ہے لیکن اس کے باوجود کئی قصے نامکمل اور ادھورے چھوڑ دئے گئے ہیں۔ ایک قصہ بیان کرتے کرتے اس میں سے ایک نیا قصہ نکل آتا ہے۔ اور مصنف پرانے قصے کو درمیان مین چھوڑ کے نئے قصے کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرز تحریر سے قاری کی تشنگی بڑھ جاتی ہے اور وہ کسی نتیجے پہ پہنچنے سے قاصر رہ جاتا ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ “پیا رنگ کالا” مصنف کی آپ بیتی کا پہلا حصہ ہے۔ اس حصے کی دوسری کتاب “کاجل کوٹھا” کے عنوان سے مارکیٹ میں آ چکی ہے اور اس میں پہلے حصے کے کئی ادھورے قصوں کو مکمل کیا گیا ہے۔ تاہم کئی نئے قصے ادھورے چھوڑ دئے گئے ہیں۔ کتاب کا تیسرا حصہ “فکر فردا” کے عنوان سے آنا ہے تاہم ابھی تک یہ شائع نہیں ہوا۔ امید ہے کہ تیسرے حصے کے سامنے آنے کے بعد تصویر مزید مکمل اور واضح ہو سکے گی۔ ہم کتابستان میں ان شاء اللہ ان کتابوں پہ تبصرہ بھی پیش کریں گے۔

کتاب بےحد ضخیم ہے اس لئے اسے پڑھنے کے لئے کئی نشستیں درکار ہیں۔ قاری اسے ناول سمجھ کے پڑھتا ہے یا سچی آپ بیتی۔ یہ تو قاری کی اپنی سوچ اور رجحان پہ منحصر ہے۔ روحانیت اور طریقیت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے قارئین یقیناً آپ بیتی کا درجہ دیں گے اور عقل پسند قارئین ناول کا۔ بہر حال اس الجھاؤ کے باوجود کتاب میں کئی معلوماتی اور حکمت سے بھرپور باتیں موجود ہیں۔ جن کے مطالعے سے ذہن کھلتا ہے اور معاملات کو کئی جہتوں میں دیکھنے کی تحریک ملتی ہے۔