Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

اقتباسات

تھا جو نا خوب ، وہی خوب ہوا (پیا رنگ کالا از بابا محمد یحییٰ خان سے اقتباس)۔
April 21, 2016

ایک بار لیڈز کی کرکٹ گراؤنڈ میں ایک پاکستانی چوک پہ تالیاں بجانے کی پاداش میں مجھے ایک شرابی انگریز نے غصے میں “بلیک باسٹرڈ” کہہ دیا۔ میرے ساتھ چند ایک دوست بھی تھے جو فورا مرنے مارنے پر آمادہ ہو گئے مگر میں نے اشارے سے انہیں روک دیا اور اس انگریز کو بڑی نرمی سے کہا
“پلیز ، ونس مور۔۔۔”
اس نے پھر مجھے یہی کچھ کہہ دیا ، میں نے شکریہ ادا کر کے ایک بار پھر یہی کہنے کے لیے کہا اُس شریف آدمی نے پھر میری خواہش پہ یہی کچھ تیسری بار دوہرا دیا۔۔۔ اب یہ حال کہ وہ میری خواہش بلکہ فرمائش پوری کرتے کرتے تنگ آگیا اور اُٹھ کر بائیں طرف دور جا کر بیٹھ گیا ، وہ بڑے انہماک سے میچ دیکھنے میں مگن تھا۔ اسی اثنا میں وسیم نے ایک اور چوکا جو ٹکایا تو میں نے خوشی اور وارفتگی کے عالم میں پھر تالیاں پیٹنی شروع کر دیں۔ اُس نے اچانک میری جانب دیکھا اور ” او ، نو” کہتے ہوئے اٹھنے لگا تو میں نے اُس کی کلائی پکڑ لی اور کہا
“جنٹلمین! پلیز ، صرف آخری بار پھر وہی کچھ کہو ۔۔۔”
اُس کا نشہ شاید کچھ ہلکا پڑ چکا تھا ، وہ بکری کی طرح ممیاتے ہوئے کہنے لگا۔
“آخر تم بار بار کیوں مجھ سے گندی گالی کہلوانے پہ اصرار کر رہے ہو؟”
میں نے اسے تُرت سا جواب دیا ” مجھے مزہ آتا ہے ۔۔۔”
وہ یوں مجھے دیکھ رہا تھا جیسے میں کوئی ذہنی طور پر کھسکا ہوا اس کے سامنے بیٹھا ہوں۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“جب تم مجھے بلیک کہتے ہو تو میں خوشی سے پاگل سا ہو جاتا ہوں۔۔۔۔ ایک تم ہی تو مردم شناس ملے ہو جو مجھے کالا کہتے ہو ورنہ لوگ تو مجھے اجلا سمجھتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔۔۔”
وہ اب پوری طرح میری جانب متوجہ ہو چکا تھا اور نشہ بھی جیسے کہیں وشہ ہو گیا تھا ، کہنے لگا
” مگر میں تو تمہیں بلیک کے ساتھ باسٹرڈ بھی کہتا ہوں ، یہ لفظ تمہیں برا نہیں لگتا۔ تمہیں اس لفظ کے معنی معلوم ہیں ، اس گندی گالی پر تمہارا خون نہیں کھولتا؟ “
نہیں ، بالکل نہیں۔۔۔ میں نے قطعیت سے کہا
تم نے مجھے کالا ، شاید میرا لباس یا میرا اندر دیکھ کر کہا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ تم ظاہر اور باطن شناس ہو اور تم شاید یہ بھی جان گئے ہو گے کہ مجھے کالا کہلوانا پسند ہے۔ باقی رہا یہ کہ تم مجھے باسٹرڈ کہتے ہو تو کوئی کسی دوسرے کو کچھ بھی کہہ سکتا ہے ، یہ لفظ میں بھی تمہیں کہہ سکتا ہوں لیکن کہنے سے پہلے مجھے سوچنا چاہیے کہ مجھے کسی اچھے یا برے انسان کے لیے بغیر تحقیق ، ایسے ناروا قسم کے الفاظ استعمال کرنے چاہئیں یا نہیں؟ تم شاید نشے کی ترنگ میں ایسا کہہ گزرے ہو یا عربوں کی سوچ کی طرح ہم ایشین ، خاص طور پر یہ پاکستانی بھی تم یورپین قوموں کی نظر میں محض عجمی ہیں جو اپنے گراونڈ میں ہمارے سنگل ڈبل چوکے چھکے اور آوٹ برداشت نہیں کر سکتے جب کہ ہم نے اپنے ملک میں دو سو برس آپ کا جبری تسلط برداشت کیا ہے۔۔۔ اور ہاں ، پڑھے لکھے اور سمجھدارلوگ ، حرامی اسے نہیں کہتے جو حرامُ الولد ہو بلکہ اسے کہتے ہیں جو محسن کش اور بے محابا عیار و مکار ہو۔ اگر یہ برائیاں تمہیں مجھ میں دکھائی دی ہیں تو مجھے باسٹرڈ کہنے میں حق بجانب ہو اور اگر نہیں تو جان لو کہ تم کسی زعم ، غرور ، کسی احساس برتری یا پھر شراب کے نشے میں تھے اور اسی لیے ہمارے دین میں شراب یا نشے سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے کہ اس سے انسان اچھے بُرے کی تمیز ، رشتوں کی پہچان اور تقدس ، کہنے سننے ، دیکھنے ، محسوس کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتا ہے۔۔۔”
وہ مجھے یوں ہکا بکا سا دیکھ رہا تھا جیسے میں پہلے کوئی پتھر تھا اور اب مجھے زبان لگ گئی ہو۔۔۔
شرمندہ سا کہنے لگا
“جنٹلمین! آئی ایم رئیلی سوری ، مجھے اپنے ان الفاظ پر بڑی ندامت محسوس ہو رہی ہے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ تم مجھے فراخ دلی سے معاف کر دو گے۔۔۔” اس نے جیب سے ایک کارڈ نکال کر مجھے دیتے ہوئے کہا
“میرا نام رابرٹ کلے ہے ، میں ہیون آئس اسکیٹنگ اسٹیڈیم میں گراونڈ مینیجر ہوں۔ میں آپ سے پھر مستقبل قریب میں ایک تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا ہوں”
مسٹر کلے! میں ایک سیلانی سا انسان ہوں۔ آج یہاں اور کل کہیں اور۔۔۔ بائی دی وے ، میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم مجھ سے کس سلسلے میں ملنا چاہتے ہو؟
وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولا “مجھے تم میں ایک مخصوص سی چھپی ہوئی شخصیت دکھائی دیتی ہے۔ مجھے تمہارے آج کے اس عجیب برتاو ، برداشت اور بلیک کلر سے محبت نے بڑا متاثر کیا ہے۔۔۔ تمہیں شاید اپنے الفاظ یاد ہوں ، تم نے کہا تھا کہ ” ایک تم ہو جو مجھے کالا کہتے ہو ورنہ لوگ مجھے اُجلا سمجھتے ہیں” میں یہ تو نہیں سمجھتا کہ مجھے باطنی اور روحانی علوم سے دلچسپی ہے یا ان کی کچھ سمجھ ہے لیکن میں نیپال ، کھٹمنڈو ، آسام ، جاوا سماٹرا میں کافی گھوما ہوں۔ سینٹ ، صوفی ، یوگی ، باوا لوگ مجھے بہت پراسرار دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے آج یوں محسوس ہو رہا ہے کہ تم بھی کچھ ایسے ہی ہو۔۔۔ میں تم سے مل کر کچھ سیکھنا چاہتا ہوں ، مذہب اور مشرقی علوم کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہوں”
میں نے اُسے اپنا ٹیلیفون نمبر اور پتہ لکھواتے ہوئے کہا
“مسٹر کلے! یو آر موسٹ ویلکم ، اگلے ہفتے تک تم کسی بھی وقت مجھے مل سکتے ہو”
اگلے کرسمس سے ٹھیک ایک ہفتہ پہلے مسٹر کلے بریڈ فورڈ جامع مسجد میں با رضا و رغبت مسلمان ہو گیا۔ میں نےاس کا اسلامی نام محمد علی رومی تجویز کیا۔ میں نے اس کی شادی اسی کی خواہش کے مطابق لیسٹر کے ایک انتہائی دیندار مسلم گھرانے میں کرائی۔ اس کی بیوی انتہائی پڑھی لکھی ، پردہ دار خاتون ہیں۔ دونوں میاں بیوی برسرِ روزگار ہیں ، تبلیغ اور دین کے دیگر کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اب تو ما شاء اللہ ان کے بچے بھی بڑے ہوگئے ہیں۔ محمد علی رومی کو اب یہ بھی یاد نہیں کہ اس کا ماضی کیسا تھا اور کیا تھا؟ وہ تو اب اپنی آخرت سنوارنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ دیکھ کہ نگاہ ، صبر سبھاو اور سجل سُبک بول سے کیسے کیسے گرانڈیل اور ژولیدہ خاطروں کونکیل ڈالی جا سکتی ہے

سارا کھیل ہی اپنی “میں” کو مٹی میں
April 9, 2016

سارا کھیل ہی اپنی “میں” کو مٹی میں مٹی کر کے صرف “تو” حاصل کرنے کا ہے جہاں “میں” “تو” ہو ہی نہیں سکتا اور جہاں “تو” ہوجائے پھر تیری سوہنی میٹھی ذات کی قسم “میری” “میں” کی مجھے ضرورت ہی نہیں پڑتی اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔ !!

ملک جہانگیر اقبال کی کتاب پیچیدہ تخلیق سے اقتباس

شہاب نامہ ، ڈپٹی کمشنر کی ڈائری، سے اقتباس
February 18, 2016
شہاب نامہ ، ڈپٹی کمشنر کی ڈائری، سے اقتباس

ایک روز میں کسی کام سے لاہور گیا ہوا تھا، وہاں پر ایک جگہ خواجہ عبدالرحیم صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ علامہ قبال کے دیرینہ اور وفادار ملازم علی بخش کو حکومت نے اس کی خدمات کے سلسلے میں لائیلپور میں ایک مربعہ زمین عطا کی ہے۔ وہ بیچارا کئی چکر لگا چکا ہے لیکن اسے قبضہ نہیں ملتا، کیونکہ کچھ شریر لوگ اس پر ناجائز طور پر قابض ہیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔” جھنگ لائلپور کے بالکل قریب ہے۔ کیا تم علی بخش کی کچھ مدد نہیں کر سکتے؟”
میں نے فوراً جواب دیا، ” میں آج ہی اسے اپنی موٹر کار میں جھنگ لے جاؤں گا اور کسی نہ کسی طرح اس کو زمین کا قبضہ دلوا کے چھوڑوں گا۔”
خواجہ صاحب مجھے ” جاوید منزل ” لے گئے اور علی بخش سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ ” یہ جھنگ کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ تم فوراً تیار ہو کر ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ یہ بہت جلدتمہاری زمین کا قبضہ دلوا دیں گے۔”
علی بخش کسی قدر ہچکچایا، اور بولا، ” سوچئے تو سہی میں زمین کا قبضہ لینے کے لئے کب تک مارا مارا پھروں گا؟ قبضہ نہیں ملتا تو کھائے کڑھی، لاہور سے جاتا ہوں تو جاوید کا نقصان ہوتا ہے۔ جاوید بھی کیا کہے گا کہ بابا کن جھگڑوں میں پڑ گیا “؟
لیکن خواجہ صاحب کے اصرار پر وہ میرے ساتھ ایک آدھ روز کے لئے جھنگ چلنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ جب وہ میرے ساتھ کار میں بیٹھ جاتا ہے تو غالباً اس کے دل میں سب سے بڑا وہم یہ ہے کہ شاید اب میں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح علامہ اقبال کی باتیں پوچھ پوچھ کر اس کا سر کھپاؤں گا۔ لیکن میں نے بھی عزم کر رکھا ہے کہ میں خود علی بخش سے حضرت علامہ کے بارے میں کوئی سوال نہیں کروں گا۔ اگر واقعی وہ علی بخش کی زندگی کا ایک جزو ہیں، تو یہ جوہر خود بخود عشق اور مشک کی طرح ظاہر ہو کے رہے گا۔
میری توقع پوری ہوتی ہے اور تھوڑی سی پریشانی کُن خاموشی کے بعد علی بخش مجھے یوں گھورنے لگتا ہے کہ یہ عجیب شخص ہے جو ڈاکٹر صاحب کی کوئی بات نہیں کرتا۔ آخر اس سے رہا نہ گیا اور ایک سینما کے سامنے بھیڑ بھاڑ دیکھ کر وہ بڑبڑانے لگا۔ ” مسجدوں کے سامنے تو کبھی ایسا رش نظر نہیں آتا۔ ڈاکٹر صاحب بھی یہی کہا کرتے تھے۔”
ایک جگہ میں پان خریدنے کے لئے رکتا ہوں، تو علی بخش بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے، ڈاکٹر صاحب کو پان پسند نہیں تھے۔”
پھر شاید میری دلجوئی کے لئے وہ مسکرا کر کہتا ہے۔” ہاں حقہ خوب پیتے تھے۔ اپنا اپنا شوق ہے پان کا ہو یا حقہ کا”!
شیخوپورہ سے گزرتے ہوئے علی بخش کو یاد آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک بار یہاں بھی آئے ھے۔ یہاں پر ایک مسلمان تحصیلدار تھے جو ڈاکٹر صاحب کے پکے مرید تھے۔ انہوں نے دعوت دی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو پلاؤ اور سیخ کباب بہت پسند تھے۔ آموں کا بھی بڑا شوق تھا۔ وفات سے کوئی چھ برس پہلے جب ان کا گلا پہلی بار بیٹھا تو کھانا پینا بہت کم ہو گیا۔”
اب علی بخش کا ذہن بڑی تیزی سے اپنے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے اور وہ بڑی سادگی سے ڈاکٹر صاحب کی باتیں سناتا جاتا ہے۔ ان باتوں میں قصوں اور کہانیوں کا رنگ نہیں بلکہ ایک نشے کی سی کیفیت ہے۔ جب تک علی بخش کا یہ نشہ پورا نہیں ہوتا، غالباً اسے ذہنی اور روحانی تسکین نہیں ملتی “صاحب، جب ڈاکٹر صاحب نے دم دیا ہے، میں ان کے بالکل قریب تھا صبح سویرے میں نے انہیں فروٹ سالٹ پلایا اور کہا کہ اب آپ کی طبیعت بحال ہو جائے گی لیکن عین پانچ بج کر دس منٹ پر ان کی آنکھوں میں ایک تیز تیز نیلی نیلی سی چمک آئی، اور زبان سے اللہ ہی اللہ نکلا۔ میں نے جلدی سے ان کا سر اٹھا کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور انہیں جھنجھوڑنے لگا۔ لیکن وہ رخصت ہو گئے تھے۔”
کچھ عرصہ خاموشی طاری رہتی ہے۔
پھر علی بخش کا موڈ بدلنے کے لئےمیں بھی اس سے ایک سوال کر ہی بیٹھتا ہوں۔” حاجی صاحب کیا آپ کو ڈاکٹر صاحب کے کچھ شعر یاد ہیں؟”
علی بخش ہنس کر ٹالتا ہے۔ ” میں تو ان پڑھ جاہل ہوں، مجھے ان باتوں کی بھلا کیا عقل۔”
“میں نہیں مانتا۔ ” میں نے اصرار کیا” آپ کو ضرور کچھ یاد ہو گا۔”
” کبھی اے حکیکتِ منتجر والا کچھ کچھ یاد ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کو خود بھی بہت گنگنایا کرتے تھے۔”
” ڈاکٹر صاحب عام طور پر مجھے اپنے کمرے کے بالکل نزدیک سُلایا کرتے تھے۔ رات کو دو ڈھائی بجے دبے پاؤں اٹھتے تھے اور وضو کر کے جا نماز پر جا بیٹھتے تھے۔ نماز پڑھ کر وہ دیر تک سجدے میں پڑے رہتے تھے۔ فارغ ہو کر بستر پر آ لیٹتے تھے۔ میں حقہ تازہ کر کے لا رکھتا تھا۔ کبھی ایک کبھی دو کش لگاتے تھے۔ کبھی آنکھ لگ جاتی تھی۔ بس صبح تک اسی طرح کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔”
میرا ڈرائیور احتراماً علی بخش کو سگریٹ پیش کرتا ہے۔ لیکن وہ غالباً حجاب میں آ کر اسے قبول نہیں کرتا۔
” ڈاکٹر صاحب میں ایک عجیب بات تھی۔ کبھی کبھی رات کو سوتے سوتے انہیں ایک جھٹکا سا لگتا تھا اور وہ مجھے آواز دیتے تھے۔ انہوں نے مجھے ہدایت کر رکھی تھی کہ ایسے موقعہ پر میں فوراً ان کی گردن کی پچھلی رگوں اور پٹھوں کو زور زور سے دبایا کروں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ کہتے تھے بس اور میں دبانا چھوڑ دیتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ مجھے اپنے نزدیک سلایا کرتے تھے۔”
ہر چند میرا دل چاہتا ہے کہ میں علی بخش سے اس واردات کے متعلق کچھ مزید استفسار کروں لیکن میں اس کے ذہنی ربط کو توڑنے سے ڈرتا ہوں۔
“ڈاکٹر صاحب بڑے درویش آدمی تھے۔ گھر کے خرچ کا حساب کتاب میرے پاس رہتا تھا۔ میں بھی بڑی کفایت سے کام لیتا تھا۔ ان کا پیسہ ضائع کرنے سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب ناراض ہو جاتے تھے، کہا کرتے تھے، علی بخش انسان کو ہمیشہ وقت کی ضرورت کے مطابق چلنا چاہے۔ خواہ مخواہ ایسے ہی بھوکے نہ رہا کرو۔ اب اسی مربعہ کے ٹنٹنے کو دیکھ لیجئے لائیلپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب، مال افسر صاحب اور سارا عملہ میری بڑی آؤ بھگت کرتے ہیں۔ بڑے اخلاق سے مجھے اپنے برابر کرسی پر بٹھاتے ہیں۔ ایک روز بازار میں ایک پولیس انسپکٹر نے مجھے پہچان لیا اور مجھے گلے لگا کر دیر تک روتا رہا۔ یہ ساری عزت ڈاکٹر صاحب کی برکت سے ہے۔ مربعہ کی بھاگ دوڑ میں میرے پر کچھ قرضہ بھی چڑھ گیا ہے۔ لیکن میں اس کام کے لئے بار بار لاہور کیسے چھوڑوں۔ جاوید کا نقصان ہوتا ہے۔”
“سنُا ہے اپریل میں جاوید چند مہینوں کے لئے ولایت سے لاہور آئے گا۔ جب وہ چھوٹا سا تھا، ہر وقت میرے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔ اللہ کے کرم سے اب بڑا ہو شیار ہو گیا ہے۔ جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ اور منیرہ بی بی بہت کم عمر تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے نرس کے لئے اشتہار دیا۔ بے شمار جواب آئے۔ ایک بی بی نے تو یہ لکھ دیا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ شادی کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ ڈاکٹر صاحب کسی قدر پرشان ہوئے اور کہنے لگے علی بخش دیکھو تو سہی اس خاتون نے کیا لکھا ہے۔ میں بڈھا آدمی ہوں۔ اب شادی کیا کروں گا۔ لیکن پھر علی گڑھ سے ایک جرمن لیڈی آ گئی۔”
علی بخش کا تخیل بڑی تیز رفتاری سے ماضی کے دھنلکوں میں پرواز کر رہا ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر اسے اپنے ڈاکٹر صاحب یا جاوید یا منیرہ بی بی کی کوئی نہ کوئی خوشگوار یاد آتی رہتی ہے۔ جھنگ پہنچ کر میں اسے ایک رات اپنے ہاں رکھتا ہوں۔ دوسری صبح اپنے ایک نہات قابل اور فرض شناس مجسٹر یٹ کپتان مہابت خان کے سپرد کرتا ہوں۔
کپتان مہابت خان علی بخش کو ایک نہایت مقدس تابوت کی طرح عقیدت سے چُھو کر اپنے سینے سے لگا لیتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ وہ علی بخش کو آج ہی اپنے ساتھ لائلپور لے جائے گا اور اس کی زمیں کا قبضہ دلا کر ہی واپس لوٹے گا۔ ” حد ہو گئی۔ اگر ہم یہ معمولی سا کام ہی نہیں کر سکتے تو ہم پر لعنت ہے۔

 

شناخت” سے ایک کہانی” مسلم پاکستانی” سے آخری اقتباس
February 16, 2016

مصنف: علیم الحق حقی

شناخت- ڈاؤن لوڈ لنک

اس بڑے قبرستان میں ایک قبر ایسی ہے۔جس کے اطراف میں پھول ہی پھول کھلے ہیں۔ اس کے پاس سے گذرتے ہوئے آپ کو ٹھنڈک کا احساس ہو گا۔۔۔۔۔۔ٹھنڈک اور طمانیت کا۔آپ کا جی چاہے گا کہ آپ وہاں ٹھہر کر فاتحہ پڑھیں۔ آپ کُتبے پہ نظر ڈالیں گے۔
“یہاںمسلم پاکستانی ابدی نیند سو رہا ہے،اسے چوروں صوبوں نے پالا اور ایثار پیشہ مہاجروں نےاسے تعلیم و تربیت دی۔ اس نے ساری زندگی کسی سے نفرت نہیں کی،کسی کو دکھ نہیں پہنچایا،یہ سراپا محبت تھا۔اس کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ پڑھتے وقت،اس کی مغفرت کی دعا کرتے وقت جان لیجئےکہ سب سے اچھی پہچان مسلم پاکستانی ہونا ہے،اس سے ہٹ کر ہم سوچیں تو قدم بہ قدم خود کو چھوٹا اور محدود کرتے چلے جاتے ہیں ،یہ شخص انجمنِ محبانِ پاکستان کا بانی تھا۔جس کے ہم سب رکن ہیں ،تسلیم کریں یا نہ کریں۔
قبرستان سے نکل کر آپ اس مہربان اور مہمان نوازشہر میں گھومیں گے تو آپ کو طمانیت کا احساس ہو گا،یہ کشادہ دامن ،کشادہ دل شہر آپ کے لئے اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں کا مظہر ہے۔۔۔۔۔۔۔اللہ جو رزاق و رزاق ہے۔
اس مہربان اور مہمان نواز شہر کے کسی ہسپتال میں۔۔۔۔۔۔۔اس کی کسی بستی کے ایک کچے گھر میں آپ کو کوئی اُجڑی لڑکی نظر آجائے تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیجئے گا۔ وہ لڑکی بھی ایک قبر ہے،اس کے دِل کا کُتبہ پڑھئے گا،جس پر خوشبو میں رچی ہوئی یادیں لِکھی ہیں۔۔۔۔۔۔آنسوؤں کی روشنائی ہے۔
اور اس شہر سے جاتے وقت دعا کیجئے گا کہ اللہ اسے اپنی رحمتوں اور امن کے سائے میں رکھے اور ہمیں ۔۔۔۔ہم سب کو اچھا مسلمان اور اچھا پاکستانی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔