Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

پسندیدہ شاعری

کہا، دَھڑکن، جگر ، سانسوں کو تُم سے پیار ہے لیلیٰ از شہزاد قیس
September 22, 2016

کہا، دَھڑکن، جگر ، سانسوں کو تُم سے پیار ہے لیلیٰ

(شاعر: شہزاد قیس)

کہا، دَھڑکن، جگر ، سانسوں کو تُم سے پیار ہے لیلیٰ
کہا، اِن ’’اَدبــی دَعـوؤں‘‘ ســـے بہـت بـیـــزار ہـے لیلیٰ

کہا، سُـنـیــــــــے ! ہـمــارا دِل یہـیـــں پر آج رَکـھــا تھــا
کہا، لـــو کیــا تمہــارے دِل کی ٹھیــکـــے دار ہے لیلیٰ

کہا، مـجـــنـوں کـی چـاہت نــے تمہیـں لیـلــیٰ بنا ڈالا
کہا، مــجــنـوں جُــنـونی کی تو خــود معـمار ہے لیلیٰ

کہا، مـجــنـوں نگاہیـں پھیــر لے تو کیا کریں گی جی؟
کہا، مـجــنـوں نہ کـر پائـــــے تو پھــر بے کار ہے لیلیٰ

کہا، پـر مـلـکـۂ حُـســنِ جـہــاں تـو اور کـوئــی ہــــــے
کہا، پـردہ نشـیــں ہیـں، وَرنہ تـو ســـــردار ہــے لیلیٰ

کہا، یہ ہجر کی راتیں مجھے کیوں بخش دیں صاحب
کہا، “شـاعـــر بنانـــے کو”، بہـت فـنــکار ہـــے لیلیٰ

کہا، اِن زاہـدوں کو کچھ رِعایت عــشــق میں دیجئـے
کہا، حــوروں کا نہ سوچــیـں تو کچھ تیــار ہــے لیلیٰ

کہا، تنہـا ملو ناں، صــرف کچھ غـزلیـں سـنانـی ہیں
کہا، ہم سب سمجھتــے ہیں، بہت ہشیار ہے لیلیٰ

کہا، کوہِ ہمالہ میں رواں کر دُوں جـو جُــوئــے شـیـر!
کہا، وُہ شرطِ شـیریں تھی، کہیں دُشــوار ہے لیلیٰ

کہا، شمع، پتنگے، قیس، لیلیٰ میں ستم گر کون ؟
کہا، شـمـع بھی نـوری، نـــور کا مـیــنـار ہــے لیلیٰ

 

وُہ اِتنے نازُک ہیں ازشہزاد قیس
September 22, 2016

وہ اتنے نازک ہیں  از شہزاد قیس

شہزاد قیس کی ایک انتہائی نازُک غزل ۔ ۔ ۔ براہِ مہربانی احتیاط سے پڑھیں ٹوٹنے کا خدشہ ہے

رُکو تو تم کو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں
کلی اَکیلے اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

طبیب نے کہا ، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے
تو چاندنی سے بچائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ بادلوں پہ کمر سیدھی رَکھنے کو سوئیں
کرن کا تکیہ بنائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قرص بھی صاحب
بغیر پانی نہ کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بدن کو چومیں جو بادل تو غسل ہوتا ہے
دَھنک سے غازہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دو قدم بھی چلیں پانی پہ تو چھالے دیکھ
گھٹائیں گود اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی چٹکنے کی گونجے صدا تو نازُک ہاتھ
حسین کانوں پہ لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پسینہ آئے تو دو تتلیاں قریب آ کر
پروں کو سُر میں ہلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہَوائی بوسہ پری نے دِیا ، بنا ڈِمپل
خیال جسم دَبائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گھپ اَندھیرے میں خیرہ نگاہ بیٹھے ہیں
اَب اور ہم کیا بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گیت گائیں تو ہونٹوں پہ نیل پڑ جائیں
سخن پہ پہرے بٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جناب کانٹا نہیں پنکھڑی چبھی ہے اُنہیں
گھٹا کی پالکی لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کبوتروں سے کراتے ہیں آپ جو جو کام
وُہ تتلیوں سے کرائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ پانچ خط لکھیں تو ’’شکریہ‘‘ کا لفظ بنے
ذِرا حساب لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گواہی دینے وُہ جاتے تو ہیں پر اُن کی جگہ
قسم بھی لوگ اُٹھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہر ایک کام کو ’’مختارِ خاص‘‘ رَکھتے ہیں
سو عشق خود نہ لڑائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سانس لیتے ہیں تو اُس سے سانس چڑھتا ہے
سو رَقص کیسے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بس اِس دلیل پہ کرتے نہیں وُہ سالگرہ
کہ شمع کیسے بجھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُتار دیتے ہیں بالائی سادہ پانی کی
پھر اُس میں پانی ملائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سیر ، صبح کی کرتے ہیں خواب میں چل کر
وَزن کو سو کے گھٹائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی کو سونگھیں تو خوشبو سے پیٹ بھر جائے
نہار منہ یہی کھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وَزن گھٹانے کا نسخہ بتائیں کانٹوں کو
پھر اُن کو چل کے دِکھائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ دَھڑکنوں کی دَھمک سے لرزنے لگتے ہیں
گلے سے کیسے لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

نزاکت ایسی کہ جگنو سے ہاتھ جل جائے
جلے پہ اَبر لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

حنا لگائیں تو ہاتھ اُن کے بھاری ہو جائیں
سو پاؤں پر نہ لگائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تِل کے بوجھ سے بے ہوش ہو گئے اِک دِن
سہارا دے کے چلائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کل اَپنے سائے سے وُہ اِلتماس کرتے تھے
مزید پاس نہ آئیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تھک کے چُور سے ہو جاتے ہیں خدارا اُنہیں
خیال میں بھی نہ لائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

پری نے پیار سے اَنگڑائی روک دی اُن کی
کہ آپ ٹوٹ نہ جائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غزل وُہ پڑھتے ہی یہ کہہ کے قیس رُوٹھ گئے
کہ نازُکی تو بتائیں ، وُہ اِتنے نازُک ہیں

آخری بوسہ از امجد اسلام امجد
June 6, 2016

میرے ہونٹوں پہ اس کے آخری بوسے کی لذت ثبت ہے

 

ur_aakhirii-bosa-amjad-islam-amjad-nazms

اکیسویں صدی کے لئے ایک نظم- امجد اسلام امجد
April 18, 2016

سمے کے رستے میں بیٹھنے سے
تو صرف چہروں پہ گرد جمتی ہے
اور آنکھوں میں خواب مرتے ہیں
جن کی لاشیں اُٹھانے والا کوئی نہیں ہے!

ہماری قسمت کے زائچوں کو بنانے والا کوئی ہو شاید
پر ان کا مطلب بتانے والا کوئی نہیں ہے!
وہ سارے رسے روائتوں کے جن کی گرہیں کسی ہوئی ہیں
ہمارے ہاتھوں سر اور پاﺅں سے لے کے خوابوں کی گردنوں تک
ہماری رُوحوں میں کھُبتے جاتے ہیں
اور ہم کو بچانے والا، چھڑانے والا کوئی نہیں ہے!

زباں پہ زنجیر سی پڑی ہے
دلوں میں پھندے ہیں
اور آنکھوں میں شامِ زنداں کی بے کسی ہے
چراغ سارے بجھے پڑے ہیں جلانے والا کوئی نہیں ہے!

مرے عزیزو مجھے یہ غم ہے
جو ہو چکا ہے بہت ہی کم ہے
سمے کے رستے میں بیٹھے رہنے کے دن بھی اب ختم ہو رہے ہیں
بچے کھچے یہ جو بال و پر ہیں
جو راکھ داں میں سُلگنے والے یہ کچھ شرر ہیں
ہمارے بچوں کے سر چھپانے کو جو یہ گھر ہیں
اب ان کی باری بھی آ رہی ہے
وہ ایک مہلت جو آخری تھی
وہ جا رہی ہے
تو اس سے پہلےزمین کھائے
ہمارے جسموں کو اور خوابوں کو
اور چہروں پہ اپنے دامن کی اوٹ کر دے
یہ سرد مٹی جو بھُر بھُری ہے
ہماری آنکھوں کے زرد حلقے لہو سے بھر دے
مرے عزیزو چلو کہ آنکھوں کو مل کے دیکھیں
کہاں سے سورج نکل رہے ہیں
سمے کے رستے پہ چل کے دیکھیں

حبیبب جالب۔ دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
April 18, 2016

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہرمصلحت کے پلے
ایسے دستور کوصبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختہءدار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جیل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا
پھول شاخوں پہ کھلنے لگے تم کہو
جام رندو کو ملنے لگے تم کہو
چاک سینوں کے سلنے لگے تم کہو
اس کھلے جھوٹ کو ذہن کی لوٹ کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکون
اب نہ ہم پہ چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر درد مندوں کے بنتے ہو کیوں
تم نہیں چارہ گر کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

mnm