Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

پسندیدہ کالمز/ تحریریں

خُدا کی تلاش
April 12, 2019

خُدا کی تلاش

مجھے وہ واقعہ یاد آیا جب میں ایک درویش کی کُٹیا میں اُس سے پوچھ رہا تھا کہ بابا خُدا کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے کیونکہ میں نے کتابوں میں پڑھا ہے پہلے لوگ اپنی آدھی سے زیادہ زندگی اللہ عزوجل کو پانے کیلئے دُنیا سے کٹ جاتے تھے جنگل نشین ہوجایا کرتے تھے خود پر دُنیا کی نعمتوں کے دروازے بند کرلیا کرتے تھے۔
درویش یہ سُنا کر فرمانے لگے بِیٹا وہ کیا چیز ہے جو واقعی صرف تمہاری ہے؟
میں نے عرض کی حضور سب کچھ اللہ کریم کی امانت ہے میرا تو کُچھ بھی نہیں یہ جان، یہ صحت، یہ مال، یہ عزت، سبھی پہ اللہ کا اختیار ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔
وہ مُسکراتے ہوئے فرمانے لگے نہیں بیٹا تم نے جو کچھ کہا ٹھیک ہے مگر ایک چیز ہے جو صرف تُمہارے اختیار میں ہے وہی قیمتی متاع ہے انسان کے پاس جس کی قربانی اللہُ سُبحانہُ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے۔
میں عقل کے گھوڑے دوڑاتا رہا تمام باتوں کو بار بار دماغ میں دُہراتا رہا لیکن کچھ پلے نہیں پڑا بڑے ادب سے اُس درویش کے قدموں کو دباتے ہوئے عرض کرنے لگا بابا میں بُہت کم فہم ہوں ان کتابوں کو میں پڑھ تو لیتا ہوں لیکن شائد سمجھنے سے قاصر ہوں آپ ہی بتا دیجئے نا کہ آخر وہ ایسی کیا چیز ہے جسکی مجھے خبر نہیں اور اُسکی قربانی اللہ کریم کو بے حد پسند ہے-
اُس درویش نے اپنے قدموں کو سمیٹا اور چار زانوں بیٹھ گئے میری جانب بڑے غور سے دیکھا اور ایک جذب کی کیفیت میں فرمانے لگے بیٹا جانتے ہو انسان اشرف المخلوقات کیوں ہے؟
میں نے ادب سے عرض کی حضور آپ ہی ارشاد فرمائیں تب وہ درویش فرمانے لگے بیٹا اس لئے کہ اللہ کریم نے انسان کو عقل دی پرکھنے کیلئے، شعور دیا خیر اور شر کو سمجھنے کیلئے، پھر اپنا آئین دیا جس سے وہ اللہ کریم کی رضا اور ناراضگی کو جان سکے لیکن اس انسان کو اللہ کریم نے پابند نہیں کیا بلکہ اِس انسان کو اختیار دیا کہ چاہے تو دُنیا کی زندگی میں خیر کا رستہ اپنائے چاہے تو شر کے راستے پر چلے، چاہے تو آخرت کی تیاری میں مشغول رہے چاہے تو دُنیا کی رنگینیوں میں خود کو گُما لے۔
بیٹا یہی اختیار، یہی چاہت، یہی خواہش انسان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اللہ کریم کو پانے کا آسان طریقہ کیا ہے تو بس اپنی یہی چاہت، اپنا اختیار، اپنی خواہش کو اللہ کریم کے سپرد کردے تجھے خُدا مل جائے گا تُجھے کبھی جنگلوں کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا تُجھے کبھی صحراؤں کی خاک نہیں چھاننی پڑے گی تجھے خُدا کو ڈھونڈنے کیلئے پہاڑوں پر بھی جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کیونکہ وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ہاں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ جب تو خدا کو پالے تو تیرے اندر کی تپش اسقدر بڑھ جائے کہ تجھے انسانوں کی بھیڑ سے ڈر لگنے لگے یا تجھے لگے کہ تیرے وجود کی آتش اس بھیڑ سے سرد پڑنے لگی ہے تب جنگل، پہاڑ ، دریا سبھی تیرے منتظر ہونگے تو جہاں بھی ہوگا خدا سے بات کرلے گا-
بیٹا یہ آسان رستہ نہیں بلکہ بُہت کٹھن راہ ہے اس راہ پہ چلنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں، اس راہ پہ چلنے والوں کو اپنے نفس سے لڑنا پڑتا ہے اپنے من سے لڑنا پڑتا ہے، اپنی چاہت کو قربان کرنا بَچّوں کا کھیل نہیں پہلے سوچ لے تجھے اپنی ذات کے بُت کو مسمار کرنا پڑے گا، انا کے جام کو بہانا ہوگا، گالی بکنے والے سے خندہ پیشانی سے مِلنا پڑے گا تُہمت لگانے والے سے ہنس کر ملنا پڑے گا، نرم بستر کو طلاق دینی پڑے گی، طرح طرح کے پکوانوں سے نظر موڑ کر سوکھی روٹی پر قناعت کی عادت ڈالنی ہوگی انسانوں سے مُحبت کرنی ہوگی صرف مُحبت۔
اپنے وجود میں موجود نفرت، غصے، حسد کے آتش کدے پر ندامت کا پانی ڈالنا ہوگا جو کُچھ بھی تیرے پاس ہے وہ سب خُدا کا ہے تو صرف اُسکا امین ہے تو جب تجھ سے واپسی کا تقاضہ ہو تو یہ مت کہنا کہ میرا تھا، میں نے دِیا، بلکہ ہمیشہ یہی کہنا کہ جس کا تھا اُسی کو لوٹا دیا، مصیبت کے وقت واویلہ نہ کرنا بلکہ صبر کرنا کہ وہ صابروں کو پسند کرتا ہے، ہر لمحہ اپنے عمل پر نظر رکھنی پڑے گی اپنا احتساب کرنا پڑے گا کہ تیرا عمل تیری مرضی کے مُطابق ہے یا اللہ کریم کی مرضی کے مُطابق، تو وہ کر رہا ہے جو تیری چاہت ہے یا وہ کر رہا ہے جو اللہ کریم کی چاہت ہے کبھی تیری چاہت ہوگی کہ نرم وگرم بستر سے خود کو جُدا نہ کرے لیکن تبھی اللہ کی چاہت ہوگی کہ تو بستر کو چھوڑ کے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہو، کبھی تیری چاہت ہوگی کہ تیرا مال تیری جیب میں رہے اُس وقت ہوسکتا ہے اُس کی چاہت یہ ہو کہ تو وہ مال جو تو نے بڑی محنت سے کمایا ہے کسی دوسرے کی ضرورت پر خرچ کردے-
کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سخت گرمی کے سبب ٹھنڈا پانی پئے یا اپنے پیٹ کی آگ بُجھانے کیلئے کچھ کھالے لیکن اُس کی چاہت ہوگی کہ تو روزہ دار رہے، کبھی سخت سردی کے سبب تیری چاہت ہوگی کہ ٹھنڈا پانی تیرے جسم کو نہ چُھوئے تبھی اُس کی چاہت ہوگی کہ اُسی ٹھنڈے پانی سے سخت جاڑے میں وضو کر، کبھی تیری چاہت تجھ سے تقاضہ کرے گی کہ تنہا رہ کر جسم کی تھکان مِٹالے تبھی اُسکی چاہت کا تقاضہ ہوگا کہ کسی کے دُکھ میں شریک ہوجا اور کسی کے دُکھ درد کو بانٹنے کے لئے سفر اختیار کر کبھی تیری چاہت ہوگی کہ سامنے والے کا مُنہ نوچ لے تبھی اُسکی چاہت ہوگی کہ تو اُسے سینے سے لگا لے، کبھی نفسانی خواہشات تجھے اپنی جانب بُلائیں گی تیرا من بھی چاہے گا مگر اُس کی چاہت تقاضہ کرے گی میرے سِوا سب سے بےنیاز ہوجا، بیٹا اپنی چاہت اپنی مرضی اپنی خواہش، کی قربانی ہی وہ راستہ ہے جِس پر چل کر بندہ خُدا کو پالیتا ہے-
اگر اپنی چاہت کو قربان کرنے کا حوصلہ ہے تو اِس راہ پر ضرور قدم رکھ وہ کسی کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ معرفت کی منزل کو پانے کا سفر اسقدر دُشوار ہے کہ ہزاروں مسافر اس راہ پر چلتے ہیں لیکن سفر شروع ہونے کے بعد اس کی تکالیف پر صبر چند ایک ہی کر پاتے ہیں اور وہ بھی آدھی منزل ہی سر کرپاتے ہیں منزل پر تو ایک دو ہی پہنچ پاتے ہیں تو بھی کوشش کر دیکھ شائد تُجھے بھی منزل مل جائے اگر تو نے دُنیا کی صعوبتوں پر صبر کو عادت بنایا اپنی چاہت اُسکی چاہت پر قربان کردی تو ضرور خدا عزوجل کو پالے گا مجھے اِس سے ذیادہ آسان راستہ کی خبر نہیں- بُول چلنا چاہے گا اِس راستہ پر درویش نے مسکراتے ہوئے میری جانب دیکھا تھا؟
اور میں نے زِیرِ لب بے اختیار کہا کہ ضرور کوشش کرونگا اگر اللہ کریم کا فضل مجھ گُنہگار پر بھی ہُوا انشا ءَاللہ عزوجل آج شاعر مشرق کا یہ شعر بھی رات کی تنہائی میں مجھے کُچھ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے اور بُہت لُطف دے رہا ہے –
خُدا کے بندے تو ہَزاروں بندوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اُسکا بندہ بَنُوں گا جس کو خُدا کے بندوں سے پیار ہوگا..
بشکریہ غزالہ جلیل راؤ صاحبہ.

زندگی کے سبق
April 12, 2019

کلاس روم طلبہ اور طالبات سے بھرا ہوا تھا۔ ہر کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھا ، ، کان پڑی آوازسُنائی نہ دیتی تھی، اتنے میں پرنسپل کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم میں سناٹا چھاگیا ۔

پرنسپل صاحب نے اپنے ساتھ آئے ہوئے ایک صاحب کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ ہمارے کالج کے وزیٹنگ پروفیسر، پروفیسر انصاری ہیں، آپ مفکر دانشور اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ یہ آپ کو کامیاب زندگی گزارنے کے کچھ گر بتائیں گے۔ ان کے کئی لیکچر ہوں گے۔ جو اسٹوڈنٹس انٹرسٹڈ ہوں وہ ان کے لیکچر میں باقاعدگی سے شریک ہوں۔

*1*
Sabaq01

کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی پروفیسر کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ پروفیسر کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔

وزیٹنگ پروفیسر انصاری نے ہال میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا….

‘‘تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کردے؟’’….

‘‘یہ ناممکن ہے۔’’، کلاس کے ایک ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ ‘‘لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کررہے ہیں۔’’ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کردی۔

پروفیسر نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر مسکراتے ہوئے بلیک بورڈ پر اس لکیر کے نیچے ہی اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ اب اوپر والی لکیر کے سامنے یہ لکیر چھوٹی نظر آرہی تھی۔

پروفیسر نے چاک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:

‘‘آپ نے آج اپنی زندگی کا ایک بڑا سبق سیکھا ہے، وہ یہ ہے دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے کس طرح نکلا جاسکتا ہے….’’

آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو طاقتور اور بڑا بنانے پر توجہ دی جائے۔ دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑھنا، ترقی کا صحیح طریقہ ہے۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ اس طریقے پر اجتماعی طور پر ہمارے پڑوسی ملک چین نے سب سے زیادہ عمل کیا ہے اور بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔

*2*
Sabaq02

دوسرے دن کلاس میں داخل ہوتے ہی پروفیسر انصاری نے بلیک بورٖڈ پر ایک بڑا سا سفید کاغذ چسپاں کردیا، اس کے بعد انہوں نے اس سفید کاغذ کے درمیان میں مارکر سے ایک سیاہ نقطہ ڈالا، پھر اپنا رخ کلاس کی طرف کرتے ہوئے پوچھا:

‘‘آپ کو کیا نظر آ رہا ہے….؟ ’’

سب نے ہی یک زبان ہو کر کہا‘‘ایک سیاہ نقطہ’’۔

طالب علم تعجب کا اظہار کررہے تھے سر بھی کمال کرتے ہیں ، کل لکیر کھینچی تھی آج نقطہ بنادیا ہے ….

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ حیرت ہے ! اتنا بڑا سفید کاغذ اپنی چمک اور پوری آب و تاب کے ساتھ تو تمہاری نظروں سے اوجھل ہے، مگر ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ تمہیں صاف دکھائی دے رہا ہے؟’’

زندگی میں کیے گئے لاتعداد اچھے کام سفید کاغذ کی طرح ہوتے ہیں جبکہ کوئی غلطی یا خرابی محض ایک چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت دوسروں کی غلطیوں پر توجہ زیادہ دیتی ہے لیکن اچھائیوں کو نظر انداز کردیتی ہے۔

آپ کی ساری زندگی کی اچھائیوں پر آپ کی کوئی ایک کوتاہی یا کسی غلطی کا ایک سیاہ نقطہ ان کو زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

آپ آدھا گلاس پانی کا بھر کر اگر 100 لوگوں سے پوچھیں گے ، تو کم از کم 80 فیصد کہیں گے آدھا گلاس خالی ہے اور 20 فیصد کہیں گے کہ آدھا گلاس پانی ہے …. دونوں صورتوں میں بظاہر فرق کچھ نہیں پڑتا لیکن درحقیقت یہ دو قسم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ جن لوگوں کا انداز فکر منفی ہوتا ہے وہ صرف منفی رخ سے چیزوں کو دیکھتے جبکہ مثبت ذہن کے لوگ ہر چیز میں خیر تلاشکرلیتے ہیں۔

ہماری زندگی کے معاملات میں لوگوں کے ردعمل گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ‘‘لوگ کیا کہیں گے’’ جیسے روائتی جملے ہمیں ہمیشہ دو راہوں پر گامزن کردیتے ہیں۔ یہ دوراہی فیصلہ لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔اس صورتحال میں صرف نفسیاتی الجھن کا شکار ہوکررہ جاتے ہیں۔

اس لیے آپ مستقل میں کوئی بھی کام کریں، کوئی بھی راہ چنیں ، تو یہ یاد رکھیں کہ آپ ہر شخص کو مطمئننہیں کرسکتے ۔

*3*
Sabaq03

تیسرے دن پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا، جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا۔انہوں نے وہ گلاس بلند کردیا، تاکہ تمام طلبا اسےدیکھ لیں۔

‘‘سر کیا آپ وہی فلسفیانہ سوال تونہیں پوچھنا چاہ رہے کہ گلاس آدھا خالی ہے یا آدھا بھرا ہوا ہے’’ ایک طالب علم نے جملہ کستے ہوئے کہا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دیکھا اور کہا ‘‘نہیں! آج میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا….؟’’

‘‘پچاس گرام’’، ‘‘سو گرام’’، ‘‘ایک سو پچیس گرام’’۔سب اپنے اپنے انداز سے جواب دینے لگے۔

‘‘میں خود صحیح وزن بتا نہیں سکتا، جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کرلوں!….’’ پروفیسر نے کہا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ‘‘ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لیے اسی طرح اٹھائے رہوں….؟’’

‘‘کچھ نہیں ہوگا!’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘ٹھیک ہے، اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یوں ہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’ پروفیسر نے پوچھا۔

‘‘آپ کے بازو میں درد شروع ہوجائے گا۔’’ طلباء میں سے ایک نے جواب دیا۔

‘‘تم نے بالکل ٹھیک کہا۔’’ پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا۔‘‘اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو پھر کیا ہوگا….؟’’

‘‘آپ کا باوزو شل ہوسکتا ہے۔’’ ایک طالب علم نے کہا۔‘‘آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے’’ ایک اور طالب علم بولا، ‘‘آپ پر فالج کا حملہ ہوسکتا ہے۔ آپ کو اسپتال لازمی جانا پڑے گا!’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری گلاس قہقہے لگانے لگی۔

‘‘بہت اچھا!’’ پروفیسر نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر پوچھا ‘‘لیکن اس دوران کیا گلاس کا وزن تبدیلہوا….؟’’

‘‘نہیں۔’’ طالب علموں نے جواب دیا۔

‘‘تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا….؟’’پروفیسر نے پوچھا۔طالب علم چکرائے گئے۔

‘‘ گلاس کا بہت دیر تک اُٹھائے رکھنا ، بہتر ہوگا کہ اب گلاس نیچے رکھ دیں!’’ ایک طالب علم نے کہا۔

‘‘بالکل صحیح!….’’ استاد نے کہا۔

‘‘ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ آپ انہیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک لگتے ہیں۔انہیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ آپ کے لیے سر کا درد بن جائیں گے۔ انہیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کردیں گے۔ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

دیکھیے….!اپنی زندگی کے چیلنجز (مسائل) کے بارے میں سوچنا یقیناً اہمیت رکھتا ہے۔لیکن…. اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر دن کے اختتام پر سونے سے پہلے ان مسائل کو ذہن سے اُتاردیا جائے۔ اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے۔ اگلی صبح آپ تروتازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہوں گے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو، کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کرسکیں گے۔ لہٰذا گلاس کو یعنی مسائل پر غیر ضروری سوچ بچار کو نیچے کرنا رکھنا یاد رکھیں۔’’

*4*
Sabaq04

پروفیسر نے کہا کہ کل ہر ایک طالب علم پلاسٹک کا ایک شفاف تھیلا اور ٹماٹرساتھ لائے۔

جب طلباء تھیلا اور ٹماٹر لے آئے تو پروفیسر نے کہا کہ :

‘‘آپ میں سے ہر طالب علم اس فرد کے نام پر جسے آپ نے اپنی زندگی میں معاف نہیں کیا، ایک ایک ٹماٹر چن لیں اور اس پر اس فرد کا نام اور تاریخ لکھ کر اسے اپنے پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالتے جائیں۔’’

سب نے ایک ایک کرکے یہی عمل کیا، پروفیسر نے کلاس پر نظر ڈالی تو دیکھابعض طالب علموں کے تھیلے خاصے بھاری ہوگئے۔

پھر پروفیسر نے سب طالب علموں سے کہا کہ:

‘‘ یہ آپ کا ہوم ورک ہے، آپ سب ان تھیلوں کو اپنے ساتھ رکھیں، اسے ہر جگہ اپنے ساتھ لیے پھریں۔ رات کو سوتے وقت اسے اپنے بیڈ کے سرہانے رکھیں، جب کام کر رہے ہوں تو اسے اپنی میز کے برابر میں رکھیں۔ کل ہفتہ ، پرسوں اتوار ہے آپ کی چھٹی ہے، پیر کے روز آپ ان تھیلوں کو لے کر آئیں اور بتائیں آپ نے کیا سیکھا۔ ’’

پیر کے دن سب طالب علم آئے تو چہرے پر پریشانی کے آثار تھے، سب نے بتایا کہ اس تھیلے کو ساتھ ساتھ گھسیٹے پھرنا ایک آزار ہوگیا۔ قدرتی طور پر ٹماٹروں کی حالت خراب ہونے لگی۔ وہ پلپلے اور بدبودار ہوگئے تھے۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا ‘‘ اس ایکسرسائز سے کیا سبق سیکھا….؟’’

سب طلبہ و طالبات خاموش رہے۔

‘‘اس ایکسر سائز سے یہ واضح ہوا کہ روحانی طور پر ہم اپنے آپ پر کتنا غیر ضروری وزن لادے پھر رہے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم اپنی تکلیف اور اپنی منفی سوچ کی کیا قیمت چکا رہے ہیں۔

ہم اکثر یہ سوچتے ہیں کہ کسی کو معاف کردینا ، کسی پر احسان کرنااس شخص کے لیے اچھا ہے لیکن دوسرے کو معاف کرکے ہم خود اپنے لیے لاتعداد فوائد حاصل کرتے ہیں ۔ جب تک ہم کسی سے ناراض رہتے ہیں ، اس کے خلاف بدلہ لینے کے لیے سوچتے ہیں اس وقت تک ہم کسی اور کا نہیں بلکہ خود اپنا خون جلاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اذیت اور مشقت میں مبتلا رکھتے ہیں۔ بدلے اور انتقام کی سوچ، گلے سڑے ٹماٹروں کی طرح ہمارے باطن میں بدبو پھیلانے لگتی ہے۔ معاف نہ کرنا ایک بوجھ بن کر ہمارے اعصاب کو تھکا دیتا ہے۔

*5*
Sabaq05

‘‘آج ہم نہیں پڑھیں گے….’’

پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔

‘‘آپ دو دن ٹماٹروں کا تھیلا اٹھائے تھک گئے ہوں گے۔ اس لیے آج آپ کے لیے چائے کافی میریطرف سے….’’

اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے ۔ ساتھ ہی بہت سے کپ تھے، پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ، ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….

پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ ‘‘سب اپنی مدد آپ کے تحت وہ گرما گرم چائے کافی آپ خودلے لیں۔’’

جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لیے تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے ۔

‘‘ آپ لوگ غور کریں …. تمام نفیس، قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لیے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، وہ یوں ہی رکھے ہوئے ہیں۔’’

‘‘اس کا کیا مطلب سر’’۔ ایک طالب علم نے پوچھا

‘‘گو یہ عام سی بات ہے کہ آپ اپنے لیے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔’’

سارے طالب علم چونک اٹھے، ‘‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں سر اچھی چیز کا انتخاب تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔ یہ مسائل کی جڑ کیسے ….؟’’

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:‘‘آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی، وہ چائے یا کافی تھی…. نہ کہ کپ…. لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لیے ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے۔’’

میرے بچو …. نوجوانو… یاد رکھو…. زندگی کا اصل حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین، دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔ اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو تو کیا آپ اسے پئیں گے؟۔

اصل اہمیت زندگی ، صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔ باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں، ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے یا ان میں کریک آجائے گا۔

یاد رکھیے! دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔

تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے ہم اس میں موجود کافی یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں…. اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں۔’’

*6*
Sabaq06

پروفیسر صاحب نے کلاس کا آغاز کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک پینسل نکالی اور تمام طلبا کو دکھاتےہوئے کہا :

‘‘ آج کا سبق آپ اس پینسل سے سیکھیں گے…. پینسل میں پانچ باتیں ایسی ہیں جو ہم سب کے لیے جاننی ضروری ہیں!….

‘‘وہ کیا سر….’’ سب نے تجسس سے پوچھا

‘‘پہلی بات :یہ پینسل عمدہ اور عظیم کام کرنے کے قابل اس صورت میں ہوسکتی ہے ، جب وہ خود کو کسی کے ہاتھ میں تھامے رکھنے کی اجازت دے۔

دوسری بات :ایک بہترین پینسل بننے کے لیے وہ بار بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے۔

تیسری بات: وہ ان غلطیوں کو درست کرنے کی اہل رکھتی ہے ، جو اس سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات :یہ پینسل کا سب سے اہم حصہ ہمیشہ وہ ہوگا جو اس کے اندر یعنی اس کے باطن میں ہوتا ہے اور پانچویں بات : پینسل کو جس سطح پر بھی استعمال کیا جائے، وہ لازمی اس پر اپنا نشان چھوڑ جاتی ۔ چاہے حالات کیسے ہی ہوں۔’’

‘‘اب اس پینسل کی جگہ آپ اپنے کو لے لیں۔

آپ بھی عمدہ اور عظیم کام کرنے کے لیے قابل اسی صورت میں ہوسکتے ہیں، جب آپ خود کو اپنے استاد یا راہنما کے ہاتھوں میں تھامے رکھنے کی اجازت دیں۔

دوسری بات : آپ کو بات بار تراشے جانے کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑے گا ۔ یہ مراحل دنیا میں زندگی کے مختلف مسائل کی صورت میں آپ کے سامنے آئیں گے، ایک مضبوط فرد بننے کے لیے آپ کو ان مسائل کا اچھے طریقے سے سامنا کرنا ہوگا۔

تیسری بات :یہ کہ اپنے آپ کو ان غلطیوں کو درست کرنے کے قابل بنائیں جو آپ سے سرزد ہوسکتی ہیں۔

چوتھی بات: ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہمارے اندر ہے، ہمارا باطن ہے ، ہمیں اسے کثافتوں اور آلائشوں سے بچانا ہے۔

پانچویں بات: آپ جس سطح پر سے بھی گزر کر جائیں، آپ اپنے نشان ضرور چھوڑ جائیں۔ چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

اس یقین کے ساتھ زندگی بسر کریں کہ اس دنیا کو آپ کی ضرورت ہے، کیونکہ کوئی شے بھی فضول اور بے مقصد نہیں ہوتی۔

*7*
Sabaq07

پروفیسر صاحب نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے اپنے طالب علموں پر نظر ڈالی اور کہا

“آج میں تمہیں زندگی کا نہایت اہم سبق سکھانے جارہا ہوں….’’

وہ اپنے ہمراہ کانچ کی ایک بڑی برنی یعنی جارJAR لائے تھے، انہوں نے اس جار کوٹیبل پر رکھا اور اپنے بیگ سے ٹیبل ٹینس کی گیندیں نکال کر اس برنی میں ڈالنے لگے….اور تب تک ڈالتے رہے جب تک اس برنی میں ایک بھی گیند کی جگہ باقی نہ رہی….

پروفیسر صاحب نے طالب علموں سے پوچھا“کیا برنی پوری بھر گئی ہے….؟” “جی ہاں….”طالب علموں نے ایک ساتھ جواب دیا…..

پھر پروفیسر صاحب نے بیگ سے چھوٹے چھوٹے کنکر نکال کر اس برنی میں بھرنے شروع کردیے، وہ دھیرے دھیرے برنی کو ہلاتے بھی جارہے تھے۔ کافی سارے کنکر برنی میں جہاں جگہ خالی تھی سماگئے….

پروفیسر صاحب نے پھر سوال کیا:“کیا اب برنی بھرگئی ہے….؟”

طالب علموں نے ایک بار پھر “ہاں”کہا….

اب پروفیسر صاحب نے بیگ سے ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے ریت نکال کر دھیرے دھیرے اس برنی میں ڈالنی شروع کردی، وہ ریت بھی اس برنی میں جہاں تک ممکن تھا بیٹھ گئی….

یہ دیکھ کر طلباء اپنی نادانی پر ہنسنے لگے….

پروفیسر صاحب نے ایک بار پھر سوال کیا

“کیا اب یہ برنی پوری بھرگئی ہے ناں….؟”

“جی!…. اب تو پوری بھر گئی ہے سر….”سب ہی نے ایک آواز میں کہا….

پروفیسر نے بیگ کے اندر سے جوس کے دو ڈبّے نکال کر جوس اس برنی میں ڈالا، جوس بھی ریت کے بیچ تھوڑی سی جگہ میں جذب ہوگیا ….اب پروفیسر صاحب نے نہایت ہی گھبمیر آواز میں سمجھانا شروع کیا….

‘‘اس کانچ کی برنی کو تم لوگ اپنی زندگی سمجھو، ٹیبلٹینس کی گیندیں تمہاری زندگی کے سب سے اہم کام ہیں….. مثلاً طرزِ معاشرت، حصولِ معاش، تعلیموتربیت، خاندان ،بیوی بچے، نوکری ، صحت وتحفظ وغیرہ…. چھوٹے کنکر تمہاری عام ضروریات اور خواہشات ہیں۔ گاڑی، بنگلہ، نوکرچاکر، موبائل، کمپیوٹر اور دیگراصرافِ زندگی وغیرہ….اور ریت کا مطلب ہے چھوٹی چھوٹی بےکار اور فضول باتیں،جھگڑے، آوارہ گردی، ہوائی قلعہ بنانا، ٹائم پاس کرنا، وقت کاضیاعوغیرہ ….

اگر تم نے کانچ کی برنی میں سب سے پہلے ریت بھری ہوتی تو ٹیبل ٹینس کی گیند اور کنکرکے لیے جگہ ہی نہیں بچتی یا صرف کنکر بھردیے ہوتے تو گیند نہیں بھرپاتے ، ریت ضرور آسکتی تھی….

ٹھیک یہی طریقہ کار زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر تم فضول اور لایعنی چیزوں کے پیچھے پڑے رہو گے اور اپنی زندگی اسی کے چکرمیں ختم کردو گے تو تمہارے پاس اہم باتوں کے لیے وقت نہیں رہے گا….

ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے یہ اہم سبق ہے ۔ اب یہ تم خود طے کرلو کہ تمہیں اپنی کانچ کی برنی کس طرح بھرنی ہے’’….

طالب علم بڑے غور سے پروفیسر صاحب کی باتیں سن رہے تھے، اچانک ایک طالبعلم نے پوچھا “سر! لیکن آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جوس کے دوڈبّےکیا ہیں؟”….

پروفیسر مسکرائے اور بولے “میں سوچ ہی رہا تھا کہ ابھی تک کسی نے یہ سوال کیوں نہیں کیا…. اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں ہم کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اور کس قدر ہی کامیابیاں کیوں نہ سمیٹ رہے ہوں لیکن اپنے گھر والوں، دوستوں کےساتھ تعلق کی مٹھاس کی گنجائش ہمیشہ رکھنی چاہیے”….

*8*
Sabaq08

آج لیکچر کا آخری دن تھا ، کلاس روم کے طلبہ میں چہ مگوئیاں جاری تھیں، اتنے میں پروفیسر صاحب کلاس روم میں داخل ہوئے، کلاس روم کی بھنبھناہٹ آہستہ آہستہ گہری خاموشی میں بدلنے لگی۔ دیکھا کہ پروفیسر کے پیچھے ایک غبارے والا ڈھیر سارے سرخ رنگ کے کلاس روم میں داخل ہورہا ہے ….

پروفیسر کے اشارے پر غبارے والے نے ایک ایک کرکے سارے غبارے طلباء میں تقسیمکردئیے….

‘‘سر آج ویلنٹائن ڈے نہیں ہے….’’ ایک طالب علم نے جملہ کسا۔ ‘‘ سر!کیا آپ کی سالگرہ ہے؟’’ ایک اور طالب علم بولا۔

پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:

‘‘آپ میں سے ہر ایک کومارکر کا استعمال کرتے ہوئے ا ن غباروں پر اپنا نام لکھنا ہے ’’۔ سب نے پرفیسر کی کہنے پر نام لکھ دئے ۔ اس کے بعد تمام غبارےجمع کرکے دوسرے کمرے میں ڈال دیے گئے۔ آپ پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ ‘‘اب سب غباروں والے کمرے میں جائیں اور اپنے اپنے نام والا غبارہ تلاش کریں ، دھیان رہے کہ کوئی غبارہ نہ بھٹے اور آپ سب کے پاس پانچ منٹ ہیں۔’’

ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہوئے،دوسروں کو دھکیلتے ہوئے اپنے نام کا غبارہ تلاش کرنے لگا۔ ایک افراتفری کا سماں تھا۔ سارے غبارے ایک ہی رنگ کے تھے، پانچ منٹ تک کوئی بھی اپنے نام والا غبارہ تلاش نہ کرسکا…. یہ دیکھ کر پروفیسر انصاری نے کہا کہ

اب آپ کے پاس پانچ منٹ ہیں کوئی بھی غبارہ پکڑ لیں اور اس کے نام والے شخص کودے دیں، دو تین منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ تمام افراد کے پاس اپنے اپنے نام والے غبارے تھے۔

پروفیسر انصاری کلاس سے مخاطب ہوتے ہوئےبولے:

‘‘بالکل اسی طرح ہماری زندگی ہے، ہر کوئی بدحواسی کے عالم میں اپنے ارد گرد خوشیاں تلاش کر رہا ہے یہ نہ جانتے ہوئے کہ وہ کہاں ہیں۔

نوجوانوں…. یاد رکھو…ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہے، ان کو ان کی خوشی دے دیں تو آپ کو آپ کی خوشی مل جائے گی ۔’’

ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
اپریل 2014ء سے انتخاب

بیوی-مزاحیہ تحریر
March 21, 2019

بیوی بلوغت کی انٹرنیشنل ڈگری ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا ہر شوہر کے فرائض میں شامل ہے ۔ بیوی نئی ہو تو کہیں اور دل نہیں لگتا اور پرانی ہوجائے تو بیوی میں دل نہیں لگتا۔ بیوی شروع شروع میں آپ کے تمام کام کرتی ہے بعدازاں کام تمام کرتی ہے ۔ باپردہ بیوی وہ ہوتی ہے جو شوہر کا دیگر تمام عورتوں سے پردہ کروادے۔ مرد کو اپنی برائی اور کمزوری کا احساس بیوی کے ذریعے ہی ہوتا ہے۔ بیوی آغاز میں محبت دیتی ہے اور انجامِ کار بچے۔ تفصیل سے پڑھئے
بیوی خوبصورت ہو تو نظر نہیں ہٹتی اور بدصورت ہو تو نظر نہیں لگتی۔ از روئے مذہب ہر بیوی کا ایک شوہر اور ہر شوہر کی کئی بیویاں ہوسکتی ہیں۔ محبوبہ کو بیوی بنانا آسان ہے صرف ایک نکاح خواں، چند گواہ اور چوہارے کی ضروت ہوتی ہے۔ مگر بیوی کو محبوبہ کو بنائے رکھنے کے لیے پوری تنخواہ، پورا دل، پوری آنکھیں، پورا بیڈ روم اور پوری صاف ستھری نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بیوی شوہر کا دل اور گھر آنگن صاف رکھتی ہے ۔ وہ بیوی کم، ہدایت اور نیکی کا فرشتہ زیادہ ہوتی ہے۔
بچہ بالغ اور ملازمت پیشہ ہوجائے تو ماں باپ اس کی بیوی لانے کا سوچتے ہیں اور وہی بیوی گھر آکر شوہر کے والدین کو بے گھر کرنے کا سوچتی ہے۔ سہاگ رات کی بیوی اور آگے کی ہر رات والی بیوی میں بڑا فرق ہوتا ہے ویسے ہی جیسے ڈھکن کھول کر فوری کولڈ ڈرنک پینے اور بعد ازاں فریج میں رکھی کولڈڈرنک پینے میں ہوتا ہے۔
کہتے ہیں اچھی بیوی زبان سے پہچانی جاتی ہے۔ زبان کہاں چلانا ہے یہ اچھی بیوی اچھی طرح جانتی ہے۔ کچھ شوہر بیوی کی لسانی کارروائی سے طلوع آفتاب تک خوش رہتے ہیں۔ اکثر شوہر خوش لباس بیویوں کو پسند کرتے ہیں اور لباس میں دیکھ کر زیادہ خوش رہتے ہیں۔ دوسری بیوی وہیں لائی جاتی ہے جہاں پہلی کچن یا بیڈ میں ایکٹو نہ ہو۔ بیوی کے ساتھ بہت سارے فرائض منسوب ہیں جیسے روزانہ کھانا اور دماغ پکانا، گھر اور بستر صاف رکھنا، سالانہ بچے دینا اور شوہر کو خوش رکھنا۔ آخرالذکر کام ایسا ہی ہے جیسا کہ وزیراعظم کا کام صدرِ پاکستان کو خوش رکھنا ۔ اس کام میں کتنا مکھن یا تیل ضائع ہوتا ہے اس کا حساب کوئی نہیں رکھتا۔
اکثر شوہر اپنی بیوی سے شاکی رہتے ہیں کیونکہ انسان ہر سال نیا سیل فون تو خرید لیتا ہے مگر بیوی وہی چلتی رہتی ہے۔ انسان کی آدھی عمر ماں کے ہاتھ کا کھانا کھاکر اور باقی آدھی عمر بیوی کے ہاتھ کا کھانا کھاکر گزرجاتی ہے ۔ جو شوہر بیوی کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاتے ان کی عمر دراز ہوتی ہے اور جو کھاتے ہیں انہیں عمر دراز لگتی ہے۔ بیوی کی تعریفیں کرنا ہر شوہر کا نکاحی فریضہ ہے۔ یہ واحد کام ہے جس میں بولا گیا جھوٹ بھی قابلِ معافی ہے ۔ ایک نکاح خواں بتارہے تھے کہ ہمارے کام میں برکت اسی وجہ سے ہے کہ مرد بیویوں کی کم اور کنواریوں کی زیادہ تعریف کرتے ہیں۔ غیر شادی شدہ لڑکی کی تعریف کرنے سے وہ آئینہ دیکھنے اور نکاح کرنے پر مائل ہوتی ہے۔ مغرب اور مشرق میں یہ فرق ہے کہ ہمارے ہاں بچے صرف بیویاں پیدا کرتی ہیں جبکہ مغرب میں یہ کارگذاری محبوبہ بھی انجام دیتی ہے۔ ہر بچہ شوہر اور بیوی کے درمیان ایک اینٹ کی طرح ہوتا ہے اور پاکستانیوں کو دیوار کھڑی کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں آگ بُجھ جاتی ہے مگر اینٹیں پکتی رہتی ہیں۔
بیوی اور گاڑی جتنی بھی پرانی ہو اگر مصیبت کھڑی نہیں کرتی تو زیرِ استعمال رہتی ہے۔ آج کے دور کی بیویاں دفتر بھی جاتی ہیں۔ دفتر جانے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ گھر پر سالی اور چہرے پر خوشحالی نظر آتی ہے۔ بیوی کی بہنیں اگر خوبصورت ہوں تو سسرال کی وزٹ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ ساس ماں جیسی لگتی ہے اور سسرال کو دئیے جانے والے تحفوں پر شوہر کا دل رنجیدہ نہیں ہوتا۔
جس شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں اس کی صحت اور بینک بیلنس کی صورتحال نازک ہی رہتی ہے۔ اس کا بیشتر وقت ناز برداری اور نہانے میں گزرتا ہے۔ ہمارے دوست علیل جبران کو میں نے جب بھی دیکھا وہ بیگم کا ہاتھ تھامے رہتے ہیں۔ ہم نے ان کی اس مثالی محبت کا تذکرہ رشک آمیز لہجے میں ان کے سامنے کیا تو وہ بولے “اس میں محبت کا عنصر کم اور بچت کا پہلو زیادہ ہے؟” ہم نے پوچھا “وہ کیسے؟” بولے “ہاتھ نہ تھامو تو وہ فورا ” شاپنگ کے لیے بھاگتی ہے۔”
غیر شادی شدہ ہمیشہ شادی شدہ سے دانا ہوتا ہے جبھی تو وہ غیر شادی شدہ ہوتا ہے۔ شادی کرنا اور درویشی اختیار کرنا ایک جیسی بات ہے ۔ دونوں کو دنیا ترک کرنی پڑتی ہے ، ایک کو اللہ مل جاتا ہے، دوسرے کو بیوی ۔ ایک دانا کا کہنا ہے کہ شادی ایک ایسی جنگ ہے جس میں آپ کو اپنے دشمن کے ساتھ سونا پڑتا ہے ۔ محبوبہ کی محبت میں آنکھیں بند رہتی ہیں مگر بیوی پاکر آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔ شادی کے پہلے سال بیوی محبوبہ لگتی ہے، دوسرے سال سے چوتھے سال تک دوست اور اس کے بعد تا زندگی وہ دشمن جسے آپ چھوڑ بھی نہیں سکتے۔
علیل جبران کہتے ہیں شوہر کی حیثیت جسم میں سر کی طرح ہوتی ہے اور بیوی گردن ہوتی ہے جو سر کو جس جانب چاہے موڑ سکتی ہے۔ بیوی پر جتنا خرچ کیا جائے یا لکھا جائے کم ہے۔ کچھ لوگ شادی کے بعد ناول نگار بن جاتے ہیں یا پھر شاعر، اسے کہتے ہیں “بیوی سے فرار۔”

لکھاری:- نامعلوم شوہر

الوداع۔۔ خوشیوں کی خوشبو یا دکھوں کی داستان۔
September 14, 2018

اعجاز احمد لودھی کی نثری نظموں کا مجموعہ

(وسیم سہیل)

جب غم کا دریا آنکھوں کی منڈیر سے جھانکتا ہے تو سینے کی دھرتی دھڑکنوں کے تضاد سے لرز اٹھتی ہے سانوں کے چلتے رکتے جھونکے دل کے کونے میں ہجر کے بجھتے انگاروں کو پھر سلگا دیتے ہیں۔۔۔ روح کی ریشمی چادرکسی کو روکنے کی جستجو میں خود کو زندگی کے تیز ترار کانٹوں سے چھدرا بیٹھتی ہیں۔۔۔۔ آنسو جب رخساروں کے خشک ڈھلوان سے ڈھلک کر جب خشک ہونٹوں کو تر کرتے ہیں تو کسی کا نام گیلے ہونٹوں پر رقص کرنے لگ جاتا ہے۔۔۔۔ حلق سے سانسوں کے کفن میں لپٹی آہیں ور سسکیاں اس نام کے پاﺅں سے پازیب کی صورت لپٹ جاتی ہیں مگر آہستہ آہستہ ہونٹ پھر سے خشک ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔ رقص کے راگ اپنے وجود میں مرنے لگتے ہیں اور سب واپس لوٹنے لگتا ہے تو تبھی الوداع کے چھ حرف وجود کے کونے کونے کو کریدنے کے بعد جب حلق سے ادا ہوتے ہیں تو وجود بے جان سا کر جاتے ہیں۔۔۔۔ ہجر دہکتا وجود لئے موم آنکھوں میں چلنے لگ جاتا ہے جس میں سارے منظر پانی ہو کے پلکوں سے چمٹ جاتے ہیں ہمیشہ کے لئے۔
نثری نظموں پر مشتمل کتاب “الوداع ” محترم اعجاز احمد لودھی صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔
ان کی نظموں میں یادوں کی راگنی ، احساس کی مچلتی خوشبو ، دکھ کی دہکتی گرمی ، ہجر کا تلخ رویہ ، سانسوں کا بے پناہ ماتم ، دھڑکنوں کا اداس لہجہ ، لرزتے ہونٹوں سے چمٹے کسی کے نام کے حرف وغیرہ اس خوبصورتی سے شامل ہیں کہ زندگی کے دھندلے آسمان پر انجان رنگوں کی ایک قوس قزح سی بن جاتی ہے۔

“بے سکونی” سی ہے
“دل چاہتا ہے”
تیری “آنکھیں ”
“محبت کی زباں بولیں
“حسیں پل” توڑ دیں
یہ” تنہائی ”
تمھیں جو “میری چاہت ہو”
تو”مجھے غم نہیں کوئی ”
“اک آرزو ”
اک” اتنی سی خواہش ہے”
“تجھے خود میں فنا کر دوں”
“دعا” کے حرف
“الوداع ” کہ کے
مجھ سے پوچھیں
“کب لوٹ کے آنا ہے “

اعجاز کی نظموں میں زندگی کے بوسیدہ مزار پر ہجر کی ڈالی گئی دھمالوں کے اثار با اسانی مل جاتے ہیں۔۔۔۔ زندگی کے مزار پر کندہ کئی افسانوں پر آج بھی نگاہیں جب ٹہلتی ہیں تو ان کے پاﺅں سے چشمہ جاری ہو جاتا ہے۔

کبھی سہا ہے تم نے تنہائی کا دکھ
کبھی برتا ہے تم نے وہ وقت
جب لمحے کٹھن ہوتے ہیں
کبھی گزرا ہے تجھ پر کڑا سفر
نہ طے ہوتے ہوئے بھی طے کرنا پڑتا ہے۔۔

تنہائی جب چیختی ہے تو سانسیں اپنے کانوں میں یادیں ٹھونس کر چپ چاپ سو جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کے پاس ہونے کا گمان لئے جب چاند کی کرنوں سے قرطاس کے شہرے پر کچھ لکھا جاتا ہے تو ان کے نام والی جگہ پہ رات اپنے آنسو گرا کے وہاں وہاں سے لفظ مٹا دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ جسے دیکھ کر ایک سرد آہ وجود کو کسی دیوار سے لگا دیتی ہے جس کے بعد آنکھیں خلا میں کسی کی تصویر بنانے میں لگ جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ بعض دفعہ چاند کی کرنیں خیال تخیل میں خلل ڈالنے آ جاتی ہیں مگر رات کی سیاہی ان کرنوں توڑ کر کھا جاتی ہیں۔۔۔۔
اعجاز امید کی کرنوں کے انتظار میں لفظ بہ لفظ ایک گمنام سفر کرتا اس کتاب میں ملتا ہے۔

خزاں کے بکھرے پتے
جب پاﺅں کے نیچے آکر
تڑپتے ہیں، اک صدا دیتے ہیں
تو لگتا ہے کہ ہر سو
اک اداسی ، اک ویرانی سی
اپنے پر پھیلائے ہوئے ہے
ایسے میں سورج کی چھنچھناتی کرنیں
بیچ درختوں سے چھن چھن کر
زمیں تلک جب پہنچتی ہیں
دنیا کو بتاتی ہیں
نئی صبح جیسے طلوع ہوتی ہے
سورج کی کرنوں کو
چہار سو پھیلاتی ہے
رات کی سیاہ تاریکی
گم صم ہو جاتی ہے
مایوسی میں بھی اے دنیا والو
امید کی ایک کرن
ہمیشہ رہتی ہے

امید کا ٹمٹماتا دیا جب آنکھوں کے روہزنوں میں جلتا ہے تو ہزاروں افسانے ماضی کا بوسیدہ لباس پہنے زندہ نظر آنے لگتے ہیں جیسے ان فسانوں کے سبھی کردار زندہ ہو کے لفظوں کی سیاہی منہ پہ مل کے دوڑ پڑے ہوں اور مجھے میرے کردار جن کی امید میں روز اشک نوحہ کناں ہوتے ہیں ابھی آ ملیں گے۔
اعجاز احمد لودھی کی ” الوداع” ان گنت دکھوں کی داستان ہے جس کا ہر لفظ خود پر ماتم کرتا ملتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اعجاز نے حقیقت کی تلخیوں ، زمانے کے کرب ، اور خوشیوں کی خوشبو کو بڑی مہارت سے اس کتاب میں ب±نا ہے۔۔۔ یہ کتاب ادب میں خوبصورت اضافہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں ان کے لئے دعا گو ہوں اللہ پاک ان کی ہر کوشش کو بہتر سمت عطا فرمائے۔۔۔

**************

عنایت اللہ التمش ایک گمنام لکھاری
June 4, 2018

عنایت اللہ التمش ایک گمنام لکھاری

آج آپ سب کو تاریخ کے اس گمنام لکھاری کے بارے میں بتاتا ہوں ، جس نے داستان ایمان فروشوں کی سلطان صلاح الدین یوسف / شمشیر بے نیام حضرت خالد بن ولید اور بہت سی مشہور کتابیں لکھی مگر افسوس ان کا نام اس طرح سے منظر عام پر کبھی نہیں آیا جس طرح دوسرے لکھاریوں کے چرچے ہیں۔ آئیے ان کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عنایت اللہ (یکم نومبر، 1920ء تا 16 نومبر،1999ء) پاکستان کے ایک معروف ادیب، صحافی، مدیر، افسانہ نویس، جنگی وقائع نگار اور تاریخی ناول نگار تھے۔ اپنے یادگار تاریخی ناولوں اور پاک بھارت جنگ 1965ء وپاک بھارت جنگ 1971ء کی داستانوں سے شہرت پائی۔ ماہنامہ حکایت اور سیارہ ڈائجسٹ کے پیچھے انہی کی شب و روز محنت تھی۔ میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم، التمش، صابر حسین راجپوت اور دیگر قلمی ناموں سے بھی شاہکار ادب تخلیق کیا۔۔ عنایت اللہ مرحوم نے 79 سال کی عمر تک بھرپور ادبی تخلیقات اردو ادب کو دیں جن کی تعداد لگ بھگ 1000 کے قریب ہے ۔
ابتدائی حالات
عنایت اللہ مغربی پنجاب کی سطح مرتفع پوٹھوہار کے معروف شہر (اس وقت کا گاؤں) گوجرخان میں یکم نومبر، 1920ء کو پیدا ہوئے۔ راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ التمش تخلص استعمال کرتے تھے۔
تعلیم
عنایت اللہ جس دور میں پیدا ہوئے اس وقت پوٹھوہار کا یہ علاقہ تعلیم سے کوسوں دور تھا۔ خال خال لوگ پرائمری پاس نظر آتے ہیں۔ انگریز کا اصل مقصد اس علاقے کو تعلیم سے دور رکھ کر فوج کے لیے جوان حاصل کرنا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے یہ علاقہ مارشل ایریا بھی کہلواتا ہے۔ تاہم عنایت اللہ نے اس دور میں بھی گوجرخان کے مقامی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور قریب قریب 1936ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
ملازمت
1936ء میں مَیٹْرِک پاس کرنے کے بعد عنایت اللہ اپنے علاقے کی روایات کے عین مطابق فوج میں بھرتی ہو گئے۔ چونکہ اس دور کے مطابق ان کی تعلیمی قابلیت زیادہ تھی اس لیے وہ رائل انڈین آرمی میں بحیثیت کلرک بھرتی ہوئے۔ انہوں نے 1939ء تا 1945ء کی دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا۔ وہ اس انفنٹری ڈویژن کے دستوں میں شامل تھے جو برما کے محاذ پر داد شجاعت دے رہی تھی۔ 1944ء میں عنایت اللہ جاپانی فوجوں کے ہاتھ چڑھ گئے اور جنگی قیدی بنا لیے گئے۔ آنے والے اگلے دو سال ان کی زندگی کے تلخ ترین تجربات تھے۔ 1944ء کے برساتی مہینوں کے کوئی دن تھے جب وہ جاپانیوں کی قید سے فرار ہوئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال وہ زندگی کی تلاش میں جنگلوں، بیابانوں، ساحلوں، سمندروں اور جزیروں میں گھومتے، بھٹکتے پھرتے رہے۔ 1946ء کے اوائل میں وہ دوبارہ اپنے دستوں سے آن ملے۔ مگر ابھی ان کی زندگی میں سکون نہیں تھا۔ اب کی بار ان کے دستوں کو ملایا کی طرف پیش قدمی کا حکم مل چکا تھا جہاں انڈونیشیا اور ملائیشیا کے عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ مذہبی حمیت اور اسلامی بھائی چارے کے تحت عنایت اللہ 19466ء میں انگریز کی فوج کے بھگوڑے ہوئے اور ملایا کی جنگ آزادی میں جا شامل ہوئے۔ زبان زد عام نعرے “مردیکا” اور “مسلم سمہ سمہ” اسی دور کی پہچان ہیں۔ اگلے ڈیڑھ سال وہ ملایا کی گوریلا جنگ آزادی لڑتے رہے۔اس دوران ہندوستان تقسیم ہو چکا تھا اور ان کا آبائی وطن پاکستان بن چکا تھا۔ ملایا کی آزادی کے بعد تمام مسلمان بھگوڑے فوجیوں کو حکومت پاکستان نے اپنا شہری تسلیم کر لیا یوں عنایت اللہ 1948ء کی پہلی سہہ ماہی میں تقریباً 99 سال کے بن باس کے بعد اپنی سرزمین پر واپس پہنچے۔ فوج کی نوکری سے تو وہ پہلے ہی فارغ کر دئیے گئے تھے مگر 1948ء میں 28 سالہ عنایت اللہ پاکستان ائیر فورس میں بطور کارپورل بھرتی ہوگئے۔ اس وقت کی نوزائیدہ فوج کو تجربہ کار منتظمین کی ضرورت تھی اور عنایت اللہ 9 سال جنگ کی بھٹی میں گزار کر کندن بن چکے تھے۔ وہ پاکستان ائیر فورس کے اس اولین دستے میں شامل تھے جنہوں نے پشاور میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو سلامی پیش کی تھی۔
صحافتی اور ادبی سرگرمیاں
پاک فضائیہ سے سبکدوش ہونے کے بعد عنایت اللہ نے قلم سنبھالا۔ بحیثیت صحافی اپنے کیرئیر کا آغاز ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ سے کیا۔ جلد ہی وہ سیارہ ڈائجسٹ کے مدیر بن گئے۔ اس وقت ان کی شہرت ایک معمولی افسانہ نویس کی تھی۔ چند ایک ریڈیو اور ٹی وی کے ڈرامے ان کے کریڈٹ پر تھے۔ اس دوران انہوں نے سیارہ ڈائجسٹ کے خاص نمبر نکالنے کی طرح ڈالی۔ یہ صحافتی ادوار میں ایک یادگار اضافہ ثابت ہوا۔
شہرت
جنگ ستمبر (پاک بھارت جنگ 1965ء) نے عنایت اللہ کو لافانی شہرت بخشی۔ جنگ ستمبر نے ملکہ ترنم نور جہاں (گلوکارہ)، ڈاکٹر رشید انور اور مرحوم عنایت اللہ کو حب الوطنی کا لازوال کردار بنا دیا۔ میڈم نورجہاں نے جنگی ترانوں اور ملی نغموں کا محاذ سنبھالا، ڈاکٹر رشید انور پنجابی زبان کے شاعر تھے جنہوں نے ترانے لکھنے کا ذمہ اٹھایا اور سب سے مشکل محاذ پر عنایت اللہ روانہ ہوئے۔ ماضی کے گوریلا فوجی نے کاغذ اور قلم سنبھالا اور محاذ جنگ پر جا پہنچے۔ ایک ایک میدان جنگ کو کھنگالا، ایک ایک بیرک میں گئے، ایک ایک ہڈی کو چن کر اس کی داستان کا سرا جوڑنے کی کوشش کی اور گمنام سپاہیوں کی داستان شجاعت کو عوام کے سامنے امر کر دیا۔محاذ جنگ پر داد شجاعت دیتے سپاہیوں اور افسروں کو مکالموں، جنگی چالوں کو بہترین پیرائے میں بیان کرنے اور مفصل جنگی تجزیوں نے ایک عام افسانہ نویس کو وقت کا بہترین جنگی وقائع نگار بنا دیا۔ جنگ ستمبر کے موضوع پر جلد ہی منظر عام پر آنے والی کتابوں بی آر بی بہتی رہے گی، لاہور کی دہلیز پر اور بدر سے باٹاپور تک نے انہیں عالمگیر شہرت بخش دی۔آج بھی جہاں جنگ ستمبر کا ذکر آتا ہے، وہاں عنایت اللہ مرحوم کے تجزیوں کو سب سے زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے۔
ماہنامہ حکایت کی بنیاد
جنگ ستمبر ختم ہو جانے کے بعد بھی عنایت اللہ اگلے دو سال تک پاک فوج کی بیرکوں میں گھومتے رہے اور جنگ کی داستانوں کو اکٹھا کرتے رہے۔ اس بنیاد پر ان کے سیارہ ڈائجسٹ کے منتظمین سے اختلافات ہو گئے۔ وہ کھل کر کام کرنے کے عادی تھے چنانچہ انہوں نے سیارہ ڈائجسٹ کو خیر باد کہہ کر ماہنامہ حکایت کی بنیاد رکھی۔ معروف مصنف طارق اسماعیل ساگر نے، جو عنایت اللہ کے شاگردوں میں سے تھے، بعد میں سیارہ ڈائجسٹ کی ادارت سنبھالی۔ یہ عنایت اللہ التمش کی کرشمہ ساز و سحر انگیز شخصیت تھی جس نے 70 اور 800 کی دہائیوں میں ماہنامہ حکایت کو پاکستان کا مقبول ترین پرچہ بنا دیا تھا۔ وہ دن میں اٹھارہ گھنٹے لکھتے تھے۔ سچی اور حقیقی زندگی کی کہانیوں کی تلاش میں انہوں نے ملک کے طول و عرض کا سفر کیا اور اردو ادب کو افسانے کی نئی جہتوں سے متعارف کروایا۔ ماہنامہ حکایت کے مختلف سلسلوں کے لیے وہ خود نت نئے ناموں سے لکھتے تھے۔ مثلاً تاریخی سلسلہ وار ناولوں کے لیے انہوں نے عنایت اللہ، التمش اور وقاص کے نام چنے۔ افسانے اور چاردیواری کی دنیا سے ملنے والی کہانیاں وہ عنایت اللہ، مہدی خاں یا گمنام خاتون کے نام سے لکھتے۔ نفسیات کے سلسلے کے لیے وہ میم الف تھے۔ جاسوسی کہانیوں کے لیے وہ احمد یار خان بن جاتے جبکہ شکاریات کے سلسلے کو چلانے کے لیے ان کا قلم صابر حسین راجپوت کے نام سے کہانیاں تراشتا۔ دلچسپ ترین امر یہ تھا کہ ان کے لاکھوں قارئین دو دہائیوں تک احمد یار خان اور صابر حسین راجپوت کے دیوانے رہے اور عنایت اللہ مرحوم کے جیتے جی وہ یہ نہ جان پائے کہ یہ ایک ہی شخصیت کے دوسرے روپ ہیں۔ عنایت اللہ مرحوم ایک خاموش ادبی طوفان تھے۔ ان دنوں وہ لاہور کے محلے گڑھی شاہو کی ایک تنگ و تاریک گلی میں کرائے کے مکان پر رہتے تھے۔ یہ مکان حاجی کے مکان کے نام سے مشہور تھا جو ایک ہو میوپیتھک ڈاکٹر تھے۔ ان کے داماد اردو ادب کے ایک صاحب طرز ادیب محمد منشا یاد تھے، وہ جب کبھی بھی ان سے ملنے آتے، ایک جملہ ضرور کہتے تھے کہ رات کے جس بھی پہر آئو، اس گلی کے دو مکانوں کی مدہم روشنی جلتی نظر آتی ہے۔ ایک چوہدری انور ایڈووکیٹ کی اور دوسری عنایت اللہ کے گھر کی۔ صاحب طرز حقیقت نگار و افسانہ نگار ہونے کے باوجود وہ تاعمر افسانہ نویسوں کی دنیا میں اجنبی رہے۔
مکتبہ داستان پٹیالہ گراؤنڈ
ماہنامہ حکایت کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے مکتبہ داستان پرائیویٹ لمیٹیڈ پٹیالہ گراؤ نڈ لاہور کی بھی بنیاد رکھی۔ ان کی تمام کتابوں کی طباعت و اشاعت اور ماہنامہ حکایت کی اشاعت اسی ادارے کے تحت ہوتی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی ادب کے لیے وقف کر دی تھی، چنانچہ ان کی کتابوں کی قیمتیں ارزاں ترین ہوتی تھیں۔ مکتبہ داستان کی کتابوں کی اس دور میں الگ پہچان تھی۔ ہلکے پیلے رنگ کا کارڈ پر چھپا ہوا مخصوص سرورق اور مخصوص کاغذوں پر ہاتھ کی کتابت سے چھپی ہوئی کتاب، جس کی قیمت کبھی 7 روپے ہوتی اور کبھی 23 روپے۔ تا عمر ان کی کتابیں اسی ادارے سے چھپتی رہیں۔ لاہور کے معروف پبلشرز نے انہیں بہت بھاری بھاری پیشکشیں کیں مگر وہ اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے شاہد جمیل نے دوسرے پبلشرز کے ساتھ ان کی کتابوں کے کاروباری معاہدے کیے اور یوں مکتبہ داستان اپنے ازلی اختتام کو پہنچا، مگر 20 سال کے عرصے میں عنایت اللہ کے ساتھ ساتھ حکایت اور مکتبہ داستان نے بھی لازوال شہرت حاصل کی۔
تحریکِ تکمیلِ پاکستان
16 دسمبر 1971 کو جب پاک فوج پابجولا ڈھاکہ کی پلٹن گرائونڈ میں کھڑی تھی تو شاید عنایت اللہ مرحوم ان نمایاں لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں “سقوط مشرقی پاکستان” ایک نوشتۃ دیوار لکھا نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد “تحریکِ تکمیلِ پاکستان” کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ان عوامل کی فکری سطح پر تخریج تھی بحیثیت قوم پاکستانیوں کو مجموعی طور پر ناسور کی طرح چاٹ رہے تھے۔ افسوس کہ اس تحریک کو بعد میں چند سیاستدانوں نے یرغمال بنا لیا اور عنایت اللہ صاحب اس سے خاطر خواہ نتائج نہ حاصل کر سکے تاہم ماہنامہ حکایت کے توسط سے وہ مسلسل بھارتی ثقافتی یلغار کے خلاف مضبوط آواز بلند کرتے رہے۔
ادبی کارہائے نمایاں
اگر مجموعی طور پر ان کے ادبی کارہائے نمایاں کی بات کی جائے تو بلاشبہ وہ پہلی شخصیت ہیں جو اردو قارئین کو بدیسی کہانیوں کے چُنگل سے نکال کر حقیقی معاشرے کی تلخ حقیقی کہانیوں کی طرف لائے جو ان کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ شرلاک ہولمز، جم کاربٹ اور نک ویلوٹ کے قصے پڑھنے والے صابر حسین راجپوت، احمد یار خان اور عنایت اللہ کی داستانوں کے سحر میں مبتلا ہوگئے جس کا ایک ثبوت داستان ایمان فروشوں کی، بی آر بی بہتی رہے گی اور شمشیرِ بے نیام کا مسلسل تیسری نسل میں مقبول ہونا ہے۔
عنایت اللہ کی تصانیف
تاریخی ناول/داستانیں
• حجاز کی آندھی
• شمشیرِ بے نیام (دو حصے)
• اور نیل بہتا رہا (دو حصے)
• دمشق کے قید خانے میں
• اور ایک بت شکن پیدا ہوا (پانچ حصے)
• داستان ایمان فروشوں کی (پانچ حصے)
• ستارہ جو ٹوٹ گیا
• فردوس ابلیس (دو حصے)
• اندلس کی ناگن
• امیر تیمور (ترجمہ)
• مجرم یا جنگ آزادی کے ہیرو
شکاریات
• لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
• سانپ، سادھو اور نوجے کی کہانی
• پگلی کا پنجہ
• ایک لڑکی دو منگیتر
• بیٹا پاکستان کا بیٹی ساہو کار کی
• بھیڑیا، بدروح اور بیوی
• جذبات کا سیلاب
• لاش، لڑکی اور گف کے گناہگار
• قبر کا بھید
نفسیات
• زندہ رہو جوان رہو
• جوانی کا روگ
معاشرتی ناول/کہانیاں/چادر چاردیواری
• پاکستان ایک پیاز دو روٹیاں
• چھوٹی بہن کا پگلا بھائی
• چاردیواری کے دریچوں سے
• طاہرہ
• مردتو میں ہوں / میرا تیسرا خاوند
• میں بزدل تو نہیں/وہ مر گیا تم زندہ رہو
• پتن پتن کے پاپی
• الجھے راستے
• ہیرے کا جگر
• منزل اور مسافر(دو حصے)
• استانی اور ٹیکسی ڈرائیور
• پانچویں لڑکی
• کیا میں کسی کی بیٹی نہیں؟
• ایک کہانی (دو حصے)
• اکھیاں میٹ کے سپنا تکیا
• چاردیواری کی دنیا
• رات کا راہی (دو حصے)
• واجدہ، وینا اور وطن (دو حصے)
• ڈوب ڈوب کر ابھری نائو
• جرم، جنگ اور جذبات
• میں گناہگار تو نہیں
• پرچم اڑتا رہا
• پیاسی روحیں
• پیاسے
• سزا اس گناہ کی
• ایک آنکھ اور پاکستان
• دھندلی راہیں (دو حصے)
• تاریک اجالے
• جوانی کے جنگل میں
جرم و سزا/سراغرسانی کی کہانیاں
• جب بہن کی چوڑیاں ٹوٹیں
• کالا برقعہ جل رہا تھا
• حوالات میں طلاق
• لائن پر لاش
• دوسری بیوی
• داستان ایک داماد کی
• روح کے رشتے اور مقتول کی بدروح
• دام میں صیاد آ گیا
• جب مجھے اغواء کیا گیا
• پیارکا پل صراط
• چور دروازہ
• ایک رات کی شادی
• رات کا راز
• تعویذ، انگلیاں اور انگوٹھی
• بھائی اور بھیڑیا
• سنگیتا، شراب اور سگریٹ
• بیٹی کی قربانی
• واردات اس رات کی
• چڑیا پھنس گئی
• جب پیار نے کروٹ لی
• جائداد کا وارث
• رتن کمار کی روپا
• آشرم سے اس بازار تک
• دلیر یا بیوقوف
• سندری کا سودا
• جھمکوں کی جوڑی
• کار، شلوار اور دوپٹہ
• بال ایک چڑیل کے
• جنّات کے دربار میں
• قاضی کی کوٹھڑی اور کنواری بیٹی
• بن بیاہی ماں
• سہاگ کا خون
• زلیخا کا جن
• عشق ایک چڑیل کا
• رات، ریل اور برقعے
• پیار کا پاپی
جنگی کہانیاں/وقائع نگاری/ناول
• بی آر بی بہتی رہے گی
• بدر سے باٹا پور تک
• دو پلوں کی کہانی
• خاکی وردی لال لہو (دو حصے)
• فتح گڑھ سے فرار
• لاہور کی دہلیز پر
• پاک فضائیہ کی داستانِ شجاعت
• لہو جو ہم بہا کر آئے
• ہماری شکست کی کہانی
طنز و مزاح
• ایوبی، غزنوی اور محمد بن قاسم پاکستان میں
• پھوپھی گام
وفات
عنایت اللہ نے تا عمر قلم سے وفا کی۔ آپ صبح سویرے بعد از فجر حکایت کے دفتر تشریف لے آتے اور رات گئے تک مسلسل لکھتے رہتے۔ بے انتہا لکھنے اور مسلسل سگریٹ نوشی نے ان کو بہت نقصان پہنچایا۔ وہ پرانے زمانے کا سخت ترین سگریٹ برانڈ “کیمل” استعمال کیا کرتے تھے اور بے تحاشا سگریٹ پھونکا کرتے تھے۔ یہ سگریٹ برانڈ پورے لاہور میں صرف ایک دکان پر پایا جاتا تھا اور وہ بھی عنایت اللہ صاحب کی وجہ سے یہ سگریٹ منگوایا کرتے تھے۔ 1999ء کے آغاز میں عنایت اللہ فالج کے حملے کا شکار ہو کر بستر نشین ہو گئے مگر تحریر سے اپنا ناطا تب بھی نہ توڑ سکے۔ عارف محمود ان کے پاس بیٹھ کر لکھا کرتے تھے اور وہ مسلسل لکھوایا کرتے تھے۔ آخر کار سال بھر کی طویل علالت کے بعد اردو ادب کا یہ بہترین تاریخی ناول نگار اور پاکستان کا اکلوتا جنگی وقائع نگار 16 نومبر، 1999ء کو لاہور میں عالم فانی سے عالم بقا کی طرف روانہ ہوا۔ مرحوم کی عمر 79 سال تھی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ 16 نومبر سلطان صلاح الدین ایوبی کی بھی تاریخ وفات تھی، جن کی زندگی کی داستان شجاعت لکھ کر عنایت اللہ نے لافانی شہرت حاصل کی تھی۔
بعد از وفات ناقدین کا رویہ
عنایت اللہ مرحوم تا عمر اس مقام کو نہ پا سکے جس کے وہ حقیقی معنوں میں حقدار تھے مگر افسوس تو یہ ہے کہ بعد از وفات بھی کوئی ان کا نام لینے والا نہیں۔ ان کی وفات پر کوئی یادگاری مضمون، کوئی تعزیتی ریفرنس کوئی کالم کوئی خبر سامنے نہ آئی۔ جس طرح وہ اپنی زندگی میں ناقدین کے لیے غیر اہم رہے، مرنے کے بعد بھی غیر اہم رہے۔ تاہم اردو ادب کے قارئین کے لیے وہ ایک زندہ جاوید روایت کے امین بن گئے تھے۔ ان سے محبت رکھنے والے ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں اور شمشیر بے نیام، داستان ایمان فروشوں کی اور بی آر بی بہتی رہے گی آج بھی پریوں کی سی داستان رکھتی ہیں۔
والسلام
جزاک اللہ خیر کثیراً