Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

ایم ۔پی۔ خان

اردوکے دبستان لکھنو کابانی ، شیخ امام بخش ناسخ از ایم پی خان
April 25, 2016

اردوکے دبستان لکھنو کابانی ، شیخ امام بخش ناسخ

ایم پی خان

اردوادب سے تھوڑابہت شغف رکھنے والوں کے لئے شیخ امام بخش ناسخ کانام نیا یاغیرمانوس نہیں ہے۔شیخ امام بخش 1772کو فیض آبادمیں پیداہوئے ۔انکے والد کانام شیخ خدابخش لاہوری تھا، تاہم یہ بحث نزاعی ہے ، بعض ناقدین کہتے ہیں کہ ناسخ شیخ خدابخش کے حقیقی بیٹے تھے جبکہ بعض کے نزدیک متبنیٰ تھے، تاہم خدابخش کی وفات کے بعدناسخ کووراثت میں خاصی دولت ملی اوربقیہ زندگی خوب فراغت سے بسرہوئی۔ناسخ کو ورزش اورپہلوانی کابہت شوق تھا۔خودبھی ورزش کرتے اوردوست احباب میں جس کو ورزش کاشوق دیکھتے توخوش ہوتے۔خوش خوراک، خوش لباس اورخوش وضع انسان تھے اوراس پر مستزاد بااخلاق اورمہذب بھی تھے۔شیخ صاحب نہ صرف جسمانی لحاظ سے پہلوان تھے بلکہ انہوں نے اردوزبان میں جومہارت حاصل کی تھی اوراس کی جس طرح تحقیق کرکے آبیاری کی ، اسی وجہ سے انہیں پہلوان سخن کاخطاب دیاگیاہے۔امام بخش بچپن میں لکھنو چلے آئے اوریہاں فارسی اورعربی کی تعلیم حاصل کی، تاہم بقول محمدحسین آزادانہیں عربی زبان پر فاضلانہ دسترس حاصل نہ تھی۔
شیخ امام بخش ناسخ لکھنو کے ارباب کمال میں تھے۔ وہ نہ صرف ایک خاص طرز کے بانی ہیں بلکہ اساتذہ ادب کے خیال میں اردوشاعری کے موجودہ اسلوب کے موجدہیں۔ناسخ کو دبستان لکھنوکامعمارقراردیاگیاہے۔ ان کی پیروی کرنے والوں میں لکھنوکے علاوہ دہلی کے شاعربھی تھے۔ناسخ کاسب سے بڑاکارنامہ اصلاح زبان ہے۔تاہم تذکرہ نویس اورنقادوں نے ناسخ کی شاعری پر رائے زنی کے سلسلے میں غفلت کامظاہرہ کیاہے، کیونکہ وہ ناسخ کی اصلاح زبان کی کوششوں کاذکرکرتے ہوئے انکی دشوارپسندی ، ادق نگاری ، رعایت لفظی ، بے کیفی اورتصنع وتکلف کااس زورسے ڈنڈورا پیٹے ہیں کہ انکی شاعری کی دیگرخوبیاں نظروں سے پوشیدہوجاتے ہیں۔بعض نقادوں نے توسرے سے ناسخ کی شاعری میں میں اچھے اشعارکی گنجائش ہی نہیں چھوڑی ہے ۔

ناسخ

ناسخ

یہاں تک کہ حسرت موہانی جیسے اردوشاعری کے نباض نے بھی انہیں ریگِ رواں کہاہے۔حسرت نے انکے کلام کے انتخاب کے سلسلے میں لکھاہے ۔’’ایسااستاداورکامل فن دیکھنے میں نہیں آیا،جسکے سینکڑوں اوراق پڑھنے کے بعدبھی کام کاشعرنہ ملتاتھا۔‘‘شیفتہ نے ناسخ کے کلام کااعتراف ضرورکیاہے، مگرمثال میں زیادہ ترانکے ماہرانہ رنگ کے اشعارمنتخب کئے ہیں ۔ ان تمام باتوں سے یہ امرواضح ہوتاہے کہ غالباً ساری اردوشاعری میں کسی کے ساتھ اتناظلم نہیں ہواہے ، جتنا ناسخ کے ساتھ ہواہے۔انکی شاعری کاصرف بدنمارخ پیش کیاگیاہے اورزبان وبیان کے لحاظ سے ان کے لطیف اورخوشگوارنیز سوزوگداز سے لبریز اورجذبات سے مملواشعارنظراندازکئے گئے ہیں۔شاید اسکی وجہ یہ تھی کہ اردوشاعری میں جوکام ناسخ نے کیا، اسکی وجہ سے ماہرانہ قسم کے اشعارانہیں زیادہ کہنے پڑے اوروہ اپنے زمانہ کے میلان سے بھی مجبورتھے ۔چنانچہ انکے اس قسم کے اشعارکو ان کانمائندہ کلام سمجھ کر پیش کیاگیا۔مگراسکایہ مطلب ہرگزنہیں کہ ناسخ کے ہاں عمدہ شاعری بالکل مفقودہے۔ناسخ کااردوزبان پرخاصااحسان ہے ۔ انہوں نے قدماکی زبان کے فحش اورغیرفصیح الفاظ کو متروک قراردیا اورہندی الفاظ خارج کرکے اسکی جگہ عربی اورفارسی الفاظ اورتراکیب کو رواج دیا، جس کی وجہ سے اردوشاعری میں وزن کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کاوقارپیداہو۔ناسخ نے اردومیں مستعمل عربی، فارسی اورہندی الفاظ کے لئے تذکیروتانیث کے قاعدے وضع کئے اورمحاورات درست کئے ۔شیخ امام بخش ناسخ کو اس وجہ سے متروکات کاناسخ بھی کہاجاتاہے۔انہوں نے بیدل اورصائب کی پیروی کی ،انکی تقلید غالب نے کی اورغالب کی تقلید اقبال نے کی۔اگراردوشاعری کاموجودہ small_intikhab-e-ghazliyat-e-nasikh-ebooksاندازبیان غالب اوراقبال سے متاثرہے توبلاشبہ ناسخ اسکے موجدہیں۔ناسخ میرکے بھی معتقدتھے ، جس کااظہارغالب نے اس شعرمیں کیاہے۔
غالب اپنایہ عقیدہ ہے بقول ناسخ آآپ بے بہرہ ہے جومعتقد میرنہیں
لیکن محمدحسین آزادنے آب حیات میں ایک واقعہ نقل کیاہے کہ ناسخ کو شاعری میں کسی کے استادی میسرنہیں ہوئی ہے ، تاہم ابتدائے شاعری میں ذوق سخن نے بے اختیارکیاتواپنی کچھ غزلیں میرتقی میرکی خدمت میں لے گیا۔میرصاحب نے اصلاح دی لیکن شایدطبیعت خراب ہونے کے باعث یاکسی اوروجہ کے، کچھ ایسی باتیں کہیں، جس کی وجہ سے ناسخ دل شکستہ ہوکر واپس آیا اورکہا۔’’میرصاحب بھی آخرآدمی ہیں ،فرشتہ نہیں۔اپنے کام کوآپ اصلاح دوں گا۔‘‘خوداپنے کلام پر توجہ دی۔ لکھتے اورپھر اصلاح کے لئے بارباردیکھتے اورپڑھتے۔ یہاں تک کہ کلام میں رفتہ رفتہ ایسی پختگی آئی کہ شیخ صاحب، ہمیشہ کے لئے شیخ امام بخش ناسخ بن گئے۔انکے دیوان سے کچھ منتخب اشعاریہ ہیں
لبریزاسکے ہاتھ میں ساغرشراب کا بنتاہے عکس رخ سے کٹوراگلاب کا
جوہرہیں برگ گل ترے چہرے کے عکس سے بن جائے کیوں نہ آئنہ تختہ گلاب کا
آتاہے رشک اے دل پرآبلہ مجھے کیاجلد پھوٹتاہے پھپھولا گلاب کا
ایک اورخوبصورت شعر

دوستوں جلدی خبرلیناکہیں ناسخ نہ ہو قتل آج اسکی گلی میں کوئی بے چارہ ہواindex
ٍٍٍُُُُاس طرح شیخ امامام بخش ناسخ سوداکی شاعری کا بھی متعقد رہاہے،

جس کااعتراف اس نے اس شعرمیں کیاہے ۔
پہلے اپنے عہد سے افسوس سودااٹھ گیا کس سے مانگیں جاکے ناسخ اس غزل کی داد ہم
شیخ امام بخش ناسخ16اگست 1838کو لکھنومیں وفات پائے۔انکے کے کلیات میں غزلیں، رباعیاں ، قطعات ، تاریخیں اورایک مثنوی ’’نظم سیراج ‘‘شامل ہیں۔

پاکستان میں افسر شاہانہ اور پروٹوکول کلچر
February 10, 2016

تحریر: ایم ۔پی خان

میرے ایک دوست جوکافی عرصہ بعدبیرون ملک سے پاکستان آیا۔اس نے زندگی کازیادہ عرصہ ایسے ملک میں گزاراتھا، جہاں ہرطرف خوشحالی ہے۔ریاست کی ترقی اوراسکے استحکام کایہ عالم ہے کہ ایک عام آدمی سے لیکر وزیراعظم تک کی زندگی کامعیارایک جیسا ہے۔ میرادوست کہتاہے کہ اس نے کئی دفعہ وزیراعظم کو مارکیٹ میں شاپنگ کرتے ہوئے دیکھااورمزید دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی بغیرکسی پروٹوکول کے ، نہ سیکورٹی گارڈزتھے، نہ لوگوں کاتانتالگارہتاہے اورنہ کسی خاص مارکیٹ سے ،خاص معیارکی چیزیں خریدنے آتے ہیں بلکہ مارکیٹ میں جوچیزیں عام آدمی کے استعمال کے لئے ہوتی ہیں ، وہی چیزیں وزیراعظم بھی استعمال کرتے ہیں۔اس نے مزیدکہاکہ جب وہ پاکستانی ہوائی اڈے پراترے، توسماں ہی کچھ اورتھا۔ سارے لوگ بیمار، پریشان اوراداس دکھائی دیتے تھے۔ دوسری طرف یہاں کی وی آئی پیز کاجوپروٹوکول دیکھاتودنگ رہ گیاکہ اس قدرغریب ملک میں ، گنتی کے چندلوگ اس قدرشاہانہ زندگی کیسے گزارتے ہیں۔ صدر ،وزیراعظم ،وفاقی اورصوبائی وزراء،اراکین قومی اورصوبائی اسمبلی،صوبائی اوروفاقی سیکرٹریز، بیوروکریٹس، پولیس اورفوج کے بڑے بڑے افسران،جرنیل، ججز ، بڑے بڑے وکلاء، اہم سیاست دان اورانکے کارندے ، سیاسی مولوی، مختلف محکموں میں تعینات آفیسر ، تاجر ، بڑے بڑے نواب، جاگیردار، چودھری، خان، وڈیرے اورنہ جانے اس تسلسل میں اورکتنے لوگ ہیں، جو شاہانہ طرززندگی گزارتے ہیں اورانکی اولاد شہزادوں کی طرح دولت کے ساتھ کھیلتے ہوئے عالم رنگ وبومیں مدہوش رہتے ہیں۔ریاست کی پوری مشینری انکی خدمت گزاری میں لگی رہتی ہے۔میراوہ دوست بہت حساس طبیعت کے مالک ہے ، زندگی کی اس تفاوت کے بارے میں انکے تاثرات میرے دل ودماغ پر نقش ہیں۔اگلی صبح جب میں آفس جارہاتھا، توایک معمولی آدمی کے گھرکے باہر،ایک پولیس اہلکار اسکی موٹرکار کی صفائی کررہاتھا۔ دراصل وہ پولیس اہلکاراس آدمی کا سیکورٹی گارڈ تھا، جو اپنی ذاتی اثررسوخ کی بنیاد پر اس نے محکمہ پولیس کے کسی بڑے آفسر کی سفارش سے حاصل کیاتھا۔اس طرح بے شمارسیاسی اورسماجی شخصیات کے ڈیروں پر پولیس اہلکارمعمولی معمولی کام سرانجام دیتے ہیں، جوسکیورٹی کے نام پر انہیں الاٹ کئے جاتے ہیں۔ کیایہ پولیس فورس کی توہین نہیں ہے۔ دنیاکے ہرملک میں پولیس فورس کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔ ان کاایک خاص اورمنفردمقام ہوتاہے۔ جبکہ پاکستان میں پولیس فورس کے ساتھ یہ شرمناک رویہ سیاسی اثررسوخ اورافسران بالا کے ساتھ ذاتی گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں اپنایاجاتاہے۔ یہ توایک عام اورمعمولی اثررسوخ والے شخص کاحال ہے اور یہ پروٹوکول کلچرکی ادنیٰ سیڑھی ہے۔یہاں سے عوام اورخواص کے درمیان اس تفاوت کاآغازہوتاہے اورپھربتدریج اسکی شدت میں اضافہ ہوتاہے ، یہاں تک کہ وزیراعظم تک پہنچتے پہنچتے یہ پروٹوکول کلچربھاری بھرکم صورت اختیارکرلیتی ہے۔پچاس پچاس گاڑیوں کاقافلہ، دودوہیلی کاپٹر، سینکڑوں پولیس اہلکار ایک ہی وقت میں وزیراعظم کے پروٹوکول میں شامل ہوتے ہیں۔اسی طرح وزیراعلیٰ اوردیگروزراء کے پروٹوکول اورسکیورٹی کاحال دیکھ کر یوں لگتاہے کہ پاکستان میں پولیس فورس کے قیام کابنیادی مقصدافسرشاہانہ کی خدمت گزاری ہے۔ ملک کے تمام وسائل اس محدودطبقہ کے شاہانہ طرززندگی، بہترین سے بہترین رہائش ، انکی سکیورٹی، انکے دوروں، انکے بچوں کی تعلیم ، انکے بیرون ملک علاج معالجوں ، انکی عزیزواقرباکے تواضع اورتاحیات مراعات دینے پر صرف ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک بہت بڑاطبقہ مفلسی اورکس مپرسی کی زندگی گزاررہاہے۔ انکی زندگی غیرمحفوظ، انکے بچے تعلیم سے محروم، صحت ، روزگاراوانصاف کے دروازے انکے لئے بند ہوتے ہیں۔یہی حالات ریاست میں عدم استحکام کوجنم دیتے ہیں اورآئے دن ملک میں دہشت گردی کے نئے نئے واقعات رونماہوتے ہیں، جس کاشکاریہی مفلوک الحال طبقہ بنتاہے۔پاکستان کو کامیاب ریاست بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تبدیلی کاآغاز اس مراعات یافتہ طبقہ سے کیاجائے۔جتنے بھی لوگ بڑے بڑے عہدوں پرذمہ داریاں نبھارہے ہیں ، اگروہ سچے پاکستانی ہیں اورانکے اندر ذرا برابربھی حب الوطنی موجودہے ، تو وہ بغیرپروٹوکول کے اپنے ملک کی خدمت کرے۔کیونکہ ان کااس ملک پر اوراس ملک کے عوام پراحسان ہے کہ وہ احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اورملک کی ترقی کے لئے دن رات کوشش کرتے ہیں ۔فرض کریں کسی وزیر، گورنر، سینٹر، بیوروکریٹ، سیکرٹری یاکسی اوربڑے آفسرکواپنے ملک میں اپنی زندگی غیرمحفوظ معلوم ہوتی ہے اوراسکو ذاتی تحفظ کے لئے پولیس فورس کی ضرور ت ہے ، ، تووہ بے شک پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیربادکہہ دے ، کیونکہ جس میں ملک میں اورجس عہدہ میں وہ اپنے آپکو غیرمحفوظ دیکھ رہے ہیں ، وہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو کیوں بربادکررہے ہیں۔بے شک وہ کسی ایسے ملک میں چلے جائے، جہاں وہ اورملک کاوزیراعظم ایک ہی قطارمیں کھڑے ہوکر اورایک ہی مارکیٹ میں شاپنگ کرسکے۔ورنہ یہ عہد کرلے ، کہ ہم نے پاکستان کو بھی ایساملک بنائیں گے ، جہاں پولیس فورس کی کوئی اورذمہ داری ہے ، نہ کہ افسرشاہانہ کی سیکورٹی اورپروٹوکول ۔ آپ بھی عام لوگوں کی طرح نکل آئیں ، مارکیٹ میں آئیں، بازاروں میں آئیں ، پروگراموں میں جائیں، کھیل تماشے بھی دیکھیں، میلوں ٹھیلوں کی سیربھی کریں، اپنے ملک کی خوبصورتی سے محظوظ بھی ہوجائیں ، اپنے بچوں کے سکولوں میں بھی جائیں ، سرکاری ہسپتالوں میں اپنے اوراپنے بچوں کاعلاج بھی کروائیں ، کسی بینک یادیگرکسی ادارے کے سامنے اپنے کام کے سلسلے میں قطارمیں بھی کھڑے ہوجائیں۔کبھی کبھی کسی ہوٹل میں کھانابھی کھائیں اورکبھی کسی چمن ، باغ یاپارک میں ٹہلتے ہوئے بھی نظرآئیں ۔۔۔تاکہ عام لوگ آپ کو دیکھ لے اورآپ پرفخرکرلے۔ ہاں یہ بات یاد رکھیں، آپکی زندگی بہت قیمتی ہے ، بالکل جسطرح ایک عام پاکستانی کی زندگی ہے۔ اس بات پر دل سے یقین رکھیں کہ آپکی زندگی کاتحفظ اﷲ کرے گا۔ اگرآپ دیانت داری اورایمانداری سے اپنی قوم کی خدمت کررہے ہیں ، توآپ کو کچھ نہیں ہوگا۔پروٹوکول کلچرکے خلاف آپکی یہی طرززندگی پاکستان کو کامیاب ریاست بنانے کی ضمانت ہے۔

saday chinar

مسلم دنیا میں فحاشی کا بڑھتا ہوا رجحان
February 10, 2016

گوگل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک بارپھرانٹرنیٹ پرسب سے زیادہ فحش مواددیکھنے والا ملک بناہے اورہماراسرشرم سے مزیدجھکنے کے لئے یہ خبربھی کچھ کم نہ ہے کہ اس فہرست کے ٹاپ ٹین میں پہلے چھ مسلمان ممالک شامل ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان ،جہاں سرکاری مذہب اسلام ہے ۔ اسلامی تعلیمات کی مکمل آزادی ہے۔ بحمداﷲ بے شماردینی مدارس ہیں اوران مدارس سے دھڑادھڑ علمائے کرام فارغ ہورہے ہیں۔علمائے کرام مساجد، حجروں،جلسے جلوسوں، جنازوں میں اورمختلف مواقع پر ایمان افروزبیانات کررہے ہیں۔تعلیمی ادارے ببانگ دہل یہ دعوے کررہے ہیں کہ وہاں بہترین اخلاقی تعلیم دی جاتی ہے۔والدین اپنے بچوں کو بے راہ روی سے بچانے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ مذہبی تنظیمیں امربالمعروف اورنہی عن المنکر کی ذمہ داریاں نبھارہی ہیں، جن میں دعوت الی اﷲ (تبلیغی جماعت) والے پورے ملک کے گوشے گوشے میں ، ہرشہر،قصبے، دیہہ ، صحرااورپہاڑغرض جہاں جہاں انسان کی بودوباش ہے، وہاں جماعتیں بھیجتے ہیں ، جو قرآن اورحدیث کی روشنی میں انسانی ذہن کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اورلوگوں کو اﷲ کے احکامات اورنبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے طرز زندگی سے روشناس کرارہے ہیں۔دعوت اسلامی ، تنظیم اسلامی، جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام اورکتنی جہادی تنظیمیں ہیں ، جو دین اسلام کی سربلندی کے لئے مصروف عمل ہیں لیکن اسکے باوجود پوری دنیامیں یہ شرمناک ٹائٹل پاکستان کے حق میں آیا۔آخرایسے کیاعناصرہیں جوہماری نئی نسل کو گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اس ضمن میں حکومت وقت کا بہت اہم کردارہوتاہے ۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے پاکستان میں تقریباً چارلاکھ فحش ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس مقصدمیں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے کیونکہ یاتووہ اس مقصدکے حصول میں مخلص نہیں ہیں اوریاپاکستانی قوم نے عزم کررکھاہے کہ ہرممکن طریقے سے وہ فحش سائٹس پر پہنچ پائے گی۔چھوٹے چھوٹے بچے اس قدرماہرہیں کہ معمولی سی کوشش سے پراکسی(proxy) لگاکر اپنی من پسند ویب سائٹس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ بلکہ اب تویوں محسوس ہورہاہے کہ گویاپاکستان میں فحش مواد دیکھنے پر کسی قسم کی کوئی پابند ی ہی نہیں ، ورنہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو چارلاکھ فحش سائٹس بلاک کرنے سے پہلے چند ہزارپراکسی سائٹس کو بھی بند کرناچاہئے تھا۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیامیں فحش مواددیکھنے میں جودس ممالک سرپرست ہیں ، ان میں سے پہلے چھ ممالک اسلامی ہیں۔پاکستان کے بعدمصرکانام آتاہے ۔ مصردنیائے اسلام میں خاص اہمیت کاحامل ہے۔ انبیاء کرام کی اس دھرتی میں ، جہاں اسلام کے خلاف ہر دورمیں طاغوتی قوتیں صف آراء ہوتی ہیں ، آج فحاشی کے میدان میں ایک بارپھر سرفہرست ہے۔ مصرکے بعدایران، مراکش، سعودی عربیہ اورترکی کانمبرآتاہے ۔ جہاں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کے ذریعے فحش مواد دیکھاجاتاہے۔ ایک طرف ہم اپنی بربادی کاماتم کرتے ہیں کیونکہ عالم اسلام بری طرح طاغوتی طاقتوں کے عتاب کانشانہ بنے ہوئے ہیں ۔دوسری طرف ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے کردارکاجنازہ نکالاہواہے ۔ کیونکہ سلطان صلاح الدین ایوبی کاقول ہے’’ جس قوم کوتباہ کرناہو، اس میں فحاشی پھیلاؤ‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ عالم اسلام تباہی کے دہانے پر کھڑاہے۔ فحش مواد دیکھنے کے بے شمارنقصانات ہیں۔ ایک طرف یہ گناہ کبیرہ ہے ، تودوسری طرف یہ باعث تذلیل اورشرمندگی ہوتاہے۔ اس سے مردکی مردانگی ختم ہوجاتی ہے اورانسان کے اخلاق اورکردارمتاثرہوتاہے۔جدیدتحقیق کے مطابق فحش مواددیکھنے سے انسانی دماغ بری طرح متاثرہوتاہے، قوت حافظہ کمزورہوتاہے ،انسان میں احساس کمتری جنم لینی لگتی ہے اورزندگی میں آگے بڑھنے کاجذبہ ماندپڑتاہے۔ مزیدیہ کہ فحش مواددیکھنے سے چہرے کی تازگی اورخوبصورتی بری طرح متاثرہوتی ہے۔لہذانئی نسل کو بے راہ روی سے بچانے کی خاطر فحش مواد دیکھنے کے مختلف ذرائع کاخاتمہ بہت ضروری ہے ، جن میں سے موبائل فون، انٹرنیٹ، سی ڈیز ، فلیش ڈرائیوز، ڈش ٹی ویز وغیرہ شامل ہیں۔ سی ڈیزسنٹر اورموبائل سنٹروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہئے ، جو اس قسم کے مواد کو پھیلانے کے بڑے ذرائع ہیں ۔ پی ٹی اے کو سخت سے سخت قوانین بنانے ہونگے اورایسی تمام ویب سائٹس اورپراکسی سائٹس کو سختی سے بند کرناچاہئے، جو ملک میں فحاشی پھیلارہے ہیں۔اس سلسلے میں ایک اہم بات، ہمارے ملک میں مخلوط نظام تعلیم کی بھی ہے ۔ لہذا جس حد تک ممکن ہو، پرائمری لیول کے بعدلڑکوں اورلڑکیوں کے لئے علیحدہ علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں ، تاکہ ان دونوں کی تمام ترتوجہ اپنی تعلیم پررہے ۔ اس ضمن میں اسلامی تعلیمات کی پیروی بھی بہت زیادہ ضروری ہے۔دنیامیں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے ، جس نے جملہ معاملات زندگی میں ایساراستہ دکھایاہے، جس پر عمل کرنے سے انسان کی دنیااورآخرت سنورجاتی ہے۔اسلام نے ہی انسان کی عظمت کامعیارتقویٰ اوراخلاق کو قراردیاہے۔قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتاہے ــ ـ ’’ بے شک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہیں‘‘۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق کانمایاں پہلو حیاہے۔جسکے بارے میں اﷲ تعالیٰ کاحکم ہے ۔ ’’ اے بنی آدم ، ہم نے تم پر لباس نازل کیاہے ، تاکہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کوڈھانکے اورتمہارے جسم کی حفاظت اورزینت کاذریعہ ہواوربہترین لباس تقویٰ کالباس ہے‘‘۔ بلکہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حیاکو ایمان کاحصہ کہاہے اوردونوں(حیا اورایمان )کو ایکدوسرے کے لئے لازم وملزم قراردیاہے، گویاحیا اورایمان دونوں میں سے کوئی ایک چیز چلی جائے، دوسری خودبخودچلی جائے گی۔لہذا فحش مواد دیکھنے ، سرچ کرنے، ڈاونلوڈ کرنے اوردوسروں تک پہنچانے سے ہم بہت بڑے گناہ کے مرتکب ہوجاتے ہیں اورپوری دنیامیں ہم اپنا، اپنے مذہب اوراپنے ملک کانام بدنام کرنے کاسبب بن رہے ہیں۔

12688003_968654239881047_8575404316669182201_n