Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

میرے کالمز

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
July 16, 2019

ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوںپر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی ، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں ۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ” اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب ، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی ، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

جدھر سینگ سمائے
July 9, 2019

پاکستانی قوم کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اپنے ہی حقوق سے بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں سنا ہے کہ چینی صرف ایک چند پیسے یا ایک دو آنہ فی کلو بڑھی تھی تو عوام سڑکوں پر نکل آئی تھی اور ایوب خان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔،کہ مہنگائی ختم کرو۔مخالف پارٹی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا تھا اور غلط قسم کے نعرے بھی اپنے ورکروں سے لگوائے گئے۔ اب گذشتہ چند سالوں سے ہر حکومت میں ہر بار نزلہ عوام پر گرتا ہے، زلزلہ عوام کے گھروں پر آتا ہے، سونامی اور طوفان سب نے عوام کا ہی رخ کیا ہوا ہے لیکن مجال ہے کہ اب اس عوام میں یکجہتی دیکھنے کو مل جائے۔ ان پر مہنگائی کے بم گرائے گئے، ان پر جینا حرام کیا گیا ، ان کا حقہ پانی بند کیا گیا، ان کے رہنے میں رکاوٹوں کے انبار کھڑے کیے گئے لیکن اس عوام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
گزشتہ حکومتوں میں تو پھر قسطوں میں مہنگائی آتی تھی۔ کچھ اندازہ دنوں پہلے ہو جاتا تھا کہ اگلے چند دنوں میں مہنگائی بڑھے گی۔ اتنے فیصد اشیائے صرف کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ اس لحاظ سے ہر دوسرا پاکستانی اپنے بجٹ کا حساب کتاب لگا لیتا تھا۔ لیکن جب سے یہ حکومت، جس سے شاید پاکستان بننے سے اب تک سب سے زیادہ امیدیں عوام کو وابستہ تھیں، معرضِ وجود میں آئی ہے، تب سے ہر روز مہنگائی آکاس بیل کی طرح عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔کبھی گیس مہنگی کی جا رہی ہے کہ جو بل پہلے دو ہزار روپے آتا تھا اب ایک دم سے پانچ ہزار سے سات ہزار روپے ہوگیا ہے۔ پہلے گھر میں دو ہزار روپے میں گیس چوبیس میسر ہوتی تھی، اب دس گھنٹے ہوتی ہے اور باقی غائب۔ جو میسر ہوتی ہے وہ بھی ٹم ٹم کرتی نظر آتی ہے جس پر صرف چاول ہی دم پر رکھے جاسکتے ہیں۔ بظاہر سبزی اور فروٹ سستا ہے لیکن صرف ان سے تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔صحت صفائی کا نظام اسی طرح ہے جیسے گذشتہ پچاس ساٹھ سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ صرف معیشت کو درست کرنے کی سمت میں تو کام نہیں کرنا۔ ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ۔ عوام بھلے بلبلائے یا تڑپے، کسی کو کیا؟
معیشت درست کرنی ہے ، بیرونی سرمایہ کاری اگر ملک میں لانی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ بند کارخانے کھولے جائیں۔بند کارخانوں کو صرف سرمایہ کی ضرورت ہے۔ تجربہ کار افراد ان کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ جو کچھ بنائیں گے بہترین معیار کا بنائیں گے۔ اس حد تک معیاری کہ بین الاقوامی معیارات کی تنظیم اس چیز کو بے اختیار ہو کر اوکے کرے اور پھر پاکستان اس کو اپنی شرائط پر برآمد کر سکے۔ ساتھ میں کارخانوں کو یہ بھی کہا جائے کہ ابتدائی تین سالوں تک وہ منافع کا ساٹھ فیصد حصہ حکومت کے خزانے میں جمع کرائے گی تا کہ جو حکومت نے ان کو ادا کیا ہے وہ واپس آسکے۔ اس طرح کارخانے بھی چل سکتے ہیں اور حکومت کا خزانہ بھی خالی نہیں رہے گا۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ جو بند ہیں وہ تو ہیں ہی،مزدی بھی بندش کی طرف جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں درآمدات کی کھپت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی کا اژدھا جو کبھی ایک بالشت کا سنپولیا ہوتا تھا اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ بظاہر قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ لیکن سب کچھ ممکن ہے۔ یہ دنیا ہے ، اگر کچھ ناممکن ہے تو وہ صرف وہ کام ہیں جو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ورنہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
حج پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے۔ کہ عوام کے ٹیکسوں پر سود لگا کر حج کی سبسڈی دی جاتی تھی تو اب سود سے حج تو ممکن نہیں۔ مان لیا درست ہے۔ پھر تو ہمارے محترم وزیر اعظم صاحب ان سبسڈیوں پر بھی ایکشن لیں جو عوام کے ٹیکسوں سے کھانے پینے کی چیزوں پر دی جاتی ہے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور دیگر سیکرٹریٹ کے ملازمین کو دی جاتی ہے۔ باہر کسی بھی کم سے کم تر درجے کے ہوٹل پر چائے کا ایک کپ بیس سے تیس روپے کا ملتا ہے۔ جب کہ سیکرٹریٹ میں دس روپے کا ملتا ہے۔ اور بہت سی کھانے پینے کی چیزوں پر بھی اسی طرح کی سبسڈی مل رہی ہے۔ انصاف سب سے پہلے گھر سے شروع کیا جائے ، اپنے گریبان کو سی کر پھر دوسروں کو کہا جائے تو اس کا فائدہ نسلوں تک کو ملتا ہے۔
اب تک تو پی ٹی آئی کی حکومت کی کسی بھی پالیسی کی سمجھ نہیں آئی۔ یوں لگ رہا ہے جس وزیر کا جدھر دل کر رہا ہے ادھر ہی اس کا سینگ سما رہا ہے۔اپنی مرضی کی پالیسیاں لائی جا رہی ہیں۔ عوام کو فائدہ ہو یا نہ ہو۔ گیس کی قیمتیں خود بڑھا کر پھر خود ہی ایکشن لیا جاتا ہے کہ عوام کو بل بہت زیادہ وصول ہوئے ہیں۔ جب رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے اور ساتھ میں سلیب میں تبدیلی یا قیمت میں کمی کی سفارشات کی جاتی ہیں تو ان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس طرح تو سوئی گیس کمپنیوں کو نقصان ہو گا۔ وہ اپنے اخراجات کیسے پورا کریں گے۔ یہی تو مسلہ ہے کہ بجلی اور گیس کے محکموں کے سب ملازمین کو گیس اور بجلی مفت ملتی ہے۔ کیوں؟ جب کہ ان کی تنخواہیں بھی اچھی ہیں اور ان کو دیگر حکومتی سہولیات بھی میسر ہیں تو پھر یہ سبسڈی کیوں؟ عوام کے ٹیکسوں پر یہ دو محکمے کیوں عیاشی کرتے ہیں؟ ان پر کچھ نہ کچھ ایکشن ہونا چاہیے۔ ان ملازمین کو ملی ہوئی گیس اور بجلی کو یہ اپنے اردگرد کے گھروں میں تقسیم کرتے ہیں اور مخصوص رقم بطور منافع ان سے وصول کرتے ہیں۔ آم کے آم گھٹلیوں کے دام۔
عوام بہت پس چکی ہے۔ اگر چند ماہ مزید یہ صورتحال رہی تو مجھے یقین ہے کہ پی ٹی آئی بھی گزشتہ دو پارٹیوں کی طرح عوام کی بد دعاؤں کا حصہ بن جائے گی۔ اگر انھوں نے اپنے سینگوں کارخ درست سمت میں نہ کیا تو کیا پتہ کس مظلوم کی آہ فرش کو ہلا دے۔

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔
July 9, 2019

سوشل میڈیا کا دور ہے۔ تقریباً ہر وہ بندہ اس سے جڑا ہوا ہے جس کے پاس سمارٹ فون ہے، بھلے وہ سوشل میڈیا کے کسی بھی فورم پر ایکٹیو ہو۔ چاہے وہ فیس بک ہو، وٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹویٹر ہو۔ اس سوشل میڈیا کی بدولت ہمیں بہت کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ بہت کچھ دیکھنے کو اور سننے کو مل جاتا ہے۔ اگر کوئی سخت ٹینشن میں ہے تو سوشل میڈیا کی سیر کر لے، ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ ملے گا۔ دنیا بھر کے جگت باز یہاں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت اب جگت بازی صرف فیصل آباد تک محدود نہیں رہی، اب یہاں ہمارے سکول کے بچے بھی چٹکلے چھوڑتے ہیں۔ آپ کی ساری ٹینشن ایک دم دور ہو جائے گی۔ دوسری طرف اگر کسی کا دل کی بھڑاس نکالنے کا دل کرتا ہے تو وہ بھی سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ کسی نے کسی کو بلیک میل کرنا ہے تو س۔ م۔، کسی کا گھر اجاڑنا ہے تو س۔ م۔
لیکن اسی سوشل میڈیا کو کچھ دوست مثبت کاموں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں. میرے دوستوں کی فہرست میں بہت سے ایسے ساتھی موجود ہیں جو لاجواب اور خوب صورت تحریریں لکھتے ہیں اور صرف لکھتے ہی نہیں بلکہ پہلے ان پر خود عمل کرتے ہیں اور پھردوسروں کو عمل کی تلقین کرتے ہیں۔آج بھی حسب معمول میں فیس بک پر آوارہ گردی کر رہا تھا تو ایک دوست ثمر خان ثمر جو کہ داریل، دیامر میں سکول ٹیچر ہیں اور بہت بہترین لکھتے ہیں، ان کی وال ہر ایک تحریر نظر آئی۔ سوچا کہ آپ سب کو بھی ان الفاظ سے مستفید کیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے اخلاقی طور پر ان سے اجازت لینا ضروری تھی، جو کہ میں فون پر لے لی۔ ان کا بڑا پن کہ کھلے دل سے اجازت بھی دی اور کہا کہ اگر کوئی اور بھی اس سے مستفید ہو جائے اور ان باتوں پر عمل ہو جائے توسمجھیں کہ ان کی تحریر کا مقصد پورا ہو گیا۔ لکھتے ہیں:
”بغرض تعلیم مختلف شہروں میں قیام پذیر طلبہ کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میری باتیں آپ پر گراں گزریں ، ناگوار لگیں ، چونکہ آپ کی رگوں میں جوان خون دوڑ رہا ہے اور’جوانی دیوانی‘ کے مصداق اکثر جوان ہوش کو کم اور جوش کو زیادہ کام میں لاتے ہیں۔ احساس تو تب ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔۔۔۔آپ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں۔ انشااللہ بات کی تہ تک پہنچ جائیں گے۔
جیسا کہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ حصول تعلیم کی خاطر گھربار سے میلوں دور کءطلبہ مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ا ±نہوں نے اپنا نصب العین تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ پارٹیوں اور تنظیموں کے بینرز اور پوسٹرز آویزاں کرنا ، جلسوں اور مٹینگوں کا انعقاد کرنا ، ظہرانوں اور عشائیوں کا اہتمام کرنا اور ان سرگرمیوں کے بعد باقی بچ جانے والے لمحات سوشل میڈیا پر پبلسٹی کے لیے دینا معمول بن گیا ہے۔ یہ انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاسی پارٹیاں تو ہیں ہی ، مگر اب سماجی تنظیمیں بھی تواتر سے وجود پا رہی ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن ایک الگ نام سے ایک نئی تنظیم وجود میں آتی ہے اور پھر تبلیغ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں کسی سیاسی پارٹی یا سماجی تنظیم کا مخالف نہیں ہوں۔ علاقائی سطح پر بننے والی تنظیموں کو سراہتا ہوں۔ ان تنظیموں کے استحکام کے لیے حتی الوسع سعی بھی کرتا رہا ہوں۔ یہ تنظیمیں علاقے میں لوگوں کے اندر شعور و آگہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ کام آپ کا نہیں ہے۔ آپ کا مستقبل ان تنظیموں کے جھنڈوں تلے پوشیدہ ہے نہ نعروں کی گونج میں چھپا ہوا ہے بلکہ کتابوں کے سائے تلے نہاں ہے۔ آپ کا کام ہے صرف اور صرف کتاب دوستی اور بس۔۔۔۔۔۔ فرض کیا اگر کسی تنظیم سے وابستگی ناگزیر ہے تو ایک حد میں رہ کر تعلق رکھا جائے ۔ ہر چیز اپنی حد میں بھلی لگتی ہے اور اگر حد پھلانگ لی جائے تو کوئی بھی شے اچھی نہیں لگتی۔
آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ آپ کا فرض، آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ گھر والے آپ پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ کتاب کو کتنا وقت دیتے ہیں اور تنظیم کو کتنا۔۔۔۔۔۔؟ کیا آپ کی سرگرمیوں کی خبر آپ کے والدین رکھتے ہیں؟ کیا آپ میں سے کسی کے سرپرست نے کسی پارٹی یا تنظیم کا حصہ بننے کی اجازت دے رکھی ہے؟ اور اگر نہیں دی ہے تو کیا آپ اپنے گھر والوں کی امنگوں کا خون نہیں کر رہے ہیں؟ کیا آپ دغابازی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟آپ کا کام کسی پارٹی یا تنظیم کے لیے انتظامات کرنا اور چندے بٹورنا نہیں ہے بلکہ دل لگا کر تعلیم حاصل کرنا ہے۔ آپ کی کامیابی کا راز پڑھائی ، پڑھائی اور صرف پڑھائی میں مضمر ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج طالب علم اور پڑھائی کے درمیان حائل سب بڑی رکاوٹوں میں یہ “کارکنی اور سوشل میڈیا کا کثرت استعمال ” شامل ہیں۔ یہ چیزیں بخدا ایک طالب علم کی زندگی میں زہر ہلاہل کا کام دے رہی ہیں۔ کم از کم اپنے علاقائی سطح پر بننے والی سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے میری دستہ بستہ گزارش ہوگی کہ خدارا طالب علموں کو مت گھسیٹیں۔۔۔انھیں پڑھنے دیں۔ یہ کام طلبہ کا نہیں ہے ، یہ آپ جیسے مخلص ، دردمند ، خدمتگار اور ملنسار جوانوں کا ہے۔“
آپ نے ثمر خان ثمر کے الفاظ پڑھے۔ میں ان میں یہ اضافہ کروں گا کہ آپ تعلیم پر ضرور توجہ دیں، لیکن ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی سنواریں۔ ہم دین سے اتنا دور آچکے ہیں کہ ہمارا دین صرف نعروں تک رہ گیا ہے۔ ہم مولویوں کے بہکاوے میں آسانی سے آجاتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں، من و عن اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔یا پھر ہم سوشل میڈیا پر جو کچھ دیکھتے ہیں، یا پڑھتے ہیں اس پر ہم اس طرح رد عمل کرتے ہیں جیسے ہم عقل کل ہیں۔ یا ہم بہت بڑے عالم ہیں۔ ہم ایک معمولی سی سنت پر تو عمل کرتے نہیں،اور چلے ہیں کسی بات کو سچ تسلیم کرنے یا اس کو کلی طور پر رد کرنے۔ دوسرا ہمارا وتیرہ بن گیا ہے کہ ہم ایک دم سے فتویٰ لاگو کر دیتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔ اور یہ بات کہنے والا فوراً کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کرے۔ ایمان نہ تو اتنا کمزور ہوتا ہے کہ بندہ اس کے دائرہ سے نکل جائے، ہاں گناہِ کبیرہ کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔۔ اور نہ ہی دین اتنامضبوط ہوتا ہے کہ دوسروں کی باتوں میں آکر ہم اسے سچ نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس سوشل میڈیا کی بدولت ہم مختلف تحریکیں بھی چلا رہے ہیں، لیکن دوسروں کو صرف مسلمان رکھنے کی تحریک کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔ ہاں فرقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر بہت کچھ ملے گا۔ اور دوسروں پر انگلیاں بھی اٹھاتے ہیںجب اپنے فرقے کی تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں۔ خدارا، آپ صرف مسلمان رہیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر رکھیں تو کامیابی ، حقیقی کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سرخروئی آپ کا نصیب ہو گی۔
**************

یومِ تکبیر اور پاکستان۔
March 22, 2019

اٹھائیس مئی 1998ء کی سہ پہر تھی… دن کے سوا تین بجے جب سورج زردی مائل ہو کر مغرب کی جانب جھکا جا رہا تھا تو عین اس وقت بلوچستان کے مقام چاغی کا ایک پہاڑ ہلنے دھلنے کے ساتھ ساتھ اچانک سنہری ہونا شروع ہو گیا۔ اسے اس منظر سے دوچار کرنے والے سائنسدانوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے تو زبانوں پر تکبیر’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعرے تھے…
اس منظر نے پاکستان کو دنیا بھر میں سرخرو و سربلند کر دیا تھا۔ یہ منظر پاکستان کو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت میں بدلنے کا منظر تھا، جس نے ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمانوں کے سر فخر سے بلند کر دیئے تھے اور سربلند کیوں نہ ہوتے، آج مسلمان کہنے کے قابل ہو چکے تھے کہ ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں۔ شام کا وقت ہوا تو وزیراعظم پاکستان جناب نوازشریف ایک بڑے جلوس کے ہمراہ مال روڈ لاہور پر موجود تھے۔ انہوں نے مسجد شہداء کی جانب بڑھنا شروع کیا تو لاکھوں کا مجمع ان کے جلو میںتھا اور کیوں نہ ہوتا، پاکستان نے اپنے ازلی و ابدی دشمن بھارت کو 5دھماکوں کا جواب 6دھماکوں سے دے دیا تھا اور اب اسی لئے تو پاکستان کے دشمنوں کے ہاں ماتم بپا تھا۔ پاکستان پر امریکی پابندیاں لگ چکی تھیں کہ تمہاری اتنی جرأت…؟ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے علاوہ کسی کی یہ مجال اور وہ بھی کسی مسلمان کی کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ خود کو ایٹمی قوت بنا اور کہلا سکے۔ ’’گستاخ‘‘ پر حد ادب لگ چکی تھی لیکن دوسری طرف عالم اسلام خوشیوں سے نہال تھا۔ سعودی عرب کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی کی پروا کئے بغیر پاکستان کو فوری طور پر 50ہزار بیرل تیل مفت اور مسلسل دینے کا اعلان کر دیا۔ آج پاکستان واقعی مسلم دنیا کا رہبر بن چکا تھا… اور یہ دشمنوں کو کبھی اور قطعاً قبول نہیں تھا کہ ایک ایسا ملک جو سوئی تک خود نہیں بنا سکتا تھا۔ سائیکل تک باہر سے منگواتا یا محض سامان جوڑ کر بنانے تک محدود تھا، آج کیسے اتنے بڑے مقام اور مرتبے پر فائز ہو چکا تھا۔پھرہمارے یہ دشمن اکٹھے ہوئے ، کانفرنسیں کیں، خفیہ مذاکرات کیے، اور کچھ ایسا کرنے کا سوچا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ پاکستان کے پاس ایٹم بم بھی رہے اور وہ کچھ کر بھی نہ سکے۔ تو کچھ ایسا ہوا۔۔
یک دفعہ افغانستان کے ایک گاﺅں میں چند ڈاکو نکل آئے۔ وہ روز کسی نہ کسی گھر میں ڈاکہ ڈالتے تھے، پورے گاﺅں والے انسے تنگ آچکے تھے، اس گاﺅں میں ایک غریب کسان بھی رہتا تھا، ایک گائے، چند ٹوٹے پھوٹے برتن اور دیگر اسی قسم کی چند چیزیں اس کے گھر کا کل اثاثہ تھیں، اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کرکے گائے سمیت اپنے گھر کے تمام سازوسامان بیچ کراپنی حفاظت کے لیے ایک بندوق خرید لی، اب اس کا سب سے عزیز، مہنگا اور قیمتی سرمایہ یہی بندوق تھا، اگلی رات اس کے گھر ڈاکو گھس آئے، بیوی نے سہمے سہمے انداز میں کسان کو جگایا، کسان نے اٹھ کراپنی آنکھیں ملتے ہوئے اپنی بیوی سے سرگوشی کی :۔
”اصل چیز تو بندوق ہے، چلو اسے بچاتے ہیں، باقی خیر ہے۔“یہ کہہ کر کسان نے بندوق بستروں کے صندوق میں چھپادی اور میاں بیوی دونوں اس صندوق کے اوپر لیٹ گئے، جب ڈاکو سارے گھر کو لوٹ کر چلے گئے تو کسان نے بستروں کے صندوق سے بندوق نکالی اور اسے چومنے لگا …. اگلے دن صبح کسان اپنے کھیت کو جانے لگاتو ساتھ ساتھ گاﺅں والوں کو بڑے فخر سے اپنی بہادری کا قصہ سناتا جارہا تھا، کسان خوش تھا کہ ڈاکو ساری چیزیں تو لے گئے لیکن اس نے انہیں اصل چیز یعنی اپنی بندوق لے جانے نہیں دی، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بھلے مانس! یہ بتاﺅ! تم نے اپنے گھر کی تمام اشیاءفروخت کرکے یہ بندوق کیوں خریدی تھی؟ جس کے ذریعے تم اپنی حفاظت بھی نہ کرسکے بلکہ تمھیں اور تمھاری بیوی کو خود اس کی حفاظت کرنی پڑی !!لوگوں کی بات سن کر کسان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا، لوگوں نے اس پر خوب قہقہے لگائے اورفقرے کسے، وہ اپنے کھیت کی طرف جاتے ہوئے سوچنے لگا کہ واقعی لوگ بندوق، اسلحہ اور ہتھیار اپنی حفاظت، دفاع اور بچاﺅ کے لیے خریدتے ہیں؟ پھر مجھے خود کیوں اس بندوق کی حفاظت کرنی پڑی؟
اس واقعے پر غور کریں اور خوب غور کریں، تو آپ سب کو سمجھ آجائے گی کہ یہ کسان کوئی اور نہیں بلکہ ہم لوگ ہیں، پاکستان ہے۔ آج ہم ایٹم بم کے مالک ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک میزائل ہے۔ لیکن حالت ہماری یہ ہے کہ امریکہ نے ستمبر 11 کی دہشت گردی کے بعد افغانستان پر حملہ کے لیے پاکستان سے راہدارہ مانگی اور نہ دینے پر ہمیں پتھروں کے دور میں پہنچانے کا کہا۔ ہمارے اس وقت کے حکمرانوں نے اسکی بات مان لی اور اپنی طرف سے پاکستان کو پتھروں کے دور میں پہنچنے سے بچا لیا۔ لیکن کیا ہوا؟ آج بجلی کی لوڈ شیڈنگ 16 سے 22 گھنٹے ہو رہی ہے، کہیں پر بجلی ہے ہی نہیں۔ تو کیا یہ پتھروں کا دور نہیں۔جنریٹرز میں بھی چلانے کو پٹرول، ڈیزل چاہیے، وہ بھی کمیاب ہوتا جا رہا ہے۔ قیمت بڑھتی جا رہی ہے، رسد کم ہوتی جا رہی ہے۔ تو کیا یہ پتھروں کا دور نہیں۔ اگرچہ ہم نے بالکل اس کسان کی طرح ہم نے بھی اپنی دفاعی لائن کو مستحکم بنانے کے لیے 28 مئی1998ءکو پوری دنیا کی ناراضی مول لے کر، جان جوکھوں میں ڈال کر اور مضبوط دیواروں سے سر ٹکراکرایٹمی دھماکہ تو کردیا لیکن آج اس ایٹم بم کے بجائے ہم خود نہتے ہوکر اپنے اس قیمتی سرمائے کی اور اپنی حفاظت بھی خود کررہے ہیں، ہم بھی کسان کی طرح اس کو چھپائے پھر رہے ہیں، ہمیں خود اس کی حفاظت کرنی پڑرہی ہے۔ایٹم بم بنانے کی کہانی ہماری قومی مزاج کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے، ہم نے ایٹم بناتے وقت اپنی آنکھوں میں کتنے سہانے سپنے سجائے تھے، دل میں کتنے ارمان تھے، کتنی ہی آرزوئیں اس سے وابستہ تھیں، ایک جوش تھا کہ ہم بھی سر اٹھا کر جی سکیں گے۔ ایک ولولہ تھا کہ ہم اب سینہ تان کرچلیں گے، ایک سوچ تھی کہ اب ہم خود مختا ری، خودکفالت اور خود انحصاری کے قابل ہو جائیں گے، اس کے لیے ہماری قوم نے کتنے جتن کیے، کتنی مشکلات کے پہاڑ سر کیے، لوگ دو سے ایک چائے پر آگئے، اقتصادی فاقے کیے، سامراج کی معاشی بدمعاشیاں برداشت کیں، یہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو،فاتح ِروس جنرل ضیا الحق، شہیدِ جمہوریت بے نظیر بھٹواور فخرِ پنجاب میاں نواز شریف جیسے با ہمت و پرُ عزم انسان ہی تھے جن کی شبانہ روز محنتوں کی وجہ سے یہ ناممکن کام ممکن ہوسکا، محسنِ پاکستان اگرہالینڈ کی شہریت، اپنی بیٹیوں کا اعلی مستقبل اور لاکھوں ڈالرز کی تنخواہ چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں اس کی سرزمین پر قدم نہ جماتے، بھٹو صاحب جنون کی حد تک دیوانہ وار سرگرم نہ ہوتے، جنرل ضیا امریکیوں کو ”یہ موضوع خارج از بحث ہے“کہہ کر خاموش نہ کراتے، بے نظیر بھٹو یورپی یونین کی بات مان جاتیں اور میاں صاحب کلنٹن کے دباو میں آجا تے تو آج تک ہما را اٹامک انرجی پروگرام التوا کا شکار رہتا۔اب تک ہمارے ایٹمی پلانٹ کے تارو پود بکھر چکے ہوتے، ہمارا ایٹم بم بنانے کا خواب چکنا چور ہوچکا ہوتا، لیکن یہ اللہ تعالی کی بے پناہ نصرت، قوم کی اضطراری دعائیںاور مخلص قیادت کی مہربانیاں تھیں، جن کی وجہ سے آج ہم عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہیں، لیکن آج یہ سارے جرات مندانہ اقدامات،سارے عزائم اور ساری بے قراریاں روئی کے گالوں، سمندرکے جھاگوں اورپانی کے بلبلوں کی مانند ہیں، اس کے لیے 1974ءسے 1998ءتک کی محنت اور 24 سالوں تک کی گئی ساری کوششیں اکارت جاتی نظر آتی ہیں۔
آ ج پوری دنیا حیران و ششدر ہے کہ جو قوم ایک سوئی، ایک معیاری کیلکولیٹراور ایک اچھا سیل فون تیار نہیں کرسکی، اس نے ایٹم بم کیسے ایجاد کرلیا، آج پاکستان دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست ہے، کتنی ہی آرزﺅں، خواہشوں اور ارمانوں کو دل میں بسائے ہم نے یہ ایٹم بم حاصل کیا تھا لیکن آج ہم پھر بھی ذلیل وخوار اور رُسوا ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ ساری خواہشات،ارمان اور آرزوئیں چاغی کی پہاڑی پر ایٹمی دھماکے کی دھول میں ہی کہیں کھوگئی ہیں، آج بھی ہماری جانوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں، کل تک ہمیں بونگے ہندو بنیے ڈراوا دیتے تھے لیکن آج تیسری دنیا کا کٹھ پُتلی چغہ پوش مسخرہ بھی ہمیں دھمکانے سے نہیں جھجکتا، دشمن ہمارے ایٹمی پلانٹ تک پہنچنے کے لیے ہزار حیلے بہانے کررہاہے، وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح پاکستان کو نیو کلیئر ہتھیار سے محروم کردیا جائے، ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ایٹم بم کی آڑ میں ہمارے اوپر کونسی قیامت مسلط ہونے والی ہے، آج دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت پورے عالمِ کفر کے نرغے میں ہے، آج دشمن ہمارے اہم اہم تنصیبات، حساس مقامات اور ہمارے قلب میں خنجر گھونپ رہا ہے،آج بھی جبکہ دشمن ہماری شہ رگ کے قریب پہنچ چکا ہے،اب کی بار بھی ایسا ہی منظر دیکھنے میں آرہا ہے کہ قوم تو اس لحاظ سے گروہوں میں نہیں بٹی ہوئی لیکن سیاست دان ، لیڈرز اور قوم کے سیاہ و سفید کے مالک ہی آپس میں دست و گریباں ہے، قوم نے ہر مصیبت کی گھڑی میں اپنا کردار ادا توکیا ہی لیکن ہمیشہ پیچھے رہ جانے والے رہنماہی تھے، ہم بھی اس کسان کی طرح احمقوں کی جنت میں جی رہے ہیں،خدارا ! ہوش کے ناخن لیجیے، ہماری قومی سلامتی پر انتہائی کڑا وقت آپہنچا ہے، ہماری سلامتی اور بقا ایک کچے دھاگے سے لٹک رہی ہے، ویسے بھی ہم اب تک بہت کچھ کھوچکے ہیں، اللہ نہ کرے کہیں ہم اسی جوڑ توڑ میں ایٹم بم بھی نہ کھو دیں۔

May 28, 2015

موبائل فون
March 21, 2019
بیٹا، ذرا اپنا موبائل دینا۔ بیٹے نے ایک منٹ کہا اور پھر تمام میسجز ان باکس اورآؤٹ باکس سے ڈیلیٹ کر دیے۔ تمام لڑکیوں کے نمبر ڈیلیٹ کر دیے۔ تمام تصویریں ڈیلیٹ کر دیں۔ پھر اپنے والد کی طرف بڑھایا اور کہا یہ لیں ڈیڈی۔ تو ڈیڈی مسکرا کر بولے، اچھا چھوڑو مجھے ٹائم بتا دو۔ میں صرف وقت دیکھنا چاہتا تھا۔ اور بیٹے کی حالت پھر دیکھنے کی تھی۔ کیا خیال ہے،آج کل کی نوجوان نسل کدھر چل رہی ہے؟ کچھ ایسی ہی صورت حال ہمارے گھر کے نوجوانوں اور سکول ، کالج کے بچوں کی نہیں ہے۔ ان سے بڑا کوئی موبائل تو مانگ لے تو یا تو اس پر 3، 4 سیکورٹی کوڈ لگے ہوتے ہیں یا پھر بیلنس نہیں ہے، یا آپ فلاں سے لے لیں نا۔۔ یہ تو خراب ہے وغیرہ کے بہانے سننے میںآتے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ بچہ اور کچھ کرے یا نہ کرے، اسکے موبائل میں اگر تو سادہ سے ہے تو لڑکیوں کے نمبر، پیغامات ہوں گے۔ اور اگر رنگین ہے ، سنگین ہے تو اس میں غلط قسم کا مواد ہو گا۔ بے ہودہ فلمیں، گانے، تصویریں ہو ں گی۔ کیا موبائل کا یہی استعمال ہے؟
موبائل ہو یا کوئی بھی استعمال کی چیز، اسکا اچھا یا برا استعمال انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جب وی۔سی۔آر نیا نیا آیا تھا تو علماء کرام نے فتوٰی دے دیا تھا کہ اسکو استعمال کرنا حرام ہے۔ تو کیا لازمی ہے کہ ہم وی سی آر میں فلمیں ہی دیکھتے۔ کیا ویڈیوز میں حمد و نعت، اسلامی تقریں وغیرہ نہیں ملتیں۔ جیسے آج کل سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز ہیں۔ یہ تو ہم پر منحصر ہے کہ ہم موبائل کو بھی کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ آیا گانوں کے علاوہ کبھی کسی نے کچھ اور سننے کی کوشش کی۔ کیا جس شوق سے گانے سنے جاتے ہیں ، اسی شوق سے یا اس سے کم یا زیادہ کسی نے قرآن کی تلاوت سننے کی کوشش کی، کسی نے حمد و نعتیہ کلام بھی موبائل میں لوڈ کیا ہوا ہے۔ کیا لاز می ہے کہ ہر کسی کے پاس موبائل ہو، چاہے وہ سکول جاتا بچہ ہو یا کسی دفتر میں کام کرنے والا فرد۔ وہ ریڑھی کا مزدور ہو یا کسی کارخانے کا مالک۔
یہ ٹھیک ہے کہ آج سیکوئی 10سال پہلے موبائل ایک فیشن تھا اور جس کے پاس ہوتا تھا وہ اس کو ہاتھ میں لے کر چلا کرتا تھا۔ اور وہ ہاتھ اسکے بدن سے 2 فٹ دور ہوتا تھا جیسے کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہے۔ لیکن آج کل تو چائینہ والوں نے موبائل کی قیمتیں اتنی کم کر دی ہیں کہ ہر فرد کے پاس موبائل ہے۔ اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو میں ذاتی طور پر اسکے بارے میں یہی کہوں گا کہ یا تو وہ سوشل نہیں ہے کہ اس کا معاشرے کے لوگوں سے ملنا جلنا کم ہے یا پھر وہ دنیا میں بالکل تنہا ہے۔ اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں ، نہ ہی کوئی دوست یار ہے جس سے وہ رابطے رکھ سکے۔ بہرحال موبائل جس کے پاس بھی ہے، آج کل 50فیصد لوگوں کی وہ ضرورت ہے کہ اسکے بنا انکا کاروبار نہیں چلتا، یا ہر لمحے انھیں اپنے متعلقہ افراد سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ 30 فیصد افراد نے بس موبائل رکھا ہوا ہے کس اگر کسی نے رابطہ کر لیا تو ٹھیک، نہ کیا تو بھی کوئی بات نہیں۔ یا خود ہی کسی بہت اشد ضرورت کے تحت کسی سے رابطہ کر لیا۔ البتہ جو باقی 20 فیصد بچے ہیں انکے پاس موبائل نہی ہوتا تو معاشرے میں بہت سکون ہوتا۔ ان 20 فیصد کی وجہ سے ہی موبائل سروس پروائیڈر کمپنیوں نے مختلف قسم کے پیکجز رکھے ہوئے ہیں۔خاص طور پر گھنٹہ پیکج، نائیٹ پیکجز وغیرہ۔ اور ان 20 فیصد میں سے 80 فیصد طلباء و طالبات ہیں جو اپنی نصابی کتب پڑھنے کی بجائے غیر نصابی دلچسپیوں سے متعلقہ گپ شپ میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ بہت کم اس طرح ہوتا ہے کہ ان پیکجز کا فائدہ اٹھایا جائے۔ یعنی اگر طالب علم
کو اپنے کسی اسائنمنٹ کی سمجھ نہیں آرہی، کوئی سوال نہیں سمجھ آرہا تو وہ اپنے سے زیادہ ذہین طالب علم کو کال کر کے گھنٹہ گھنٹہ اس سے بات کرے اور اس مسلے کو سمجھے۔
ان لیٹ نائیٹ پیکجز، ان گھنٹہ پیکجز ، ایس۔ ایم۔ایس بنڈلز کی وجہ سے بے حیائی بھی بہت پھیل رہی ہے اور اس میں بھی زیادہ تر نوجوان نسل شامل ہے۔ کیونکہ جب انکو فری میں موبائل اور اس پر سستے ترین کال ریٹس ملیں گے تو وہ گپ شپ لگائیں گے۔ گپ شپ سے بات آگے بڑھے گی، ملاقات تو جائے گی۔ ایک ، دو ملاقاتیں، پھر لنچ کی دعوت ، پھر ڈنر اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے
آپ سے پھر تم ہوئے، پھر توں کا عنوان ہو گئے
نوجوان نسل کی اس بے راہ روی کے جتنے ذمہ دار موبائل سروس کمپنیاں ہیں اتنا ہی نوجوانوں کے والدین یا انکے سرپرست بھی ہیں۔ اگر وہ وقتاً فوقتاً وقت نکال کر اپنے بچوں کو چیک کرتے رہیں، انکے موبائل کو کبھی کبھار اپنے پاس رکھ لیا کریں۔ خاص طور پر رات کو ان کو نہ دیں، تو کیا وجہ ہے کہ یہ بے حیائی کم نہ ہو۔ اگر والدین دیکھیں کہ بچے کے موبائل کو آن کرتے ہوئے اس پر کوڈ لگا ہوتا ہے، یا لاک ان لاک کرتے ہوئے کوڈ ہوتا ہے تو سمجھ لیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اسکے بعد بھی اگر یہ والدین اس بات کو نظر انداز کر دیں تو قصور پھر سرا سر انکا ہی ہوا، نہ کہ موبائل کمپنیوں کا۔
آج کل جو سمارٹ فون کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے، اس نے تو خاص طور پر زندگی کو عجیب سا کر کے رکھ دیا ہے۔ دوست اگر کہیں خوش قسمتی سے مل بیٹھے ہیں تو چند باتیں کرنے کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے جیب سے موبائل نکال کر اپنے اپنے کام میں شروع ہو جاتے ہیں۔کوئی فیس بک میں بزی، کوئی وٹس ایپ میں مصروف ہو جاتا ہے تو کوئی اپنے فرینڈز کو میسجیز کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ تو کیا ضروری تھا کہ یہ دوست آپس میں مل بیٹھتے۔موبائل نے انسان کی سوشل لائف تک خراب کر دی ہے۔ گھر میں بیٹھے ہیں تو بچوں کو، بیوی کو توجہ نہیں، بس موبائل کھولا ہوا ہے اور اس میں آنکھیں رکھی ہوئی ہیں۔دماغ بھی ادھر ہی اور کان بھی ادھر ہی لگے ہوئے ہیں۔ بچے کچھ کہہ رہے ہیں، کچھ دکھانا چاہ رہے ہیں، ان کا جی چاہتا ہے کہ ان کا والد ان کی بات کو سنے، ان کو توجہ دے۔ لیکن والد محترم کو موبائل سے فرصت ملے گی تو کہیں اور توجہ دیں گے۔
پہلے جو فون ہوتے تھے وہ کی بورڈ والے ہوتے تھے جس میں ایک بٹن پر تین چار حروف ہوتے تھے۔ استعمال کنندہ کی اتنی پریکٹس ہو گئی تھی کہ بنا موبائل کو دیکھے اگر کسی کو پیغام بھیجنا ہو تو اس پر لکھ لیتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ گلیوں، سڑکوں پر جاتے ہوئے بھی ادھر ادھر دیکھ کر گزرتے تھے۔ لیکن ان سمارٹ فونز کی وجہ سے بہت سے حادثات نے بھی جنم لیا ہے۔ چونکہ سمارٹ فونز کی سکرین پر انگلی سے یا سٹائلس سے ٹچ کرنا ہوتا ہے تو اسکے لیے نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اب ایک شخص چل بھی رہا ہو، اور ساتھ میں سمارٹ فون سے میسج بھی کر رہا تو اسکی توجہ ایک طرف ہی ہو سکتی ہے۔ یا سڑک پر یا موبائل پر۔ اب جو موبائل پر نظر رکھتے ہوئے روڈ کراس کرے گا، اللہ پاک بچائے کسی کو بھی کسی بھی حادثہ سے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے۔
ہر چیز کا استعمال انسان کی اپنی صوابدید پر ہوتا ہے۔ کوئی اسکو اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے تو کوئی اسکے استعمال میں لاپرواہی برتتا ہے۔ہم نے تو اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو نہیں چھوڑا تو یہ تو پھر موبائل ہے۔ ہم نے قرا?ن پاک کو خوبصورت ریشمی غلافوں میں بند کر کے طاقوں میں رکھ دیا ہے۔ مٹی سے اٹے ہوئے یہ غلاف کبھی کبھار جب گھر میں کوئی دعا کرانی ہو، کوئی چہلم و سالانہ تقریب منعقد کرانی ہو تو صاف کیے جاتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ اس قرآن پاک سے ہم لوگوں نے تعویذ بنانے کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ توبہ نعوذ بااللہ، استغفراللہ اکثر لوگ تو قرآن کی آیات کو ہی جادو ٹونہ کے لیے استعمال کرتیہیں۔ جب ہم نے قرآن کا یہ حال کیا ہوا ہے تو موبائل تو پھر مشین اور انسان کی بنائی ہوئی چیز ہے۔اسکو ہم کیسے درست استعمال کر سکتے ہیں۔ بات قابلِ غور ہے اگر کوئی کرے تو۔
16 February 2015