Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

میرے کالمز

اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد
July 5, 2020

اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد

کتنے فخر سے کفر کا ساتھ دے کر اس کو پھیلانے کی بنیاد رکھتے ہوئے فوٹو سیشن کروایا جا رہا ہے۔ اکڑ کر یوں کھڑے ہیں جیسے اللّٰہ کے دین کو روند کر اور کفر کی جڑ کو پانی دے کر کوئی بہت اعلٰی ترین کام کیا ہے۔ کاش قرآن کو بچپن میں پڑھ کر اسے طاق میں نہ رکھتے بلکہ اس کو دل سے لگا کر اس اس کا ترجمہ پڑھتے، کسی عالم سے اس کی تفسیر پڑھ کر اسے سمجھتے، اگر خود نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین صرف زبان سے کہنا کافی نہیں ہوتا۔۔ جب صرف اللّٰہ ہی کی عبادت کا نعرہ بلند کیا جائے تو پھر کفر کا ساتھ دینے کے کیا معنی۔ پھر تو اس کی پرچھائیں سے بھی بچنا چاہیے،

چہ جائیکہ اس کو باقاعدہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ قرآن پاک میں اللہ نے سیدھا سیدھا فارمولا بتا دیا ہے۔۔”اور تمہیں اس قوم کی دشمنی جو کہ تمہیں حرمت والی مسجد سے روکتی تھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ زیادتی کرنے لگو، اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔” (سور? المائدہ۔ آیت2)واضح ہے کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کرنی جو تمھیں تمھاری عبادت گاہوں سے روکتے تھے۔ یعنی اب ان کو ان کی عبادت گاہوں سے منع نہیں کرنا۔یا ان کو اور کسی قسم کی تکلیف دینا۔ لیکن یہ بھی نہ ہو کہ ان کے گناہوں میں اور ان کے کفر میں ان کے ساتھ نہیں مل جانا اور ان کو آگے بڑھنے میں ان سے تعاون کرنے لگ جانا۔ کتنی صاف بات لکھی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ہر گز گناہ میں اور ظلم میں مدد نہیں کرنی۔ لیکن بت پرستی کو بڑھاوا دینا، ان کو مندر خود بنا کر دینا کیا ان کے شرک میں ، کفر میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کے برابر نہیں ہے؟ اور جب وہ لوگ، جو اس تعاون کے بارے میں ذمیوں کے حق کی بات کریں گے، وہ بھی اسی آیت کے زمرے میں آئیں گے۔ ذمیوں کو یعنی غیر مسلموں کو پاکستان میں کون سے حقوق نہیں دیے گئے؟ سب ان کو میسر ہیں۔ وہی نہیں میسر، جن سے ہمیں ہمارا دین منع کرتا ہے۔ حقوق کی بات ہو رہی ہے نہ کہ ان کے مذہب میں ان سے تعاون کی۔ یہاں حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب موجودہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد تو پہلے دن سے ہی سامنے آگیا تھا، اب ان کے اعمال پر بھی شک کرنے کو دل کرتا ہے۔ کبھی قادیانیوں کو اپنے مشیر بناتے ہیں تو

کبھی انھیں اونچی نشستیں فراہم کرتے ہیں۔ گذشتہ حکمران کہتے تھے کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں تو موجودہ حکمرانوں نے اس بات کو سچ ثابت کرکے دکھایا کہ شریف برادران نے غلط نہیں کہا تھا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ متحدہ عرب امارات میں بھی ہم کچھ ماہ پہلے دیکھ چکے ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر میں نہ صرف مدد کی گئی بلکہ پھر اس کا افتتاح بھی حکومت وقت نے کیا۔ ہمیں تو چلو عربی نہیں آتی۔ شاید ہم قرآن کی آیات کی غلط تشریح کرتے ہوں گے، غلط ترجمہ پڑھتے ہوں گے لیکن کیا وہ بھی عربی سے نابلد ہیں۔ یا قرآن کی عربی ان کی عربی سے مختلف ہے جو انھیں بھی سمجھ نہیں آتی۔

بالکل نہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس کفار کے بے بنیاد پرپیگنڈہ کی وجہ سے کہ اگر وہ غیر مسلم ممالک سے روابط نہیں رکھیں گے تو ان کی معیشت خراب ہو جائے گی۔ وہ اگر جمہوریت کا راگ اپنے ملک میں نہیں الاپیں گے تو ان کو حکمرانی کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ سعودی عرب میں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات میں جمہوریت کا راگ الاپا گیا ہے۔جب سے خلافت کا خاتمہ ہوا، تب سے وہاں بادشاہت کا سلسلہ رواں ہے۔ بات ہو رہی تھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی۔جس کی تعمیر کے لیے درخواست دینے والوں میں اسلام آباد کے ایف 6 سیکٹر کے لوگ بھی شامل تھے، جو کہ ہندو نہیں  تھے۔ اسلام آباد میں پہلے بھی تو کافی مندر ہیں۔ ان کا کیا؟ ایک سو اسی افراد کے لیے کیا ایک سو اسی مندر چاہییں؟ تو بنائیں، اپنے خرچے پر، اپنی خریدی گئی زمین پر۔۔ کوئی نہیں روکے گا۔ بس حکومت یا کوئی مسلمان ان کی تعمیر میں ان سے کسی طرح تعاون نہ کرے۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر کوئی مسلمان مزدور بھی اس کی تعمیر میں شامل ہو گا، تو وہ مزدور اگر جانتا ہے کہ مندر بن رہا ہے، تو گناہ گار ہو گا۔

میری اس بات پر یقیناً لوگ کہیں گے کہ یہ اگر کوئی ہندو مزدور مسجد بنائے تو ۔۔ مسلہ ایک ہندو کے مسجد میں حصہ ڈالنے کا نہیں ہے۔ مسلہ اللہ کے حکم کا ہے۔ صریح حکم ہے کہ گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہیں کرنا۔۔ کوئی ان کو ان کی عبادت کرنے سے تو نہیں روک رہا۔ کوئی ان کو ان کی  اپنی زمین پر مندر بنانے سے نہیں روک رہا۔ وہ بنائیں۔ بس جس چیز سے ہمیں قرآن نے کسی بھی دیگر مذہب کے حوالے سے منع کیا گیا ہے، اس سے ہمیں رک جانا چاہیے۔ یہی ہماری التجا ہے۔ یہی اللہ کا حکم اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔

 مندر کے لیے زمین کی تفویض سیکٹر ایچ نائن میں کی گئی ہے۔ درخواست میں لکھا گیا تھا کہ ان کے پاس دیوالی اور دیگر تہوار منانے کے لیے کوئی عبادت گاہ نہیں ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کہ تم لوگ تو اپنے گھروں میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بھگوان بنا کر پوجتے ہو، تو عبادت گاہ کی کیا ضرورت۔ کون سا وہ لوگ اجتماعی عبادت کرتے ہیں اپنے بھگوان کی۔ ہر کسی نے اپنا علیحدہ بھگوان بنایا ہوا ہے۔ کروڑوں بھگوان ہیں۔ آتے جاتے، بندر، ہاتھی،  گھوڑا، سانپ، شیولنگ، ہر کسی کو پوجتے ہیں، تو عبادت گاہ کی ضرورت کیا ہے۔ اگر بفرض محال بہت ہی ضرورت ہے تو پھر راول ڈیم کے پاس جو مندر ہے، اس کو دوبارہ اپنے خرچے پر تعمیر کر دو۔ ویسے تو پاکستان میں فساد اور دہشت گردی کے لیے بے تحاشا پیسہ ہے لیکن اپنے ہی مندر کی تعمیر کے لیے ڈونیشن مانگتے ہیں۔ مندرکی تعمیر میں تعاون کی غرض سے حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے رد میں قرآن کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مختصر سا واقعہ کا حوالہ کہ جب منافقین نے مدینہ میں ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی وہ ایک نماز وہاں پڑھا کر افتتاح کر دیں تو اللہ نے ہمارے آقا کو روک دیا اور اس مسجد کو مسجد ضرار کا نام دیا کہ جس کی بنیاد ہی شر پر رکھی گئی تھی۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو گرانے کا حکم دے دیا تھا۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مسجد اگر شر کی بنیاد پر گرائی جا سکتی ہے توکوئی مندر یا کسی بھی اور مذہب کی کوئی بھی عبادت گاہ کی تعمیر حکومت وقت کس طرح کر سکتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ حکومت وقت کا یہ فیصلہ اللہ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے شدید منافی ہے۔ اللہ تو قرآن پاک میں ان لوگوں کے لیے جن کو حکومت دی جائے ، فرماتے ہیں: “وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔” (سور? الحج۔ آیت۔ 41)۔۔

جب کہ یہاں نماز کی پابندی کا حکم تو درکنار، الٹا کورونا کا بہانہ بنا کر مساجد میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ بازاروں میں، شادی کی تقریبات میں تو کورونا ہر گز نہیں پھیلتا۔ بس پھیلتا ہے تو مساجد میں نمازیوں کے ذریعے، جو پانچ وقت وضو کرکے آتے ہیں، اللہ کا نام اپنی زبان سے لیتے ہیں اور اسی کا ذکر بلند کرتے ہیں۔ نیکی کے کام نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ سرعام نیکی کر ہی ڈالے، جو ریاکاری سے پاک ہو تو حکومتی فوجدار (اہلکار) اس کے پیچھے ہاتھ پاؤں دھو کر پڑ جاتے ہیں کہ نیکی کرنے کے لیے یہ رقم کہاں سے آئی۔ کیا وہ سیاستدان بننا چاہتا ہے؟ کیا وہ فلاں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ہزار ہا طریقوں سے اس کو پریشان کیا جاتا ہے۔ اس کے نیک کا م میں اس سے تعاون کرنے کی بجائے اس کو اس حد تک مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نیک کام سے باز آجاتا ہے۔کاش سب سے پہلے ہمارے عوام کو اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کا موقع ملے اور وہ درست سمت میں اپنے آپ کو چلا سکیں اور اس کے بعد ایسے حکمرانوں کا انتخاب کریں جو نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں مدد گار ہوں اور گناہوں کے کاموں سے روک سکیں۔

بحیثیت قوم ہماری اخلاقی حالت
June 29, 2020

بحیثیت قوم ہماری اخلاقی حالت

اللّٰہ تعالیٰ کے پاک نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر اک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اسی قول کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن اللّٰہ کو کیا جواب دیں گے۔ کبھی کوئی چھوٹا سا کنکر اٹھا کر کہتے کہ کاش وہ ایک کنکر ہوتے کہ جس سے قیامت کے دن حساب کتاب تو نہیں ہو گا۔ ان کے پیش رو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کسی پرندے کو اڑتا دیکھتے تو آہیں بھرتے کہ کاش ایک پرندہ ہی ہوتے جو آزاد فضاؤں میں بنا کسی حساب کتاب کے ڈر کے اڑتا ہے۔

 اس کے برعکس پاکستان میں کسی محلے کے چیئرمین سے لے کر وزیر اعظم اور صدر تک کی صورتحال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے منسوب ایک قول کے مطابق اختیار ملتے ہی ان کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ اپنے لیے آسان سے آسان تر ذریعہ اختیار کرتے ہیں جو ان کی زندگی کو آسان ترین بنا سکے۔  اس وقت موجود ہر قسم کی سہولت کو اپنے لیے میسر کرنا لازمی سمجھتے ہیں۔  پلک جھپکتے میں ان کی ہر خواہش پوری ہو جائے۔ ان کی اولاد کے لیے، ان کے گھر کے لیے دنیا کی ہر آسائش موجود ہو۔

ان کے دل میں دور دور تک یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سب کچھ کتنے لوگوں کے دلوں کا خون نچوڑ کر حاصل کیا گیا ہو گا۔  کتنی خواہشوں کو پاؤں تلے روندا گیا ہوگا۔ کتنی بچیوں کے ارمانوں کا جنازہ اٹھا ہوگا۔  لیکن یہ سب کچھ کیوں سوچا جائے؟ انھیں تو بس اپنی تجوریوں کو بھرنا ہے۔ پہلے اپنے لیے اور پھر اپنی اولاد کے لیے دنیا بھر کی آسائشوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ کہیں ان کی اولاد کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اگر ان کےگھر نیا مہمان بھی آئے تو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہو۔  بھلے ان کے ہمسائے میں بھوک کے مارے میں کوئی آخری سسکیاں لے رہا ہو۔

بات خواص سے نکل کر عوام تک پھیل چکی ہے۔ عوام نے سوچا کہ جب ہمارے نظام میں کرپشن اس حد تک رچ بس چکی ہے کہ رینٹل پاور پراجیکٹ میں راجہ پرویز اشرف کی ضمانت منظور ہو جاتی ہے۔ شرجیل میمن کے پاس سے ایک جج کی موجودگی میں شراب برآمد ہوتی ہے  اور لیبارٹری اس کو شہد ثابت کر دیتی ہے۔ مسٹر ٹین پرسنٹ کون تھا، سرے محل کا مالک کون تھا لیکن پھر بھی کوئی کرپشن نہیں ۔ تو وہ بھی کیوں نہ بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھو کر ثواب حاصل کریں۔ اب رمضان المبارک ہویا  عید کے دن ۔اس قوم پر کوئی آفت آئے،اپنی اپنی اوقات کے مطابق موقع سے فائدہ نہ اٹھانا شدید ترین گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں جب کوئی مذہبی تہوار ہوتا ہے تو ہر چیز سستی کر دی جاتی ہے۔ یہاں چالیس والا فروٹ  دو سومیں بکتا ہے۔

جب اکتوبردو ہزار پانچ میں مانسہرہ، کشمیر میں شدید زلزلہ آیا تھا تو اس وقت جہاں کراچی سے کشمیر تک کے عوام نے تعاون و مدد کی انتہا کر دی تھی ۔ وہیں پر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جنھوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ جو سامان ٹرک بھر بھر کر بالاکوٹ اور دوسرے آفت زدہ علاقوں کے لیے بھیجا جاتا، وہی سامان دو تین دن کے بعد مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب ہوتا تھا ۔جو خواتین ملبے کے نیچے دب کر فوت ہوئیں، اگر ان کے بازو باہر تھے اور ان پر سونے کی چوڑیاں تھیں، انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں تو بدبختوں نے وہ بھی نہ چھوڑے۔ جن ہاتھوں سے وہ نکل نہ سکے، ان بازوؤں کو کاٹ کر زیور نکالا گیا۔ مکانات کی تلاشی لے کر قیمتی سامان چوری کیا گیا۔

اس وقت قدرت کی طرف سے ایک وبا کورونا وائرس کی شکل میں امتحان یا پھر عذاب کے طور پر انسانوں پر مسلط کی گئی ہے۔ ساری دنیا میں عوام کو سہولیات دی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں ہر سہولت کو چھینا جا رہا ہے۔جب پاکستان میں کورونا کا آغاز ہوا تو ماسک جو دس بیس روپے کا ملتا تھا ایک دم سے مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا۔ پھر ایک سو سے پانچ سو روپے تک فروخت ہونا شروع ہوا۔ ہر اس دکاندار سے لے کر بڑے بزنس مین تک نے فائدہ اٹھایا، جس کا کسی بھی طور اس سے واسطہ تھا۔  اس کے بعد جیسے جیسے کسی دوا کا سنتے گئے کہ کورونا کو ختم کرنے کے لیے کام آتی ہے، وہی دوائی یا تو مارکیٹ سے غائب ہو گئی یا اس کے دام ایک دم سے ہزاروں گنا زیادہ کر دیے گئے۔ اس کی عام مثال سنا مکی ہے۔ جو کبھی دو تین سو روپے کلو ملتی تھی۔  اس کے بارے میں ایک ویڈیو کیا وائرل ہوئی، اس کی قیمت سولہ ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ۔ ڈیکسومیتھازون ایک سٹیرائیڈ میڈیسن ہے۔ اس کے بارے میں علم ہوا کہ کورونا وائرس کے مریض میں قوت مدافعت کو بڑھوتری دے کر مریض کو جلد صحت یاب کرتی ہے۔ دس روپے کی پانچ گولیاں ملتی تھیں۔ ایک دم سے پہلے قیمت بڑھی ۔چار سو کی دس گولیاں ہوئیں اور اب مارکیٹ سے غائب کر دی گئی ہے۔ اور اب بنگلہ دیش سے برآمد کرنے کا پروگرام ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب نے یہ اعلان فرمایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بارےمیں اطلاع ہے کہ وہ خود سب سے بڑے ادوایات کو مہنگا کرنے میں ہاتھ رکھتے ہیں۔ تو ان کا اعلان یقیناً درست ہو گا۔ کورونا کے مریض کو اگر شدید کیفیت میں ہے  تو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دم سے آکسیجن اور اسکے سلینڈر کی قیمت سولہ سو روپے سے بڑھ کر بیس سے پچیس ہزار روپے ہو گئی۔

ہم بحیثیت قوم کس طرف جا رہے ہیں؟ نہ ہمیں اللہ کا خوف ہے نہ ہی اس کے عذاب سے کوئی ڈر۔ قرآن کو طاقوں میں رکھ کر اس کو  بہترین ریشمی غلافوں میں سجا دیا گیا ہے تو اس کی تعلیمات پر عمل کیسے ہو گا۔ سوچیے گا ضرور۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کورونا- جب مجھے ہوا۔۔
June 17, 2020

کورونا … جب مجھے ہوا؟

(ابن نیاز)

دن منگل کا تھا، میری پیدائش کا دن اور تاریخ 9 جون 2020 تھی جو ہر گز میری تاریخ پیدائش نہیں تھی۔ صبح کے چھ بج رہے تھے۔ جب اچانک محسوس ہوا کہ شدید سر درد ہو رہا تھا اور سردی لگ رہی تھی۔۔ بخار محسوس ہورہا تھا (اندازہ تھا کہ سو پلس ہو گا)۔۔ جسم شدید تھکاوٹ اور درد کا شکار… گلے میں شدید دکھن اور درد۔۔ کھانسی بھی ہو رہی تھی۔۔
پنکھا آف کیا۔ پیناڈول کی دو ٹیبلیٹ کھائیں۔ گرم پانی کے دو گلاس پیے۔ تقریباً دو اڑھائی گھنٹے تک اسی کیفیت میں بے چین رہا۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب صرف بخار کم ہوا اور جسم کے درد کو پچاس فیصد آرام آیا۔۔ سر میں درد کی وہی کیفیت۔ تھی۔ پورے سر میں درد۔
ایک ڈاکٹر کو کال کی۔ اس نے مشورہ دیا کہ اب کوویڈ انیس کا ٹیسٹ کروا لوں کہ سر درد اور جسمانی تھکاوٹ اور بےچینی اور کھانسی بنیادی علامتیں ہیں۔
کلثوم ہسپتال، بلیو ایریا، اسلام آباد گیا۔ ساڑھے نو بجے صبح ٹیسٹ کروایا۔۔ واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ آفس نہیں گیا۔ ساڑھے دس بجے ناشتہ کیا اور پھر پینا ڈول اور ایزومیکس بھی ساتھ لی۔ اسی ڈاکٹر نے کہا تھا۔
لنچ تین بجے کیا۔ پھر پیناڈول کھائی۔ ڈنر کے بعد بھی۔۔ لیکن سر درد کو آرام نہیں آیا۔ بخار وقفے وقفے سے آتا جاتا رہا۔ شاید پیناڈول کے اثر تک ختم ہو جاتا تھا۔ پونے دس بجے ٹیسٹ رپورٹ آن لائن آئی جو کورونا پازیٹو تھی۔
صبح گھر چلا آیا اور بیٹھک میں آئسولیٹ ہوا گیا۔ ڈاکٹر نے پیناڈول ( دو دو تین وقت)، ایزو میکس (صبح شام) اور ساتھ وٹامن سی کی ٹیبلیٹس کے استعمال کا نسخہ بتایا۔ گرم پانی، ادرک دارچینی کا قہوہ بھی ساتھ۔۔
باقی فرصت کے اوقات میں پڑھنا یا لکھنا یا موبائل…نیند البتہ لازمی کرنی رات کو کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے۔۔
یہ صورتحال تھی۔۔۔

**********

اب یہ ہوا کیسے؟ وجہ کیا بنی۔۔ تو ابھی تک کوئی بھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کس شکاری کے ہاتھوں وہ شکار ہوا۔ میں بھی نہیں بتا سکتا۔ جمعہ 5 جون کو آفس کے آفیسر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ انھیں سر میں بھی درد تھا اور گلا بھی خراب تھا۔ وہ تو بارہ بجے سے پہلے ہی چھٹی کر گئے تھے لیکن اس ایریا کو مشکوک کر گئے۔ پھر پیر 8 تاریخ کو میں نے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کیا۔ اس سے پہلے پورے کورونا کے دوران یکم فروری سے 6 جون تک پرائیوٹ گاڑی میں سفر کرتا رہا تھا۔
اب ان دو وجوہات میں سے کون سی وجہ رہی، یہ معلوم نہیں۔ جس کی بنیاد پر مجھ پر کوویڈ 19 کا کوئی وائرس بھٹک کر حملہ کر گیا۔ لیکن اس کا اثر، وہی بھی بدترین اثر اگلی صبح پیش آیا، جس کا ذکر کر چکا ہوں۔

 

**********

تاریخ: 15 جون 2020

آج ایک ہفتہ پورا ہو گیا۔ احتیاطی تدابیر اور مذکورہ بالا ادویات و دیگر اشیاء کے استعمال سےالحمدُ للّٰہ بہت بہتری آئی۔ نیند کا مسلہ میرے ساتھ شاید گذشتہ ایک سال سے ہے۔ ایک دو راتیں بالکل نہیں آتی یا دو تین گھنٹے بمشکل وہ بھی قسطوں میں۔۔ پھر تیسری رات آٹھ نو گھنٹے آتی ہے ایک ہی قسط میں… یوں ان آٹھ دنوں میں دو راتیں خوب سویا اور باقی راتیں… کبھی نظم میں بیان کروں گا۔۔
میں کورونا کو مذاق ہی سمجھتا تھا۔ یہی سمجھتا تھا کہ الرجی، زکام، کھانسی وغیرہ سب کو ہوتا ہے۔۔ اور لوگوں نے، خاص طور پر میڈیا نے ہوا بنا کر رکھا ہے۔۔ لیکن جب خود ہر بیتی تو سمجھ آیا کہ اللّٰہ کی مرضی کے بغیر نہ تو یہ وبا آئی ہے، نہ اس کے حکم کے بغیر جائے گی۔۔
کورونا وائرس کے ابھی تک کے اثرات میں سب سے برا سونگھنے کی صلاحیت کا متأثر ہونا ہے۔۔ مجھے بالکل بھی کسی قسم کی سمیل نہیں آتی۔ کہاں آئسولیٹ ہوا ہوا ہوں، وہاں سات آٹھ قسم کے پرفیوم کی بوتلیں رکھی ہیں۔ سب کو سمیل کرکے دیکھ لیا۔ شروع کے دو تین دن تو پتا چلتا رہا لیکن اب کچھ نہیں۔ ہاں ذائقہ کی حس الحمدُ للّٰہ ابھی برقرار ہے۔ نمک تیز ہو یا۔ مرچ ہو۔ آم پھیکا ہو یا چیری کھٹاس لیے ہوئے ہو… سب پتا چلتا ہے۔۔
کمرہ بند تو نہیں، آئسولیشن بھی سو فیصد نہیں۔ ایک دروازے سے کھانے پینے کا سامان ملتا ہے، ڈسپوزل پلیٹوں میں۔۔ ساتھ میں۔ کبھی پھلوں کابجوس چل رہا ہے تو کبھی پھل قاشوں کی صورت میں پیش ہو رہے ہیں۔ اور دوسرے دروازے سے مابدولت باہر قدم رنجہ فرماتے ہیں۔ گھر والے سمجھتے ہیں ہیں کہ ہم خرگوشوں کو نیند میں تلاش کر رہے ہوں گے، اور ہم بقدم خود، پانچ دس منٹ باہر کی سیر کرکے آجاتے ہیں۔۔ لیکن یہ نہ سوچیے کہ احتیاط نہیں کرتے ہوں گے۔ اجی کسی بھی نقاب پوش حسینہ کی طرح، سر تا پاؤ‌ں پابند لباس ہو کر بلی کی مانند دبت پاؤں جاتے ہیں اور شیر کی طرح ٹہلتے ہوئے واپس آتے ہیں۔ یوں خالہ بھانجے کی ٹکر کرائی جاتی ہے اور مابدولت بچ نکل جاتے ہیں۔۔۔

**************

فی الحال ، الحمدُ للّٰہ، بہت بہت بہتری ہے۔ بس گھبرانا نہیں چاہیے، نہ ہی اسے یا کسی بھی بیماری کو دل پر لینا چاہیے تو ہر بیماری اللّٰہ کے فضل و کرم سے آدھی خود دور ہو جاتی ہے، باقی آدھی دوا کی بدولت، اللّٰہ دور فرما دیتے ہیں۔ بے شک اس کورونا کا علاج دریافت نہیں ہوا لیکن جیسا بتایا جاتا ہے کہ اس وائرس جو اپنی طبی موت مرنے کے لیے معدہ میں لے جائیں، جہاں یہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ تو ہم بھی گذشتہ ایک ہفتہ سے یہی کر رہے ہیں۔ کبھی پانی، کبھی جوس اورکبھی قہوے سے اسے حلق سے نیچے دھکیلتے ہوئے معدہ کی طرف ف بھیج دیتے ہیں۔ یوں اپنا علاج بھی کر رہے ہیں اور کووڈ کا بھی۔
تنہائی کے عالم میں دماغ کبھی خالی ہوتا ہے تو اسے شیطان کا کارخانہ بننے سے بچانا بھی بنتا ہے۔ اس لیے یہ گویا اس شخص کے لیے بھی اعتکاف کی طرح کا موقع ہو جاتا ہے جو کبھی اعتکاف نہ بیٹھا ہو۔ اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ اللّٰہ کے ذکر سے اپنی تنہائی کو منور رکھے یا شیطان کی خلوت کو آباد رکھے ارطغرل دیکھتے ہوئے۔۔۔
اکثر پوچھا گیا سوال کرکے کہ تنہائی میں گھبراہٹ نہیں ہو رہی یا کوئی پریشانی تو حملہ نہیں کر رہی۔ اکثر لوگ تین چار دنوں میں ہی نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں لیکن یہ بھی ان کی زندگی کی تربیت کا ایک حصہ سمجھ لیا جائے، تو بے جا نہ ہو گا۔ پریشانی ان لوگوں کو ہوتی ہے، جو اسے سر پر سوار کرتے ہیں۔ جو اللّٰہ کو مان کر، اللّٰہ کی مانتے ہیں تو اللّٰہ ان کو توفیق دیتا ہے کہ وہ الٹا پریشانی کو لگ جائیں۔ تو ہم بھی یہی کرتے ہیں۔۔ کورونا کو لگ گئے ہیں۔

**************

 

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
July 16, 2019

ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوںپر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی ، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں ۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ” اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب ، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی ، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

جدھر سینگ سمائے
July 9, 2019

پاکستانی قوم کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اپنے ہی حقوق سے بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں سنا ہے کہ چینی صرف ایک چند پیسے یا ایک دو آنہ فی کلو بڑھی تھی تو عوام سڑکوں پر نکل آئی تھی اور ایوب خان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔،کہ مہنگائی ختم کرو۔مخالف پارٹی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا تھا اور غلط قسم کے نعرے بھی اپنے ورکروں سے لگوائے گئے۔ اب گذشتہ چند سالوں سے ہر حکومت میں ہر بار نزلہ عوام پر گرتا ہے، زلزلہ عوام کے گھروں پر آتا ہے، سونامی اور طوفان سب نے عوام کا ہی رخ کیا ہوا ہے لیکن مجال ہے کہ اب اس عوام میں یکجہتی دیکھنے کو مل جائے۔ ان پر مہنگائی کے بم گرائے گئے، ان پر جینا حرام کیا گیا ، ان کا حقہ پانی بند کیا گیا، ان کے رہنے میں رکاوٹوں کے انبار کھڑے کیے گئے لیکن اس عوام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
گزشتہ حکومتوں میں تو پھر قسطوں میں مہنگائی آتی تھی۔ کچھ اندازہ دنوں پہلے ہو جاتا تھا کہ اگلے چند دنوں میں مہنگائی بڑھے گی۔ اتنے فیصد اشیائے صرف کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ اس لحاظ سے ہر دوسرا پاکستانی اپنے بجٹ کا حساب کتاب لگا لیتا تھا۔ لیکن جب سے یہ حکومت، جس سے شاید پاکستان بننے سے اب تک سب سے زیادہ امیدیں عوام کو وابستہ تھیں، معرضِ وجود میں آئی ہے، تب سے ہر روز مہنگائی آکاس بیل کی طرح عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔کبھی گیس مہنگی کی جا رہی ہے کہ جو بل پہلے دو ہزار روپے آتا تھا اب ایک دم سے پانچ ہزار سے سات ہزار روپے ہوگیا ہے۔ پہلے گھر میں دو ہزار روپے میں گیس چوبیس میسر ہوتی تھی، اب دس گھنٹے ہوتی ہے اور باقی غائب۔ جو میسر ہوتی ہے وہ بھی ٹم ٹم کرتی نظر آتی ہے جس پر صرف چاول ہی دم پر رکھے جاسکتے ہیں۔ بظاہر سبزی اور فروٹ سستا ہے لیکن صرف ان سے تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔صحت صفائی کا نظام اسی طرح ہے جیسے گذشتہ پچاس ساٹھ سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ صرف معیشت کو درست کرنے کی سمت میں تو کام نہیں کرنا۔ ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ۔ عوام بھلے بلبلائے یا تڑپے، کسی کو کیا؟
معیشت درست کرنی ہے ، بیرونی سرمایہ کاری اگر ملک میں لانی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ بند کارخانے کھولے جائیں۔بند کارخانوں کو صرف سرمایہ کی ضرورت ہے۔ تجربہ کار افراد ان کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ جو کچھ بنائیں گے بہترین معیار کا بنائیں گے۔ اس حد تک معیاری کہ بین الاقوامی معیارات کی تنظیم اس چیز کو بے اختیار ہو کر اوکے کرے اور پھر پاکستان اس کو اپنی شرائط پر برآمد کر سکے۔ ساتھ میں کارخانوں کو یہ بھی کہا جائے کہ ابتدائی تین سالوں تک وہ منافع کا ساٹھ فیصد حصہ حکومت کے خزانے میں جمع کرائے گی تا کہ جو حکومت نے ان کو ادا کیا ہے وہ واپس آسکے۔ اس طرح کارخانے بھی چل سکتے ہیں اور حکومت کا خزانہ بھی خالی نہیں رہے گا۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ جو بند ہیں وہ تو ہیں ہی،مزدی بھی بندش کی طرف جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں درآمدات کی کھپت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی کا اژدھا جو کبھی ایک بالشت کا سنپولیا ہوتا تھا اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ بظاہر قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ لیکن سب کچھ ممکن ہے۔ یہ دنیا ہے ، اگر کچھ ناممکن ہے تو وہ صرف وہ کام ہیں جو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ورنہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
حج پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے۔ کہ عوام کے ٹیکسوں پر سود لگا کر حج کی سبسڈی دی جاتی تھی تو اب سود سے حج تو ممکن نہیں۔ مان لیا درست ہے۔ پھر تو ہمارے محترم وزیر اعظم صاحب ان سبسڈیوں پر بھی ایکشن لیں جو عوام کے ٹیکسوں سے کھانے پینے کی چیزوں پر دی جاتی ہے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور دیگر سیکرٹریٹ کے ملازمین کو دی جاتی ہے۔ باہر کسی بھی کم سے کم تر درجے کے ہوٹل پر چائے کا ایک کپ بیس سے تیس روپے کا ملتا ہے۔ جب کہ سیکرٹریٹ میں دس روپے کا ملتا ہے۔ اور بہت سی کھانے پینے کی چیزوں پر بھی اسی طرح کی سبسڈی مل رہی ہے۔ انصاف سب سے پہلے گھر سے شروع کیا جائے ، اپنے گریبان کو سی کر پھر دوسروں کو کہا جائے تو اس کا فائدہ نسلوں تک کو ملتا ہے۔
اب تک تو پی ٹی آئی کی حکومت کی کسی بھی پالیسی کی سمجھ نہیں آئی۔ یوں لگ رہا ہے جس وزیر کا جدھر دل کر رہا ہے ادھر ہی اس کا سینگ سما رہا ہے۔اپنی مرضی کی پالیسیاں لائی جا رہی ہیں۔ عوام کو فائدہ ہو یا نہ ہو۔ گیس کی قیمتیں خود بڑھا کر پھر خود ہی ایکشن لیا جاتا ہے کہ عوام کو بل بہت زیادہ وصول ہوئے ہیں۔ جب رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے اور ساتھ میں سلیب میں تبدیلی یا قیمت میں کمی کی سفارشات کی جاتی ہیں تو ان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس طرح تو سوئی گیس کمپنیوں کو نقصان ہو گا۔ وہ اپنے اخراجات کیسے پورا کریں گے۔ یہی تو مسلہ ہے کہ بجلی اور گیس کے محکموں کے سب ملازمین کو گیس اور بجلی مفت ملتی ہے۔ کیوں؟ جب کہ ان کی تنخواہیں بھی اچھی ہیں اور ان کو دیگر حکومتی سہولیات بھی میسر ہیں تو پھر یہ سبسڈی کیوں؟ عوام کے ٹیکسوں پر یہ دو محکمے کیوں عیاشی کرتے ہیں؟ ان پر کچھ نہ کچھ ایکشن ہونا چاہیے۔ ان ملازمین کو ملی ہوئی گیس اور بجلی کو یہ اپنے اردگرد کے گھروں میں تقسیم کرتے ہیں اور مخصوص رقم بطور منافع ان سے وصول کرتے ہیں۔ آم کے آم گھٹلیوں کے دام۔
عوام بہت پس چکی ہے۔ اگر چند ماہ مزید یہ صورتحال رہی تو مجھے یقین ہے کہ پی ٹی آئی بھی گزشتہ دو پارٹیوں کی طرح عوام کی بد دعاؤں کا حصہ بن جائے گی۔ اگر انھوں نے اپنے سینگوں کارخ درست سمت میں نہ کیا تو کیا پتہ کس مظلوم کی آہ فرش کو ہلا دے۔