Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

سماجی / معاشرتی شاعری

فیصلے کا انتظار کر۔۔۔
January 17, 2018

فیصلے کا انتظار کر۔۔۔

سر عام درندے دندناتے ہیں
پھرتے ہیں ہوس کے پجاری
نہ ڈر کوئی خدا کا ان کو ہے
قانون ان کے گھر کی لونڈی ہے۔۔
کہیں مریم کی لاش نوحہ کناں ہے
تو کہیں زینب کا لاشہ ٹرپتا ہے
کہیں حوا کی ایک اور بیٹی قید میں
ابن آدم کی کال کوٹھڑی میں بند ہے۔۔
اے ابن آدم تیرا بھی گھر ہے
تیرے گھر میں بھی رونق ہے
کہیں کسی کونے سے ایک رحمت پری
اِدھر سے اُدھر اڑتی پھرتی ہو گی
اپنی معصوم سی پیاری بانہیں
تمھارے گلے میں ڈال کر بابا بابا
چاچو، ماموں کی صدائیں بلند کرتی ہو گی۔۔
دیکھ کہیں ہوس تجھ پر حاوی نہ جائے
اپنے ہی گھر ماتم کدہ بنا دے۔۔
اگر کوئی مریم کوئی زینب یا فاطمہ
تیری ذمہ داری ٹھہرا دی گئی ہے
تو رب کے کرم کو قبول کر لے
اس کی رحمت کو سینے سے لگا کر
اپنی گڑیا سمجھ کر اس کو رکھ لے۔۔
بہت ہی نازک آبگینے ہوتے ہیں
جو گھروں کو آباد رکھتے ہیں
گڑیوں سے کھیلنے کے دنوں میں
اے مردِ آزار کیوں آزار دیتا ہے
کیا تمھارا ضمیر چوکا نہیں دیتا
خدا کے نام سے بھی اے ظالم
تجھ کو خوف نہیں آتا۔۔
کب تلک گردن کو طوق سے بچاؤ گے
دنیا میں جو بچ گئے تو کیا
رب کی جہنم میں ٹھوکے جاؤ گے۔۔
اے انسان! یہ زینب تمھاری تھی
کیوں اس کو سرِ بازار رسوا کیا۔۔
کیوں اس کو ہوس کی نگاہ سے تولا
کیوں ایک چمن کو اجاڑ ڈالا۔۔۔
اے ظالم انتطار کر فیصلے کا
جب رب کے عرش کو ہلا ڈالے
آس مظلوم کی آہ جا کر سیدھی۔۔۔
پھر نہ رسی دراز ہے
نہ کوئی تیرا ہمراز ہے

****

قصور کے غمزدہ بچوں کے نام۔
February 10, 2016

تم بے قصور ہو
معصومیت سے چْور ہو
ابھی تو کھیلنے کے دن تھے
ابھی تو پالنے کے دن تھے
کہاں پھنس گئے تم
ان درندوں کے چنگل میں
کیسے مان گئے تم
ان کی چکنی چپڑی باتوں کو۔۔
کیا فانٹا کی اک ٹافی کافی تھی
یا پھر دس روپے جیب خرچ دیا تھا؟
لیکن میرے بچو!
جو سچ مانو تو
قصور ہر گز نہیں تمھارا۔۔
تمھیں کیا معلوم زندگی کیا ہے؟
تمھیں کیا معلوم
کھیل کھیل میں کون کیا کھیلتا ہے؟
تم نہیں جانتے۔۔
کہ یہ درندے شہر کے
بڑے چاپلوس ہوتے ہیں
تمھیں رجھائیں گے
تمھیں سمجھائیں گے
تمھارے بدن کو دھیرے دھیرے
اپنے منحوس ہاتھوں سے سہلائیں گے۔
کاش کہ تمھارے پاپا
اور تمھاری ممی بھی
یہ خیال بھی رکھتے تمھارا۔۔
کہ کیوں تم کھوئے کھوئے رہتے تھے۔
ایک دم سے کیوں لالچ نے آ گھیرا تھا۔۔
کیوں دل نہیں لگتا تھا تب تمھارا
گھر کے کاموں میں
نہ سکول کے کاموں میں۔
کیوں وقت بے وقت باہر نکلتے تھے۔۔
کیوں چھپ چھپ کر تم روتے تھے۔
کاش تمھاری ممی
کھانے پینے میں
اور کپڑوں کی خوبصورتی میں
تمھیں نہ ڈھونڈتیں۔۔
تمھیں کچھ سکھا دیتیں
قرآن کا علم بھی
اور سنتِ رسول ? کیا ہے؟
یہ بھی بتا دیتیں۔
کون ساتھی ہے تمھارا اور کون ابنْ الوقت۔۔۔
یہ تربیت بھی لازمی تھی۔
تمھارے پاپا کو چاہیے تھا
بتاتے تم کو
زندگی کی اونچ نیچ۔۔
محبت کیا ہے، ہوس کیا ہے؟
پاتال میں کیسے۔۔
یہ سطوت کیا ہے؟
کوئی چھوئے جو تیرے نازک بدن کو
تو تم جان لو،
تمھیں معلوم ہو۔۔
محبت میں یہ لمس
یا پھر ہوس کا مارا۔۔
مگر افسوس سے کہوں گا!
ان کو خود سے نہیں فرصت
اور ان میں نہیں ہے اتنی جرا 191ت۔
اب جو پھیلا ہے زمانے میں
یہ زہرِ قاتلانہ
سن کر ، پڑھ کر
ہر فرد ہوا ہے دیوانہ۔۔
افسوس کے اظہار سے
دے مارا ہے لفظوں کا تازیانہ۔۔
مگر افسوس ہے ، صد افسوس ہے۔۔
میڈیا ہمارا خاموش ہے۔
کہنے کو تو منصفوں نے
حق کا اعلان کیا ہے
سچ بات کو ماننے کا
انصاف کو پھیلانے کا
بھرپور اعلان کیا ہے۔۔
مگر یہ کیا؟
سردار ہمارے شامل ہیں
ان کاموں کے ماہر ہیں
جرمِ سیاہ کو گورا سمجھیں
اور بکھری کالک کو بس نقطہ بولیں۔۔
پھر یہ کیسی ہے منصفی۔۔
ثبوت بھی ہیںِ گواہ بھی ہیں
اور سب کے سب جانکاہ بھی ہیں۔۔۔
کہوں گا تو بس یہی کہ۔۔
کہیں ثابت نہ ہو جائے اقبال کی یہ بات
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات۔۔۔