Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

رومانٹک شاعری

آئی لو یو
July 9, 2019

دنیا کہتی ہے
بہت خوش مزاج ہو تم
کسی کی روح کا ساز ہو تم
جب ہنستے ہو تو
اک تازگی کا احساس جاگتا ہے
جتنی بھی تھکان ہو سب
پل بھر میں دور
کہیں کھو جاتی ہے..
میں ان سے کہوں
تو کیسے کہوں
کہ یہ سب میرے مزاج کا
آدھا حصہ ہے
باقی آدھا وہ جو نصف سے برتر ہے
مجھ سے بہتر ہے..
جس کی مسکراہٹ میرے لبوں
پر دکھتی ہے
وہ دور کبھی رہتی ہے
کبھی دل میں گدگداتی ہے
کبھی من ہی من میں ہنستی ہے..
اس کی آنکھوں میں بس محبت دکھتی ہے
وہ محبت ہی میری روح کی تازگی ہے..
وہی میری مسکان ہے
وہی میری جان ہے

*****

دسمبر۔۔
November 21, 2018

اب کے جو دسمبر آئے گا
میرا وعدہ ہے کہ بھول جاؤں گا
سب حسرتیں ماضی کی
سب تلخیاں، سب خواہشیں
کہ اب ان سے واسطہ نہیں کوئی
کہ ماضی تک راستہ نہیں کوئی..
جو پھولوں سے کبھی الفت تھی
اور کانٹے تھے کہکشاں اپنے
جو الجھنیں تھیں زیست کاحصہ
اور سلگنے میں غم انگارے تھے..
دریا کی خشکی، صحرا کنارے
بہت ڈھونڈے جو سہارے تھے..
سبز مخملیں قالیں بچھا تھا
خزاں کا موسم چھا گیا تھا
زردی مائل جو پتے بکھرے
ان پتوں میں وہ وقت اپنا
ساتھ ہی چُر مُر ہو گیا تھا…
اب کے جو دسمبر آئے گا
میں سب کچھ بھول جاؤں گا
وہ ہمسفر میرے جو نیلگوں پانی میں
اٹھکیلیاں کرتے سرگوشیاں کرتے
پہاڑوں سے نیچے اترتے ہوئے
نقرئی قہقہے فضا میں شامل
فضا کاحصہ، پاتال میں شامل
سب ہی کچھ بھلاؤں
یہ وعدہ ہے تم سے..
میرے آنسوؤں پہ
مگر تم نہ جانا
انھیں تو چاہیے
کسی کی نگاہیں
جو ماضی میں ان کو
پھر لے کے جائیں
مگر نہیں میری جاں نہیں
میرا وعدہ ہے اب کے سب سے
میں بھولوں گا،
میں بھلا دوں گا
جو بھی بیتا، جو بھی گزرا
بس اب کے دسمبر جو آئے گا…

(اعجاز احمد لودھی)

محبت میں کیسی ناکامی
November 21, 2018

محبت میں کیسی ناکامی
محبت تو ایک مورت ہے
جو من میں بس جاتی ہے
محبت تو ایک صورت ہے
جو آنکھوں میں اتر جاتی ہے
محبوب سے ملنا محبت نہیں
محبوب کو سوچنا محبت ہے
محبوب باتیں روبرو کرنا
نہیں ہے محبت نہیں ہے
محبوب کو بٹھا کر سامنے
تخیل کی پرواز سے جاناں
باتیں من کی سب بیاں ہوں۔۔
محبت میں یہ احساس ہے باقی
محبت میں اک آس ہے باقی
جو تم نہ ہوتو کیا ہو
تمھاری ہر بات، ہر باس ہے باقی

(اعجاز احمد لودھی)

ڈیزائن کریڈٹ۔۔ فریگریسن عرف مہک۔

پہلی بارش سردی کی
November 8, 2018

پہلی بارش سردی کی
جب ماہ نومبر لوٹ آیا

گھس کر تم نے کمبل میں
یہ تو بتاؤ کیا کھایا

مونگ پھلی میں تو دانہ نہیں
سب نے یہی سبق پڑھایا

گڑ کی ڈلی میٹھی بہت
لیکن کڑوا گھول پلایا

ہنستے ہنستے آنسو جم گئے
اندر سے جب باہر آیا

ہر کانٹا اک ماضی کا
حال میں جب بھی یاد آیا

اعجازؔ کانام چاہت ہے
چاہت نے یہ سمجھایا

(اعجاز احمد لودھی)

مستعار۔۔۔ از ابن نیاز
September 14, 2017

مستعار۔۔۔ از ابن نیاز

دنیا کے سب رنگوں میں
تیری ذات کے استعارے ہیں۔۔
جتنی جھیلیں بکھری ہیں
جھیلوں میں جو موتی ہیں
پھول کہیں بھی جو تیرے ہیں
تیری آنکھوں کے سب کنارے ہیں۔۔
ہاروت ماروت کا بابل ہو
یا حسن یوسف کا چاہ مصر۔۔
کسی مٹیار کے گھڑے کا پانی ہو
تیرے گالوں میں ڈمپل دکھتا ہے۔۔۔
ہر جوڑے سے سرقہ ہے
جو بھی رنگ بھاتا ہے
سب سے اوپر گلاب رنگت
ہونٹوں کی رنگت مستعار ہے۔۔۔
کچھ چھونے سے مرجھائے
کچھ دھوپ کی تپش برداشت کر نہ پائے
مٹی دھول سے بھی گھن سا لگ جائے۔۔
نازکی گویا ہر گل کی پنکھڑی ہے۔۔۔
مسکان تیری قوس قزح کے رنگ
ہنسی جھرنوں کی چھلکتی صدا سی
خمدار کمان جیسا تراشا ہوا تیرا بدن
تیری سوچ میں افکار پنہاں
تیری روح سے پاکیزگی عیاں
کسی کا نام تیرے دل کی دھڑکن میں
دھک دھک جب دھڑکتا ہے
تیری بےقراری بھی بے چین ہوتی ہے
تیری انگشتریاں بھی منعکس کرتی ہیں
وہ رنگ سارے اداسیوں کے
تیری آنکھوں کے گویا نگینے ہوں۔۔۔
شطرنج کی بساط پر
ہر مہرے کو چلانا ہے
کسی شہہ مات کو ہرانا ہے
کہ تیری چال قیامت ہے۔۔۔
پائل کی چھن چھن چھن
رات کے تیسرے پہر کی
سکون بھری گنگناتی فضا میں
جو صدا چار سو پھیلی ہے
تیرے پیروں کی ہر جنبش سے ہے۔۔۔
دیکھ لے جاناں۔۔۔۔۔
تو سر تا پا حسن کی دیوی
میں دست بدستہ تیرا پجاری

********