Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

سماجی/معاشرتی افسانے

خاموشی۔افسانہ
June 4, 2018

خاموشی

کھڑکی کے اس پار اس کو سورج دوبتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے اور اس سورج کے بیچ میں ایک درخت حائل تھا۔ جیسے جیسے سورج کی روشنی مدہم ہوئی جا رہی تھی، اس کو لگ رہا تھا ڈوبتا سورج اس کی بینائی بھی ضبط کیے جا رہا تھا ۔ نہیں بلکہ اس وقت اس کی زندگی میں پھیلے قسمت کے اندھیرے کی طرح ہلکی سرمئی شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ تب ہی اس کو وہ ہرا بھرا درخت سیاہی مائل دکھائی دے رہا تھا۔ اور اس کی اوڑھ میں سورج بھی مایوسی سے شفق کی سرخی پھیلائے غروب ہو رہا تھا۔

سورج کو وہ دیکھ تو رہا تھا لیکن اس کا دماغ اپنے والد کی بیماری کے حل کو کھوج رہا تھا۔ ان کے دائیں گردے میں کینسر تھا اور ہر بڑے اور اچھے ہسپتال کے ڈاکٹرز کی متفقہ رائے تھی کہ گردہ نکالنا پڑے گا۔ تب ہی زندگی بچ سکتی ہے۔ گزشتہ چیک اپ میں ڈاکٹر نے تین ہفتوں کے اندر اندر آپریشن کا کہا تھا۔ آپریشن کے بعد کچھ سال وہ سکون سے زندگی گزار سکتے تھے لیکن آپریشن نہ کرنے کی صورت میں تین سے سے چار ماہ کی زندگی تھی۔ آج دو ہفتے گزر چکے تھے۔ جب سے انھوں نے اپنی بیماری کا سنا تھا انھوں نے چپ کا روزہ رکھ لیا تھا۔

وہ کھڑکی سے اٹھا اور والد کے کمرے کی طرف بڑھا کہ ان کا حوصلہ بڑھا کر ان کو آپریشن کے لیے تیار کرے۔ اس نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ’’آجاؤ احمد‘‘ والد نے قدموں کی چاپ سے ہی پہچان لیا تھا۔

احمد نے دروازہ کھولا۔ دیکھا تو ہمیشہ کی طرح وضو کیے مسجد جانے کے لیے تیار کے تھے۔ جب سے احمد نے ہوش سنبھالا تھا، اپنے والد کے چہرے کو روشن ہی دیکھا تھا۔ پھر اس نے حدیث بھی پڑھی تھی کہ قیامت کے دن پانچ وقت نماز کے لیے وضو کرنے والے کے چہرے روشن ہوں گے۔ وہ دنیا میں ہی ان کے چہرے سے نور برستا دیکھ رہا تھا۔ ایسا نور جو آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا تھا۔ کمرے میں اگر اندھیرا بھی ہوتا تو بھی اتنی روشنی ہوتی تھی گویا آدھے چاند کی چاندنی ہو۔

صبح بات کریں گے۔ میرا کچھ کام ہے تو عشاء کی نماز بھی ان شاء اﷲ پڑھ کر آؤں گا۔ انھوں نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کمرے کی دہلیز پار کرتے ہوئے کہا۔

جی ابو جان۔ احمد نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔

وہ جانتے تھے کہ احمد کو صبح دفتر بھی جانا تھا اور احمد کو بھی معلوم تھا کہ وہ عشاء کے بعد ذکر اذکار میں مصروف ہو جاتے تھے۔

احمد نے اپنے عمومی کام سر انجام دیے۔ کروٹیں بدلتے رات گزاری۔ اس کو اندازہ ہوچکا تھا کہ اس کے والد اس کے دماغ کو پڑھ چکے ہیں کہ اس کے آنے کا مقصد کیا تھا۔ اس نے دل سے اﷲ سے دعا کی کہ سب خیر ہو۔

اس کے والد نے رات استخارہ کیا۔ استخارہ اﷲ سے مشورہ ہے۔ اﷲ نے ان کی رہنمائی کی اور کامیابی کا اشارہ ملا۔ انھوں نے فجر کے وقت اپنی بیگم سے احمد کو آپریشن کی تیاری کے لیے کہا۔

صبح احمد کے لیے خوشخبری لے کر آئی تھی۔ اس کی والدہ نے انتہائی خوشگوار لہجے میں، اپنی خوشی چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اوکے کا سگنل دیا تھا۔ اس کی نگاہ کھڑکی سے باہر اس درخت پر پڑی۔ صبح بہت روشن اور نور پھیلاتی لگ رہی تھی۔ وہی درخت تھا لیکن اب کی بار وہ سحری کے وقت کی برسی بارش کی وجہ سے بہت نکھرا سا بادِ نسیم سحری میں ہلکورے لے رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور خالق کا شکر ادا کیا کہ گھر میں چھائی بے سکونی کی، بے چینی کی، یاسیت کی خاموشی ٹوٹ گئی تھی۔

ریشماں- افسانہ از ابن نیاز
May 16, 2017

ریشماں
(ابنِ نیاز)

ریشماں کا باپ کیا مر گیا تھا یوں لگتا تھا اس کے پر پُرزے نکل آئے ہیں۔ گاﺅں بھر کے لڑکوں سے گپ شپ لگانے کا شوق اسے پہلے بھی تھا لیکن باپ کے ڈر کی وجہ سے وہ گریز کرتی تھی۔ پھر بھی جب کبھی اس کا باپ گھر پر نہ ہوتا تو وہ گھر کی دیوار کے ساتھ چارپائی کھڑی کرکے اسکا سہارا لیکر گلی میں تاک جھانک کیا کرتی تھی۔ جو بھی لڑکا گلی سے گزرتا دکھائی دیتا ، کسی پر آوازکستی اور کسی پر اسکے حلیہ کو دیکھتے ہوئے طنز کرتی۔آج جب باپ دنیا سے گزر گیا تھا ، اس کے وارے نیارے ہو گئے تھے۔ ماں کی پہلے ہی نہیں سنتی تھی ۔ جب کہ ماں سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی کہ اس طرح کی حرکتیں نہ کیا کرے، ہر کسی سے باتیں نہ کیا کرے۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی کہتی تھی کہ اس کا رشتہ کوئی نہیں آئے گا۔ سب اسے آوارہ ، بدچلن کہیں گے۔اور وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیتی تھی۔ کبھی کبھی تو ماں کو جواب دیتی کہ اگر دنیا اسے آوارہ ، بد چلن کہے گی تو کیا ان کے اپنے کرتوت اس طرح نہ ہو ں گے۔ کیونکہ شریف لوگ کبھی بھی بازاری زبان استعمال نہیں کرتے۔
ریشماں بے شک باہر لڑکوں سے گپ شپ لگاتی تھی، لیکن کبھی بھی اس نے کسی کے ساتھ بالکل تنہائی میں بات نہیں کی تھی۔ بلکہ وہ جب بھی کسی سے بات کرتی توگلی محلے میں کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا تھا۔ پہلے باپ کے ڈر سے وہ بڑوں کی عزت کسی نہ کسی حد تک کر لیتی تھی لیکن پھر بھی ہر دوسرے تیسرے دن ریشماں کو باپ سے ڈانٹ ضرور پڑ جاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی بزرگ برداشت نہ کرتے ہوئے اس کے باپ کریموکو شکایت لگا دیتا تھا۔لیکن اب وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگی تھی۔اگر وہ گھر سے باہر گلی میں کھڑی باتیں نہ کرتی تو پھر اسی طرح چارپائی کا سہارا لیتے ہوئے دیوار کے پار سے گھنٹہ گھنٹہ کھڑی رہتی اور ہر آنے جانے والے پر آوازیں کستی۔ اس کی نسبت اس کی ماں اچھی تھی۔ گاﺅں بھر کے دکھ سکھ میں شریک رہتی۔اگر چہ مالی یا جانی طور پر کسی کی مدد نہیں کر سکتی تھی، لیکن پھر بھی کسی کو اسکی مشکل میں تسلی کے دو بول کہہ دیتی ۔ جتنی شکایات گاﺅں والوں کو ریشماں سے تھیں اتنے ہی وہ اس کی ماں سے خوش تھے۔
کریمو کی گاﺅں میں صرف دس کنال زمین تھی۔ جس میں وہ پانچ کنال موسمی فصل اگاتا تھا اور باقی کے پانچ کنال میں وہ مختلف سبزیاں اگاتا تھا اور اپنے اور ارد گرد کے گاﺅں میں فروخت کر کے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔پڑھا لکھا بالکل نہیں تھا ۔البتہ قرآن مجید پڑھ سکتا تھا۔ اتنا ہی اس کی بیوی اور بیٹی بھی پڑھی ہوئی تھیں۔باقی دین کی تعلیمات کیا تھیں ان کو کسی نے نہیں سکھایا تھا۔ اسی وجہ سے ریشماں بھی ہر ایرے غیرے سے آزادی سے گپ شپ لگاتی تھی۔لباس کے معاملے میں بھی وہ بالکل کوری تھی۔ کبھی تو اس طرح کا لباس پہنا ہوتا کہ سب نشیب و فراز واضح ہوتے۔ لیکن ریشماں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔البتہ اس کی ماں کو یہ فکر ضرور ہو گئی تھی کہ اس کا شوہر فوت ہو گیا ہے تو گھر کا گزارہ کیسے ہو گا۔ لیکن پھر اس نے گاﺅں کے چند سیانوں سے مشورہ کر کے گاﺅں کے ایک غریب کسان کو اپنی زمینوں پر رکھ دیا۔ جس نے اسی طرح فصلیں اگانی تھیں جیسے کریمو کرتا تھا۔اسی طرح دونوں ماں بیٹی کی زندگی گزر رہی تھی۔ چار سال گزر گئے تھے۔
گزشتہ ایک ماہ سے ریشماں کی آزادانہ حرکتیں بھی کم ہو گئیں تھیں ۔ماں کے سامنے بھی منہ نہیں چلاتی تھی۔ کبھی کبھار اگر ماں نے کچھ پوچھ لیا تو جواب دے دیتی تھی ورنہ خاموش ہی رہتی تھی۔اب وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتی تھی۔ ماں نے اسکی وجہ بہت مرتبہ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ماں ہی تھک ہار کر چپ ہو گئی تھی۔ ہمیشہ ریشماں ماں سے پہلے اٹھ جاتی تھی ۔ لیکن اس دن جب ماں اٹھی تو ریشماں اسے نظر نہیں آئی نہ ہی اسکی آواز سنائی دی جو وہ گھر میں موجود مرغیوں کو دانہ پانی کراتے ہوئے نکالتی تھی۔ اس نے گھر بھر چھان لیا۔لیکن ریشماں گھر میں ہوتی تو ملتی۔ وہ تو اس وقت گھر سے چند میل دور غفرانے کے ساتھ جنگل میں موجود تھی۔ غفرانہ تھا تو اسی گاﺅں کا لیکن ایک دوسرے شہر میں کسی کارخانے میں کام کرتا تھا۔حد درجے کا لوفر تھا۔ کارخانے میں بھی بقول اس کے پیٹ پوجا کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔ ورنہ اگر بنا کام کیے کھانے پینے کے لیے اور رہنے کے لیے جگہ مل جاتی تو وہ کبھی بھی کسی قسم کا کام نہ کرتا۔ اسکے ماں باپ اس کے بچپن میں گھر کی چھت گرنے کی وجہ سے نیچے آکر فوت ہو چکے تھے۔ شہر میں رہ کر اور کام کر کے بہت ہوشیار ہو گیا تھا۔ریشماں کی آزادانہ حرکتوں کی وجہ سے کافی عرصے سے غفرانے کی اس پر نظر تھی۔ شہر میں تو اس کو اپنی جسم کی گرمی نکالنے کے لیے بہت سے مواقع میسر ہوتے تھے، جن سے وہ بھرپور فائدہ بھی اٹھاتا تھا۔ چونکہ کمانے والا بھی اکیلا تھا اور کھانے والا بھی تو اس کی تنخواہ میں سے کافی بچت ہو جاتی تھی۔ جس کو وہ کبھی بھی بچا کر نہیں رکھتا تھا۔ ادھر مہینے کا آخر ہوا، ادھر اس کے جیب سے آخری روپیہ بھی خرچ ہوا۔
ریشماں کے جنگل میں موجود ہونے کی وجہ غفرانا ہی تھا۔چھ ماہ پہلے جب وہ گاﺅں آیا تھا تو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اس نے ریشماں کو گھیر لیا تھا۔ ریشماں سے پیار محبت کی باتیں کی تھیں اور فلمی کہانیوں کی طرح اس کو ہر طرح رجھایا تھا۔ کبھی اس کے لیے کھانے کو کچھ لے آتا تھا تو کبھی کچھ اور۔ یہ اور بات ہے کہ ان چیزوں کی ریشماں نے کبھی اپنی اماں کو ہوا بھی نہ لگنے دی تھی۔ لیکن وہی چیزیں ریشماں کی عزت کا مول بن گئی تھیں۔ گھر چھوڑنے سے ایک دن پہلے ریشماں نے غفرانے کو چھ ماہ بعد دیکھا تھا۔ وہ ان چھ ماہ میں کبھی گاﺅں نہیں آیا تھا کہ اسکا وہاں کون تھا۔ سوائے مٹی اور پتھروں سے بنے گھر کے جس کو برباد ہونے سے بچانے کے لیے وہ کبھی کبھار مہینوں میں بعد گاﺅں کا چکر لگا لیتا تھا۔ریشماں نے غفرانے کو دیکھا اور گلی کے نکڑ میں پکڑ لیا۔

“غفرانے۔ چل میرے نال ویاہ کر لے۔” ریشماں نے اس کے بازو کو پکڑ کر کہا۔
“کیوں؟ کس خوشی میں۔ ابھی تو ہم نے تمھیں جی بھر کر پیار بھی نہیں کیا پگلی۔” غفرانا ریشماں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
“تمھاری بات ٹھیک ہے، لیکن اب وقت نہیں رہا مزید پیار کا۔”
“کیوں کیا ہوا؟ ” غفرانے نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
“غفرانے، تو نے میری عزت گنوا دی۔ مجھے کہیں کا نہ رہنے دیا۔ میں پیٹ سے ہوں۔” ریشماں سرکو جھکاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔
“چل چل۔ بکواس نہ کر۔ کسی اور کے کالے کرتوت میرے نام نہ لگا۔” غفرانہ پہلے تو بدکا، پھر بات کو سمجھ کر غصے سے بولا۔
“نہ غفرانے نہ۔ ایسا نہ کہہ۔”
“کیوں نہ کہوں۔ تم نے گاﺅں بھر کے لڑکوں سے یاری لگا رکھی۔ پتہ نہیں کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے۔ اور اب مجھے پھنسا رہی ہے۔ جا اپنا کام کر۔”غفرانے نے اس کے بازو کو پکڑ کر کہا۔ اور پھر جھٹک کر چل دیا۔
ریشماں نے جھٹ سے اس کا دامن پکڑ کر اپنی طرف جھٹکا دیا۔ غفرانا اس جھٹکے سے سنبھل نہ سکا اور سیدھا اسکے ساتھ آلگا۔ریشماں نے ادھر ہی اسکو مظبوطی سے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس وقت اس کے دل سے یہ بھی نکل گیا تھا کہ کوئی دیکھ لے گا۔
“دیکھ غفرانے، مجھ پر الزام نہ لگا۔ میں بے شک آوارہ قسم کی لڑکی ہوں۔ ہر کسی سے گپ شپ لگاتی ہوں۔ لیکن آج تک کبھی کسی کو تنہائی میں بھی نہیں ملی اور کہاں اتنا بڑا کام۔” ریشماں اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی۔
غفرانے نے اس کو جھٹک کر اپنے سے ہٹایا۔ لیکن ریشماں نے اس کا ہاتھ پکڑے رکھا۔ جب غفرانے نے دیکھا کہ بات بگڑ رہی ہے تو وہ بولا۔
“ارے پگلی۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ لیکن میں تجھ سے گاﺅں میں شادی نہیں کر سکتا۔ تو میرے ساتھ شہر چل۔”
“کیوں یہاں کیا ہے۔ ” ریشماں آخر ان پڑھ ہی تو تھی۔
“دیکھ ریشمو۔یہاں ویاہ ہو گا، اور تین چار ماہ بعد تو بچے کو پیدا کرے گی۔ تو لوگ کیا کہیں گے۔ اس طرح نہ تیری عزت رہ جائے گی اور میری تو ہے ہی نہیں۔” غفرانے نے اس کو سمجھایا۔
” تو پھر بتا میں کیا کروں۔” ریشماں کسی حد تک سمجھ کر بولی۔
“تو ایسا کر، آج رات کو سونا مت۔اور جو کپڑے وغیرہ رکھ سکتی ہے ایک پوٹلی بنا لینا۔ میں رات کو آﺅں گا۔ پھر شہر چلے چلیں گے۔” غفرانے نے مختصر طور پر اسے اپنا منصوبہ سمجھایا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ پھر تو میرے سے ویاہ کرے گا نا۔ مجھے چھوڑ تو نہیں دے گا۔” ریشماں نے حامی بھرتے ہوئے ایک انجانے خوف سے پوچھا۔
” رہی نہ جھلی کی جھلی۔میں بھلا کیوں چھوڑوں گا۔ شہر میں ہم اکٹھے رہیں گے۔ البتہ شادی ہمیں کسی دوسرے شہر میں کرنی پڑے گی تاکہ تین چار ماہ بعد بھی کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم نے کب شادی کی ہے۔ورنہ پھر مجھے وہ کارخانہ بھی چھوڑنا پڑے گا اور کوارٹر بھی۔” غفرانے نے اسے سمجھایا۔
“اب ایسا کر تو جا۔ اور رات کو تیار رہنا۔ میں تجھے آواز دوں گا۔تو فوراً آجانا۔ ©” غفرانے نے اس کے گال پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔
اور یوں ریشماں اس کے ساتھ اب اس جنگل میں بیٹھی تھی۔ جنگل میں انھوں نے اس لیے ڈھیرا ڈالا تھا کہ جنگل کے قریب سے ہی ایک چھوٹی سڑک شہر کو جاتی تھی جو ایک دوسرے گاﺅں سے سبزیاں وغیرہ لے کر شہر جاتی تھی۔ تو غفرانے کا پروگرام اس میں بیٹھ کر شہر جانے کا تھا۔
ادھر صبح کی اذانیں شروع ہوئیں، ادھر وہ لوڈر گاڑی بھی پہنچ گئی۔ غفرانے نے ریشماں کو ایک طرف کھڑا کیا اور خود گاڑی کو روک کر ڈرائیور سے کچھ بات کی۔اور ساتھ میں ریشماں کی طرف اشارہ بھی کیا۔ پھر ڈرائیور کے سر ہلانے پر اس نے ریشماں کو بلایا۔ ڈرائیور کی مخالف سمت کی سیٹ پر وہ بیٹھے۔اور گاڑی چل پڑی۔ غفرانے نے اسے اپنی بیوی ہی بتایا تھا۔اتفاق ہی تھا کہ جس شہر کا غفرانے نے پروگرام بنایا تھاگاڑی والا بھی آج سبزیاں لے کر ادھر ہی جا رہا تھا۔ اسلیے غفرانے کے لیے بہت آسانی ہو گئی۔
اس شہر میں غفرانے کا ایک دوست رہتا تھا۔ غفرانے نے اسے ساری صورتحال بتائی۔وہ دوست بھی اسی کی طرح آوارہ مزاج تھا۔ اس نے غفرانے کو مشورہ دیا کہ وہ ہر گز شادی نہ کرے، بلکہ بچہ پیدا ہونے تک وہ ٹال مٹول کرتا رہے۔جب بچہ ہو جائے تو پھر کچھ سوچا جائے گا۔ غفرانے نے کچھ دیر سوچا، پھر بات کی تہہ تک پہنچ گیاکہ دوست کا مقصد کیا ہے۔ دوست کا مقصد یہی تھا کہ کل کلاں یہ راز کسی بھی وقت کھل سکتا ہے کہ یہ بچہ شادی کے تیسرے مہینے ہی پیدا ہو گیا۔ پھر غفرانا لاکھ کہے کہ اسی کا ہے کوئی نہیں مانے گا، بلکہ اس کی بیوی کو بدچلن ہی کہے گا۔ غفرانے نے یہ بات مان لی۔
یوں غفرانے نے وقت گزارنا شروع کر دیا۔ ریشماں کے بار بارکہنے پر بھی اس نے باقاعدہ حامی نہ بھری اور ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔ ا س طرح تین ماہ گزر گئے۔تیسرے ماہ میں ریشماں اپنے طور پر ایک بار ڈاکٹر سے چیک کرواچکی تھی۔ اور ڈاکٹر نے اس کو اندازے سے ایک تاریخ بتا چکی تھی کہ اس تاریخ کے آگے پیچھے زچگی متوقع ہے۔ پھر جب تاریخ آئی تو غفرانا غائب تھا۔ غفرانے نے اسی دوست کے محلے میں ہی اک گھر کرائے پر لے لیا تھا۔ کارخانے میں ایک ہفتے کام ہوتا تھا اور ایک ہفتہ چھٹی ہوتی تھی۔ کیونکہ ڈبل شفٹ کے ملازمین تھے۔ اس طرح ہر دوسرے ملازم کو ہر دوسرے ہفتے چھٹی ہوتی تھی۔ اب جب ریشمان پر وقت آیا تھا تو غفرانے کا کارخانے میں کام کرنے کے دن تھے۔ جب کہ ریشماں نے اسے کہا بھی تھا کہ وہ اگلے ہفتے لازمی چھٹی کرے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن غفرانے کے ارادے ہی کچھ اور تھے۔ اسلیے اس نے کام کا بہت زیاد لوڈ ہونے کا بہانہ کیا اور اپنی ڈیوٹی شروع ہونے سے ایک دن پہلے ہی گھر سے چلا گیا تھا۔ ریشماں نے غفرانے کے دوست کو پیغام بھجوایا کہ کسی طریقے سے غفرانے تک پیغام پہنچا دے۔اس نے حامی تو بھری اور بظاہر پیغام دینے کے لیے اپنی موٹر سائیکل بھی نکال لی۔ لیکن بجائے کارخانے جانے کے وہ کہیں اور نکل گیا۔
اِدھر ریشماں پر بہت بری گزر رہی تھی۔اس کو ہلکا ہلکا درد شروع ہو چکا تھا۔صبح سے پیغام دیے اب دوپہر ہونے کو آئی تھی۔لیکن نہ غفرانا آیا تھا اور نہ ہی اس کا دوست واپس لوٹا تھا۔محلے والوں میں سے شاید ہی کسی نے ریشماں کو دیکھا ہو گا کہ غفرانے نے اسے گھر سے باہر نہ نکلنے کا کہا تھا، بہانہ یہ بنایا تھا کہ محلے میں کچھ لوگ اچھے نہیں ہیں۔ کہیں اکیلا پا کر کچھ نہ کر بیٹھیںاور سادہ مزاج ریشماں اسکی بات کو سچ سمجھ کر گھر میں ہی بیٹھی رہ گئی تھی۔ دوپہر سے سہہ پہر ہو گئی اور پھر سورج ریشماں کو ان کے نہ آنے کی مایوسی کی خبر دے کر خود بھی افسوس کے اظہار میں زردی مائل ہو کر ڈوب گیا۔ریشماں کو آج سورج کچھ زیادہ ہی زرد نظر آیا تھا کہ اس کو بھی ریشماں کے نصیب پر افسوس ہو رہا تھا۔
رات گزری۔صبح کا سورج طلوع ہوا۔ کھٹ کھٹ دروازے کھلنے لگے۔ہر کوئی اپنے اپنے کام کے لیے باہر نکلا۔ ایسے میں کسی کی نظر ایک کتے پر پڑی، جس کے منہ میں کچھ اٹھایا ہوا تھا۔اس نے جب غور کیا تو اس چیز کی شکل انسانی سی نظر آئی۔ ابھی و ہ غور کر ہی رہا تھا کہ کتے نے اس چیز کو ایک گھر کے دروازے کے سامنے رکھا اور دروزے پر اپنے اگلے پنجوں کو گویا دستک دینے کی صورت میں مارنے لگا۔ اس وقت تک وہ پنجے مارتا رہا جب تک دروازہ کھل نہ گیا۔ دروازہ کھولنے والی ایک لڑکی تھی۔ اس نے جو دروازے پر ایک کتے کو دیکھا جس نے دروزہ کھلتے دیکھ کر اس انسانی صورت چیز کو پھر اپنے منہ میں اٹھا لیا تھا، زور کی چیخ ماری۔ اس لڑکی کی چیخ سن کر فوراً دو تین مرد گھر کے اندرسے دروازے کی طرف دوڑے۔باہر نکل کر انھوں نے دیکھا کہ کتے کی نگاہیں ان پر ٹکی ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنسو سے نظر آرہے ہیں۔ کتا چونکہ انکے محلے کا ہی تھا، یعنی بظاہر آوارہ تھا جو راتیں ڈھیروں پر گزارتا تھا، لیکن آج تک کسی پر بھونکا نہیں تھا، اس لیے ان مردوں نے اسے پہچان لیا۔ ایک ادھیڑ عمر نے نیچے بیٹھ کر اس کتے کے منہ سے اس انسانی صورت کو نکالا۔ جب اس کو سیدھا کیا تو دھک سے رہ گیا۔ وہ چیز کچھ اور نہیں بلکہ انسان کا بچہ تھا، بلکہ نومولود۔ جس کی ناف کی ناڑ بھی ابھی نہیں کٹی تھی۔اس نے فوراً اس لڑکی کو کچھ کپڑا وغیرہ لانے کو کہا۔ جونہی کپڑا آیا ، اس مرد نے اس بچے کو کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف رخ کیا۔ اندر لے جانے سے پہلے اس نے کتے کو پچکارا۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور تسلی دی۔ کتے سر کو جھکایا اور واپس چلا گیا۔
مرد اس بچے کو گھر کے اندر لے گیا اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے حوالے کیا۔ تب تک وہ یہ محسوس کر چکا تھا کہ بچہ ابھی زندہ ہے۔ چونکہ جاتی گرمی کا موسم تھا، اس لیے ابھی سورج پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا کہ بچے کو گرمی لگتی۔ بچے کے جسم پر لگے گند سے اندازہ ہوتا تھا کہ اسے کتے نے کسی ڈھیر سے اٹھا یا ہے۔ اس مرد کی بیوی نے بچے کو صاف کیا۔ لیکن ایک عورت کی حیثیت سے ساتھ ساتھ اس عورت کو بھی کوسنے لگی کہ منہ کالا کر کے اب بچے کو ڈھیر پر چھوڑ دیا ہے۔ خود پتہ نہیں کہاں مر مرا گئی ہے۔ اسکے شوہر نے پاس سے گزرتے ہوئے یہ باتیں سن لیں۔ اس نے سوچا کہ پتہ تو کرنا چاہیے کہ یہ بچہ ڈھیر تک کیسے پہنچا۔ وہ گھر سے باہر نکلا۔اس نے دیکھا کہ محلے کا ہی ایک نوجوان ان کے گھر سے تھوڑی دور کھڑا ان کے گھر کو ہی تک رہا تھا۔ وہ شخص اس نوجوان کی طرف گیا۔ اسکے پوچھنے پر اس نوجوان اس کو بتایا کہ اس نے کتے کو فلاں راستے سے آتے دیکھاتھا۔وہ مرد اس راہ کی طرف چلا۔ راستے میں اسے وہ ڈھیر بھی دکھائی دیا، جس پر وہی کتابیٹھا ہوا کچھ گوشت یا کوئی ہڈی بھنبھوڑ رہا تھا۔ کتے نے اس کے قدموں کی آواز سن کر اسکی طرف دیکھا۔ چند لمحے دیکھنے کے بعد پھر اپنی خوراک میں مصروف ہو گیا۔
ڈھیر سے کوئی دو سو قدم کے فاصلے پر کچھ جھاڑیاں سی تھیں۔ وہ جھاڑیوں کے قریب سے سر سری سی نگاہ ڈالتا ہوا گزرا۔ ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اسے محسوس ہوا کہ اس نے کوئی کپڑا دیکھا تھا۔ وہ فوراً پلٹا۔ جھاڑیوں کو ہاتھوں سے ہٹا کر آگے بڑھا اور جہاں کھڑا تھا وہی اس کے قدم جم کر رہ گئے۔وہاں ایک نوجوان لڑکی کی لاش اس حالت میں پڑی تھی کہ اس کی ٹانگیں خون سے لت پت تھیں، چہرے پر شدید تکلیف کے آثار تھے ۔ ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکے پاﺅں پر رکھا ہوا تھا جو کہ ٹانگ مڑنے کی وجہ سے ہاتھ کی پہنچ میں تھا۔ لڑکی کی لاش سے اور ٹانگوں پر لگے خون سے کوئی اناڑی بھی جان سکتا تھا کہ وہ بچہ اسی لڑکی کا ہے۔ وہ مرد افسوس کا اظہار کرتا ہوا ٓگے بڑھا۔ اس لڑکی کا چادر نما دوپٹہ جو کہ ایک طرف بکھرا ہوا تھا، اس لڑکی پر ڈال کر اس کو ڈھانپا۔ پھر واپس جھاڑیوں سے نکل کر محلے کی طرف بڑھا کہ محلے والوں کو اس لڑکی کے بارے میں بتا کر اسکے ورثاءکو تلاش کرکے ان کو بتا سکے۔ لیکن یہ ایک انتہائی مشکل کام تھا کہ غفرانا اور اسکا دوست وہ شہر ہی چھوڑ چکے تھے۔

******************

پاکستان زندہ باد
April 12, 2016

پاکستان زندہ باد

نعرہ تکبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اکبر
فضا میں ایک زوردار نعرہ گونج اٹھا۔ کسی نے نہیں دیکھا کہ نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کرنے والا کون تھا، بس جواب میں شاید ہی وہاں کوئی موجود لوگوں میں سے خاموش رہا ہو۔ اور کیوں جواب نہ دیتا۔ سب کے جذبات اس وقت ایک جیسے تھے۔ سب اس وقت ٹیلی ویڑ ن کے سامنے بیٹھے خبریں سن رہے تھے۔ کہ نیوز کاسٹر نے تازہ خبر کا کہہ کر خبر سنائی کہ ’’ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘ ‘۔ پھر چند منٹ کے بعد تفصیل سے بتایا کہ 3 بج کر 16 منٹ پر پہلا دھماکہ کیا اور پھر چند منٹ کے وقفے سے چاردھماکے مزید کر دیے تھے۔ تو کیوں نہ پاکستانی عوام جذبات میں آتی۔ وہ آئی اور
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

Yome taqbeer - chagi mountainکے مصداق سب کیا مسلمان، کیا پاکستان کے ہندو، کیا سکھ، سب کے سب بھنگڑے ڈالنے لگے۔ اگر کوئی مسجد کا طالبعلم تھا یا سکول کالج یا یونیورسٹی کایا کوئی دکاندار یا نمازی۔ سب کے لبوں پر صرف ایک ہی نعرہ تھا، نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر۔
جب 12مئی کو انڈیا نے ایٹمی دھماکے کیے تو ساتھ ہی پاکستان کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی تھیں۔ کہ گویا اب وہ علاقے کا تھانیدار بن گیا ہے۔ اور اس زعم میں اس نے لاکھوں کی فوج بھی پاکستان کے مشرقی سرحدوں پر لا کھڑی کر دی تھی۔ لیکن اسے نہیں معلوم تھا یا پھر وہ بھول گیا تھا کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے۔1965 کی جنگ کے زخم اسکے دماغ سے نکل گئے تھے۔ لگتا تھا کہ اس نے ایک دفعہ پھر منہ کی کھانے کے لیے پاکستان سے پنگا لینا چاہا ہے۔ انڈیا کے دھماکوں کے ساتھ ہی پاکستان کی عوام نے اپنے حکمرانوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا کہ اگر 1976 سے اب تک پاکستان ایٹمی پروگرام پر عمل کرتا رہا ہے تو یہ ہی موقع ہے کہ انڈیا پر بالخصوص اور تمام دنیا پر بالعموم ایٹمی دھماکے کر کے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ حکمران تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو کے محاورے پر عمل کرنے کی سوچ رہے تھے۔ ان پر غیر مسلم قوتوں کا بیرونی دباؤ بڑھ گیا تھا کہ پاکستان صبر سے کام لے۔ اور بظاہر حکمرانوں کے رویے سے پتہ چلتا تھا کہ شاید وہ بیرونی دباؤ میں آ جائیں گے۔لیکن اندرونِ خانہ کیا کھچڑی پک رہی تھی، یہ یا تو خدا جانتا تھا یا پھر کھچڑی پکانے والے۔

12 مئی سے آج16 مئی ہو گئی تھی۔ لیکن شیراز شاید ایک منٹ بھی سکون سے نہ سو سکا تھا۔وہ پاکستان کے ایک خفیہ ادارے میں کام کرتا تھا۔ اور اس کا دل ہر وقت پاکستان کے نام کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ دھماکہ تو اسی وقت ہو جانا چاہئے تھا جب انڈیا نے دھماکہ کیا تھا۔ لیکن حکمرانوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کس نہج پر جا رہے تھے۔ اسکو ایک پل بھی چین نہیں تھا۔ جیسے حالات اس کے تھے، اسی طرح کے خیالات اور جذبات اسکے سینئرز افسران کے تھے۔ لیکن سب ملک کے قانون کے آگے مجبور تھے کہ جس نے انھیں یہ سبق سکھایا تھا کہ حکومت وقت کی ماننی ہے۔ اگر وہ نہ بھی مانتے تو بھی کیا کر سکتے تھے۔ حکمرانوں کی طرف سے ا ن کے ادارے پر بہت زیادہ دباؤ تھا کہ وہ ہر حال میں خاموش اور پر سکون رہیں۔ ورنہ تو انکا دل اور خاص طور پر شیراز کا دل چاہتا تھا کہ وہ انڈیا کے اندر گھس کر ان کو وہ زخم دے کر آئے کہ وہ برسوں اپنے زخم چاٹتے رہیں۔ لیکن وہ مجبور تھا۔ پھر اس پر پریشر اتنا بڑھا کہ وہ برداشت نہ کر سکا اور تین ہفتوں کی چھٹی کے لیے درخواست دے دی۔اسکی چھٹی منظور ہو گئی۔ کیونکہ اسکے سارے سینئر آفیسرز جانتے تھے کہ اگر اس وقت شیراز کو ذہنی آرام نہ دیا گیا تو شاید وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
Yome taqbeer 28 may
چھٹی منظور ہوتے ہی وہ گھر آگیا۔ لیکن یہاں بھی وہ نچلا نہیں بیٹھا۔ بلکہ اس نے ایک مشن بنا لیا۔ اس نے اپنے کالج کے ، یونیورسٹی کے زمانے کے سارے دوستوں سے رابطہ کیا۔ سب کو قائل کیا کہ اگر وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں تو اپنے اپنے لیڈران کو قائل کریں کہ وہ حکمرانوں پر دباؤ ڈالیں کہ امریکہ اور دوسرے ممالک کے دباؤ میں نہ آئیں بلکہ انڈیا کے پانچ دھماکوں کے مقابلے میں کم از کم پانچ ہی دھماکے کر کے منہ توڑ جواب دیں۔
“لیکن ہو گا کیا؟ ایٹمی دھماکہ کرنے سے آخر پاکستان کیا فائدہ اٹھا لے گا؟” عامر نے جو کہ ایک بزنس مین تھا، شیراز سے پوچھا۔
“کیا مطلب؟ یہ فائدہ کم ہو گا کہ دنیا کی نظر میں پاکستان کا ایک مقام بن جائے گا۔امریکہ، انڈیا، اسرائیل اور دوسرے دشمن ممالک پاکستان کے بارے میں اپنے ذہن میں غلط خیال لانے سے قبل سو بار سوچیں گے۔” شیراز نے جواب دیا۔
“لیکن یہ بھی تو دیکھو یار کہ پاکستان پر جو پابندیاں لگیں گی، جس کے نتیجے میں پاکستان کی معشیت بہت پیچھے رہ جائے گی۔” عامر اپنے بزنس کے نقطہ نظر سے ہی سوچ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا۔ کیا ہم ہمیشہ امریکہ کے غلام رہیں گے۔ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کا خوف ختم ہو گیا ہے۔رزاق اللہ ہے یا امریکہ۔” شیراز کو غصہ آگیا۔
“ارے ارے مت لڑو یار۔ بس جو کچھ ہو وہ پاکستان کے حق میں بہتر ہو۔”سہیل ثانی نے ان کے بیچ میں آتے ہوئے کہا۔
“ٹھیک ہے۔ پھر کوئی پلان بناؤ۔ہمیں بتاؤ کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔”فضلو فٹ بالر جو کالج سے آگے نہ پڑھ سکا تھا، لیکن پکا پاکستانی تھا، شیراز کے کندے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
شیراز نے کامران کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہا تھا اور آنکھوں میں شیراز کو اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔
“تو ایسا کرتے ہیں کہ کچھ جلسے جلوس نکالتے ہیں، لیکن پر امن۔ اور یہ سب کے ذہن میں رہے کہ کسی کو علم نہ ہو کہ ان جلوسوں کے پیچھے میرا ہاتھ ہے۔اگر آپ نہیں بتائیں گے تو کسی کو علم نہیں ہو گا۔ “شیراز نے فوراً سے ایک پلان بتا دیا۔
“اوکے ڈن۔ تم جو کہو گے اسی طرح ہو گا۔”سب نے حامی بھری اور شیراز کے آگے بڑھے ہوئے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گویا عہد کیا۔

چونکہ شیراز کا تعلق خفیہ سے تھا تو اپنی ٹریننگ سے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ روزانہ کسی نہ کسی روپ میں کسی ایک جگہ جلسہ نما جلوس اکٹھا کر لیتا اور باقاعدہ ایک جذبات سے بھرپور تقریر شروع کر دیتا۔ عوام کو بھرپور دلائل دیتا کہ آج اگر ہم لوگ چپ بیٹھ گئے تو کل اسی انڈیا نے ہم کو کچا چبا دینا ہے۔کیونکہ آج جس طرح باقی غیر مسلم ممالک انڈیا کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان کے حکمرانوں کو کوئی بھی قدم لینے سے روک رہے ہیں۔ اسی طرح کل ایٹمی طاقت ہونے کے زعم میں اس نے ہم پر حملہ کر دینا ہے اور اپنا اٹوٹ انگ کا راگ الاپتے ہوئے پاکستان کو اپنا حصہ بنانے کے لیے سر توڑ کوشش کرنی ہے۔ اور یاد رہے کہ سب نے اسکا ساتھ دینا ہے چاہے وہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو یا فرانس۔ سب مل کر اس انڈیا، ہمارے ازلی دشمن کو ہر قسم کی امداد دیں گے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے شیراز کی ان باتوں کا برا منایا اور اسے کہا کہ اگر ہم نے ایٹمی دھماکہ کر دیا تو امریکہ ہماری امداد بند کر دے گا۔ اقوام متحدہ ہم پر پابندیاں لگا دے گا۔ پھر ایٹمی دھماکہ کر کے ہمیں ملے گا بھی کیا۔ کچھ نہیں۔ شیراز نے کہا کہ ہمیں بہت کچھ ملے گا۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ دھماکے صر ف پاکستان کے ہی نہیں ہو ں گے بلکہ بہت سے اسلامی ممالک کی دلی خواہش ہے۔ پھر دوسری بات یہ کہ انڈیا کو کم از کم اتنی جرات بھی نہیں ہو گی کہ وہ اونچی آواز میں بات کر سکے چہ جائیکہ کہ وہ پاکستان کی سرحدو ں پر اپنی فوجیں کھڑی کر دے۔ 

جو بھی شیراز سے اس معاملے پر بحث کرتا وہ اسکو بھرپور دلائل دیتا۔ اسکا ساتھ دینے کے لیے اسکے دوست آگے بڑھ آتے او ر اپنے اپنے انداز میں پاکستان کے دھماکہ کرنے کے حق میں بات کرتے ۔اس طرح کرتے کرتے اس نے بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ پھر اکثر شام کو وہ ایک بڑی تعداد لے کر ایک انتہائی پر امن جلوس نکالتا۔ شہر کے کھیلوں کے میدان میں پہنچ کر وہاں باقاعدہ پھر انکے جذبات کو ابھارتا۔ اور پھر پر امن طریقے سے جلوس منتشر ہو جاتا۔ کیا مجال کہ کبھی ایک آنے کا کسی کا بھی نقصان ہوا ہو۔ وہ جب بھی جلوس کا آغاز کرتا تو ایک بات ضرور کرتا کہ یہ جلسہ ہم اپنے جذبات کے لیے کر رہے ہیں، اپنے حکمرانوں تک اپنی بات پہنچانے کے لیے کر رہے ہیں۔اس لیے کسی کا بھی کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ نہ ہی کوئی چلتی ٹریفک میں خلل واقع ہونا چاہیے۔ اسکے جلسوں کی شہرت اسکے شہر سے نکل کر قریبی شہروں تک پھیل گئی۔ اسکی پیروی کرتے ہوئے دوسرے شہروں میں بھی پرسکون جلوس ہونے لگے۔ ایک خاص وقت پر شروع ہوتے، تقریریں ہوتیں، بارگاہِ خدا وندی میں دلی آہ و زاری ہوتی، آہوں سسکیوں کی آوازیں شاید سیٹلائٹ کے ذریعے ، انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ تک بھی جاتی ہوں گی۔ اگرچہ صرف 10, 9 دن ہی گزرے تھے مگر عوام کی جائید اد کو رتی بھر بھی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ البتہ انکے دل ہر گزرے دن کے ساتھ دھک دھک کی صدا بڑھاتے جا رہے تھے۔ 
Yome takbeer stamp
وہ 28 مئی کا دن تھا۔ روز کی طرح اپنے جلوس سے فارغ ہو کر وہ بازار میں کچھ گھرکے لیے خریدو فروخت کر رہا تھا۔کہ اچانک اسکے کانوں میں ایک آواز آئی۔ ’’ پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر دیا ‘‘۔ اسکو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ فوراً ایک قریبی دکان میں گھس گیا جہاں ٹیلی ویڑن لگا ہوا تھا اور نیوز کاسٹر خبریں سنا رہا تھا۔ شد ت جذبات سے اسکی آواز بھی مشکل سے نکل رہی تھی۔جب شیراز نے اپنے کانوں سے سنا اور آنکھوں سے لکھا ہو اپڑھا تو اسے اپنے آپ قابو نہ رہا۔ جھٹ دکان سے نکلا اور انتہائی بلند آواز میں نعرۂ تکبیر کی صدا بلند کی۔ اس وقت بازار میں جتنے بھی لوگ تھے چاہے دکاندار تھے یا خریدار۔ سب نے ایک آواز ہو کر اسکا جواب دیا ’’ اللہ اکبر‘‘۔ پھر ایک صدا گونجی ’’ نعرۂ تکبیر۔ اللہ اکبر۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر۔

شیراز خوشی سے اور جذبات سے بے قابو ہو چکا تھا۔ اسکو اپنی محنت کا پھل مل چکا تھا۔ اسے یقین ہو چکا تھا پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ وہ فوراً اللہ کی بارگاہ میں سر بسجود ہونے کے لیے بازار میں موجود ایک مسجد میں گھس گیا۔ دیکھا تو وہاں ایک جم غفیر جمع تھا اور کوئی سجدے میں تھا کوئی رکو ع میں تھا تو کوئی ہاتھ اٹھائے ، آنکھوں سے آنسو بہائے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔جس نے آج پاکستان کو اسلامی دنیا میں میں سرخرو کر دیا تھا۔ اس نے بھی سجدے میں سر رکھ دیا اور خدا کے حضور آنسوؤں کے نذرانے پیش کرنے لگا۔
پاکستان زندہ باد۔

خواہش۔ افسانہ
February 10, 2016

چٹاخ۔۔ معصوم بچے کے پھول جیسے نازک سے گال پر ایک زودار تھپڑ لگا۔ بچے نے اس گال پر اپنا ہاتھ رکھا اور سسکتے ہوئے اپنے چاچا رحیم دادکی طرف کو دیکھا جو غصے میں اس پر چلا رہا تھا۔بچے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
پڑھ لکھ کر کیا بنے گا۔ تحصیلدار یا ڈی سی۔ یا پھر کرمو کے بیٹے کی طرح دو جماعتیں پڑھ کر دوسروں پر رعب جمائے گا۔ ؟ اسکا چاچا غصے سے اسکو دیکھتے ہوئے بولا اور پھر ٹہلنا شروع کر دیا۔
بچہ تو معصوم تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ جب بڑے غصے میں ہوں اور انھیں قائل نہ کیا جا سکتے تو پھر خاموشی بہترین علاج ہوتی ہے۔ اسکو ان باتوں کی سمجھ نہیں تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ تحصیلدار کیا ہوتا ہے یا ڈی سی کیا بلا ہوتی ہے۔ البتہ اسکی آنکھوں میں موجود چمک کسی اور بات کی غمازی کر رہی تھی۔
چاچا! میں بڑا آدمی بنوں گا۔ بچہ روتے ہوئے ہکلا کر بولا۔
اسکا چاچا جو غصے میں ٹہل رہا تھا ، بچے کی طرف اسکی پیٹھ تھی۔ ایک جھٹکے سے رکا اور مڑا۔ تو مڑتے ہوئے کمرے کے درمیان میں پڑی میز کے کونے سے اسکی ٹانگ ٹکرا گئی اور چوٹ لگی۔ اس کو اور بھی غصہ آگیا۔
ابے چپ کر ۔ بڑا آیا ، بڑا آدمی بنوں گا۔ رحیم داد یوں آگے بڑھ کر اونچی آواز میں بولا جیسے ایک تھپڑ اور لگانے لگا ہو۔
بچہ سہم کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اسکے پیچھے کرسی تھی وہ سیدھا کرسی سے ٹکرایا اور کرسی سمیت پیچھے جا گرا۔
اندھا ہے کیا؟ اب اپنا سر پھوڑے گا۔چاچا غصے میں تھا تو بچے کے گرنے پر اسکو مزید غصہ آگیا۔
بچہ جلدی جلدی اٹھا۔ گرنے سے شاید اسکی کہنی پر چوٹ لگ گئی تھی تو کہنی پر ہاتھ رکھ کراہیں بھرنے لگا۔
چل بھاگ۔ اماں کو بول کہ تیری مالش کرے۔ رحیم داد نے بچے کو ہلکا سا دھکا دیتے ہوئے تھوڑا سا نرم لہجے میں کہا۔
بچہ اس دھکے کو پھر غصہ سمجھا اور جان چھوٹنے پر تیزی سے بھاگ کر دروازے سے نکلنا چاہا۔ دہلیز میں اسکا پاؤں اٹکا اور وہ منہ کے بل جا گرا۔
منیرے ! اندھا ہو گیا ہے کیا؟ نظر نہیں آتا۔ کب عقل آئے گی۔ کب سمجھو گے، سدھرو گے؟ رحیم داد غصے میں شور کرتا ہوا تیزی بچے کی جانب بھاگا۔
بچے نے جب رحیم داد کے شور کی آواز سنی تو تیزی اٹھ کر بھاگا۔ اسے یہ احساس بھی نہ رہا کہ اسکی ناک سے خون بہہ رہا ہے جو گرنے سے زمین پر زور کی لگی تھی۔ بچہ دوڑتا ہو رسوئی کی طرف گیا، جہاں اسکی ماں چولہے میں لکڑیاں پھونک رہی تھی اور اسکی آنکھوں سے آنسوگر رہے تھے۔کمرے میں لگا ساٹھ واٹ کا بلب کم روشنی دے رہا تھا اور لکڑیوں سے پھیلنے والے دھوئیں کی وجہ سے اسکی روشنی میں مزید کمی ہو رہی تھی۔ شاید بچے کی ماں کی آنکھوں سے آنسو گرنے کی وجہ یہ دھواں ہی ہو۔ بچے کو آتا دیکھ کر اس نے جلدی جلدی اپنے میلے دوپٹے سے اپنے آنسو صاف کرنے کی ناکام کوشش کی۔ کیونکہ ادھر اس نے صاف کیے، ادھر پھر نکل آئے تھے۔
جونہی اسکی نگاہ بچے کی ناک سے بہتے خون پر پڑی وہ جلدی جلدی اٹھی۔
ہائے میرا بچہ۔ کیا ہو گیا؟ یہ خون کیسے نکلا۔ وہ اپنے دوپٹے سے خون صاف بھی کیے جا رہی تھی اور ساتھ میں سوال در سوال کیے جا رہی تھی۔
بچے نے جب ممتا کا لمس محسوس کیا تو آواز کے ساتھ رونا شروع ہو گیا۔ ہچکیاں لینا شروع کر دیں۔اس سے پہلے بے آواز بس سسکیاں ہی بھر رہا تھا۔ ماں نے جب اسکے رونے کو دیکھا تو گویا اسکے دل پر چھری سی چل گئی۔ سمجھ گئی کہ کسی نے کچھ کہا ہے۔ اور ہو نہ ہو یہ اسکا چاچا ہی ہو سکتا ہے۔
چاچا نے مارا ہے؟ ماں نے اسکا خون اور آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
نہیں اماں۔ دوڑتے ہوئے گر گیا تھا۔ بچے نے رونے کو سسکیوں میں بدل کر جواب دیا۔
ساتھ ہی اس نے اپنے ماتھے پر آئے ہوئے تیل سے بھرے بالوں کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تو جو کہنی پر چوٹ لگی تھی اس سے بھی ایک ٹیس اٹھی او ر دوسرے ہاتھ سے کہنی پر ہاتھ رکھ کر زور سے کراہا ۔
نہیں ۔ کسی نے تو ضرور مارا ہے۔ کہ ناک سے لہو بھی بہہ رہا ہے اور کہنی پر بھی چوٹ لگی ہوئی ہے۔ ماں نے آستین کو اوپر کر کے کہنی کو دیکھتے ہو ئے کہا۔ کہنی پر نیل کا نشان نظر آرہا تھا۔
نہیں اماں۔ سچ کہہ رہا ہوں۔ دوڑتے ہوئے گرا تھا تو کہنی پر بھی چوٹ لگی تھی۔ بچے نے جواب دیا۔
اسکی ماں نے جلدی جلدی ایک اور کپڑا چولہے کی آنچ سے گرم کیا اور اسکی کہنی پر رکھ کر سینکنا شروع کر دیا۔ چار پانچ بار یہ عمل دہرایا تو بچ کہنی کے درد میں کچھ سکون محسوس ہوا۔ پھر ماں نے ایک دیوار میں بنی ایک مٹی کی الماری سے سرسوں کے تیل پرانی سی بوتل نکالی جس کو شاید کافی عرصہ صاف نہیں کیا گیا تھا تو باہر سے بھی اس پر گرد میل کی صورت جمی ہوئی نظر آرہی تھی۔ ماں نے اسکی آستین پوری اوپر کو تہہ کی۔ پھر اپنی ہتھیلی پر تیل ڈال کر اس سے اسکی کہنی پر مالش کرنے لگی۔ تھوڑی دیر تک ملتی رہی۔ پھر اسکی آستین کو نیچے کیا۔ اس کو اپنے کمرے کی طرف بھیج دیا جہاں دونوں ماں بیٹا سوتے تھے۔
جب بچہ چلا گیا تو اسکی ماں کی آنکھوں سے گویا سوتے پھوٹ پڑے۔
“واہ میرے مولا۔ تیاری کا موقع دیا نہیں، امتحان بھی لیتا ہے اور نقل بھی نہیں کرنے دیتا۔ تیری شان ہی نرالی ہے۔ تیری باتیں تو ہی جانے۔” چھت کی طرف دیکھ کر وہ مخاطب ہوئی۔
پھر اس نے چولہے میں لگی لکڑیوں کو ایک دوسرے دور کیا۔ ان پر پانی کا ہلکا ہلکا چھڑکاؤ کیا، تاکہ آگ بجھ جائے۔ جب انگاروں نے بھی سلگنا بند کر دیا تو ان انگاروں کو بکھیر کر وہ تسلی کر کے کہ کوئی سلگتا تو نہیں رہ گیا، اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ دیکھا تو بیٹا جاگ رہا تھا۔
اماں ! میں اسلم ، بلال، پرویز کی طرح کیوں نہیں پڑھ سکتا۔ میں سکول کیوں نہیں جا سکتا؟ بچے نے جب دیکھا کہ اسکی ماں چارپارئی پر بیٹھ گئی ہے تو اس سے سوال کیا۔
کیوں نہیں جا سکتا۔ یہ کس نے تجھے کس نے کہا ہے؟ اسکی ماں سدراں بی بی اپنی چارپائی سے اٹھ کر بیٹے کی چارپائی پر اسکے قریب آکر بیٹھ گئی۔
ماں وہ چاچا کہہ رہا تھا کہ میں سکول نہیں جا سکتا۔ بچے نے گویا پندرہ منٹ پہلے ہونے والا سارا واقعہ سنا دیا۔
ماں کوئی بھی ہو، پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ۔ ماں ہوتی ہے۔ بچے کی کہنی کی چوٹ، ناک سے بہتے ہوئے خون کا راز جان گئی۔ لیکن نہیں چاہتی تھی کہ بیٹے کے دماغ میں کوئی غلط خیال پیدا ہو۔
نہیں بیٹا۔ تیرے چاچے کا یہ مطلب نہیں تھا۔ بلکہ انکا مطلب یہ تھا کہ تم تو ابھی چھوٹے ہو۔ اسلیے نہیں جا سکتے۔ جب بڑے ہو جاؤ گے تو ضرور جانا۔”
لیکن اماں۔ وہ اسلم اور بلال بھی تو میرے جتنے ہیں۔ پھر وہ کیوں جاتے ہیں ؟ بچے نے کو نیند آرہی تھی۔ نیند کی حالت میں سوال کیا۔
ماں کو احساس ہو چکا تھا کہ بچہ اسکی بات سنے گا تو سہی، لیکن اسکو مفہوم سمجھ نہیں آئے گا۔ لیکن پھر اس نے جواب دینا اپنا فرض سمجھا۔
میرے پتر۔ یہ دنیا کی رِیت ہے۔ جب کسی کا باپ اسکے بچپن میں مر جائے تو پھر دنیا اسکو اسکی مرضی سے جینے نہیں دیتی۔ یا تو وہ اسکو اتنا مجبور کر دیتی ہے کہ وہ سسک سسک کر دنیا میں زندگی گزارتا ہے یا پھر وہ معاشرے سے بغاوت کرکے اپنی زندگی جینے کی کوشش کرتا ہے، لیکن پھر بھی دنیا اسکے جینے نہیں دیتی۔یہ کہہ کر اس نے بیٹے کی چادر کو درست کرکے اسکو سینے تک ڈھانپا۔ پھر اٹھ کر اپنی چارپائی پر جا کر لیٹ گئی۔
لیکن بیٹا تو پڑھے گا۔ ضرور پڑھے گا۔ میں تیرے چاچے کو جانتی ہوں۔اسے بس ایک دفعہ کہنے کی بات ہے۔ وہ خود تجھے سکول بھیجے گا۔سدراں بی بی مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔
صبح اٹھ کر حسب معمول اس نے سارا کام سر انجام دیا۔ ناشتہ تیار کیا۔ گھر کی صفائی وغیرہ کی۔ اسکا دیور ہمیشہ بیٹھک میں سوتا تھا۔ سدراں بی بی بیٹھک کے اندرونی درواز ے کے قریب ناشتہ رکھ لیتی تھی اور وہ اٹھا کر لے جاتا تھا۔ آج بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ جیسے ہی ناشتہ لینے صحن کے دروازے سے نکلا، تو دیکھا اسکی بھابھی ادھر ہی دھری ایک چارپائی پر بیٹھی ہے اور اسکی طرف دیکھ رہی ہے۔
سدراں بی بی کی آنکھوں میں ایک سوال تھا۔ رحیم داد نے وہ سوال پڑھ لیا۔
بھابھو۔ میں نے تیرے بیٹے کو ہر گز نہیں مارا۔ غصہ ضرور کیا تھا۔ وہ خود ہی ڈر کر بھاگا اور گھر گیا تھا۔ رحیم داد نے وہیں دروازے میں کھڑے کھڑے صفائی پیش کی۔
میں جانتی ہوں، مجھے سب معلوم ہے۔ میں تو یہ کہنے کے لیے رکی تھی کہ وہ سکول پڑھنا چاہتا ہے تو تو اسے سکول میں داخل کرا دے۔ خرچے کی فکر نہ کر۔ سدراں بی بی نے لگی لپٹائے بغیر اسے مدعا بیان کر دیا۔
ایک لمحہ کو تو رحیم داد کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ پھر تھوڑا اونچی آواز میں کہنے لگا۔
بھابھو۔ کیا کرے گا پڑھ کر۔ کھیتوں میں ہل ہی چلانا ہے۔ٹیوب ویل سے پانی ہی بھر بھر کر لانا ہے۔
وہ کچھ بنے نہ بنے، اسکا دل چاہتا ہے، تو پڑھنے دے اسے۔ جس دن وہ تھک گیا، خود ہی پڑھنا چھوڑ دے گا۔ ماں آخر ماں تھی۔ کیسے اپنے بیٹے کی خواہش کو نہ پورا ہونے دیتی۔
رحیم داد جانتا تھا کہ اسکی بھابھی بہت ثابت قدم ہے۔ اگر اس نے بچے کو سکول میں نہ داخل کیا تو وہ خود منیرے کو لے کر سکول چلی جائے گی۔
ٹھیک ہے بھابھو۔ تم ضد کرتی ہو تو میں داخل کرا دیتا ہوں منیرے کو سکول میں۔ رحیم داد نے ہار مان لی۔
بات ضد کی نہیں ہے۔ بات اسکی خواہش کی ہے۔ اور کبھی کبھی جائز خواہش پوری کر لینی چاہیے۔ سدراں بی بی چارپائی سے اٹھتے ہوئے بولی۔
رحیم داد سر کو ہلاتا ہوا ناشتہ لے کر بیٹھک میں چلا گیا اور سدراں بی بی کمرے کی طرف چلی گئی۔
کمرے میں جا کر اس نے بیٹے کے ماتھے کو چوما۔ دو آنسو ٹپکے اور بیٹے کے گالوں میں جذب ہو گئے۔

 

 

khahish