Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

میرے افسانے

پہلی قومی تربیتی کانفرنس ۔21 اکتوبر 2018، خانیوال
November 8, 2018

غازی ہیومن رائیٹس ویلفیئر سوسائٹی (رجسٹرڈ) پاکستان کے زیر اہتمام خانیوال میں مورخہ 21 اکتوبر، 2018 کو پہلی قومی تربیتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کی کچھ تصویری جھلکیاں

سلیوٹ۔۔
September 14, 2018

(ابن نیاز)

باباجانی، ڈاکٹر کو دیکھ لیا ہے۔ اب لاہور کو دیکھنا ہے۔
ڈاکٹر آپ کو کیسا لگا۔
لگا نہیں بابا، لگی۔۔ وہ تو پیاری سی آنٹی تھیں۔
کتنی پیاری؟ ویسے تو وہ بہت موٹی نہیں تھیں، بھینس کی طرح۔۔
بہت بابا۔ انھوں نے دیکھیں میرے گال پر کس بھی کیا۔
بیٹا ایسا نہیں کہتے۔
کیوں نہیں کہتے بابا جانی۔۔
اس لیے کہ بابا کا دل بہت وسیع ہے، کہیں وسعت میں تھوڑی سی کمی نہ آجائے۔
اور بابا وہ کالی تو نہیں تھیں۔۔ تو بھینس کیسے ہوئیں؟
ارے بیٹا، وہ میرا مطلب ہے۔ اچھا چھوڑو۔۔
بابا جانی! یہ وسعت کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
وسعت کا مطلب بیٹا بہت کھلا۔ جیسے وہ سامنے بڑا سا گراﺅنڈ ہے۔
یہ تو اقبال پارک ہے بابا جانی۔اور اس میں مینارِ پاکستان ہے۔
تو کیا ہوا، اس کے ارد گرد گراﺅنڈ توہے نا۔
تو کیا آپ کے دل میں بھی مینارِ پاکستان ہے؟
ہاں ہے نا۔۔ پاکستان سے محبت کا۔
تو کیا بابا جانی، وہ بھی 230 فٹ ہے اونچا ہے۔
نہیں بیٹا۔ اس مینا ر کی بلندی کوئی نہیں ناپ سکتا۔
کیوں بابا جانی؟ وہ بہت بلند ہے، آسمان سے بھی بلند؟
جی بیٹا۔ اگر محبت کا سچا مینار ہے، تو وہ آسمان سے بھی بلند ہے۔
محبت کیا ہوتی ہے؟
بیٹا، محبت اذیت ہوتی ہے۔ محبت تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔۔
محبت خوشی ہوتی ہے، محبت سکون کا دوسرا نام ہے۔۔۔
بابا جانی۔۔ (غصے کا اظہار۔۔)
یہ اتنے مشکل لفظ کیوں کہہ رہے ہیں۔
نہیں بیٹا۔ مشکل تو نہیں۔
اچھا چھوڑیں۔ یہ بتائیں کہ آپ کا دل اقبال کا گراﺅنڈ ہے؟
جی بیٹا۔۔ لیکن اقبال پارک ہے۔ گراﺅنڈ نہیں۔
تو بابا اس کا میننگ ہے کہ آپ کا دل پارک ہے؟
جی بیٹا۔۔
پھر تو آپ کے دل میں بہت سے لوگ کھیلتے بھی ہوں گے اور چلتے بھی ہوں گے؟جیسے یہاں کھیل رہے ہیں اور چل رہے ہیں؟
جی بیٹا۔ اس میں بہت سے لوگ ہیں۔
ٹھیک ہے باباجانی۔ میں مما کو ضرور بتاﺅں گا کہ آپ کا دل اقبال پارک جتنا بڑا ہے۔اور اس میں بہت سے لوگ رہتے ہیں۔
ارے ارے۔۔ خبردار مما کو نہیں بتانا۔ ورنہ میں آپ کو شاہی مسجد نہیں دکھاﺅں گا۔۔۔
کیوں بابا جانی، مما کو کیوں نہ بتاﺅں۔۔؟
ارے بیٹا سمجھا کرو۔۔ پھر نہ پارک رہے گا، نہ دل۔۔
کیوں؟ مما کیا کریں گی؟کیا اس کو توڑ دیں گی؟
بیٹا، یہ تو مجھے نہیں معلوم، لیکن یہ جو ایئر پورٹ ہے نا، اس پر کھڈے پڑ جائیں گے۔ (اپنے آدھے گنجے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے)
یہاں تو ایئرپورٹ کوئی نہیں بابا جانی۔۔
بیٹا ، یہ وہ ایئرپورٹ ہے جو آپ کو جب بڑے ہو گے تو نظر آئے گا۔۔
بابا جانی۔۔ ایئرپورٹ دیکھنے چلیں۔۔
نہیں بیٹا۔۔ کوئی فائد نہیں۔
کیوں بابا جانی۔
اس لیے بیٹا کہ وہاں تو بیٹھنے کی جگہ بھی نہیں۔اور پانی بہت بہتا ہے ۔۔۔
تو کیا بابا جانی۔۔وہاں آبشاریں بہت ہیں، جس طرح سکردو میں تھیں؟
آبشاریں تو نہیں ہیں، لیکن ڈیم بنانے کے لیے جھیلیں بہت ہیں۔
وہ جس طرح دودو پت سر جھیل تھی؟
ہاںبیٹا۔۔
تو کیا جتنی لمبی اور چوڑی وہ جھیل تھی اتنی ہی ایئرپورٹ پر بھی ہیں۔۔
چھوڑو بیٹا۔۔ چلو لاہور دیکھتے ہیں۔۔ پھر کیا پتہ ہم دیکھ سکیں یا نہیں۔
کیوں بابا جانی، لاہور کہیں چلا جائے گا؟
نہیں بیٹا۔۔ لاہور تو نہیں۔۔لیکن کوئی اور جا سکتا ہے۔
(بابا نے آنکھ میں آنے والے آنسوﺅں کو حلق میں اتارا۔۔)
کون بابا۔۔
ہے ایک پیارا سا پھول۔۔۔
پھر بیٹا مینارِ پاکستان اور اس کے ساتھ ایک کونے میں لہرانے والے پاکستان کے جھنڈے کو دیکھنے لگا۔
بابا کی نظر پڑی تو وہ اپنی پی کیپ کو درست کرکے اٹینشن کھڑا تھا۔ پھر اس نے اس جھنڈے کو سلیوٹ کیا۔
بیٹا ، اللہ آپ کو صحت عطا فرمائے، صحت کاملہ۔۔ تا کہ آپ اس جھنڈے کی عظمت کی حفاظت کر سکو۔۔ بابا نے دل میں دل سے دعا کی۔
بابا کی آنکھیں پھر بھیگ چکی تھیں کہ اس کے بیٹے کے دونوں گردے خراب تھے اور وہ دوائیوں کے سہارے یہ اٹھکیلیاں کر رہا تھا۔۔۔۔
*******************

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔۔
June 27, 2018

 ختمِ نبوت کے حوالے سے ایک افسانہ

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

خاموشی۔افسانہ
June 4, 2018

خاموشی

کھڑکی کے اس پار اس کو سورج دوبتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے اور اس سورج کے بیچ میں ایک درخت حائل تھا۔ جیسے جیسے سورج کی روشنی مدہم ہوئی جا رہی تھی، اس کو لگ رہا تھا ڈوبتا سورج اس کی بینائی بھی ضبط کیے جا رہا تھا ۔ نہیں بلکہ اس وقت اس کی زندگی میں پھیلے قسمت کے اندھیرے کی طرح ہلکی سرمئی شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ تب ہی اس کو وہ ہرا بھرا درخت سیاہی مائل دکھائی دے رہا تھا۔ اور اس کی اوڑھ میں سورج بھی مایوسی سے شفق کی سرخی پھیلائے غروب ہو رہا تھا۔

سورج کو وہ دیکھ تو رہا تھا لیکن اس کا دماغ اپنے والد کی بیماری کے حل کو کھوج رہا تھا۔ ان کے دائیں گردے میں کینسر تھا اور ہر بڑے اور اچھے ہسپتال کے ڈاکٹرز کی متفقہ رائے تھی کہ گردہ نکالنا پڑے گا۔ تب ہی زندگی بچ سکتی ہے۔ گزشتہ چیک اپ میں ڈاکٹر نے تین ہفتوں کے اندر اندر آپریشن کا کہا تھا۔ آپریشن کے بعد کچھ سال وہ سکون سے زندگی گزار سکتے تھے لیکن آپریشن نہ کرنے کی صورت میں تین سے سے چار ماہ کی زندگی تھی۔ آج دو ہفتے گزر چکے تھے۔ جب سے انھوں نے اپنی بیماری کا سنا تھا انھوں نے چپ کا روزہ رکھ لیا تھا۔

وہ کھڑکی سے اٹھا اور والد کے کمرے کی طرف بڑھا کہ ان کا حوصلہ بڑھا کر ان کو آپریشن کے لیے تیار کرے۔ اس نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ’’آجاؤ احمد‘‘ والد نے قدموں کی چاپ سے ہی پہچان لیا تھا۔

احمد نے دروازہ کھولا۔ دیکھا تو ہمیشہ کی طرح وضو کیے مسجد جانے کے لیے تیار کے تھے۔ جب سے احمد نے ہوش سنبھالا تھا، اپنے والد کے چہرے کو روشن ہی دیکھا تھا۔ پھر اس نے حدیث بھی پڑھی تھی کہ قیامت کے دن پانچ وقت نماز کے لیے وضو کرنے والے کے چہرے روشن ہوں گے۔ وہ دنیا میں ہی ان کے چہرے سے نور برستا دیکھ رہا تھا۔ ایسا نور جو آنکھوں کو ٹھنڈک بخشتا تھا۔ کمرے میں اگر اندھیرا بھی ہوتا تو بھی اتنی روشنی ہوتی تھی گویا آدھے چاند کی چاندنی ہو۔

صبح بات کریں گے۔ میرا کچھ کام ہے تو عشاء کی نماز بھی ان شاء اﷲ پڑھ کر آؤں گا۔ انھوں نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کمرے کی دہلیز پار کرتے ہوئے کہا۔

جی ابو جان۔ احمد نے سعادت مندی سے سر ہلایا۔

وہ جانتے تھے کہ احمد کو صبح دفتر بھی جانا تھا اور احمد کو بھی معلوم تھا کہ وہ عشاء کے بعد ذکر اذکار میں مصروف ہو جاتے تھے۔

احمد نے اپنے عمومی کام سر انجام دیے۔ کروٹیں بدلتے رات گزاری۔ اس کو اندازہ ہوچکا تھا کہ اس کے والد اس کے دماغ کو پڑھ چکے ہیں کہ اس کے آنے کا مقصد کیا تھا۔ اس نے دل سے اﷲ سے دعا کی کہ سب خیر ہو۔

اس کے والد نے رات استخارہ کیا۔ استخارہ اﷲ سے مشورہ ہے۔ اﷲ نے ان کی رہنمائی کی اور کامیابی کا اشارہ ملا۔ انھوں نے فجر کے وقت اپنی بیگم سے احمد کو آپریشن کی تیاری کے لیے کہا۔

صبح احمد کے لیے خوشخبری لے کر آئی تھی۔ اس کی والدہ نے انتہائی خوشگوار لہجے میں، اپنی خوشی چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اوکے کا سگنل دیا تھا۔ اس کی نگاہ کھڑکی سے باہر اس درخت پر پڑی۔ صبح بہت روشن اور نور پھیلاتی لگ رہی تھی۔ وہی درخت تھا لیکن اب کی بار وہ سحری کے وقت کی برسی بارش کی وجہ سے بہت نکھرا سا بادِ نسیم سحری میں ہلکورے لے رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور خالق کا شکر ادا کیا کہ گھر میں چھائی بے سکونی کی، بے چینی کی، یاسیت کی خاموشی ٹوٹ گئی تھی۔

ریشماں- افسانہ از ابن نیاز
May 16, 2017

ریشماں
(ابنِ نیاز)

ریشماں کا باپ کیا مر گیا تھا یوں لگتا تھا اس کے پر پُرزے نکل آئے ہیں۔ گاﺅں بھر کے لڑکوں سے گپ شپ لگانے کا شوق اسے پہلے بھی تھا لیکن باپ کے ڈر کی وجہ سے وہ گریز کرتی تھی۔ پھر بھی جب کبھی اس کا باپ گھر پر نہ ہوتا تو وہ گھر کی دیوار کے ساتھ چارپائی کھڑی کرکے اسکا سہارا لیکر گلی میں تاک جھانک کیا کرتی تھی۔ جو بھی لڑکا گلی سے گزرتا دکھائی دیتا ، کسی پر آوازکستی اور کسی پر اسکے حلیہ کو دیکھتے ہوئے طنز کرتی۔آج جب باپ دنیا سے گزر گیا تھا ، اس کے وارے نیارے ہو گئے تھے۔ ماں کی پہلے ہی نہیں سنتی تھی ۔ جب کہ ماں سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھی کہ اس طرح کی حرکتیں نہ کیا کرے، ہر کسی سے باتیں نہ کیا کرے۔ ہر ماں کی طرح وہ بھی کہتی تھی کہ اس کا رشتہ کوئی نہیں آئے گا۔ سب اسے آوارہ ، بدچلن کہیں گے۔اور وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیتی تھی۔ کبھی کبھی تو ماں کو جواب دیتی کہ اگر دنیا اسے آوارہ ، بد چلن کہے گی تو کیا ان کے اپنے کرتوت اس طرح نہ ہو ں گے۔ کیونکہ شریف لوگ کبھی بھی بازاری زبان استعمال نہیں کرتے۔
ریشماں بے شک باہر لڑکوں سے گپ شپ لگاتی تھی، لیکن کبھی بھی اس نے کسی کے ساتھ بالکل تنہائی میں بات نہیں کی تھی۔ بلکہ وہ جب بھی کسی سے بات کرتی توگلی محلے میں کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوتا تھا۔ پہلے باپ کے ڈر سے وہ بڑوں کی عزت کسی نہ کسی حد تک کر لیتی تھی لیکن پھر بھی ہر دوسرے تیسرے دن ریشماں کو باپ سے ڈانٹ ضرور پڑ جاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی بزرگ برداشت نہ کرتے ہوئے اس کے باپ کریموکو شکایت لگا دیتا تھا۔لیکن اب وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگی تھی۔اگر وہ گھر سے باہر گلی میں کھڑی باتیں نہ کرتی تو پھر اسی طرح چارپائی کا سہارا لیتے ہوئے دیوار کے پار سے گھنٹہ گھنٹہ کھڑی رہتی اور ہر آنے جانے والے پر آوازیں کستی۔ اس کی نسبت اس کی ماں اچھی تھی۔ گاﺅں بھر کے دکھ سکھ میں شریک رہتی۔اگر چہ مالی یا جانی طور پر کسی کی مدد نہیں کر سکتی تھی، لیکن پھر بھی کسی کو اسکی مشکل میں تسلی کے دو بول کہہ دیتی ۔ جتنی شکایات گاﺅں والوں کو ریشماں سے تھیں اتنے ہی وہ اس کی ماں سے خوش تھے۔
کریمو کی گاﺅں میں صرف دس کنال زمین تھی۔ جس میں وہ پانچ کنال موسمی فصل اگاتا تھا اور باقی کے پانچ کنال میں وہ مختلف سبزیاں اگاتا تھا اور اپنے اور ارد گرد کے گاﺅں میں فروخت کر کے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔پڑھا لکھا بالکل نہیں تھا ۔البتہ قرآن مجید پڑھ سکتا تھا۔ اتنا ہی اس کی بیوی اور بیٹی بھی پڑھی ہوئی تھیں۔باقی دین کی تعلیمات کیا تھیں ان کو کسی نے نہیں سکھایا تھا۔ اسی وجہ سے ریشماں بھی ہر ایرے غیرے سے آزادی سے گپ شپ لگاتی تھی۔لباس کے معاملے میں بھی وہ بالکل کوری تھی۔ کبھی تو اس طرح کا لباس پہنا ہوتا کہ سب نشیب و فراز واضح ہوتے۔ لیکن ریشماں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔البتہ اس کی ماں کو یہ فکر ضرور ہو گئی تھی کہ اس کا شوہر فوت ہو گیا ہے تو گھر کا گزارہ کیسے ہو گا۔ لیکن پھر اس نے گاﺅں کے چند سیانوں سے مشورہ کر کے گاﺅں کے ایک غریب کسان کو اپنی زمینوں پر رکھ دیا۔ جس نے اسی طرح فصلیں اگانی تھیں جیسے کریمو کرتا تھا۔اسی طرح دونوں ماں بیٹی کی زندگی گزر رہی تھی۔ چار سال گزر گئے تھے۔
گزشتہ ایک ماہ سے ریشماں کی آزادانہ حرکتیں بھی کم ہو گئیں تھیں ۔ماں کے سامنے بھی منہ نہیں چلاتی تھی۔ کبھی کبھار اگر ماں نے کچھ پوچھ لیا تو جواب دے دیتی تھی ورنہ خاموش ہی رہتی تھی۔اب وہ زیادہ تر اپنے کمرے میں بند رہتی تھی۔ ماں نے اسکی وجہ بہت مرتبہ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ ماں ہی تھک ہار کر چپ ہو گئی تھی۔ ہمیشہ ریشماں ماں سے پہلے اٹھ جاتی تھی ۔ لیکن اس دن جب ماں اٹھی تو ریشماں اسے نظر نہیں آئی نہ ہی اسکی آواز سنائی دی جو وہ گھر میں موجود مرغیوں کو دانہ پانی کراتے ہوئے نکالتی تھی۔ اس نے گھر بھر چھان لیا۔لیکن ریشماں گھر میں ہوتی تو ملتی۔ وہ تو اس وقت گھر سے چند میل دور غفرانے کے ساتھ جنگل میں موجود تھی۔ غفرانہ تھا تو اسی گاﺅں کا لیکن ایک دوسرے شہر میں کسی کارخانے میں کام کرتا تھا۔حد درجے کا لوفر تھا۔ کارخانے میں بھی بقول اس کے پیٹ پوجا کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔ ورنہ اگر بنا کام کیے کھانے پینے کے لیے اور رہنے کے لیے جگہ مل جاتی تو وہ کبھی بھی کسی قسم کا کام نہ کرتا۔ اسکے ماں باپ اس کے بچپن میں گھر کی چھت گرنے کی وجہ سے نیچے آکر فوت ہو چکے تھے۔ شہر میں رہ کر اور کام کر کے بہت ہوشیار ہو گیا تھا۔ریشماں کی آزادانہ حرکتوں کی وجہ سے کافی عرصے سے غفرانے کی اس پر نظر تھی۔ شہر میں تو اس کو اپنی جسم کی گرمی نکالنے کے لیے بہت سے مواقع میسر ہوتے تھے، جن سے وہ بھرپور فائدہ بھی اٹھاتا تھا۔ چونکہ کمانے والا بھی اکیلا تھا اور کھانے والا بھی تو اس کی تنخواہ میں سے کافی بچت ہو جاتی تھی۔ جس کو وہ کبھی بھی بچا کر نہیں رکھتا تھا۔ ادھر مہینے کا آخر ہوا، ادھر اس کے جیب سے آخری روپیہ بھی خرچ ہوا۔
ریشماں کے جنگل میں موجود ہونے کی وجہ غفرانا ہی تھا۔چھ ماہ پہلے جب وہ گاﺅں آیا تھا تو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اس نے ریشماں کو گھیر لیا تھا۔ ریشماں سے پیار محبت کی باتیں کی تھیں اور فلمی کہانیوں کی طرح اس کو ہر طرح رجھایا تھا۔ کبھی اس کے لیے کھانے کو کچھ لے آتا تھا تو کبھی کچھ اور۔ یہ اور بات ہے کہ ان چیزوں کی ریشماں نے کبھی اپنی اماں کو ہوا بھی نہ لگنے دی تھی۔ لیکن وہی چیزیں ریشماں کی عزت کا مول بن گئی تھیں۔ گھر چھوڑنے سے ایک دن پہلے ریشماں نے غفرانے کو چھ ماہ بعد دیکھا تھا۔ وہ ان چھ ماہ میں کبھی گاﺅں نہیں آیا تھا کہ اسکا وہاں کون تھا۔ سوائے مٹی اور پتھروں سے بنے گھر کے جس کو برباد ہونے سے بچانے کے لیے وہ کبھی کبھار مہینوں میں بعد گاﺅں کا چکر لگا لیتا تھا۔ریشماں نے غفرانے کو دیکھا اور گلی کے نکڑ میں پکڑ لیا۔

“غفرانے۔ چل میرے نال ویاہ کر لے۔” ریشماں نے اس کے بازو کو پکڑ کر کہا۔
“کیوں؟ کس خوشی میں۔ ابھی تو ہم نے تمھیں جی بھر کر پیار بھی نہیں کیا پگلی۔” غفرانا ریشماں کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
“تمھاری بات ٹھیک ہے، لیکن اب وقت نہیں رہا مزید پیار کا۔”
“کیوں کیا ہوا؟ ” غفرانے نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
“غفرانے، تو نے میری عزت گنوا دی۔ مجھے کہیں کا نہ رہنے دیا۔ میں پیٹ سے ہوں۔” ریشماں سرکو جھکاتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔
“چل چل۔ بکواس نہ کر۔ کسی اور کے کالے کرتوت میرے نام نہ لگا۔” غفرانہ پہلے تو بدکا، پھر بات کو سمجھ کر غصے سے بولا۔
“نہ غفرانے نہ۔ ایسا نہ کہہ۔”
“کیوں نہ کہوں۔ تم نے گاﺅں بھر کے لڑکوں سے یاری لگا رکھی۔ پتہ نہیں کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے۔ اور اب مجھے پھنسا رہی ہے۔ جا اپنا کام کر۔”غفرانے نے اس کے بازو کو پکڑ کر کہا۔ اور پھر جھٹک کر چل دیا۔
ریشماں نے جھٹ سے اس کا دامن پکڑ کر اپنی طرف جھٹکا دیا۔ غفرانا اس جھٹکے سے سنبھل نہ سکا اور سیدھا اسکے ساتھ آلگا۔ریشماں نے ادھر ہی اسکو مظبوطی سے اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ اس وقت اس کے دل سے یہ بھی نکل گیا تھا کہ کوئی دیکھ لے گا۔
“دیکھ غفرانے، مجھ پر الزام نہ لگا۔ میں بے شک آوارہ قسم کی لڑکی ہوں۔ ہر کسی سے گپ شپ لگاتی ہوں۔ لیکن آج تک کبھی کسی کو تنہائی میں بھی نہیں ملی اور کہاں اتنا بڑا کام۔” ریشماں اس کے کندھے پر سر رکھ کر بولی۔
غفرانے نے اس کو جھٹک کر اپنے سے ہٹایا۔ لیکن ریشماں نے اس کا ہاتھ پکڑے رکھا۔ جب غفرانے نے دیکھا کہ بات بگڑ رہی ہے تو وہ بولا۔
“ارے پگلی۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔ لیکن میں تجھ سے گاﺅں میں شادی نہیں کر سکتا۔ تو میرے ساتھ شہر چل۔”
“کیوں یہاں کیا ہے۔ ” ریشماں آخر ان پڑھ ہی تو تھی۔
“دیکھ ریشمو۔یہاں ویاہ ہو گا، اور تین چار ماہ بعد تو بچے کو پیدا کرے گی۔ تو لوگ کیا کہیں گے۔ اس طرح نہ تیری عزت رہ جائے گی اور میری تو ہے ہی نہیں۔” غفرانے نے اس کو سمجھایا۔
” تو پھر بتا میں کیا کروں۔” ریشماں کسی حد تک سمجھ کر بولی۔
“تو ایسا کر، آج رات کو سونا مت۔اور جو کپڑے وغیرہ رکھ سکتی ہے ایک پوٹلی بنا لینا۔ میں رات کو آﺅں گا۔ پھر شہر چلے چلیں گے۔” غفرانے نے مختصر طور پر اسے اپنا منصوبہ سمجھایا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔ پھر تو میرے سے ویاہ کرے گا نا۔ مجھے چھوڑ تو نہیں دے گا۔” ریشماں نے حامی بھرتے ہوئے ایک انجانے خوف سے پوچھا۔
” رہی نہ جھلی کی جھلی۔میں بھلا کیوں چھوڑوں گا۔ شہر میں ہم اکٹھے رہیں گے۔ البتہ شادی ہمیں کسی دوسرے شہر میں کرنی پڑے گی تاکہ تین چار ماہ بعد بھی کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہم نے کب شادی کی ہے۔ورنہ پھر مجھے وہ کارخانہ بھی چھوڑنا پڑے گا اور کوارٹر بھی۔” غفرانے نے اسے سمجھایا۔
“اب ایسا کر تو جا۔ اور رات کو تیار رہنا۔ میں تجھے آواز دوں گا۔تو فوراً آجانا۔ ©” غفرانے نے اس کے گال پر چپت لگاتے ہوئے کہا۔
اور یوں ریشماں اس کے ساتھ اب اس جنگل میں بیٹھی تھی۔ جنگل میں انھوں نے اس لیے ڈھیرا ڈالا تھا کہ جنگل کے قریب سے ہی ایک چھوٹی سڑک شہر کو جاتی تھی جو ایک دوسرے گاﺅں سے سبزیاں وغیرہ لے کر شہر جاتی تھی۔ تو غفرانے کا پروگرام اس میں بیٹھ کر شہر جانے کا تھا۔
ادھر صبح کی اذانیں شروع ہوئیں، ادھر وہ لوڈر گاڑی بھی پہنچ گئی۔ غفرانے نے ریشماں کو ایک طرف کھڑا کیا اور خود گاڑی کو روک کر ڈرائیور سے کچھ بات کی۔اور ساتھ میں ریشماں کی طرف اشارہ بھی کیا۔ پھر ڈرائیور کے سر ہلانے پر اس نے ریشماں کو بلایا۔ ڈرائیور کی مخالف سمت کی سیٹ پر وہ بیٹھے۔اور گاڑی چل پڑی۔ غفرانے نے اسے اپنی بیوی ہی بتایا تھا۔اتفاق ہی تھا کہ جس شہر کا غفرانے نے پروگرام بنایا تھاگاڑی والا بھی آج سبزیاں لے کر ادھر ہی جا رہا تھا۔ اسلیے غفرانے کے لیے بہت آسانی ہو گئی۔
اس شہر میں غفرانے کا ایک دوست رہتا تھا۔ غفرانے نے اسے ساری صورتحال بتائی۔وہ دوست بھی اسی کی طرح آوارہ مزاج تھا۔ اس نے غفرانے کو مشورہ دیا کہ وہ ہر گز شادی نہ کرے، بلکہ بچہ پیدا ہونے تک وہ ٹال مٹول کرتا رہے۔جب بچہ ہو جائے تو پھر کچھ سوچا جائے گا۔ غفرانے نے کچھ دیر سوچا، پھر بات کی تہہ تک پہنچ گیاکہ دوست کا مقصد کیا ہے۔ دوست کا مقصد یہی تھا کہ کل کلاں یہ راز کسی بھی وقت کھل سکتا ہے کہ یہ بچہ شادی کے تیسرے مہینے ہی پیدا ہو گیا۔ پھر غفرانا لاکھ کہے کہ اسی کا ہے کوئی نہیں مانے گا، بلکہ اس کی بیوی کو بدچلن ہی کہے گا۔ غفرانے نے یہ بات مان لی۔
یوں غفرانے نے وقت گزارنا شروع کر دیا۔ ریشماں کے بار بارکہنے پر بھی اس نے باقاعدہ حامی نہ بھری اور ٹال مٹول سے کام لیتا رہا۔ ا س طرح تین ماہ گزر گئے۔تیسرے ماہ میں ریشماں اپنے طور پر ایک بار ڈاکٹر سے چیک کرواچکی تھی۔ اور ڈاکٹر نے اس کو اندازے سے ایک تاریخ بتا چکی تھی کہ اس تاریخ کے آگے پیچھے زچگی متوقع ہے۔ پھر جب تاریخ آئی تو غفرانا غائب تھا۔ غفرانے نے اسی دوست کے محلے میں ہی اک گھر کرائے پر لے لیا تھا۔ کارخانے میں ایک ہفتے کام ہوتا تھا اور ایک ہفتہ چھٹی ہوتی تھی۔ کیونکہ ڈبل شفٹ کے ملازمین تھے۔ اس طرح ہر دوسرے ملازم کو ہر دوسرے ہفتے چھٹی ہوتی تھی۔ اب جب ریشمان پر وقت آیا تھا تو غفرانے کا کارخانے میں کام کرنے کے دن تھے۔ جب کہ ریشماں نے اسے کہا بھی تھا کہ وہ اگلے ہفتے لازمی چھٹی کرے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن غفرانے کے ارادے ہی کچھ اور تھے۔ اسلیے اس نے کام کا بہت زیاد لوڈ ہونے کا بہانہ کیا اور اپنی ڈیوٹی شروع ہونے سے ایک دن پہلے ہی گھر سے چلا گیا تھا۔ ریشماں نے غفرانے کے دوست کو پیغام بھجوایا کہ کسی طریقے سے غفرانے تک پیغام پہنچا دے۔اس نے حامی تو بھری اور بظاہر پیغام دینے کے لیے اپنی موٹر سائیکل بھی نکال لی۔ لیکن بجائے کارخانے جانے کے وہ کہیں اور نکل گیا۔
اِدھر ریشماں پر بہت بری گزر رہی تھی۔اس کو ہلکا ہلکا درد شروع ہو چکا تھا۔صبح سے پیغام دیے اب دوپہر ہونے کو آئی تھی۔لیکن نہ غفرانا آیا تھا اور نہ ہی اس کا دوست واپس لوٹا تھا۔محلے والوں میں سے شاید ہی کسی نے ریشماں کو دیکھا ہو گا کہ غفرانے نے اسے گھر سے باہر نہ نکلنے کا کہا تھا، بہانہ یہ بنایا تھا کہ محلے میں کچھ لوگ اچھے نہیں ہیں۔ کہیں اکیلا پا کر کچھ نہ کر بیٹھیںاور سادہ مزاج ریشماں اسکی بات کو سچ سمجھ کر گھر میں ہی بیٹھی رہ گئی تھی۔ دوپہر سے سہہ پہر ہو گئی اور پھر سورج ریشماں کو ان کے نہ آنے کی مایوسی کی خبر دے کر خود بھی افسوس کے اظہار میں زردی مائل ہو کر ڈوب گیا۔ریشماں کو آج سورج کچھ زیادہ ہی زرد نظر آیا تھا کہ اس کو بھی ریشماں کے نصیب پر افسوس ہو رہا تھا۔
رات گزری۔صبح کا سورج طلوع ہوا۔ کھٹ کھٹ دروازے کھلنے لگے۔ہر کوئی اپنے اپنے کام کے لیے باہر نکلا۔ ایسے میں کسی کی نظر ایک کتے پر پڑی، جس کے منہ میں کچھ اٹھایا ہوا تھا۔اس نے جب غور کیا تو اس چیز کی شکل انسانی سی نظر آئی۔ ابھی و ہ غور کر ہی رہا تھا کہ کتے نے اس چیز کو ایک گھر کے دروازے کے سامنے رکھا اور دروزے پر اپنے اگلے پنجوں کو گویا دستک دینے کی صورت میں مارنے لگا۔ اس وقت تک وہ پنجے مارتا رہا جب تک دروازہ کھل نہ گیا۔ دروازہ کھولنے والی ایک لڑکی تھی۔ اس نے جو دروازے پر ایک کتے کو دیکھا جس نے دروزہ کھلتے دیکھ کر اس انسانی صورت چیز کو پھر اپنے منہ میں اٹھا لیا تھا، زور کی چیخ ماری۔ اس لڑکی کی چیخ سن کر فوراً دو تین مرد گھر کے اندرسے دروازے کی طرف دوڑے۔باہر نکل کر انھوں نے دیکھا کہ کتے کی نگاہیں ان پر ٹکی ہیں اور اس کی آنکھوں میں آنسو سے نظر آرہے ہیں۔ کتا چونکہ انکے محلے کا ہی تھا، یعنی بظاہر آوارہ تھا جو راتیں ڈھیروں پر گزارتا تھا، لیکن آج تک کسی پر بھونکا نہیں تھا، اس لیے ان مردوں نے اسے پہچان لیا۔ ایک ادھیڑ عمر نے نیچے بیٹھ کر اس کتے کے منہ سے اس انسانی صورت کو نکالا۔ جب اس کو سیدھا کیا تو دھک سے رہ گیا۔ وہ چیز کچھ اور نہیں بلکہ انسان کا بچہ تھا، بلکہ نومولود۔ جس کی ناف کی ناڑ بھی ابھی نہیں کٹی تھی۔اس نے فوراً اس لڑکی کو کچھ کپڑا وغیرہ لانے کو کہا۔ جونہی کپڑا آیا ، اس مرد نے اس بچے کو کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف رخ کیا۔ اندر لے جانے سے پہلے اس نے کتے کو پچکارا۔اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور تسلی دی۔ کتے سر کو جھکایا اور واپس چلا گیا۔
مرد اس بچے کو گھر کے اندر لے گیا اور جلدی جلدی اپنی بیوی کے حوالے کیا۔ تب تک وہ یہ محسوس کر چکا تھا کہ بچہ ابھی زندہ ہے۔ چونکہ جاتی گرمی کا موسم تھا، اس لیے ابھی سورج پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا کہ بچے کو گرمی لگتی۔ بچے کے جسم پر لگے گند سے اندازہ ہوتا تھا کہ اسے کتے نے کسی ڈھیر سے اٹھا یا ہے۔ اس مرد کی بیوی نے بچے کو صاف کیا۔ لیکن ایک عورت کی حیثیت سے ساتھ ساتھ اس عورت کو بھی کوسنے لگی کہ منہ کالا کر کے اب بچے کو ڈھیر پر چھوڑ دیا ہے۔ خود پتہ نہیں کہاں مر مرا گئی ہے۔ اسکے شوہر نے پاس سے گزرتے ہوئے یہ باتیں سن لیں۔ اس نے سوچا کہ پتہ تو کرنا چاہیے کہ یہ بچہ ڈھیر تک کیسے پہنچا۔ وہ گھر سے باہر نکلا۔اس نے دیکھا کہ محلے کا ہی ایک نوجوان ان کے گھر سے تھوڑی دور کھڑا ان کے گھر کو ہی تک رہا تھا۔ وہ شخص اس نوجوان کی طرف گیا۔ اسکے پوچھنے پر اس نوجوان اس کو بتایا کہ اس نے کتے کو فلاں راستے سے آتے دیکھاتھا۔وہ مرد اس راہ کی طرف چلا۔ راستے میں اسے وہ ڈھیر بھی دکھائی دیا، جس پر وہی کتابیٹھا ہوا کچھ گوشت یا کوئی ہڈی بھنبھوڑ رہا تھا۔ کتے نے اس کے قدموں کی آواز سن کر اسکی طرف دیکھا۔ چند لمحے دیکھنے کے بعد پھر اپنی خوراک میں مصروف ہو گیا۔
ڈھیر سے کوئی دو سو قدم کے فاصلے پر کچھ جھاڑیاں سی تھیں۔ وہ جھاڑیوں کے قریب سے سر سری سی نگاہ ڈالتا ہوا گزرا۔ ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ اسے محسوس ہوا کہ اس نے کوئی کپڑا دیکھا تھا۔ وہ فوراً پلٹا۔ جھاڑیوں کو ہاتھوں سے ہٹا کر آگے بڑھا اور جہاں کھڑا تھا وہی اس کے قدم جم کر رہ گئے۔وہاں ایک نوجوان لڑکی کی لاش اس حالت میں پڑی تھی کہ اس کی ٹانگیں خون سے لت پت تھیں، چہرے پر شدید تکلیف کے آثار تھے ۔ ایک ہاتھ پیٹ پر رکھا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکے پاﺅں پر رکھا ہوا تھا جو کہ ٹانگ مڑنے کی وجہ سے ہاتھ کی پہنچ میں تھا۔ لڑکی کی لاش سے اور ٹانگوں پر لگے خون سے کوئی اناڑی بھی جان سکتا تھا کہ وہ بچہ اسی لڑکی کا ہے۔ وہ مرد افسوس کا اظہار کرتا ہوا ٓگے بڑھا۔ اس لڑکی کا چادر نما دوپٹہ جو کہ ایک طرف بکھرا ہوا تھا، اس لڑکی پر ڈال کر اس کو ڈھانپا۔ پھر واپس جھاڑیوں سے نکل کر محلے کی طرف بڑھا کہ محلے والوں کو اس لڑکی کے بارے میں بتا کر اسکے ورثاءکو تلاش کرکے ان کو بتا سکے۔ لیکن یہ ایک انتہائی مشکل کام تھا کہ غفرانا اور اسکا دوست وہ شہر ہی چھوڑ چکے تھے۔

******************