Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

دیگر تحریریں

پچاس ٹاسک، پچاس دن۔۔۔ بلیو وھیل گیم کا موت کا چکر
September 18, 2017

پچاس ٹاسک، پچاس دن۔۔۔ بلیو وھیل گیم کا موت کا چکر

گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان میں بلیو وھیل گیم کا چکر پڑھنے، سننے میں آرہا ہے۔جس کو کلر گیم یعنی قاتل گیم بھی کہا جاتا ہے۔دنیا کے بہت سے ممالک میں اس وقت تک کی خبروں کے مطابق 2013 سے اب تک ایک سو چالیس سے زیادہ لوگ اس گیم کا شکار ہو چکے ہیں۔ گیم سے مراد ویڈیو گیم کی طرز کی یہ گیم ہی ہے۔ اب تک کی جو صورت حال سامنے آئی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس گیم کے پیچھے کوئی راز ہے۔ اس کو کھیلنے کے طور طریقوں سے اور اختتام سے اس کو ایک کھیل تو قطعاً نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ کھیل یعنی گیم تو بنیادی طور پر انٹرٹینمنٹ یعنی تفریح طبع کے لیے ہوتی ہے یا وقت گزاری کے لیے کوئی گیم کھیلی جاتی ہے۔ لیکن اس بلیو وھیل گیم کو گیم کہنا کسی بھی کھیل کی توہین ہے۔ چونکہ موبائل کو دور دورہ ہے اور موبائل بھی ٹچ سسٹم کے تحت کام کرنے والے ہیں۔ اورجس قسم کا سافٹ ویئر ان موبائلز میں استعمال ہوتا ہے اس کے لیے دنیا کے بہت سے سافٹ ویئر انجنیئرز دن رات محنت کرکے ان موبائلز کے لیے سافٹ ویئرز بناتے رہتے ہیں۔

جب سے اس بلیو وھیل قاتل گیم کا چکر شروع ہوا ہے تب سے کافی لوگوں نے کوشش کی ہے کہ اس کو گوگل پلے سٹور سے تلاش کرکے ڈاﺅن لوڈ کیا جائے۔ لیکن اب تک کی جو سب سے اچھی بات ہے وہ یہ کہ یہ گوگل پلے سٹور پر دستیاب نہیں ہے۔ ورنہ یہ جو ایک سو چالیس کی تعداد جتنے عرصے میں حساب کی گئی ہے ، اتنے عرصے میں شاید یہ سو سے ضرب ہوئی ہوتی۔ پلے سٹور پر نہ بھی ہونے کی وجہ سے وٹس ایپ گروپس میں سے کوئی نہ کوئی لنک مل جاتا ہے یا کسی ویب سائیٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ لکھنے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ آپ یا آپ کے گھر میں سے کوئی اس کو کھیلنے کو ضرور کوشش کرے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ گیم خاص طور پر ٹین ایجرز میں مقبول ہو رہی ہے اور تیرہ سے سولہ سال کے بچے اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ در اصل یہ گیم بچوں کی خاص طور پر اور بڑوں کی عام طور پر نفسیات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے۔

اس قاتل گیم کا بانی تیئس سالہ فلپ بڈیکین جس کا تعلق روس سے ہے، اب گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے 2013 میں یہ گیم بنائی تھی۔ جس کا مقصد لوگوں کی ہمت اور حوصلہ کو آزماناتھا۔ اس میں پچاس مختلف قسم کے مراحل میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ مراحل آسان تر سے ہوتے ہوئے مشکل ترین تک پہنچتے ہیں۔ یہ مراحل سکرین پر ہی دوسری گیمز کی طرح کے نہیں ہوتے کہ ایک مرحلہ مکمل ہوا تو دوسرے سٹیج یا مرحلے میں داخل ہو گئے۔ نہیں بلکہ اس میں آپ کو حقیقتاً اپنی زندگی کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے۔ اپنے دل و دماغ کو اور پورے جسم کو اس گیم میں شامل کرنا ہوتا ہے۔ جن چند مرحلوں کو ابھی تک دنیا جان چکی ہے ان میں سے آدھی رات کو اٹھ کر کوئی ہارر یعنی خطرناک ، خوفناک ڈراﺅنی فلم تنہائی میں دیکھنا اور اس کا ثبوت تصویری صورت میں بلیو وھیل گیم کو مہیا کرنا۔ کسی بھی بلند عمارت کے کسی کونے پر یا کسی بلند دیوار پر گلی یا سڑک کی سمت ٹانگیں لٹکا کر بیٹھنا، اپنے جسم کے مختلف حصوں پر بلیڈ سے زخم لگانا یا سوئیاں چبھونا۔ ہر مرحلے سے گزرنے کے بعد کھیلنے والے کو اپنے بازوں پر ایک زخم مخصوص انداز میں لگانا ہوتا ہے۔ جب کوئی پچاس ٹاسک (اگر پچاسواں مکمل کرکے بچ جائے تو) مکمل کر لیتا ہے تو اس کے بازوں پر ان سارے زخموںکے نشانات کو ملا کر ایک عدد وھیل کی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔

مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بلیو وھیل گیم آپ سے مختلف قسم کے سوالات بھی پوچھتی ہے جو کہ آپ کی ذاتی زندگی سے متعلق ہوتے ہیں۔ کچھ سوالات اور انکے جوابات ایسے ہوتے ہیںجو شاید آپ کی زندگی کا راز ہوتے ہیں یعنی جو آپ نے اپنی ذات کے علاوہ کسی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیے ہوتے۔روانی میں یا نفسیات طور پر یہ گیم کھیلتے ہوئے آپ اس دماغی کیفیت پر پہنچ جاتے ہیں کہ وہ راز اس پر عیاں کر دیتے ہیں۔ بلیو وھیل گیم کھیلنے کے دوران آپ کو ان باکس میں میسجز آتے رہتے ہیں کہ اب یہ ٹاسک انجام دینا ہے اور اب یہ۔ ان ٹاسک میں سے کوئی بھی کام کا نہیں ہوتا، سب کے سب گھٹیا اور اوٹ پٹانگ قسم کے ٹاسک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے کہ آپ کو ہر ٹاسک مکمل کرتے ہوئے ایڈمن کو اس کا ثبوت تصویری صورت میں دینا ہوتا ہے۔ جس کے بعد آپ کو اگلا ٹاسک دیا جاتا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ ہر ٹاسک آپ کو چوبیس گھنٹوں میں مکمل کرنا ہوتا ہے۔یعنی پچاس ٹاسک، پچاس دن۔

پچاس دن جب کوئی مسلسل یہ گیم کھیلتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ نفسیاتی اور ذہنی طور پر اس گیم میں مکمل طور پر محصور ہو جاتا ہے۔ ایک مرحلہ جب وہ باآسانی گزار لیتا ہے تو اس کو یہ حوصلہ ہو جاتا ہے کہ وہ اگلا مرحلہ بھی عبور کر لے گا۔ یوں وہ اپنے روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہو جاتا ہے۔ٹاسک بتدریج مشکل ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ پچاسواں ٹاسک گیم کھیلنے والے کو خودکشی کا دیاجاتا ہے ۔ اسے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ ہمت اور حوصلہ رکھتا ہے تو کسی بھی اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگائے یا اس وقت سڑک عبور کرے جب گاڑیوں کا بہت زیادہ رش ہو اور دوڑ کر عبور کیا جائے۔ ظاہر ہے یہ جب پانچ دس منزل سے بنا دیکھے نیچے کودے گا تو اس کے بچنے کے مواقع کتنے فیصد ہوں گے۔جب وہ سڑک اس طرح عبور کرے گا تو کیا بچ پائے گا۔ کوئی نہ کوئی گاڑی اس کو ضرور زور سے ٹکر مارے گی جس کی بنا پر یا تو وہ زور سے اڑتا ہوا کہیں دور جا گرے گا یا وہیں گر کر دیگر گاڑیوں کے نیچے کچلا جائے گا۔ اس کے بچنے کے چانسز کتنے فیصد ہوں گے۔ شاید صفر فیصد۔ درحقیقت یہ خودکشی کا مرحلہ پچاسواں اس کو اسی وقت دیا جاتا ہے جب وہ اپنے سارے راز بلیو وھیل کے ایڈمن کے حوالے کر چکا ہوتا ہے۔ ان رازوں کو بدولت ایڈمن اس کو بلیک میل کرتا ہے کہ اگر اس نے یہ پچاسواں ٹاسک انجام نہ دیا تو اس کے راز کہیں بھی کسی بھی سوشل فورم پر اس کے نام و پتہ اور تصاویر کے ساتھ عام کر دیے جائیں گے۔ جس کے بعد کھیلنے والے کے پاس کوئی چارہ نہیں رہتا سوائے اس کے کہ وہ خودکشی کر لے۔

اب تک کے ایک جائزے کے مطابق جو بچے یا نوجوان اس گیم کو کھیلتے ہیں وہ اکثر یہ گیم تنہائی میں بیٹھ کر کھیلتے ہیں۔ کیونکہ تقریبا ً سب ٹاسک ہی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اگر کسی کے سامنے بھی مکمل کرنے کی کوشش کریں گے تو اس کو ہر گز مکمل کرنے کی کوشش نہیں کرنے دی جائے گی۔ اس لیے اپنے بچوں پر خاص طور پر اس وقت نظر رکھیں جب وہ تنہا ئی میں کچھ اس قسم کے کام کررہا ہو جس میں کام انجام دینے سے پہلے وہ دس دفعہ ادھر ادھر دیکھتا ہو کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ سب سے پہلے تو یہی اچھی بات ہو گی کہ جب تک آپ کی اولاد کم از کم شناختی کارڈ بنانے کی عمر تک نہیں پہنچ جاتی تب تک موبائل کو ہی اس کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ اگر اس کو کسی وجہ سے موبائل استعمال کرنا ضروری بھی ہو تو اپنا موبائل دیا جائے اور اس کو اپنے سامنے استعمال کرنے دیا جائے۔ ظاہر ہے سوائے کلاس فیلوز سے یا دوستوں سے بات چیت کرنے کے اور کیا کام ہو سکتا ہے، تو یہ باتیں کیا والدین کے سامنے بچے نہیں کر سکتے۔ اس کو لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر بھی استعمال کرنے کی اجازت ضرور دی جائے لیکن اس پر نظر رکھی جائے کہ وہ ان کو کس مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔بچوں کی ایکٹیویٹیز پر نظر رکھنا گناہ نہیں ہے بلکہ یہ ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ ہمارا دین ہمیں بچوں کی بہترین تربیت کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ اسی وقت ہی ممکن ہے جب ان کی جائز باتوں کو ایک حد کے اندر مانا جائے اور ناجائز باتوں کو انہیں ان کی نقصانات بتا کر ان سے انکار کیا جائے۔ بچوں پر نظر رکھیں اور خود بھی اس قسم کے غلط کھیلوں سے دور رہیں جس میں نہ دنیا کا فائدہ ہے نہ دین کا ۔ سراسر نقصان ہے۔

کلبھوشن کی سزا اور بیان بازیاں
April 17, 2017

کلبھوشن کی سزا اور بیان بازیاں

مارچ 2017 میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والا ہندوستانی جاسوس اور بد نام زمانہ را ایجنٹ کلبھوشن یادیو باالآخر اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ بزرگوں کا قول صحیح ہے کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔ بے شک دوسرے ممالک میں جاسوسی کرناجائز ہے لیکن دشمن ممالک میں۔ وہ بھی اس لحاظ سے کہ وہاں سے یہ معلومات حاصل کی جائیں کہ دشمن ملک دفاعی صلاحیت حاصل کر رہا ہے تو کس نہج پر ہے۔اور دوسرا یہ کہ اس کے ملک کے خلاف وہاں کس قسم کے حالات پنپتے ہیں۔ لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے ممالک میں چاہے دشمن ملک ہی کیوں نہ ہو، وہاں دہشت گردی کرائی جائے یا اس ملک کی  کمزور کیا جائے یا اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں کہ وہ معاشی، معاشرتی یا کسی بھی لحاظ سے کمزور ہو۔ کم از کم ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔کیونکہ ہمارا دین اسلام (بمعنی سلامتی کے ہیں) امن کا داعی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی اس بات کی قطعاً اجازت نہیں کہ وہاں کی املاک کو، عوام کو کسی بھی صورت نقصان پہنچایا جائے۔ البتہ جنگ کی صورت حال میں صرف میدانِ جنگ تک دشمنوں کو امن کا پیغام پہنچانا ضروری ہے، لیکن اگر وہ نہ مانیں جیسا کہ ہندوستا ن کی صورت حال ہوتی ہے تو پھر دشمن کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جائے ۔ اب ہوا یہ ہے کہ کلبھوشن یادیو صاحب نے نہ صرف جاسوسی کی بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سازشوں کے بیج بھی بوئے۔ ا س نے پاکستان کے غداروں کے ساتھ جو پیسے کا ساتھ دیتے ہیں یا جن کو ان کے آباو اجداد نے پڑھایا ہوا کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان کو تسلیم نہیں کرنا۔ لیکن کھانا اسی پاکستان کا ہے، تو ان غداروں کو پیسے کا لالچ دے کر، ان کی تجوریاں بھر کران کو سبق پڑھایا کہ پاکستان میں بدامنی پیدا کریں۔ دہشت گردی کریں۔ خاص طور پر بلوچستان میں بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو ہوا دی۔ عزیر بلوچ اور دیگر بہت سے افراد کی پشت پناہی کی۔نہ صرف ایک کلبھوشن بلکہ دیگر کئی ہندوستانی را کے ایجنٹ پاکستان میں، بالخصوص بلوچستان میں سرگرمِ عمل تھے اور ہیں۔ یہ الگ بات کہ پاکستانی ایجنسیوں نے کلبھوشن کو پکڑ کر اس سے جو تفتیش شروع کی تو بہت سے نام سامنے آئے۔ان میں سے کچھ کو اٹھا لیا گیا اور کچھ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ نظر انداز کرنے کی وجہ ازلی سیاسی تعلق بنتا ہے۔معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ ممبر غائب ہیں۔ پارٹی نے سیدھا سیدھا پاک افواج پر اور خفیہ والو پر الزام دھر دیا ہے۔ ویسے یہ الزام کچھ غلط بھی نہیں ہو گا، کہ پارٹی کو خود علم ہو گا کہ ان کے ممبرز کیا کچھ کرتے ہیں اور کن کن سے ان کے تعلقات ہیں۔ عزیر بلوچ نے بھی کافی ممبران سے اپنے رابطے ظاہر کیے ہیں بلکہ کچھ کے ساتھ تو ویڈیو اور تصویری ثبوت بھی ہیں۔ممبران کی گمشدگی کو سامنے رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے ببانگ دہل بیان دیا ہے کہ کلبھوشن کو پھانسی نہیںلگنی چاہیے۔ بلکہ اس کی پارٹی کے کچھ ممبران تو یہاں تک کہتے سنے گئے ہیں کہ بھارت کے ساتھ کلبھوشن مسلے پر مذاکرات کرنے چاہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ اجمل قصاب کے مسلے پر کیا انھوں نے کوئی مذاکرات کیے تھے، جبکہ اس کے خلاف ہندوستان والے مکمل ثبوت کبھی بھی فراہم نہیں کر سکتے۔ لیکن چونکہ ہندوستان نے ہر صورت میں پاکستان کو بدنام کرنا تھا تو انھوں نے میں نہ مانوں کی رٹ لگاتے ہوئے اپنی ہی عدالتوں سے اپنے ہی فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر اجمل قصاب کو بمبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے پھانسی کی سزا دی۔ اور ادھر ہمارے سیاستدان ہیں کہ ہندوستان کی زبان بولتے نہیں تھکتے۔۔ دوسری طرف ان کو ایک سال پہلے کے ہندوستان کے بیانات نظر نہیں آتے۔۔ افسوس۔گذشتہ سال جب کلبھوشن کو گرفتار کیا گیا تھا تو ہندوستان نے اس کو ہندوستانی ہی ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کسی بھی ملک کا ایجنٹ دوسرے ممالک میں ان کا نمائندہ تب تک ہوتا ہے جب تک وہ گرفتار نہیں ہو جاتا۔ گرفتار ہوتے ہی وہ گمنام ہیرو بن جاتا ہے۔کچھ ایسا ہی اس وقت کلبھوشن کے ساتھ بھی ہوا۔ظاہر ہے پہلی بات تو یہ کہ وہ ایران کے پاسپورٹ پر اور ایرانی نام پر آیا تھا۔ دوسری بات گرفتار ہو گیا تھا۔ ایران کے پاسپورٹ کا مطلب ہمیشہ کی طرح ایران کا بھی اس سازش میں ملوث ہونا بنتا ہے۔ پاکستان نے کافی سے زیادہ ثبوت اقوام متحدہ اور امریکہ کے سامنے بھی رکھے۔ یہ اور بات ہے کہ چونکہ یہ ساری سازش پاکستان کے خلاف تھی، اس لیے اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں خاموش رہے۔یہاں تک کہ ہندوستان کو وارننگ تک نہ دی۔بلکہ ان ثبوتوں کو ہندوستان نے کسی بھی صورت نہ مانا۔ اب جب کلبھوشن کے خلاف مقدمہ حل ہو گیا، اس کو پھانسی کی سزہو گئی تو ہندوستان کو اپنا ہیرو یاد آگیا۔ سشما سوراج نے دھمکیاں دے دیں کہ وہ کلبھوشن کی پھانسی رکوانے اور اس کو ہندوستان واپس لانے کے لیے آخری حد تک جائیں گی۔ اگر اس وجہ سے دوطرف تعلقات پر بھی اثر پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ کیا سشما سوراج اور دیگر ہندوستانی لیڈران کے بیانا ت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہندوستان دوسرے ممالک میں دخل اندازی اور در اندازی کو اپنا دین ایمان سمجھتا ہے۔ خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک میں اپنا اثر قائم رکھنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ جس کا ایک سب سے بڑا ثبوت سری لنکا میں تامل ٹائیگر کی تنظیم کا موجود ہونا تھا۔ جو کہ مخصوص سٹریٹجی کی بدولت ختم ہوئی۔ اب پاکستان کے ارباربانِ اختیار کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کے ان ہی بیانات کو بطور ثبوت ایک دفعہ پھر اقوام متحدہ میںپیش کریں۔ اور اس کی دھمکیوں کو بھی سامنے لائیں۔ یہ صرف دھمکیاں ہی نہیں بلکہ صریحاً پاکستان کے اندر دخل اندازی کرنے والی بات ہے۔اس کلبھوشن کی پھانسی کے خلاف نہ صرف پیپلز پارٹی کے افراد نے بیانات دیے ہیں بلکہ اور بھی کافی رہنماء ایسے ہیں جن کی زبان سے اس سے ملتے جلتے الفاظ نکلے ہیں۔ جب ہندوستان سے ایک بیان اور آیا کہ پاکستان میں عاصمہ جہانگیر یا اعتزاز احسن جیسے وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں تا کہ کلبھوشن کی پھانسی کے خلاف اپیل کی جا سکے۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب سارے ثبوت موجود ہیں، گواہان موجود ہیں تو پھر عدالت نے اپیل کرنے کا اختیار کیوں دیا ہے؟ شاید کوئی قانونی سقم باقی ہو۔۔ خیر جیسے ہی سرحد پار سے عاصمہ جہانگیر اور اعتزاز احسن کے حوالے سے بیان آیا تو یہاں پاکستان کے کچھ لوگوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ مجھے دکھ ہوتا ہے ایسے لوگوں کی سوچ پر۔ جو پاکستان کا نہیں سوچتے بلکہ انفرادی سوچ رکھتے ہوئے اسلامی قوانین کے خلاف بھی بات کر جاتے ہیں۔ اپنی جیب کی سوچتے ہیں یا اپنی نیک نامی (اصل میں کیا ہے، سب جانتے ہیں) کو مزید اونچا کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتے ہیں۔ سب یاد رکھیں کہ آپ پاکستانی ہیںتو آپ کو پاکستان کی اولیت دینی چاہیے نہ کہ جو آپ کا دنیاوی آقا کہے، آپ آمنا و صدقنا کہہ کر اس کی بات کو من و عن تسلیم کر لیں اور پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیں۔ یاد رہے کہ ایسو ں کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو بگٹی کا ہوا۔ خدا کے ہاں دیر ہیں اندھیر نہیں اور اس کی لاٹھی بھی بے آواز ہے۔

ملحدین کی سازشیں پروان چڑھتی ہیں
April 3, 2017

ملحدین کی سازشیں پروان چڑھتی ہیں

میں نے سابقہ کالم میں ایک ملحد اور گستاخ اسلام ایاز نظامی کا ذکر کیا تھا۔ اور یہ کوشش کی تھی کہ بتا سکوں کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ درحقیقت میرا مقصد ملحدین کے بارے میں لکھنا تھا۔ اب چونکہ ایاز نظامی کا معاملہ بالکل نیا ہے، اور سوشل میڈیا پر تو خاص طور پر “ایاز نظامی کو پھانسی دوـ” کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔ لیکن کوئی اس سے یہ نہ سمجھے کہ عوام قانون اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔دراصل یہ اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آئین ہی کی رو سے قانون کو گستاخی رسول ﷺ کے قانون کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ملعون ایاز نظامی کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔تا کہ آئندہ کوئی بھی یہ جرأت نہ کر سکے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان مبارک میں کوئی ایک لفظ بھی کہہ سکے۔ اس سال کے ابتدا میں بھی تین چار بلاگرز پکڑے گئے تھے۔ لیکن بعد میں علم ہوا کہ ان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔ میں حیران ہوں کہ بھینسا ٹائپ کے فیس بک پر صفحات کی موجودگی میں بھی کسی ثبوت کی ضرورت پڑتی ہے؟ سب کچھ تو وہاں لکھا ہوا تھا۔ پھر ہر بلاگر کے اپنے اپنے اکائونٹ میں بہت کچھ تھا۔ پھر کس ثبوت کی ضرورت تھی۔

اس کے بعد یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے وطن کے ذہن و فطین آئی ٹی کے ماہرامریکہ، برطانیہ ، ہندوستان کی ہر تیسری محفوظ ترین ویب سائیٹ کو ہیک کر سکتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کہیں پر بھی بیٹھے ان گستاخانِ رسول و دین کا پتہ نہ لگا سکیں۔اگر ابھی سے ان کا سد باب نہ کیا گیا تو پھریاد رکھیں کہ ایاز نظامی جیسے لوگوں کو استعمال کرنے والے ہر حال میں فائدے میں رہتے ہیں۔یہ معاشرے سے ایسے ہی کارکن تلاش کرتے ہیں جو بلا معاوضہ ان کا کام بھرپور انداز سے کرتے رہیں، اس شخص کا کسی غیر مسلم سے تعلق ہو یا نہ ہو۔ آپ اس کا مقام دیکھیں، اس پر غور فرمائیں ۔ یہ اپنی ایسی کاوشوں سے اس جگہ پہنچ گیا جہاں لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے ۔ اب اس کی گستاخی کو دیگر لوگ ان علما اورمدرسے کی گستاخی گرداننے لگے جو دیگر فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں، یوں معاشرے میں تنائو کا عنصر بڑھ گیا، دوسرے معاشرے میں موجود مدارس پر کیچڑ خود اس کے طلب ِعلم نے مل دی ۔ یہ بڑا خطرناک دائو ہوتا ہے دشمن کا ۔وہ کھیل ایسا کھیلتا ہے کہ جیت ہماری ہو یا شکست ، مقاصد اس کے پورے ہوتے ہیں۔اب دیکھیں اس کے چاہنے والے کبھی اس کی گستاخی کو گستاخی تصور نہیں کریں گے ۔ ان کے دل میںنفرت، انتشار کا آلائو دہکتا رہے گا۔ آپ اس کو ختم بھی کریں، اس کے پروجیٹکس کو روک بھی دیں ، یہ امت مسلمہ میں جو آگ جلا سکتا تھا وہ جلا چکا ۔ اس کو کہتے ہیں مختلف سمتوں میں پھیلی جنگ۔ ہم اس شخص کو ختم کر دیں، اس کے چاہنے والوں کو کیسے تمام کریں گے ۔ یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے جو صرف شروع اس لئے ہو تا ہے کہ ہم نے اپنے درمیان بہت فاصلہ پیدا کیا ہوا ہے ۔ یہ داعش جیسی تنظیموں کی پہلی قسم ہے ، جو ہمارے ہی درمیان رہ کر ہماری جڑیں کھوکھلی کر رہی ہیں ۔ ان جیسوں کو بہت کوریج ملتی ہے ۔ آپ جس سمت دیکھیں وہ جانے انجانے میں یہودیوںکی سازش میں ان کا آلہ کار بنا نظر آئے گا۔ یہ صدیوں پہلے کی منصوبہ بندی تھی، جس کے نتائج آج مل رہے ہیں۔ یہ ہمارے رنگ میں رنگ چکے ہیں، ان کی شناخت بے حد مشکل ہے ۔مگر اس کے باوجود ہم قلم کو، اپنی زبان کو خاموش نہیں رکھ سکتے چاہے یہ ہمیں خاموش کر دیں۔

پروفیسر سلمان حیدر، رفعت عزیز، وقاص گورایہ اور نصیر رضا جیسے لوگ ایاز نظامی کے پیروکار ہیں یا نہیں، لیکن یہ بات تو اب ہر کوئی جانتا ہے کہ بھینسا، روشنی، موچی جیسے ان سوشل میڈیا کے گنت صفحات ان کے زیرِ نگرانی چل رہے ہیں۔ ان کو اس سال کے شروع میں اٹھایا گیا۔ ان کو اٹھانے کی ایک بنیادی وجہ وقاص گورایہ کے اکائونٹ میں ایک بڑی رقم کا ٹرانسفر ہونا بھی شامل تھا۔اگر کسی نے ان صفحات کو دیکھا ہو تو یقینا محسوس کیا ہو گا بلکہ دیکھا ہو گا کہ دین اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف کھل کر لکھا گیا ہے۔ کبھی تصویروں کی صورت میں اور کبھی نارمل انداز میں۔ کبھی اللہ جل و شانہ‘ کی شان میں گستاخانہ کلمات تحریر کیے گئے تو کبھی رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی۔ اب اگر ان کو اٹھایا گیا ہے تو کیا برا ہے؟ یقینا قانون کے تحت ہی تو اٹھایا گیا ہے۔ چاہے پولیس کسٹڈی میں ہوں یاخفیہ کی، جب آئین کہتا ہے کہ گستاخیٔ رسول کی سزا موت ہے، تو کسی کو کیا اعتراض ہے۔ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ آزادی رائے سب کا حق ہے؟ نہیں جناب، یہ حق وہاں سلب ہو جاتا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کی یا اسلام کی عظمت کی بات آتی ہے۔آئین کے آرٹیکل ۱۶ کےتحت:

۔”اسلام کی عظمت یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم [کے ارتکاب]یا اس کی ترغیب کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی کا حق ہو گا۔اور پریس کی آزادی ہو گی”۔
اب غور سے دیکھا جائے اور پڑھا جائے تو کہاں لکھا ہے کہ آپ کو کلی طور پر آزادی رائے کا حق ہے۔ تو میرے دوستو، جو آزادی رائے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں، وہ اس آرٹیکل کو غور سے پڑھ لیں۔ پھر ان سے پوچھوں گا کہ جب آپ کے ماں باپ کو، یا کسی بھی پیارے کو گالی دی جائے، تو مرنے مارنے پر کیوں تُل آتے ہو۔ آپ کے سیاسی لیڈر کو گالی دی جائے تو آپ فوراً سے پہلے اس کی دماغی حالت پر شک کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ تو اس وقت آپ کا ایمان کہاں سو جاتا ہے، جب آپ کے ، ہمارے اور سب کے پیارے آقا نامدار رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے۔ اس وقت آپ کو آزادی رائے کا حق یاد آجاتا ہے۔

پیارے قارئین! ابھی سوشل میڈیا پر یہ گستاخیاں بہت زیادہ شرو ہو گئی ہیں۔ کوئی ان کو روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہ دلیل کی بات کرتے ہیں کہ اللہ کی ذات کو دلیل سے ثابت کیا جائے نہ کہ قرآن و احادیث کے حوالہ جات سے۔ جب ان کو دلیل دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جب انھوں نے کہہ دیا کہ ان کا کاں چٹا ہے تو بس چٹا ہے۔ بھلے پیڑ پہ کالا کوا شور مچائے۔ مچاتا رہے کہ وہ کالا ہے، لیکن ان کا کاں چٹا ہی رہے گا۔ عبداللہ بن سبا یہودی جو منافقوں کے پردے میں مسلمانوں سے شروع میں ملا اور پھر اس نے اپنی تنظیم سازی شروع کی۔ وہ اپنے مذہب کا بڑا عالم تھا۔ جان گیا تھا کہ دینِ اسلام نے دنیا پر حکومت کرنی ہے اور آخرت بھی اسی کی ہو گی۔ اس لیے اس نے باقاعدہ ایک سازش کے تحت مسلمانوں میں تفرقہ بازی شروع کرا دی۔ شیعانِ علی ؓکو متعارف کرایا تو دوسری طرف حضرت امیر معاویہ ؓ کی فوج میں یہ بات باور کرائی کہ حضرت علی ؓ اور ان کے ماتحت یا ساتھی ان کے دشمن ہیں۔ وہ کیوں یہ سازش نہ کرتا۔ وہ غزوۂ خیبر، غزوۂ بنی مصطلق اور دیگر غزوات کو جویہودیوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ نے لڑیں اور فتح حاصل کی، ان کو نہیں بھولا۔ چونکہ جنگ سے تومسلمانوں کو شکست دی نہیں جا سکتی تھی، تو سازشوں کے جال بچھانے شروع کر دیے۔ اور آج وہ سازشیں اس نہج تک آ پہنچی ہیں کہ بھینسا، موچی، روشنی جیسے صفحات چل رہے ہیں۔ اللہ ان کو ہدایت دے۔ گر ہدایت نہیں قسمت میں، تو تباہی ان کا مقدر ہو۔

************

الحاد پرستوں اور دہریوں کو کھلا چیلنج
October 18, 2016

الحاد پرستوں اور دہریوں کو کھلا چیلنج

کچھ بھی لکھنے سے پہلے میں یہ بات واضح کر دوں کہ میں کوئی عالم نہیں، نہ ہی کسی اسلامی مدرسے سے کسی قسم کا علم حاصل کیا ہے۔ میرا علم ناقص ہے لیکن پھر بھی اپنی ہر ممکن کوشش کروں گا کہ ان الحاد پرستوں اور دہریوں سے کچھ سوالات کروں، جو آج ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ جن پر ہمارا سائبر کرائم بل بھی کوئی ایکشن لینے کے قابل نہیں ہے، کہ اس میں کوئی ایسی شق ہی نہیں رکھی گئی جس کے تحت اسلام اور اس کی تعلیمات کو برا بھلا کہنے والوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی جا سکے۔ جبکہ کسی دنیاوی وزیر یا مشیر کے خلاف کوئی بات کی جائے تو جیل کی سزا حاضر ہے۔ خالق کائنات اور وجۂ تخلیق کائنات پر انگلی اٹھانے والوں کی انگلی کاٹنے کا کوئی قانون بھی نہیں۔ میں گستاخئ رسول ﷺ کے قانون کی بات نہیں کر رہا، بلکہ انٹرنیٹ پر ہونے والی گستاخیوں کی بات کر رہا ہوں۔ عام روٹین میں تو الیکٹرانک میڈیا پر غامدی جیسے حضرات اللہ کے قانون کو بگاڑنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن کوئی بھی ان کو پوچھنے والا نہیں۔ کیونکہ ان کو تو اپنی عزت عزیز ہے، بھلے ان کی بلا سے کوئی مرے یا جئے۔یہاں عامر لیاقت حسین جو ربیع الاول کے مہینے میں بریلوی ہوتا ہے، محرم الحرام میں شیعہ اور رمضان المبارک میں عالم بن جاتا ہے، دین اسلام کے شعائر کو اپنی مرضی کے معنی پہنا کر اسلام کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مجھے افسوس ان علماء کرام پر ہوتا ہے جو اس جیسے دوغلے کی محفل میں بیٹھ کر اس سے بات چیت کرتے ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے بھی کہ یہ بندہ اسلام کا مذاق اڑانے والوں میں سے ہے۔ جن کے متعلق اللہ نے سورۃ البقرۃ ، آیت ۱۵ میں فرمایا: ’’اللہ ان کو ان کے مذاق کی سزا دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے(تاکہ وہ خود اپنے انجام تک جا پہنچیں) سو وہ خود اپنی سرکشی میں بھٹک رہے ہیں۔‘‘۔ اور میرا کہنا یہ ہے کہ جو بزعم خود علماء ایسے شخص کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے اس کا ساتھ دیتے ہیں، وہ بھی ان کے ساتھی ہی ہیں۔

غامدی اور عامر لیاقت جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی آج لوگوں کو اتنی جرأت ہو گئی ہے کہ وہ اسلام کے خلاف بات کرتے ہیں۔ اللہ کو ماننے سے انکارکرنے والوں میں پہلے خال خال ہی کوئی پاکستانی ہوتا تھا لیکن گزشتہ چند سالوں سے ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ کیونکہ ان کو جب ان کے سوال کا شافی جواب نہیں ملتا تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام کے پاس اس سوال کا جواب ہی نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں، ہمارے دین اسلام میں ہر بات کا جواب موجود ہے۔ پہلے روس اور چین کے لوگ ہی دہریے سمجھے جاتے تھے، لیکن آج پاکستان سمیت بہت سے ممالک میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اللہ کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اس کائنات کا خود بخود وجود میں آنے پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کے گھر پر پیدا ہونے والے یہ افراد نام مسلمانوں جیسارکھتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف بات کرتے ہیں۔ اللہ کے بارے میں نعوذ بااللہ وہ وہ کلمات اپنے گندے منہ نکالتے ہیں کہ کوئی ایسا مومن شخص جس میں برداشت کا مادہ نہ ہو، جواب دینے کی ہمت نہ ہو، اس نے وہیں کھڑے کھڑے اس کو اس دنیا سے رخصت کر دینا ہے۔

یہ لادین، الحادی یا دہریے جو کائنات کو خود بخود وجود میں آنے کو مانتے ہیں اور اسے اتفاق سمجھتے ہیں، اس کالم کے توسط سے میں ان سے چند سوالات پوچھنا چاہوں گا۔ وہ چونکہ صرف دلیل کی بات کرتے ہیں تو ان سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ باقاعدہ دلیل سے جوابات دیں گے۔ لیکن مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ خود اپنے جوابات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ کیونکہ انھوں نے بھی دوسروں سے ہی سنا ہوتا ہے، خود اپنے ذہن کو استعمال نہیں کرتے۔ آج کل جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک ان الحاد پرستوں نے جو اودھم مچایا ہوا ہے، وہ بس شورو غل ہی ہے۔ کیونکہ ان کی بات کے جواب میں جب کوئی سوال کرتا ہے تو اس کا جواب دینا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا تو وہ سوال کو پوسٹ سے غیر متعلقہ جانتے ہوئے یا تو کہتے ہیں کہ چونکہ یہ بات غیر متعلق ہے لہٰذا اس کیا جواب دینا ضروری نہیں، یا پھر کچھ بھی نہیں لکھتے۔بس کچھ لوگوں کے چینٹے چالے گول مول جواب دے دیتے ہیں، جو کہ سوال گندم جواب چنا کے مترادف ہوتا ہے۔ میری طرف سے چند سوالات ہیں جو اگر یہ الحاد پرست، دہریے ، اللہ کو نہ ماننے والے جواب دے سکیں، باقاعدہ دلیل کے ساتھ اور سیدھا جواب۔ گول مول کرکے جواب دینا تو سیاستدانوں کا کام ہے۔۔۔

جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کائنات خود بخود وجود میں آئی، ایک اتفاقی حادثہ تھی تو میرا پہلا سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی کائنات خود بخود وجود میں آئی ہے اور انسان بھی خود بخود بن گیا ہے، تو آج کل مرد عورت کو اختلاط کرنے کی کیا ضرورت پیش آتی ہے بچے پیدا کرنے کے لیے؟ اگر آپ کا جواب ہو کہ لازمی نہیں، بلکہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا نظام ہے، تو پھر بھی میرا سوال یہ ہے کہ مرد کے جراثیم اور عورت کی بچہ دانی کی موجودگی تو پھر ضروری ہے۔ اگر دنیا کا پہلا انسان خود بخود وجود میں آیا تو وہ نظام ختم کیوں ہو گیا؟ اب کیوں انسان نہیں بن سکتا؟ اسی حوالے سے میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ ہر چیز کو سائنس کی ترقی کہتے ہو، تو سائنس کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی دماغ جیسی کوئی چیز بنا کر دکھا دو جو نومولود بچے کے دماغ کی طرح چھوٹا سا ہو اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جائے اور اس میں کروڑوں اربوں خلیے ہوں، اور ہر خلیہ ایک انفرادی کام کرتا ہو۔۔ میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ ایک چھوٹا سا کمپیوٹرچلانے کے لیے تو ایک انسان کی ، اور ایک سافٹ ویئر کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر کمپیوٹر کا چلنا محال ہے، تو اتنی بڑی کائنات خود بخود کیسے چل سکتی ہے؟ اتنی بڑی کائنات میں تمھاری سائنس کے مطابق چاند، سورج ، ستارے اور سیارے ایک ترتیب سے اپنے اپنے مدار میں حرکت کر رہے ہیں، تو میرا سوال یہ ہے کہ جب تک کمپیوٹر میں سافٹ ویئر کے ذریعے ایک مخصوص کمانڈ نہ دی جائے، کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔۔ کوئی لاجیکل کمانڈ دینی پڑتی ہے، تب جا کر کوئی عمل مکمل ہوتا ہے۔ تو ان چاند، ستارے اور سیاروں کو ایک ترتیب میں کس سائنسدان نے رکھا کہ وہ اپنے اپنے مدار سے نہیں ہٹتے۔

تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ کی ذات مسلمانوں کے ذہن کی اختراع ہے، تو یہ تمھیں کیسے پتہ چلا؟ تم سائنس سے ثابت کرو کہ اللہ کی ذات مسلمانوں کے ذہن کی اختراع ہے۔ تم لوگ قرآن کو غلط کہتے ہو، جن پر قرآن نازل ہوا، ان کو نعوذ بااللہ غلط کہتے ہو؟ تم اگر کسی بھی کتاب سے دلیل دو گے تو یہ بھی بتانا ہوگا کہ تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ سچ ہے؟ کیونکہ اگر بقول تمھارے اللہ کا نبیﷺ دروغ گوئی سے (میرے منہ میں خاک، اللہ مجھے معاف فرمائے) کام لیتے ہیں تو ایک انسان تو دن میں سو مرتبہ جھوٹ بولتا ہے ، تو کیا ثبوت ہے کہ لکھنے والے نے سچ لکھا ہو گا؟ تم لوگ قرآن کو غلط کہتے ہو اور اس میں استغفراللہ ترمیم کے قائل ہو، تو مجھے یہ بتاؤ کہ اس دنیا میں کسی بھی کتاب کا جس میں چھ ہزار سے زیادہ جملے ہوں اور وہ کسی کو بھی حرف بہ حرف اس طرح یاد ہوں کہ اس میں رموز اوقاف تک کا اس کو علم ہو، کہاں وقفہ، کہاں فل سٹاپ، یا کوئی اور علامت استعمال ہوئی ہے، یہ بھی رٹے ہوئے ہوں۔۔۔ اوربرسوں بعد بھی اس کو نہ بھولے۔ کیا قرآن کی حقانیت کی اس سے بڑی دلیل کوئی ہو سکتی ہے؟

ایک بکری، گائے اور گدھا تینوں ایک ہی جیسی خوراک کھاتے ہیں یعنی سبزہ۔۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ بکری کا فضلہ مینگنیاں ہوتی ہیں۔ گائے کا گوبر اور گدھے کا لید۔ یہ کیا فلسفہ ہے؟ اگر دنیا خود بخود وجود میں آئی ہے تو آج اس دنیا میں اسی طرح کا اتفاق خود کیوں نہیں ہوتا۔۔ ایک درخت خود بخود کیوں نہیں اگتا۔ اس کے لیے بیج کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ کسی بھی درخت کی نشونماکے لیے چار بنیادی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے، ہوا، مٹی، پانی اور روشنی۔ ان میں سے کوئی چیز بھی کم ہو تو اسکی نشو نما میں فرق پڑتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ سائنس کیا ایک بالکل ٹھوس فرش پر جو کنکریٹ سے بنا ہو، اس پر بنا پانی اور مٹی کے بیج رکھ کر درخت پیدا کر سکتی ہے؟

ان تمام سوالا ت کا انتظار رہے گا، اور اگر جواب نہ دے سکے تو پھر مان لینا کہ اللہ ہے۔ اس کا نبی بھی ہے اور قرآن بھی ہے۔۔۔۔کائنات کا مالک اور خالق اللہ ہے اور وجہ تخلیق کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن پرحق کتاب قرآن پاک اتاراگیا۔۔۔ مان لیجئے گا، اسی میں فلاح ہے، کامیابی ہے۔۔

وہ جو کہتے ہیں کہ بیابانوں کو سنواریں گے ہم
October 16, 2016

وہ جو کہتے ہیں کہ بیابانوں کو سنواریں گے ہم

وہ جو کہتے ہیں کہ بیابانوں کو سنواریں گے ہم
ان سے پوچھو کہ اجاڑیں ہیں گلستاں کس لیے

آج یہ شعر نظر سے گزرا تو کئی بار پڑھا اور پھر میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو ٹپک پڑے۔میری آنکھوں کے سامنے اپنے وطن کے عوامی نمائندوں کی لاجواب شعلہ بیانی سے پر تقریریں الفاظ کی صورت میری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگیں۔ وہ الفاظ چیخ چیخ کر میرے کانوں میں پکار رہے ہیں کہ ہم بے زبان ہیں، بے آواز ہیں، بے لگام ہیں، جس کا جو چاہے اپنے من کے مطابق ہمیں استعمال کر لیتا ہے۔ وہ الفاظ اگر حقیقت کا روپ دھار لیں تو ہمارے پیارے دیس کی ہر گلی ، ہر محلہ اپنی تقدیر پر ناز کرے۔ ہمارے وطن کا ہر شہری فخر سے کہ کہ اس کا ووٹ رنگ لایا ہے۔ اس کو میسر ہے تین وقت کا پیٹ بھر کر کھانا، ا سکو میسر ہے دھوپ بارش سے بچاﺅ کے لیے چھت اور بیماری میں علاج معالجے کی مفت سہولیات۔لیکن پیارے قارئین۔ فی الوقت تو یہ سب کچھ میرے اس دیس میں خواب می ہی ممکن ہے۔کھلی آنکھو سے اس ملک میں اس طرح کے خواب دیکھنے پر پابندی ہے۔ کہ جو یہ خواب دیکھتا ہے، پھر اس کی تعبیر بھی چاہتا ہے۔ تعبیر چاہنے کے لیے وہ وقت کے یزید سے توقع کرے گا لیکن وقت کا یزید فرات کا پانی ہی بند کردیتا ہے تو خواب کی تعبیر کہاں سے دے گا۔
اس وطن کے ساتھ کون مخلص ہے اور کس حد تک ہے سب جانتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اگر کوئی سامنے رہ کر مخلص ملا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں۔ جنھوں نے اپنا تن من دھن پاکستان کے لیے گروی رکھ دیا۔ نوبت یہاں آپہنچی کہ اس عید قرباں پر وہ قربانی بھی نہ کر سکے کہ صاحب استطاعت نہیں رہے تھے۔الیکشن کے دنوں میں دلفریب، خوش کن نعرے سب لگاتے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔ ملک کی تقدیر بدلنے کی باتیں کرتے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کی باتیں کرتے ہیں ۔ ملک میں تعلیم کی شرح سو فیصد کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مفت تعلیم مہیا کرنے کی بات کرتے ہیں۔ عوام کو مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں، غریب کی غربت ختم کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن۔۔۔ بات ہی ختم ہو جاتی ہے ، سب کچھ رہ جاتا ہے۔ یہ باتیں کرنے والے جب الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور جو پہلا بل پاس کرواتے ہیں وہ ان کی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا بل ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ان کا گزارہ نہیں ہوتا۔ ارے ظالمو، سب کچھ تو تم لوگوں کو مفت میسر ہے۔ گیس، بجلی، ٹیلیفون، پٹرول، ہوائی جہاز اور ریل کا ٹکٹ، علاج معالجہ کی سہولیات، کھانا پینا، رہائش۔۔تو تم لوگوں کو تنخواہ کی کیا ضرورت ہے۔ پھر جب تک اگلا الیکشن نہیں ہو جاتا ہر پارٹی دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگی ہوتی ہے۔ کبھی سڑکوں پر گھسٹینے کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں تو کبھی احتساب احتساب کی ۔ لیکن احتساب وہ کرے، جو خود صاف ہو۔ پانامہ لیکس میں نام آنافخر کی بات محسوس ہوتی ہے۔ دوسروں پر تو انگلی اٹھا لی جاتی ہے، لیکن اپنے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔اگر بھولے سے ان کو عوام کا خیال آجاتا ہے تو گاہے بگاہے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کبھی تو سڑکوں کا جال بچھانے کی باتیں کی جاتی ہیں اور دکھاوے کے لیے پرانی سڑکوں کو ہی اکھاڑ کر نیا کر لیا جاتا ہے کہ پیسہ بھی لگ گیا، ٹھیکیدار بھی خوش، اپنی جیب بھی بھاری اور عوام کو سہولت بھی مل گئی۔ بھلے اسی سڑک پر موجود ہسپتال میں مریض برآمدوں میں بیٹھے ڈاکٹر اور دوائی کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو جائیں۔
۵۶۹ا کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ جنگ تعداد سے نہیں بلکہ جذبے سے جیتی جاتی ہے۔ اس جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارت کے ہزاروں مربع میل کے علاقے پر قبضہ کیا۔ لیکن معائدہ تاشقند میں بجائے اس کے کہ ہم اپنی شرائط پر معائدہ کرتے کہ جنگ بند کرنے کی خواہش ہندوستان نے کی تھی، ہم نے جیتی ہوئی جنگ میز پر ہار دی۔ ۹۹۹۱ میں کارگل میں حالات اس نہج تک پہنچ چکے تھے کشمیر کی آزادی چند دنوں کی بات تھی لیکن اس وقت کے حکمران نے امریکہ جیسے امن کے دشمن کو ثالث بنا کر اپنے سینکڑوں فوجی بھی مروادیے اور ہاتھ بھی کچھ نہ آیا۔ملک کی تقدیر بدلنے کے لیے نعرے نہیں لگائے جاتے ، دھرنے نہیں دیے جاتے۔بقول عباس تابش :۔۔
اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی؎
ہاتھ گھل جاتے ہیں پھر کوزہ گری آتی ہے
لیکن یہاں تو ہمارے مستقبل کے معمار بچوں کو ان مسائل و مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے کہ اگر ان سے عام عوام گزرے تو ان کی چیخیں نکل جائیں۔ نہ ان کو تعلیمی نصاب کا تسلسل ملتا ہے، نہ کوئی اچھا استاد جو علم کو ان کے دل و دماغ میں اس طرح راسخ کرے کہ اس علم کو وہ اپنی زندگی پر لاگو کر سکیں۔ لیکن اساتذہ کی اکثریت سکولوں میں وقت گزاری کے لیے آتی ہے۔ کتابوں سے پڑھا کر بچوں کو رٹا لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ مجال ہے کہ بچے کو کتاب سے ہٹ کر کچھ نیا بتایا جاتا ہو۔ بچے کے ذہن کو محدود ہی رکھا جاتا ہے۔ اس کی ذہنی استطاعت کے مطابق اس سے کام نہیں لیا جاتا بلکہ اس کے ذہن کو ہی محدود کر دیا جاتا ہے۔ لہٰذا بچہ اپنی کتاب سے ہٹ کر کچھ سوچ ہی نہیں پاتا۔ جب بچہ اپنی تعلیم میں اس طرح ہوتا ہے تو وہ زندگی کے گونا گوں مسائل و مشکلات کا سامنا کیسے کرے گا۔وہ معاشر ے کے لیے مفید فرد کیسے بنے گا؟
اس کے ملک کے بیابانوں کو اگر نخلستاں بنانا ہے، گلستاں بنانا ہے تو اس کے لیے ضروری تو نہیں کہ پہلے سے موجود سہولیات کا خاتمہ کردیاجائے۔ یہ تو بہت آسان ہے کہ اس دیس میں موجود ومحدود وسائل کو استعمال کرتے ہوئے مزید وسائل پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس دیس میں بجلی کی کمی ہے تو پن چکی، ہوائی چکی، شمسی توانائی، ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ شیر کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ سڑکیں بچھانے سے فرصت ملے تو ملک کے عوام کے بارے میں کچھ سوچا جائے۔اس ملک پاکستان کا ہر مسلہ قابل حل ہے، بات صرف خلوص نیت سے دل لگانے کی ہے۔ اس کا حل تلاش کرنے کی ہے اور تلاش کرنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے، یہ تو پھر دنیا کے مسائل ہیں۔انفرادی سوچ کی بجائے اجتماعی اور وطن کے لیے سوچنا ہو گا اور پھر سوچ پر عمل کرنا ہو گا تو ہم نئے بیاباں سنواریں گے اور پہلے سے موجود گلستان مزید خوبصورت ہوں گے۔
ہمارے وطن کے ہر شعبے میں نئے بیابانوں کو سنوارنے والے ہی پہلے سے موجودگلستانوںکو اجاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میںدل لگاکر کام کیا جاتا ہو۔ محنت سے اور محبت سے کام کو اپنا ذاتی کام سمجھ کر اس کے انجام دیا جاتا ہو۔ڈاکٹر اگر سرکاری ہسپتال میں ہے تو مریض سے جان چھڑانے کی بات کرتا ہے۔ کوئی سرکاری ملازم ہے تو سارا دن ادھر ادھر کے کاموں میں جو کے کام نہیں ہوتے، وقت ضائع کرتا ہے۔ انگلش کا ایک محاورہ ہے Look busy, do nothing… تو وہ اس محاورہ کو ہمیشہ ہی سچا ثابت کرتا ہے۔ اس کی ٹیبل پر فائلوں کے ڈھیر ہوں گے، اور گھنٹے آدھے گھنٹے بعد ایک فائل کو اٹھا کر دیکھ لے گا۔۔ کوئی دیکھ رہا ہو گا، تو فائل کے اندر گھس جائے گا، ویسے ہی صفحات کو الٹ پلٹ کرے گا، لیکن کام کیا ہے، وہ نہیں کرنا۔ شاید ہی کوئی شعبہ ہوسوائے ایٹمی ٹیکنالوجی کے، جس کی بدولت آج اللہ کے فضل سے دشمن پاکستان کو جنگی آنکھ دکھانے سے پہلے ایک دفعہ تو ضرور سوچتے ہیں ، یہ الگ بات کہ سر میں خناس سما جائے اور وہ اکڑ بیٹھیں۔ پیارے قارئین، ایک دفعہ سوچنے کا حق تو بنتا ہے نہ پہلے سے موجود گلستان کو مزید بہتر کرنے کے لیے، اور نئے گلستاں آباد کرنے کے لیے۔۔۔