Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

سیاسی تحریریں

اندرونی عناصر کو بیرونی آقاؤں کی آشیرباد
December 19, 2018

“اندرونی عناصر کو بیرونی آقاؤں کی آشیرباد”

”کراچی جرگے کے ایک عہدیدار کے مطابق اگر نقیب اللہ کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا تو آج منظور پشتین کو کوئی جانتا بھی نہیں۔ بدقسمتی سے صرف ایک پولیس افسر کو بچانے کے لئے پشتون تحفظ موومنٹ جیسی ریاست مخالف تنظیم کو پھلنے پھولنے کا موقع دے دیا گیا۔ اور آج ملک کو اس فتنے کا شدت سے سامنا ہے۔منظور پشتین نے 2014ء میں محسود تحفظ موومنٹ کے نام سے تنظیم بنائی تھی۔ لیکن اس کے نام سے کوئی واقف نہیں تھا۔ تاہم منظور پشتین اس وقت خبروں میں آیا جب رواں برس نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا۔ جس کے بعد اس نے اپنی تنظیم کا نام بدل کر پشتون تحفظ موومنٹ رکھ لیا۔ نقیب اللہ کے لئے انصاف کے حصول کی تحریک دراصل سہراب گوٹھ کراچی سے شروع کی گئی تھی۔ جس میں محسود اور دیگر قبائل کے مشران شامل تھے۔ تاہم اس تحریک کو اسلام آباد دھرنے کے دوران منظور پشتین نے ہائی جیک کر لیا، اور اب اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔“

مندرجہ بالا پیرا گراف ایک اخبار کی خبر کا حصہ ہے۔ مقصد صرف منظور پشتین کا تعارف کرانا تھا۔ منظور پشتین نے جب جب جہاں جہاں جلسہ کیا ، ہر جلسے میں اس نے بظاہر تو پشتون کے تحفظ کے لیے بات کی۔ لیکن اس کے شروع کی تقاریر میں کچھ الفاظ، کچھ جملوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ اندر ہی اندر کچھ کھچڑی پک رہی ہے۔ میری موجودگی میں اگر کبھی کسی محفل میں منظور پشتین کا ذکر آیا تو میں نے وہاں برملا کہا کہ بہت جلد اس کی اصلیت سامنے آئے گی ۔ یہ فی الحال تو پشتون کے تحفظ کی بات کر رہا ہے لیکن عنقریب اس کے اندر کا غبار باہر آئے گا یا پھر یہ اپنے آقاﺅں کی زبان بولنے لگے گا۔ اور وہی ہوا۔ منظور پشتین نے پہلے وزیرستان میں پاک فوج کے خلاف لغویات شروع کردیں۔ جب کہ وہ جانتا بھی تھا کہ وزیرستان میں دنیا بھر کے دہشت گرد بھرے ہوئے ہیں۔اور ان کو پناہ دینے والے بھی بیرونی دنیا سے لفافے بٹورتے رہتے ہیں۔ ان کو پناہ گاہیں دیتے ہیں، ہر قسم کے اسلحے تک ان کی رسائی کراتے ہیں۔ توپاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو کہ کراچی تا خیبر اور چمن تا لاہور ہر شہر میں بچوں، بوڑھوں ، خواتین میں فرق کیے بغیر خون کی ندیاں بہاتے ہیں، ان ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑنا کیا برا ہے۔ یقینا پاک فوج نے یہی کیا۔ اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھرپور ایکشن لیا۔ جہاں پہلے ہفتے میں ایک دھماکہ ہوتا تھا، اب اللہ کے فضل و کرم سے ان برے حالات میں اسی فیصد تک کمی آئی ہے۔ اب وہ دہشت گرد کم از کم وزیرستان سے نکل کر واپس اپنے آقاﺅں کے ٹھکانے پر پہنچ گئے ہیں۔ منظور پشتین اور اس کے آقاﺅں کو دکھ اسی بات کا ہے کہ اب انھیں پاکستان میں تخریب کرنے کے لیے کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔

منظور پشتین کے مطالبات بڑھتے گئے۔ چونکہ پاک فوج نے وزیرستان سے مکمل طور پر دہشت گردی کے خاتمے کا اعلان کیا ہوا تھا تو وہاں مختلف مقامات پر چیک پوسٹس اور مضافات میں جہاں سے دہشت گردوں کی آمد ورفت ہوتی تھی، وہاں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں۔ منظور پشتین نے چیک پوسٹس اور یہ سرنگیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ صرف پاکستان میں امن کی خاطر یہ مطالبہ بھی منظور کر لیا گیا۔ لیکن منظور پشتین اپنی اوقات سے باہر ہی رہا۔ ایک یونیورسٹی کا طالب علم جب پاکستان مخالف بیان دینا شروع کرے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو بیرونی آقاﺅں کی آشیرباد لازمی ہے۔ چند دن پہلے وانا میں ایک مظاہرہ ہوا جس میں ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے نے ریاستی اداروں کے خلاف وہ مغلظات اپنی ناپاک زبان سے نکالیں کہ پچھلے کسی بھی غدار کی تقاریر کے شاید سارے ریکارڈ توڑ دیے گئے۔ چاہے وہ الطاف حسین کے الفاظ ہوں یا اچکزئی کے۔ تب تک تو منظور پشتین اور پی ٹی ایم کے خلاف حکومت وقت نے کوئی ایکشن بھی نہ لینے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔لیکن ان کو یہ تنبیہ بھی ضرور کی ہوئی تھی کہ وہ ریڈ لائن عبور نہ کریں۔ لیکن اس تقریر نے ساری سرخ حدیں پار کرا دیں۔ اب قانون کے مطابق حکومت مجبور ہو گئی ہے کہ وہ پی ٹی ایم کے خلاف کوئی ایکشن لے۔ یقینا پی ٹی ایم کے بڑے بڑے عہدیدار گرفتار ہوں گے ۔ منظور پشتین کی گرفتاری بھی غیر متوقع نہیں۔

جب منظور پشتین یا دیگر عہدیدار یا دونوں گرفتار ہوں گے تو ان کے آقاﺅں کو آگ لگے گی۔ پی ٹی ایم کا ایک اور ایجنڈا لاپتہ افراد کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کرنا تھا کہ جو جو افراد لاپتہ ہوئے ہیں ان کو بازیاب کرایا جائے۔ یہاں یہ بتانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ شاید ایک آدھ فیصد کوئی فرد بے گناہ پکڑا گیا ہو (وہ بھی ممکن نہیں) باقی سب کے سب کسی نہ کیس لحاظ سے پاکستان میں یا تو تخریب کار عناصر کے سہولت کار تھے اور ہیں یا پھر براہ راست ”را“ ، ”موساد“ وغیرہ کے ایجنٹ ہیں۔ان کو گرفتار بھی پلک جھپکنے میں نہیں کیا گیا۔ باقاعدہ ان کے خلاف ملنے والی خبر کی تحقیق کی گئی۔ جب ہر لحاظ سے دیکھا گیا کہ ثبوت مکمل ہیںاور اب اگر ان ایجنٹس کو، ان افراد کو کھلا چھوڑا گیا تو وہ کوئی نہ کوئی گھٹیا گل کھلائیں گے تو ان پر ہاتھ ڈالا گیا۔ جن پر صرف شک تھا ان کو تو ہفتہ دس دنوں میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ اب ہوا یہ کہ جب ہندوستان اور اسرائیل کے راستے بند ہونے لگے تو انھوں نے مسنگ پرسنز کا شوشا چھوڑا۔ اس شوشے کو شہہ دینے کے لیے انھوں نے منظور پشتین اور اس جیسے دیگر افراد کو آگے کیا۔ درحقیقت ان افراد کو جب اٹھایا گیا تو گویا ہندوستان اور اسرائیل کی دم پر پاﺅں رکھ دیا گیا۔اب بھی یہی ہونا والا ہے۔ پہلے تو صرف دم پر پاﺅں رکھا گیا تھا۔ اب منظور پشتین یا اس کے حواریوں کو گرفتار کرنے کی وجہ سے نہ صرف ان دو ممالک بلکہ اور بھی بہت سے ممالک جو ظاہری یا خفیہ طور پر ان کا ساتھ دیتے ہیں یا انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، ان کو بھی مرچیں لگیں گی اور خوب لگیں گی۔ پھر یہ سوال جائز ہو جائے گا کہ مرچیں منہ کے علاوہ اور کہاں لگتی ہیں۔ یہ پی ٹی ایم تو عنقریب بی ایل ایف سے بھی ہاتھ ملانے والی تھی۔ وہ بی ایل ایف جو بلوچستان میں تخریب کاری کرنے میں سب سے آگے ہے۔

بندہ پوچھے کہ جب تمھارے اپنے ملک میں اصل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انڈین مقبوضہ کشمیر میں یہ خلاف ورزی ہوتی ہے، فلسطین میں ہوتی ہے تو اس وقت تم کیا گدھے بیچ کر سو رہے ہوتے ہو؟ خود میاں فصیحت دیگر را نصیحت۔ اپنے گریبا ن میں بھی بندہ جھانک لیتا ہے۔ لیکن بزعم خود یہ نام نہاد سپر پاورز کیوں ایسا کام کریں۔ ان کا تو کام ہی کسی ملک میں امن قائم نہ رہنے دینا ہے۔ کیونکہ اسی وجہ سے تو ان کی دکان چلتی ہے۔ تو انھوں نے یہ دکان چلانی ہے۔ آج پی ٹی ایم کو لگام ڈالی جائے گی تو اس کا متبادل انھوں نے یقینا رکھ چھوڑا ہوگا۔ بہت جلد ہمیں کوئی اور پارٹی نظر آئے گی جو اس طرح کے نعرے بلند کرتی پھرے گی۔اللہ پاکستان کی اندرونی و بیرونی دشمنوں سے حفاظت کرے، آمین

(دسمبر 13، 2018)

یہود د و نصاریٰ ۔کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں بن سکتے
November 21, 2018

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی محترمہ عاصمہ حدید نے مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک موازنہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ محترمہ نے قرآن سے غلط معانی نکال کر اور غلط تاریخ پیش کر کے پاکستان تحریک انصاف کا ایک ایجنڈا سامنے لانے کی کوشش کی جس کے حوالے سے پی ٹی آئی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب کے بارے میں بھی شروع سے ہی جب انھوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی کہا جا رہا ہے کہ وہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ثبوت تو ابھی تک کسی نے نہیں دیا، بس الزامات ہی ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر جو چیز پھیل جاتی ہے، پی ٹی آئی کے مخالفین اسی بات کو بنا تحقیق کے آگے پھیلا دیتے ہیں یا اس پر لفظوں کے پھول برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ سورة الحجرات میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی فاسق (مطلب جھوٹ بولنے والا۔۔ آج کل کون سچا ہے) تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اس میں فاسق کا لفظ ضرور استعمال ہوا ہے لیکن دوسرے حصے پر بھی عمل لازم ہے۔ اور آج کے دور میں تو یہ انتہائی شدید لازم ہو گیا ہے کہ ہر خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی جائے۔ورنہ ایک اینکر کی طرح سب کہیں گے کہ میرے پاس ثبوت ہیں ۔ میں ابھی پیش کرتا ہوں۔ پہلے یہ خبر دیکھ لیں۔ میرے مصدقہ ذرائع ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ نہیں۔خیر اسرائیل کے حوالے سے کئی مواقع پر کچھ ایسا ضرور نظر آیا جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے۔ اب محترمہ کی قومی اسمبلی میں تقریر ہی سن لیں۔ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے. پھر یہودیوں کی دلجوئی و تالیف قلب کے لیے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا شروع کی۔ پھر قبلہ تبدیل کرنے کے حکم پر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ مزید کہتی ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس سے ہے اور مسلمانوں کا بیت اللہ۔ اس کے بعد کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ اس لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ (واضح نہیں کہا لیکن سیاق و سباق سے یہی مفہوم نکلتا ہے) مسلمان اور یہود ایک ہو جائیں۔ محترمہ نے تقریر تو پانچ منٹ کے لگ بھگ کی جس میں زیادہ زور اسی بات پر تھا۔ آخر میں یہود و مسلمانوں کے درمیان اتفاق قائم کرنے کے بارے میں کہہ گئیں۔
یہ تو شکر ہے کہ انھوں نے اپنے علم کو خود ہی ناقص کہہ دیا تھا۔ ورنہ پی ٹی آئی والوں نے انھیں عالمہ و فاضلہ کی ڈگری بھی تھما دینی تھی۔ میرا مطلب سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ سے باہر کے عوام سے ہے۔ واقعی ان کا علم ناقص ہی ہے۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے صرف حج بیت اللہ ادا کیا جاتا تھا۔ نماز فرض ہو جانے کے بعد بیت المقدس ہی کی طرف ہی ادا کی جاتی تھی۔ اور یہ یہود کو خوش کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اللہ کا حکم تھا۔ پھر ایک دن عصر کی نماز میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت المقدس کی طرف سے تبدیل کرکے بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ لیکن اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہودیوں کا قطلہ بیت المودس اور مسلمانوں کا خانہ کعبہ ہو گا۔ یہودیت تو ایک جھوٹا مذہب ہے کیونکہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سابقہ تمام انبیاءعلیہ السلام کی تعلیمات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اب جو کچھ بھی تھا وہ احکامات الہی اور تعلیمات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں تھا اور تا قیامت رہے گا۔ ویسے بھی کیا یہودی کیا نصارٰی (عیسائی)، اپنے اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان پر نازل ہوئی کتب میں جو تحریفات کی گئیں وہ کلی طور پر ان پیرو کاروں کے اپنے نفس کے تابع ہیں۔ جھوٹے من گھڑت واقعات شامل کیے گئے۔
اس کے بعد محترمہ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ آپ کا تاریخ کا علم بھی واقعی ناقص ہے۔ بی بی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا۔ ان سے آگے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل کہلائی۔ اور یہ بھی کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں بے شمار نبی آئے۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں نبوت صرف ہمارے آقائے نامدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ تو آپ سے عرض ہے کہ پہلے خوب پڑھ کر آئیں پھر بات کریں۔
عاصمہ حدید صاحبہ نے مزید کہا ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے کہ یہ جو آج مسلمانوں پر شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں ظلم ہو رہا ہے اس کا راستہ روکا جائے۔ کوئی ان کو یہ بتائے کہ فلسطین کا نام کیوں نہیں لیا کہ اسرائیل ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ آئے روز وہاں جنازے اٹھ رہے ہیں۔ کبھی باعصمت خواتین کے دوپٹے پھاڑے جارہے ہیں تو کبھی بچوں کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک اسلحے کے زور پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن فلسطین شاید واحد ملک ہے جو غلیل میں پتھر ڈال کر اسرائیلیوں کے ظلم کا مقابلہ کرتا ہے۔ جن کے دل میں آزادی کی تڑپ رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔اور مقصد کے لیے عاصمہ صاحبہ نے ایوان کا وقت ضائع کیا کہ جس طرح ممکن ہو اسرائیل کے ساتھ یارانے بڑھائے جائیں۔ محترمہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انھیں یہ تو نظر آرہا ہے کہ شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں مظالم ہو رہے ہیں لیکن یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ وہاں ظلم کے پہاڑ کون توڑ رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی ہی ہیں جو ہر ملک میں ظلم کرتے ہیں ۔ کبھی ڈیزی کٹر بم گرائے جاتے ہیں تو کبھی غیر جوہری خطرناک بموں کی بمباری کی جاتی ہے۔ پہلے افغانستان میں روس گھسا رہا لیکن وہاں کچھ نہ کر سکا۔ پھر امریکہ نے اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی اور ہنوز لگا ہوا ہے لیکن اللہ کے سپاہیوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں تو جب نام ہی اللہ کا لے کر بلند کیا جائے تو پھر کسی کی جرا¿ت ہو سکتی ہے وہ کسی سرزمین پر قبضہ کر سکے۔
عاصمہ صاحبہ کی تقریر اسی سلسلے کے کڑی دکھائی دیتی ہے جس کے تحت پاکستان میں ۴۲ اکتوبر ۸۱۰۲ کو ایک اسرائیلی جہاز کے آنے کی باز گشت ابھی تک پاکستان کی فضاﺅں میں گھوم رہی ہے۔آپ کی تقریر کا مقصد بظاہر تو یہی نکلتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے لیے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں۔ باطن کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ لیکن ظاہری صورت حال یہی نظر آتی ہے۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ہمارے رب نے یہ حکم دیا ہے۔ اب اگر آپ اس دوستی کے لیے راہ ہموار کرانا چاہتی ہیں تو پہلے آپ کو ان کا جھوٹا مذہب قبول کرنا ہو گا۔۔

روزنامہ آفتاب.. 16 نومبر، 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو
November 8, 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو

یہ صرف ایک اسلامی آرٹیکل ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس فرد کے لیے لکھا گیا ہے جو وعدوں کو صرف مذاق سمجھتا ہے چاہے وہ عوام ہو یا حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھے خواص۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد ہے ۔ ” وعدہ پورا کرو بیشک (قیامت کے دن )وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔۔ ”خبردار!(حکم خدا تو یہ ہے کہ) جو بھی اپنا عہد پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تقویٰ والوں کو یقینا دوست رکھتا ہے،بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اوراللہ قیامت کے دن ان سے نہ تو کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ فقہا¿ اور علما¿ نے وعدے کی تین اقسام بیان کی ہیں۔
۱۔یک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو۔
۲۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
۳۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ شایدوہی ہے جو عالمِ اروا ح میں واقع ہوا ہے، قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے، ا±س وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا،لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا۔
دوسرا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہے یا کرتے ہیں وہ نذر ماننا یا قسم کھانا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ صرف دل و دماغ میں خیال کرنایا سوچنا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ زبان سے موزوں جملہ کہنا ضروری ہے۔جیسے کوئی کہے کہ میں صحت یاب ہو گیا تو اتنی رقم خیرات کروں گا۔ ایسا کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوجاتی ہے۔یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ عہد ، قسم یا نذر کسی غیر شرعی کام کی نہ ہو۔ یعنی کسی حرام کام کے لیے نذر نہ مانی جائے۔ یا پھر کوئی ایسی قسم جس میں کسی بھی شرعی ، واجب یا مستحب کام کو چھوڑنے کا وعدہ کیا جائے۔اسی طرح عہد جو خدا سے کیا جاتا ہے اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔جیسے کوئی کہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو یہ نیک کام کروں گا۔ اب اگر وہ نیک کام نہیں سر انجام دے گا تو گناہِ کبیرہ کے زمرے میں شمار ہو گا۔ اور عہد توڑنے کا کفارہ الگ سے ادا کرنا ہو گا۔ عہد کا کفارہ ادا کرنا واجب ہے۔ اور یہ کفارہ وہی ہے جو رمضان کا روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے نہ رکھنے اور توڑنے کاہے، یعنی ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا، یا ساٹھ ورزے رکھنا ، یا ایک غلام کو آزاد کرنااور اگر نذر توڑدی جائے تو اس کا کفّارہ قسم توڑنے کے کفّارے کے برابر ہے، یعنی دس غریبوں کو کھانا کھلانا، یا دس لباس سے محروم لوگوں کو لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔
وعدے کی تیسری قسم بندوں کی بندوں سے ہے۔اور یہ وعدہ وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے۔کہ ایمان والے وہ ہیں جو جب کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہیں۔ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ جب بھی وہ وعدہ کرے وہ وفا کرے۔یعنی ایمان والوں کی ایک نشانی وعدے کا پورا کرنا بھی ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل لکھنے کا میرا مقصد اربابانِ اختیارات کو اور پارلیمنٹ کے دیگر ممبران کو وہ وعدے یاد دلانا تھا جو انھوں نے الیکشن سے پہلے عوام سے کیے تھے۔ وعدہ کرنا کوئی مذاق نہیں ہے کہ جب چاہا وعدہ کر لیا جیسے کوئی اپنی محبوبہ سے کرتا ہے اور پھر مطلب نکل جانے پر ’وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے ‘ کا نعرہ لگا کر نئے بے وقوف کو تلاش کرنے میں نکل پڑتا ہے۔ ہمارے صدرِ محترم سے منسوب ایک قولِ زریں آج کل فیس بک پر وائرل ہو رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے اور الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدے بس الفاظ کا گورکھ دھندہ ہی ہوتا ہے۔ پورا کوئی بھی نہیں ہوتا نہ کیا جاتا ہے۔ تو اگر تو یہ قول درست ہے اور ڈاکٹر سر نے کہا ہے تو پھر ایک پارلیمنٹیرین کی کیااوقات ہو گی۔ جب وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھنے والے بھلے وہ کوئی بھی ہوں، عوام سے الیکشن کے دنوں میں ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ اگر ان میں سے پچاس فیصد بھی صدقِ دل سے پورے کیے جائیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں پاکستان دنیا کی اول نمبر ریاست میں شمار ہو گا۔ چاہے وہ معاشی میدان ہو، جنگی یا دفاعی میدان ہو یا تعلیمی میدان۔ لیکن افسوس ہوتا ہے جب ہمارے پارلیمنٹیرینز سیٹ نہ ملنے پر اپنے ہر وعدے کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے حلقے کے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ یہ باتیں میں کوئی پہلی بار نہیں لکھ رہا۔۔ کئی بار ، بار بار اور بارہا لکھی جا چکی ہیں کہ شاید کسی کے دل میں اتر جائے کسی کی بات۔۔ لیکن وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے۔
ہمارے محترم وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے جتنے وعدے کیے تھے ان میں سے حکومت سنبھالنے کے نوے دنوں کے اندر اندر کچھ اس طرح کے محیر العقول کارنامے سر انجام دینے تھے جو پاکستان میں جاگیرداروں اور لٹیروں کی موجودگی میں تکمیل تک پہنچانا انتہائی مشکل ہیں۔اب یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنے وزراءپر ناراض ہو رہے ہیں جنھوںنے الیکشن سے پہلے کچھ اور حقائق بتائے تھے جب کہ اب جب وہ حکومت میں آئے ہیں تو حقائق کچھ اور ہیں۔ سر، انتہائی احترام سے عرض کروں گا کہ اس میں ان کا کیا قصور۔ یہ سب کچھ تو عام عوام کو بھی نظر آتا ہے کہ اصل حقائق کیا ہیں؟ تو پھر آپ کیسے ان سے نابلد تھے؟ وعدہ وفا کیجئے لیکن اس سے پہلے اس کا کفارہ ضرور ادا کیجئے، اپنی جیب سے، اپنی تنخواہ سے، جو کہ آپ کر سکتے ہیں۔

(روزنامہ آفتاب، لاہور میں باقاعدہ آغاز کے بعد سے پہلا کالم۔ 8 نومبر 2018)

بھرتیوں پر پابندی۔۔ بالکل بے جا اور ناجائز
September 14, 2018

(ابنِ نیاز)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آنے والے الیکشن کے تناظر میں پورے ملک میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ انھوں نے کس بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی ہیں۔ اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ تو ای سی پی نے جواب دیا کہ سیاستدان اور حکمران ووٹ لینے کے لیے ہر ادارے میں نئی بھرتیاں اپنی مرضی سے کرتے ہیں جن میں میرٹ کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ بات مان لی ہے اور کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ الیکشن سے پہلے نوکریاں نہ دی جائیں۔ ۔۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ درست ہے کہ من مانیاں بھرتیاں شروع ہو جاتی ہیں ، سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔بھرتی کرنے والوں سے اور ان کے اہل و عیال سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ووٹ انہیں کو دینا ہے۔ اب وہ نوکری لینے والا مجبور ہوتا ہے کہ اپنے علاقے کے کرپٹ ترین بندے کو ووٹ دے اور بقول شخصے ووٹ کو عزت دے، جو کہ سراسر ووٹ کی توہین ہے۔
فیصلہ درست تو ہے لیکن فیصلہ غلط بھی ہے۔ سرکاری نوکری پر صرف اس مرتبہ ہی پابندیاں نہیں لگیں بلکہ ہر سال ہر حکومت نے یہ فریضہ بہ احسن طور سر انجام دیا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود پھر بھی مختلف اداروں میں بھرتیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کیسے؟ سفارش پر۔ کوئی نہ کوئی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایک فون کرتا ہے یا بذاتِ خود شرفِ ملاقات بخشتا ہے اور جاتے ہوئے دو تین عدد کوائف نامے سربراہ کی میز کی نذر کر دیتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں اس کا تقررنامہ اس کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔ اب نوکر کی تے نخرہ کی کے مصداق سربراہ کو اپنی عزت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ کیونکہ منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کی اکثریت کم پڑھی لکھی لیکن زبان کی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اور کام نہ ہونے کی صورت میں ان کی زبان درازیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تو پھر سربراہ کو مجبوراً تقرریاں کرنی پڑتی ہیں۔ درحقیقت پابندیاں لگانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جب جب کسی کو کسی ادارے میں بھرتی کرانا ہو تو وقتی طور پر کسی نہ کسی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر سے این او سی حاصل کرکے کسی ادارے میں ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔
بھرتیوں پر پابندی کا جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور ہوتا چلا آرہا ہے وہ پڑھے لکھوں کی عمر گزرنے کا ہے۔ یونیورسٹی سے جب کم از کم ایم اے یا برابر کی ڈگر لے کے طلباءفارغ التحصیل ہوتے ہیں تو انھیں پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر تو پابندی ہے۔ تو ایسے میں اس کا دل نہیں ٹوٹے گا تو کیا ہو گا۔پھر پابندیاں ایک دو ماہ کے لیے کھلتی ہیں جس میں سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ جب پابندی لگ جاتی ہے اور طویل عرصے کے لیے ہو تو ان کی عمر گزر جاتی ہے۔ جب کسی بھی اسامی کے لیے عمر کی حد مقرر کی جاتی ہے تو پابندیوں کی وجہ سے جب وہ اہل ہوتے ہیں تو نااہل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرکاری ادارے میں پہلے سے ملازم تو ہوتے نہیں کہ انھیں پانچ سات سال کی رعایت مل جایا کرے۔ یوں بیرزوگاری کی شرح میں ہر سال ایک کثیر تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور سونے پہ سہاگہ اکثر افراد ریٹائرڈ ہوتے ہیں، نیچے سے اوپر ترقیاںہوتی ہیں تو نیچے والی اسامیاں بھرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ یوں ادارے کو افراد کی کمی کی وجہ سے کام نپٹانے میں دوشواری پیش آتی ہے ۔
سرکاری اداروں میں تو حکومت بھرتیوں پر پابندی لگا دیتی ہے لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھرتیاں ہو سکتی ہیں۔ یہاں بھی سب سے بڑا مسلہ اقربا پروری یا سفارش کلچر کا موجود ہونا ہے۔ بہت کم قابل اور اہل افراد بھرتی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے اگر پاکستان میں بند کارخانے چلا دیے جائیں۔ اگر حکومت وقت نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے پرانی سڑکوں کی ہی توسیع کر دے تو اخراجات میں کافی بچت ہوگی ۔ وہی بچت بند کارخانوں پر لگائی جائے۔ ان کو سرمایہ فراہم کیا جائے اور ہر کارخانے کو پابند کیا جائے کہ وہ کارخانہ شروع کرتے ہی نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بھرتی کرے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ بیروزگار نوجوان غلط کاموں میں ہاتھ ڈالیں۔ اگر نوجوان دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں، جرائم میں مبتلا ہوتے ہیں ، غلط کام کرتے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ بیروزگاری بھی ہے۔ظاہر ہے جب مصروفیت کے لیے کچھ نہ ہوگا تو پھر نوجوان کیا کرے گا۔ وقت تو گزارنا ہے۔ اوپر سے ہر قسم کے جرم کرنے کے پیسے ملتے ہوں اور اچھے ملتے ہوں تو وہ کیوں جرم کی راہ اختیار نہیںکرے گا۔پاکستان میں ہر قسم کی انڈسٹری موجود ہے اور ان انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے افرادی قوت بھی موجود ہے۔ اگر تجربہ نہیں بھی ہے تو پھر بھی ان کی تعلیم اس قدر ہے اور اس مطلوبہ ملازمت کے مطابق ہے۔ بات صرف ان کی رہنمائی کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر فیکٹری ، انڈسٹری میں سینئر ہوتے ہیں جو نئے بھرتی ہونے والے کو تجربہ کار بناتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں نیا بھرتی ہونے والا چاہے جتنا تجربہ کار بھی ہو، اس ادارے کے طریقہ کار پر چلنے کے لیے اس کو سینیئرز کی رہنمائی کی ضرورت ہر قدم پر پڑتی ہے۔
محترم چیف جسٹس صاحب اس وقت بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ جو کام حکومت کے کرنے کے ہوتے ہیں وہ ان کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ہر مقام پر ان کو کڑھنا پڑ رہا ہے کہ جس ادارے میں بھی جاﺅ ، وہاں پر ہی دھاندلی پائی گئی ہے، بنیادی حقوق کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محترم جج اس مسلے کی طرف بھی توجہ دیں اور بیرزوگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے قانون پر (اگر موجود ہے تو) عمل درآمد کروائیں اور ان کی عمر گزرنے سے پہلے پہلے ان کو روزگار فراہم کروائیں۔ اور اگر کوئی قانون نہیں ہے تو قانون بنوا کر اس پر عمل کروائیں۔ یقین مانئے سر، کہ سب آپ کو اللہ کے آگے جھولی پھیلا کر دعائیں دیں گے۔
******

دھاندلی کے انداز
June 27, 2018

دھاندلی کے انداز
(موجودہ سیاسی صورتحال اور جولائی 2018 کے الیکشنز کے حوالے سے ایک تحریر)

گذشتہ حکومت نے جاتے جاتے ۲۰۱۸ کے الیکشنز کی جو تاریخ مقرر کی اس پر کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ ۲۵ جولائی ہی منتخب کرنے کی کیا وجہ تھی۔ بہت سوچا اور اتنا کہ سر میں درد تک شروع ہو گیا۔ حالانکہ چھوٹے موٹے معاملات کو تو الحمد للہ میں در خود اعتنا ہی نہیں سمجھتا۔ اور بڑے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں۔ لیکن یہ والا مسلہ درحقیقت براہِ راست عوام سے متعلق ہے اور میں بھی عوام ہوں۔ جب غور کیا اور اس تاریخ کو دن دیکھا تو وہ ’’بدھ‘‘ کا دن ہو گا۔ یعنی پورے ہفتے کا مرکزی دن۔ نہ بندہ دو دن پہلے چھٹی کر سکتا ہے نہ دو دن بعد۔ کیونکہ چھٹیاں دے گا کون؟ اس دن کوئی سرکاری چھٹی بھی نہیں ہو گی کہ بندہ گھر پر ہو گا اور ووٹ ڈالنے چلا جائے گا۔ شاید ماضی میں حکومت نے اگر الیکشن کی تاریخ چھٹی کے دن کے علاوہ رکھی ہے تو اس دن چھٹی دی گئی تھی۔ عوام ووٹ ڈالنے جاتی تھی۔ لیکن وہ اس صورت میں ممکن ہوتا تھا جب اس چھٹی سے پہلے یا بعد میں ہفتہ اتوار کا دن آتا تھا۔ یقیناًاب بھی حکومت چھٹی دے گی۔ لیکن کیا اس چھٹی کا فائدہ ہو گا۔ ہمارے پاکستان میں شاید تیس فیصد سے زیادہ سرکاری ، نیم سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین اپنے اپنے شہروں سے باہر دوسرے دورکے شہروں میں ملازمت کرتے ہیں۔ کچھ ملازمین قریب کے شہروں میں بھی جاب کرتے ہوں گے جہاں سے ان کے اپنے شہروں کو سفر میں وقت چار سے پانچ گھنٹے ہی لگتا ہو گا، لیکن اول تو یہ کہ چوبیس جولائی کو اگر کچھ اندھی تقلید والے اپنے آفس سے چھٹی کے بعد نکلیں گے تو اس دن لاری اڈوں پر رش کی جو کیفیت ہو گی وہ بیان سے باہر ہے۔
ویسے بھی پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مادر پدر آزاد چھوڑا گیا ہے۔ کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ جب ان کا دل کرے کرایہ بڑھا لیتے ہیں۔ جب دل کرے گاڑیاں چھپا کر اڈا شارٹ کر لیتے ہیں یعنی اڈے میں گاڑیاں نہیں ہوتیں۔ یوں گھنٹہ پون گھنٹہ بعد ایک گاڑی آتی ہے تو اس میں پھر سواریاں اورکرائے ڈرائیور کی مرضی سے سے طے ہوتے ہیں۔اچھا خیر، جیسے تیسے کرکے ووٹر اپنے شہروں میں رات گئے پہنچیں گے۔ اگلے دن چھٹی کی وجہ سے عادتاً دیر سے اٹھیں گے تو تب تک وہاں لائنیں لگی ہوں گی۔ پھر جب ان کانمبر آئے گا ، وہ ووٹ دیں گے پھر اپنے گھر کی راہ لیں گے اور واپسی کی تیاری کریں گے۔ یوں وہ رات گئے جب وہ واپس پہنچے گے تو سفر در سفر تھکاوٹ اتنی ہو گی کہ اگلے دن پھر کس کا دل دفتر جانے کا چاہے گا۔یہ تو ہوئی ایک بات۔ دوسری بات یہ کہ جو افراد اپنے ہی شہر میں ملازمت کرتے ہیں وہ جب چار پانچ بجے چھٹی کرکے نکلیں گے تو وہ بھی سارا دن کام کرکرکے اتنے تھک چکے ہوں گے کہ پھر قطار میں کھڑا ہونے کا شاید ہی دل چاہے۔قطار بھی جس میں نمبر کم سے کم دو گھنٹے بعد آنا ہے، اور تب تک ووٹنگ کا وقت ختم ہو چکا ہوگا۔پھر کیا ہوگا؟ وقت بڑھایاجائے گا کہ جو جو پولنگ سٹیشن کی حدود کے اندر ہیں، ان کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا چاہیے۔اور تب پتہ چلے گا کہ مجید بھائی کی بیوی جو پندرہ سال پہلے فوت ہو چکی تھی، ہر الیکشن میں ووٹ ڈالنے آتی ہے لیکن بے چارے مجید بھائی اس سے کبھی مل نہیں پاتے۔
اس کے بعد آتی ہے ایک اور دھاندلی۔ وہ ہے ووٹر کا لسٹ میں اندراج۔ ووٹر کا تعلق ایک شہر سے ہے۔ اس کے شناختی کارڈ پر مستقل و موجودہ پتہ ایک درج ہے لیکن اس کے ووٹ کا اندراج کسی اور شہر میں ہے۔ اب وہ کیا کرے؟ کیا اس شہر ووٹ ڈالنے جائے۔ لیکن کیوں جائے؟ نہ امیدوار اس کے حلقے کا، نہ وہ اس حلقے کا ووٹر۔ بھلے اگر شناختی کارڈ پر دو ایڈریس بھی درج ہیں ایک موجودہ اور دوسرا مستقل ۔ تو بھی ووٹر کا اندراج مستقل پتے پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ کل کو اس نے بالآخر اپنے اسی ٹھکانے پر واپس جانا ہے۔انہی لوگوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہوگا۔ بفرضِ محال موجودہ پتے کے حساب سے بھی اگر ووٹ کا اندراج ہے تو چلیں پھر بھی قابلِ قبول ہے۔ لیکن اس بات کی تو کوئی تک ہی نہیں بنتی کہ اس کا اندراج کسی تیسرے شہر میں کیا جائے۔ اور اگر بدقسمتی سے وہ شہر اس سے سینکڑوں میل دور ہو تو وہ ووٹر کیونکر ووٹ ڈالنے وہاں جائے گا؟
اس کے بعد ایک اور مسلہ آتا ہے وہ ہے چائے پانی اور بریانی کا اور ساتھ میں اپنی جیب سے ترقیاتی کام کرنے کا۔ دھڑا دھڑ مختلف چھوٹے حلقوں میں خاص کر روڈ بنانے ، گلیوں کی پختگی، نکاسی کے نظام کی درستگی وغیرہ زو ر و شور سے جاری ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں، تو دو دن پہلے ایک امیدوار نے ہمارے محلے کے ایک بزرگ کو پیشکش کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ان کے محلے کی گلی کو پختہ اور نکاسی کا نظام درست کر وا دے گا۔ بندہ پوچھے کہ تب کہاں تھے جب اس کو پچاسوں بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور بار بار پیغامات بھی بھجوائے تھے کہ یہ کام بہت ضروری ہے جن کی غیر موجودگی میں نالیوں کا سارہ گندہ پانی کچی گلی میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے تو اس وقت موصوف یا تو بہت مصروف ہوتے تھے یا موجود ہی نہیں ہوتے تھے۔
کیا یہ سب کام دھاندلی میں نہیں آتے۔ جب ووٹر ووٹ دینے دوسرے شہر میں نہیں جائے گا تو بھی اس کی جگہ پر ووٹ پڑے گا۔ پاک فوج تو صرف یہ دیکھے گی کہ کہیں کوئی دنگا فساد تو نہیں ہو رہا۔ اس کو کیا علم ہو گا کہ ایک ووٹر جب بیلٹ پیپر پر مہر لگانے گیا ہے تو اس کو پانچ ووٹ اور بھی پکڑائے گئے ہیں اور اس نے ان سب پر مہر لگادی ہے۔ یہ سب دھاندلی کے انداز ہیں۔ ان سے بچنا ہے اور امیدواروں سے بھی بچاؤ کرنا ہے۔
قارئین کرام! آپ بھلے ووٹ دیں، ان سے منع نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات ضرور مدِ نظر رکھیں کہ ووٹ ایک امانت ہے، اور اس کے اہل کو ہی ووٹ دیا جانا چاہیے۔ لیکن کچھ سابقہ فتووں کی موجودگی میں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سب برے ہوں تو کمترین برے کو ووٹ دیا جانا چاہیے۔ میں ہر گز اس حق میں نہیں۔ کیونکہ وہ کمتر برا بھی کونسا برائی کو چھوڑ دے گا۔ اس نے اگر ووٹ لے کر اسمبلی میں چلے جانا ہے اور وہاں وہ جو جو برائیاں کرے گا، چاہے کرپشن ہو یا کچھ اور۔ ۔۔ اس کے ہر گناہ میں میں آپ کا حصہ برابر کا ہو گا۔یہ سوچ لیجیے گا کہ آپ قیامت کے دن اپنا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکیں گے تو کہاں دوسروں کے گناہوں کی گھٹڑی اٹھاتے پھریں گے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔