Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

معاشرتی اور سماجی تحریریں

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
July 16, 2019

ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوںپر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی ، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں ۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ” اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب ، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی ، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے۔
July 9, 2019

سوشل میڈیا کا دور ہے۔ تقریباً ہر وہ بندہ اس سے جڑا ہوا ہے جس کے پاس سمارٹ فون ہے، بھلے وہ سوشل میڈیا کے کسی بھی فورم پر ایکٹیو ہو۔ چاہے وہ فیس بک ہو، وٹس ایپ، انسٹا گرام، ٹویٹر ہو۔ اس سوشل میڈیا کی بدولت ہمیں بہت کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ بہت کچھ دیکھنے کو اور سننے کو مل جاتا ہے۔ اگر کوئی سخت ٹینشن میں ہے تو سوشل میڈیا کی سیر کر لے، ایک سے بڑھ کر ایک لطیفہ ملے گا۔ دنیا بھر کے جگت باز یہاں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کی بدولت اب جگت بازی صرف فیصل آباد تک محدود نہیں رہی، اب یہاں ہمارے سکول کے بچے بھی چٹکلے چھوڑتے ہیں۔ آپ کی ساری ٹینشن ایک دم دور ہو جائے گی۔ دوسری طرف اگر کسی کا دل کی بھڑاس نکالنے کا دل کرتا ہے تو وہ بھی سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرتا ہے۔ کسی نے کسی کو بلیک میل کرنا ہے تو س۔ م۔، کسی کا گھر اجاڑنا ہے تو س۔ م۔
لیکن اسی سوشل میڈیا کو کچھ دوست مثبت کاموں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں. میرے دوستوں کی فہرست میں بہت سے ایسے ساتھی موجود ہیں جو لاجواب اور خوب صورت تحریریں لکھتے ہیں اور صرف لکھتے ہی نہیں بلکہ پہلے ان پر خود عمل کرتے ہیں اور پھردوسروں کو عمل کی تلقین کرتے ہیں۔آج بھی حسب معمول میں فیس بک پر آوارہ گردی کر رہا تھا تو ایک دوست ثمر خان ثمر جو کہ داریل، دیامر میں سکول ٹیچر ہیں اور بہت بہترین لکھتے ہیں، ان کی وال ہر ایک تحریر نظر آئی۔ سوچا کہ آپ سب کو بھی ان الفاظ سے مستفید کیا جائے۔ لیکن اس سے پہلے اخلاقی طور پر ان سے اجازت لینا ضروری تھی، جو کہ میں فون پر لے لی۔ ان کا بڑا پن کہ کھلے دل سے اجازت بھی دی اور کہا کہ اگر کوئی اور بھی اس سے مستفید ہو جائے اور ان باتوں پر عمل ہو جائے توسمجھیں کہ ان کی تحریر کا مقصد پورا ہو گیا۔ لکھتے ہیں:
”بغرض تعلیم مختلف شہروں میں قیام پذیر طلبہ کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میری باتیں آپ پر گراں گزریں ، ناگوار لگیں ، چونکہ آپ کی رگوں میں جوان خون دوڑ رہا ہے اور’جوانی دیوانی‘ کے مصداق اکثر جوان ہوش کو کم اور جوش کو زیادہ کام میں لاتے ہیں۔ احساس تو تب ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے مگر اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔۔۔۔آپ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں۔ انشااللہ بات کی تہ تک پہنچ جائیں گے۔
جیسا کہ آپ کو بخوبی علم ہے کہ حصول تعلیم کی خاطر گھربار سے میلوں دور کءطلبہ مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ا ±نہوں نے اپنا نصب العین تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ پارٹیوں اور تنظیموں کے بینرز اور پوسٹرز آویزاں کرنا ، جلسوں اور مٹینگوں کا انعقاد کرنا ، ظہرانوں اور عشائیوں کا اہتمام کرنا اور ان سرگرمیوں کے بعد باقی بچ جانے والے لمحات سوشل میڈیا پر پبلسٹی کے لیے دینا معمول بن گیا ہے۔ یہ انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔ سیاسی پارٹیاں تو ہیں ہی ، مگر اب سماجی تنظیمیں بھی تواتر سے وجود پا رہی ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن ایک الگ نام سے ایک نئی تنظیم وجود میں آتی ہے اور پھر تبلیغ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں کسی سیاسی پارٹی یا سماجی تنظیم کا مخالف نہیں ہوں۔ علاقائی سطح پر بننے والی تنظیموں کو سراہتا ہوں۔ ان تنظیموں کے استحکام کے لیے حتی الوسع سعی بھی کرتا رہا ہوں۔ یہ تنظیمیں علاقے میں لوگوں کے اندر شعور و آگہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ لیکن یہ کام آپ کا نہیں ہے۔ آپ کا مستقبل ان تنظیموں کے جھنڈوں تلے پوشیدہ ہے نہ نعروں کی گونج میں چھپا ہوا ہے بلکہ کتابوں کے سائے تلے نہاں ہے۔ آپ کا کام ہے صرف اور صرف کتاب دوستی اور بس۔۔۔۔۔۔ فرض کیا اگر کسی تنظیم سے وابستگی ناگزیر ہے تو ایک حد میں رہ کر تعلق رکھا جائے ۔ ہر چیز اپنی حد میں بھلی لگتی ہے اور اگر حد پھلانگ لی جائے تو کوئی بھی شے اچھی نہیں لگتی۔
آپ کو یہ طے کرنا ہے کہ آپ کا فرض، آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟ گھر والے آپ پر پیسہ خرچ کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ کتاب کو کتنا وقت دیتے ہیں اور تنظیم کو کتنا۔۔۔۔۔۔؟ کیا آپ کی سرگرمیوں کی خبر آپ کے والدین رکھتے ہیں؟ کیا آپ میں سے کسی کے سرپرست نے کسی پارٹی یا تنظیم کا حصہ بننے کی اجازت دے رکھی ہے؟ اور اگر نہیں دی ہے تو کیا آپ اپنے گھر والوں کی امنگوں کا خون نہیں کر رہے ہیں؟ کیا آپ دغابازی کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟آپ کا کام کسی پارٹی یا تنظیم کے لیے انتظامات کرنا اور چندے بٹورنا نہیں ہے بلکہ دل لگا کر تعلیم حاصل کرنا ہے۔ آپ کی کامیابی کا راز پڑھائی ، پڑھائی اور صرف پڑھائی میں مضمر ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آج طالب علم اور پڑھائی کے درمیان حائل سب بڑی رکاوٹوں میں یہ “کارکنی اور سوشل میڈیا کا کثرت استعمال ” شامل ہیں۔ یہ چیزیں بخدا ایک طالب علم کی زندگی میں زہر ہلاہل کا کام دے رہی ہیں۔ کم از کم اپنے علاقائی سطح پر بننے والی سماجی تنظیموں کے ذمہ داران سے میری دستہ بستہ گزارش ہوگی کہ خدارا طالب علموں کو مت گھسیٹیں۔۔۔انھیں پڑھنے دیں۔ یہ کام طلبہ کا نہیں ہے ، یہ آپ جیسے مخلص ، دردمند ، خدمتگار اور ملنسار جوانوں کا ہے۔“
آپ نے ثمر خان ثمر کے الفاظ پڑھے۔ میں ان میں یہ اضافہ کروں گا کہ آپ تعلیم پر ضرور توجہ دیں، لیکن ساتھ ساتھ اپنی آخرت کو بھی سنواریں۔ ہم دین سے اتنا دور آچکے ہیں کہ ہمارا دین صرف نعروں تک رہ گیا ہے۔ ہم مولویوں کے بہکاوے میں آسانی سے آجاتے ہیں۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں، من و عن اسے تسلیم کر لیتے ہیں۔یا پھر ہم سوشل میڈیا پر جو کچھ دیکھتے ہیں، یا پڑھتے ہیں اس پر ہم اس طرح رد عمل کرتے ہیں جیسے ہم عقل کل ہیں۔ یا ہم بہت بڑے عالم ہیں۔ ہم ایک معمولی سی سنت پر تو عمل کرتے نہیں،اور چلے ہیں کسی بات کو سچ تسلیم کرنے یا اس کو کلی طور پر رد کرنے۔ دوسرا ہمارا وتیرہ بن گیا ہے کہ ہم ایک دم سے فتویٰ لاگو کر دیتے ہیں کہ یہ بات غلط ہے۔ اور یہ بات کہنے والا فوراً کلمہ پڑھ کر تجدید ایمان کرے۔ ایمان نہ تو اتنا کمزور ہوتا ہے کہ بندہ اس کے دائرہ سے نکل جائے، ہاں گناہِ کبیرہ کا مرتکب ضرور ہوتا ہے۔۔ اور نہ ہی دین اتنامضبوط ہوتا ہے کہ دوسروں کی باتوں میں آکر ہم اسے سچ نہ سمجھ بیٹھیں۔ اس سوشل میڈیا کی بدولت ہم مختلف تحریکیں بھی چلا رہے ہیں، لیکن دوسروں کو صرف مسلمان رکھنے کی تحریک کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔ ہاں فرقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر بہت کچھ ملے گا۔ اور دوسروں پر انگلیاں بھی اٹھاتے ہیںجب اپنے فرقے کی تبلیغ کر رہے ہوتے ہیں۔ خدارا، آپ صرف مسلمان رہیں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر رکھیں تو کامیابی ، حقیقی کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سرخروئی آپ کا نصیب ہو گی۔
**************

موبائل فون
March 21, 2019
بیٹا، ذرا اپنا موبائل دینا۔ بیٹے نے ایک منٹ کہا اور پھر تمام میسجز ان باکس اورآؤٹ باکس سے ڈیلیٹ کر دیے۔ تمام لڑکیوں کے نمبر ڈیلیٹ کر دیے۔ تمام تصویریں ڈیلیٹ کر دیں۔ پھر اپنے والد کی طرف بڑھایا اور کہا یہ لیں ڈیڈی۔ تو ڈیڈی مسکرا کر بولے، اچھا چھوڑو مجھے ٹائم بتا دو۔ میں صرف وقت دیکھنا چاہتا تھا۔ اور بیٹے کی حالت پھر دیکھنے کی تھی۔ کیا خیال ہے،آج کل کی نوجوان نسل کدھر چل رہی ہے؟ کچھ ایسی ہی صورت حال ہمارے گھر کے نوجوانوں اور سکول ، کالج کے بچوں کی نہیں ہے۔ ان سے بڑا کوئی موبائل تو مانگ لے تو یا تو اس پر 3، 4 سیکورٹی کوڈ لگے ہوتے ہیں یا پھر بیلنس نہیں ہے، یا آپ فلاں سے لے لیں نا۔۔ یہ تو خراب ہے وغیرہ کے بہانے سننے میںآتے ہیں۔ وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ بچہ اور کچھ کرے یا نہ کرے، اسکے موبائل میں اگر تو سادہ سے ہے تو لڑکیوں کے نمبر، پیغامات ہوں گے۔ اور اگر رنگین ہے ، سنگین ہے تو اس میں غلط قسم کا مواد ہو گا۔ بے ہودہ فلمیں، گانے، تصویریں ہو ں گی۔ کیا موبائل کا یہی استعمال ہے؟
موبائل ہو یا کوئی بھی استعمال کی چیز، اسکا اچھا یا برا استعمال انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جب وی۔سی۔آر نیا نیا آیا تھا تو علماء کرام نے فتوٰی دے دیا تھا کہ اسکو استعمال کرنا حرام ہے۔ تو کیا لازمی ہے کہ ہم وی سی آر میں فلمیں ہی دیکھتے۔ کیا ویڈیوز میں حمد و نعت، اسلامی تقریں وغیرہ نہیں ملتیں۔ جیسے آج کل سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز ہیں۔ یہ تو ہم پر منحصر ہے کہ ہم موبائل کو بھی کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ آیا گانوں کے علاوہ کبھی کسی نے کچھ اور سننے کی کوشش کی۔ کیا جس شوق سے گانے سنے جاتے ہیں ، اسی شوق سے یا اس سے کم یا زیادہ کسی نے قرآن کی تلاوت سننے کی کوشش کی، کسی نے حمد و نعتیہ کلام بھی موبائل میں لوڈ کیا ہوا ہے۔ کیا لاز می ہے کہ ہر کسی کے پاس موبائل ہو، چاہے وہ سکول جاتا بچہ ہو یا کسی دفتر میں کام کرنے والا فرد۔ وہ ریڑھی کا مزدور ہو یا کسی کارخانے کا مالک۔
یہ ٹھیک ہے کہ آج سیکوئی 10سال پہلے موبائل ایک فیشن تھا اور جس کے پاس ہوتا تھا وہ اس کو ہاتھ میں لے کر چلا کرتا تھا۔ اور وہ ہاتھ اسکے بدن سے 2 فٹ دور ہوتا تھا جیسے کوئی بہت ہی قیمتی چیز ہے۔ لیکن آج کل تو چائینہ والوں نے موبائل کی قیمتیں اتنی کم کر دی ہیں کہ ہر فرد کے پاس موبائل ہے۔ اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو میں ذاتی طور پر اسکے بارے میں یہی کہوں گا کہ یا تو وہ سوشل نہیں ہے کہ اس کا معاشرے کے لوگوں سے ملنا جلنا کم ہے یا پھر وہ دنیا میں بالکل تنہا ہے۔ اسکے آگے پیچھے کوئی نہیں ، نہ ہی کوئی دوست یار ہے جس سے وہ رابطے رکھ سکے۔ بہرحال موبائل جس کے پاس بھی ہے، آج کل 50فیصد لوگوں کی وہ ضرورت ہے کہ اسکے بنا انکا کاروبار نہیں چلتا، یا ہر لمحے انھیں اپنے متعلقہ افراد سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے۔ 30 فیصد افراد نے بس موبائل رکھا ہوا ہے کس اگر کسی نے رابطہ کر لیا تو ٹھیک، نہ کیا تو بھی کوئی بات نہیں۔ یا خود ہی کسی بہت اشد ضرورت کے تحت کسی سے رابطہ کر لیا۔ البتہ جو باقی 20 فیصد بچے ہیں انکے پاس موبائل نہی ہوتا تو معاشرے میں بہت سکون ہوتا۔ ان 20 فیصد کی وجہ سے ہی موبائل سروس پروائیڈر کمپنیوں نے مختلف قسم کے پیکجز رکھے ہوئے ہیں۔خاص طور پر گھنٹہ پیکج، نائیٹ پیکجز وغیرہ۔ اور ان 20 فیصد میں سے 80 فیصد طلباء و طالبات ہیں جو اپنی نصابی کتب پڑھنے کی بجائے غیر نصابی دلچسپیوں سے متعلقہ گپ شپ میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ بہت کم اس طرح ہوتا ہے کہ ان پیکجز کا فائدہ اٹھایا جائے۔ یعنی اگر طالب علم
کو اپنے کسی اسائنمنٹ کی سمجھ نہیں آرہی، کوئی سوال نہیں سمجھ آرہا تو وہ اپنے سے زیادہ ذہین طالب علم کو کال کر کے گھنٹہ گھنٹہ اس سے بات کرے اور اس مسلے کو سمجھے۔
ان لیٹ نائیٹ پیکجز، ان گھنٹہ پیکجز ، ایس۔ ایم۔ایس بنڈلز کی وجہ سے بے حیائی بھی بہت پھیل رہی ہے اور اس میں بھی زیادہ تر نوجوان نسل شامل ہے۔ کیونکہ جب انکو فری میں موبائل اور اس پر سستے ترین کال ریٹس ملیں گے تو وہ گپ شپ لگائیں گے۔ گپ شپ سے بات آگے بڑھے گی، ملاقات تو جائے گی۔ ایک ، دو ملاقاتیں، پھر لنچ کی دعوت ، پھر ڈنر اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے
آپ سے پھر تم ہوئے، پھر توں کا عنوان ہو گئے
نوجوان نسل کی اس بے راہ روی کے جتنے ذمہ دار موبائل سروس کمپنیاں ہیں اتنا ہی نوجوانوں کے والدین یا انکے سرپرست بھی ہیں۔ اگر وہ وقتاً فوقتاً وقت نکال کر اپنے بچوں کو چیک کرتے رہیں، انکے موبائل کو کبھی کبھار اپنے پاس رکھ لیا کریں۔ خاص طور پر رات کو ان کو نہ دیں، تو کیا وجہ ہے کہ یہ بے حیائی کم نہ ہو۔ اگر والدین دیکھیں کہ بچے کے موبائل کو آن کرتے ہوئے اس پر کوڈ لگا ہوتا ہے، یا لاک ان لاک کرتے ہوئے کوڈ ہوتا ہے تو سمجھ لیں کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اسکے بعد بھی اگر یہ والدین اس بات کو نظر انداز کر دیں تو قصور پھر سرا سر انکا ہی ہوا، نہ کہ موبائل کمپنیوں کا۔
آج کل جو سمارٹ فون کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے، اس نے تو خاص طور پر زندگی کو عجیب سا کر کے رکھ دیا ہے۔ دوست اگر کہیں خوش قسمتی سے مل بیٹھے ہیں تو چند باتیں کرنے کے بعد ہر کوئی اپنے اپنے جیب سے موبائل نکال کر اپنے اپنے کام میں شروع ہو جاتے ہیں۔کوئی فیس بک میں بزی، کوئی وٹس ایپ میں مصروف ہو جاتا ہے تو کوئی اپنے فرینڈز کو میسجیز کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے۔ تو کیا ضروری تھا کہ یہ دوست آپس میں مل بیٹھتے۔موبائل نے انسان کی سوشل لائف تک خراب کر دی ہے۔ گھر میں بیٹھے ہیں تو بچوں کو، بیوی کو توجہ نہیں، بس موبائل کھولا ہوا ہے اور اس میں آنکھیں رکھی ہوئی ہیں۔دماغ بھی ادھر ہی اور کان بھی ادھر ہی لگے ہوئے ہیں۔ بچے کچھ کہہ رہے ہیں، کچھ دکھانا چاہ رہے ہیں، ان کا جی چاہتا ہے کہ ان کا والد ان کی بات کو سنے، ان کو توجہ دے۔ لیکن والد محترم کو موبائل سے فرصت ملے گی تو کہیں اور توجہ دیں گے۔
پہلے جو فون ہوتے تھے وہ کی بورڈ والے ہوتے تھے جس میں ایک بٹن پر تین چار حروف ہوتے تھے۔ استعمال کنندہ کی اتنی پریکٹس ہو گئی تھی کہ بنا موبائل کو دیکھے اگر کسی کو پیغام بھیجنا ہو تو اس پر لکھ لیتے تھے۔جس کی وجہ سے وہ گلیوں، سڑکوں پر جاتے ہوئے بھی ادھر ادھر دیکھ کر گزرتے تھے۔ لیکن ان سمارٹ فونز کی وجہ سے بہت سے حادثات نے بھی جنم لیا ہے۔ چونکہ سمارٹ فونز کی سکرین پر انگلی سے یا سٹائلس سے ٹچ کرنا ہوتا ہے تو اسکے لیے نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اب ایک شخص چل بھی رہا ہو، اور ساتھ میں سمارٹ فون سے میسج بھی کر رہا تو اسکی توجہ ایک طرف ہی ہو سکتی ہے۔ یا سڑک پر یا موبائل پر۔ اب جو موبائل پر نظر رکھتے ہوئے روڈ کراس کرے گا، اللہ پاک بچائے کسی کو بھی کسی بھی حادثہ سے۔ لیکن بہت ممکن ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے۔
ہر چیز کا استعمال انسان کی اپنی صوابدید پر ہوتا ہے۔ کوئی اسکو اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے تو کوئی اسکے استعمال میں لاپرواہی برتتا ہے۔ہم نے تو اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز کو نہیں چھوڑا تو یہ تو پھر موبائل ہے۔ ہم نے قرا?ن پاک کو خوبصورت ریشمی غلافوں میں بند کر کے طاقوں میں رکھ دیا ہے۔ مٹی سے اٹے ہوئے یہ غلاف کبھی کبھار جب گھر میں کوئی دعا کرانی ہو، کوئی چہلم و سالانہ تقریب منعقد کرانی ہو تو صاف کیے جاتے ہیں۔ یا پھر یہ کہ اس قرآن پاک سے ہم لوگوں نے تعویذ بنانے کا کام شروع کیا ہوا ہے۔ توبہ نعوذ بااللہ، استغفراللہ اکثر لوگ تو قرآن کی آیات کو ہی جادو ٹونہ کے لیے استعمال کرتیہیں۔ جب ہم نے قرآن کا یہ حال کیا ہوا ہے تو موبائل تو پھر مشین اور انسان کی بنائی ہوئی چیز ہے۔اسکو ہم کیسے درست استعمال کر سکتے ہیں۔ بات قابلِ غور ہے اگر کوئی کرے تو۔
16 February 2015
بھرتیوں پر پابندی۔۔ بالکل بے جا اور ناجائز
September 14, 2018

(ابنِ نیاز)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آنے والے الیکشن کے تناظر میں پورے ملک میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ انھوں نے کس بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی ہیں۔ اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ تو ای سی پی نے جواب دیا کہ سیاستدان اور حکمران ووٹ لینے کے لیے ہر ادارے میں نئی بھرتیاں اپنی مرضی سے کرتے ہیں جن میں میرٹ کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ بات مان لی ہے اور کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ الیکشن سے پہلے نوکریاں نہ دی جائیں۔ ۔۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ درست ہے کہ من مانیاں بھرتیاں شروع ہو جاتی ہیں ، سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔بھرتی کرنے والوں سے اور ان کے اہل و عیال سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ووٹ انہیں کو دینا ہے۔ اب وہ نوکری لینے والا مجبور ہوتا ہے کہ اپنے علاقے کے کرپٹ ترین بندے کو ووٹ دے اور بقول شخصے ووٹ کو عزت دے، جو کہ سراسر ووٹ کی توہین ہے۔
فیصلہ درست تو ہے لیکن فیصلہ غلط بھی ہے۔ سرکاری نوکری پر صرف اس مرتبہ ہی پابندیاں نہیں لگیں بلکہ ہر سال ہر حکومت نے یہ فریضہ بہ احسن طور سر انجام دیا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود پھر بھی مختلف اداروں میں بھرتیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کیسے؟ سفارش پر۔ کوئی نہ کوئی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایک فون کرتا ہے یا بذاتِ خود شرفِ ملاقات بخشتا ہے اور جاتے ہوئے دو تین عدد کوائف نامے سربراہ کی میز کی نذر کر دیتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں اس کا تقررنامہ اس کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔ اب نوکر کی تے نخرہ کی کے مصداق سربراہ کو اپنی عزت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ کیونکہ منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کی اکثریت کم پڑھی لکھی لیکن زبان کی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اور کام نہ ہونے کی صورت میں ان کی زبان درازیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تو پھر سربراہ کو مجبوراً تقرریاں کرنی پڑتی ہیں۔ درحقیقت پابندیاں لگانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جب جب کسی کو کسی ادارے میں بھرتی کرانا ہو تو وقتی طور پر کسی نہ کسی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر سے این او سی حاصل کرکے کسی ادارے میں ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔
بھرتیوں پر پابندی کا جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور ہوتا چلا آرہا ہے وہ پڑھے لکھوں کی عمر گزرنے کا ہے۔ یونیورسٹی سے جب کم از کم ایم اے یا برابر کی ڈگر لے کے طلباءفارغ التحصیل ہوتے ہیں تو انھیں پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر تو پابندی ہے۔ تو ایسے میں اس کا دل نہیں ٹوٹے گا تو کیا ہو گا۔پھر پابندیاں ایک دو ماہ کے لیے کھلتی ہیں جس میں سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ جب پابندی لگ جاتی ہے اور طویل عرصے کے لیے ہو تو ان کی عمر گزر جاتی ہے۔ جب کسی بھی اسامی کے لیے عمر کی حد مقرر کی جاتی ہے تو پابندیوں کی وجہ سے جب وہ اہل ہوتے ہیں تو نااہل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرکاری ادارے میں پہلے سے ملازم تو ہوتے نہیں کہ انھیں پانچ سات سال کی رعایت مل جایا کرے۔ یوں بیرزوگاری کی شرح میں ہر سال ایک کثیر تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور سونے پہ سہاگہ اکثر افراد ریٹائرڈ ہوتے ہیں، نیچے سے اوپر ترقیاںہوتی ہیں تو نیچے والی اسامیاں بھرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ یوں ادارے کو افراد کی کمی کی وجہ سے کام نپٹانے میں دوشواری پیش آتی ہے ۔
سرکاری اداروں میں تو حکومت بھرتیوں پر پابندی لگا دیتی ہے لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھرتیاں ہو سکتی ہیں۔ یہاں بھی سب سے بڑا مسلہ اقربا پروری یا سفارش کلچر کا موجود ہونا ہے۔ بہت کم قابل اور اہل افراد بھرتی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے اگر پاکستان میں بند کارخانے چلا دیے جائیں۔ اگر حکومت وقت نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے پرانی سڑکوں کی ہی توسیع کر دے تو اخراجات میں کافی بچت ہوگی ۔ وہی بچت بند کارخانوں پر لگائی جائے۔ ان کو سرمایہ فراہم کیا جائے اور ہر کارخانے کو پابند کیا جائے کہ وہ کارخانہ شروع کرتے ہی نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بھرتی کرے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ بیروزگار نوجوان غلط کاموں میں ہاتھ ڈالیں۔ اگر نوجوان دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں، جرائم میں مبتلا ہوتے ہیں ، غلط کام کرتے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ بیروزگاری بھی ہے۔ظاہر ہے جب مصروفیت کے لیے کچھ نہ ہوگا تو پھر نوجوان کیا کرے گا۔ وقت تو گزارنا ہے۔ اوپر سے ہر قسم کے جرم کرنے کے پیسے ملتے ہوں اور اچھے ملتے ہوں تو وہ کیوں جرم کی راہ اختیار نہیںکرے گا۔پاکستان میں ہر قسم کی انڈسٹری موجود ہے اور ان انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے افرادی قوت بھی موجود ہے۔ اگر تجربہ نہیں بھی ہے تو پھر بھی ان کی تعلیم اس قدر ہے اور اس مطلوبہ ملازمت کے مطابق ہے۔ بات صرف ان کی رہنمائی کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر فیکٹری ، انڈسٹری میں سینئر ہوتے ہیں جو نئے بھرتی ہونے والے کو تجربہ کار بناتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں نیا بھرتی ہونے والا چاہے جتنا تجربہ کار بھی ہو، اس ادارے کے طریقہ کار پر چلنے کے لیے اس کو سینیئرز کی رہنمائی کی ضرورت ہر قدم پر پڑتی ہے۔
محترم چیف جسٹس صاحب اس وقت بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ جو کام حکومت کے کرنے کے ہوتے ہیں وہ ان کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ہر مقام پر ان کو کڑھنا پڑ رہا ہے کہ جس ادارے میں بھی جاﺅ ، وہاں پر ہی دھاندلی پائی گئی ہے، بنیادی حقوق کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محترم جج اس مسلے کی طرف بھی توجہ دیں اور بیرزوگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے قانون پر (اگر موجود ہے تو) عمل درآمد کروائیں اور ان کی عمر گزرنے سے پہلے پہلے ان کو روزگار فراہم کروائیں۔ اور اگر کوئی قانون نہیں ہے تو قانون بنوا کر اس پر عمل کروائیں۔ یقین مانئے سر، کہ سب آپ کو اللہ کے آگے جھولی پھیلا کر دعائیں دیں گے۔
******

یکساں نظامِ تعلیم
September 14, 2018

آج کی ایک خبر کے مطابق حکومت نے مدارس اور سکولوں میں یکساں نصابِ تعلیم کی منظوری دی ہے۔ خوش آئند بات ہے۔ لیکن اگر اس کی تفصیل بھی اخبارات میں دی جاتی تو عام عوام کے لیے جن کی رسائی متعلقہ کاغذات تک مشکل بلکہ ناممکن ہوتی ہے ، آسانی ہو جاتی۔ وہ بھی تجزیہ کر سکتے کہ واقعی مناسب نظام وضع کیا گیا ہے یا صرف مدارس کو جدید کرنے کی خاطر ان کا نصاب سکولوں کے برابر کیا گیا ہے۔ خیر جو بھی ہوا، چند دن میں سب کچھ واضح ہو جائے گا ۔ اسی یکساں نظامِ تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے تو یہ کہ پورے ملک میں نظام تعلیم ایک جیسا نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ملک کے بہترین ادیبوں کی خدمات حاصل کی جائیں، خاص طور پر وہ ادیب، جن کا تعلق کسی نہ کسی حد تک تعلیم کے شعبے سے بھی ہو۔ اور وہ بچوں، بڑوں کی نفسیات سے واقف ہوں، ساتھ میں اسلامی تاریخ کا بھی وسیع علم ہو ، اور پاکستان کی تاریخ و تحریک سے بھی کما حقہ واقفیت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ پاکستان سے مخلص شعراء کی خدمات بھی حاصل کی جائیں جو خوبصورت اور جدید شاعری ہمارے نصابِ تعلیم کے لیے ہدیہ کریں۔وہ شاعری جو ہمارے جوانوں میں اقبال کے شعر کو واضح کرے۔۔

                                سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا ، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں نکلیں، یا انقلابات آئے ان کا ہر اول دستہ طالب علم ہوتے تھے۔ وہ طالب علم جو اقبال کا شاہین تھے یا قائد کے پیرو کار۔ اور ان سے بڑھ کر دین اسلام کے پیرو کار اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے جری سپاہی یا حضرت عمر فاروق ؓ عنہ کے عدل کے گواہ اور دل میں بسانے والے۔۔ دنیا کا ہر انقلاب ان طلبا کے عزمِ جواں، اور جذبہ قربانی کا کرشمہ ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کا ولولہِ تازہ اورگرم خون بڑے بڑے عالموں ، سیاست دانوں اور باعمل فلسفیوں کو بھی میدانِ عمل میں لے آیا۔ اور حرّیت و فکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یوں امڈ آیا کہ منزلِ مراد ،ان کے قدموں کو بوسہ دینے پر مجبور ہوگئی۔ چشم فلک گواہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کا ہراوہ دستہ صداقت ، عدالت اور شجاعت کے لباس سے مزیّن طلباءہی تھے۔ جنہوں نے اپنی قربانیاں پیش کرکے خود کو قوم کا راہنما ثابت کیا۔ اور بتادیا کہ :۔

                                ہمار ا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں
ہمیں بھی یاد کر لیناچمن میں جب بہار آئے

بات ہو رہی تھی نظامِ تعلیم کی تو لازم ہے کہ یہ نصاب صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی نافذ نہ ہو بلکہ ساتھ میں جتنے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں ان کو بھی یہ نظامِ تعلیم دیا جائے۔ دونوں سسٹم میں بنیادی فرق تو تعلیم دینے کا طریقہ کار ہے۔ جس کی بنا پر پرائیویٹ تعلیمی ادارے صرف جیبیں اور اکاﺅنٹ بھرنے کے کارخانے بن چکے ہیں۔کہیں ہزاروں میں ایک آدھ تعلیمی ادارہ چاہے سکول ہو، کالج یا یونیورسٹی، تعلیم و تربیت کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لیکن زیادہ تر صرف جیبیں بھر رہے ہیں کبھی ایک بہانے سے، کبھی دوسرے بہانے سے۔ جب سب اداروں میں تعلیم نصاب یکساں ہو گا، تو پھر والدین کے لیے بھی آسانی ہو جائے گی کہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں اپنے بچوں کو داخل کرا دیں۔ ان کے لیے یہ مسلہ نہیں ہو گا کہ کون سا ادارہ بہتر ہے اور کون سا بہترین۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ طریقہ تعلیم کو ضرور دیکھیں گے بجائے نصاب کے۔ اس طرح سرکاری اداروں پر بھی حکومت کی طرف سے جو دباﺅ ہوتا ہے کہ اس سال میں کم از کم اتنے بچے سکول میں داخل ہونے چاہیں، وہ دباﺅ بھی بہت حد تک کم ہو جائے گا۔

پرائیویٹ تعلیمی ادارے یہ کر سکتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ایک آدھ مضمون کا اضافہ کر دیں جو وہ اپنی مرضی سے پڑھا سکیں ساتھ میں غیر نصابی سرگرمیاں (جن میں والدین کی جیب پر ڈاکہ نہ ہو، بلکہ وہ طلباء میں مثبت رجحان پیدا کریں) بھی جاری رکھیں، تو شاید کوئی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ اس بنیاد پر بند نہ کرنا پڑے۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ یکساں نصاب سے ٹیوشن سینٹرز کو تالے لگ سکتے ہیں کیونکہ پھر سکول اور کالجوں میں ہی ہر مضمون کو توجہ سے پڑھایا جائے گا، صرف اس خوف سے کہ اگر یہاں اچھا نہ پڑھایا گیا تو بچہ سکول چھوڑ کر کسی بھی دوسرے سکول میں جا سکتا ہے۔

جس طرح خبر ہے کہ مدارس اور سکولوں کا نصاب ایک جیسا کیا جائے گا، تو یہ ممکن نہیں ۔ کیونکہ مدارس کا بنیادی مقصد دین کی تعلیم دینا ہے۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ کچھ مضامین وہاں اضافہ کر دیے جائیں جن میں کمپیوٹر، معاشیات، ریاضی، اور سائینسی مضامین کا تعارف شامل ہو۔ اور ان کے لیے بھی ایک لیول مقرر کیا جائے کہ اتنے سال پڑھیں گے تو ہشتم، یا دہم کے برابر ہو گا۔ اس طرح مدارس کے طلباءبھی جب چاہیں گے کسی بھی شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اور ان کے لیے کوٹہ نہیں بلکہ عمومی میرٹ میں ان کو شامل رکھا جائے۔تب ہی یکساں نظامِ تعلیم کا کچھ فائدہ ہو گا۔

پورے ملک میں یکساں نصاب کے نفاذ کے ساتھ ساتھ صوبوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی اپنی ثقافت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک آدھ مضمون ہر کلاس میں اضافی رکھیں جس کی وجہ سے طلباء اپنے صوبہ کی ثقافت سے متعارف ہوں۔ اور وہ دور نہ جائیں۔ساتھ ساتھ یہ بھی ہو کہ ایک مضمون زبان کے حوالے سے بھی ہو جس میں پاکستان کی ہر زبان کا تعارف ہو اور ایک ایک صفحہ اس زبان سے متعلق ہو، چاہے وہ نثر ہو یا شاعری۔ کچھ نہ کچھ ہو۔ اس سے ہر طالب علم اس زبان سے متعلق بنیادی باتیں سیکھ سکے گا۔ پھر کم از کم زبانی عصبیت کا خاتمہ ہونا بہت حد تک ممکن ہے۔ کوئی کسی کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ وہ پٹھا ن ہے ، اور وہ پنجابی ہے ، وہ بلوچی۔۔ صوبائی عصبیت کو بھی روکا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر طلباءکا ایک کوٹہ مقرر کیا جائے کہ وہ کسی بھی دوسرے صوبے کے کسی تعلیمی ادارے میں آسانی سے مائیگریشن کرواکے داخلہ لے سکے تو بہت اچھا ہو گا۔ سکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ طلباء کی ایک خاص تعداد اپنی ایک کلاس میں رکھیں گے۔ یہاں دیکھا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں و کالجوں میں ایک ایک کلاس میں ساٹھ ستر اسی بچے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ٹیچر سب بچوں کو کتنی توجہ دے سکے گا؟ کچھ بچے شرارت کریں گے، تو ٹیچر کس کس کو روکے گا؟ اور بھی بہت سے مسائل ہوتے ہیں، جیسے ہوم ورک چیک کرنا، ڈسپلن برقرار رکھنا وغیرہ، جو کہ بچوں کی اتنی زیادہ تعداد میں ہونے کی وجہ سے آسان نہیں ہوتا۔ وقت کا ضیاع سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

حکومت نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے، امید ہے کہ اس پر دل سے اور لگن سے کام کیا جائے گا اور پاکستان کے بچوں اور جوانوں کو مستقبل کا اچھا معمار بنانے میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔

******************