Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

پاکستانیت پر مبنی تحریریں

قائد کا فرمان ۔ اردو سرکاری زبان
September 17, 2017

قائد کا فرمان ۔ اردو سرکاری زبان

قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ۲۱ مارچ ۱۹۴۸ء کو اپنے ایک خطاب میں فرمایا تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی۔ لیکن قسمت سے کون لڑ سکتا ہے سوائے دعا کے ۔ ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ ء کو قائد ہمیں داغِ مفارقت دے گئے۔ تب تک ۱۹۳۷ء انڈیا ایکٹ ضروری ترامیم کے ساتھ پاکستان کا گویا آئین تھا۔ اب قائدِ اعظم کافرمان کوئی قرآنی آیت تو تھی نہیں کہ اُدھر زبان سے نکلی ، اِدھر اس پر عمل ہو گیا۔ اگرچہ ہم پھر بھی نہ کرتے اگر چہ وہ قرآن کا حکم بھی ہوتا کیونکہ اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے مؤمن ہونا ضروری ہے، اور ہم صرف مسلمان ہیں۔ مؤمن اور مسلمان میں فرق صرف اتنا ہے کہ مؤمن اللہ کی مانتا ہے اور مسلمان اللہ کو مانتا ہے۔یہ تو ایک ثانوی بات بیچ میں آگئی۔ بات ہو رہی تھی قائد کے فرمان کی۔ تو ہوا یوں کہ پھر ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو قراردادِ مقاصد کی منظوری دی گئی لیکن اردو کے سرکاری طور پر نفاذ کا ذکر کہیں نہیں تھا۔ اس کے بعد ۱۹۵۶ ء کا آئین، پھر ۱۹۶۳ ء آئین۔ بے شک اردو کے ساتھ بنگالی کو بھی سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا، لیکن ہنوز کام کاج سب کے سب انگریزی میں ہی سرزد ہو رہے تھے۔کیونکہ حکمرانی ، اصل حکمرانی ان لوگوں کی تھی جو انگریزوں سے زمین، جائیداد ، جاگیر بطورِ انعام یا بطورِ خلعتِ فاخرہ حاصل کر چکے تھے، یا پھر انڈین سول سروسز کے پروردہ تھے۔ تو وہ کیسے اپنے زمینی آقا کی شان میں گستاخی کر سکتے تھے۔
وقت گاگزرتا گیا۔ ۱۹۷۳ء کا آئین منظور ہوا۔ اس میں ایک شق رکھی گئی، شق نمبر ۲۵۱۔ کہ پندرہ سال کے اندر اندر اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گااور اسکے لیے متعلقہ انتظامات کیے جائیں گے ۔ لیکن آئین کی بالادستی کو کوئی تسلیم کرے تو بات بنے۔ اردو کو سرکاری زبان بننا تھا نہ بنی۔۱۹۸۸ ء میں پندرہ سال پورنے ہونے تھے جو آج تک نہ ہو سکے۔ اگر تب سے اردو پاکستان کی سرکاری زبان ہوتی تو اوکاڑہ کے نواحی گاؤں نہرانوالی کا رہنے والا نوجوان نوید آصف جس نے لاہور بورڈ میں دسویں کے امتحان میں ۹۱۹ نمبر حاصل کرکے دوسری پوزیشن لی، اپنا میڈل وصول کرنے سے پہلے یا بعد میں ہال میں موجود کرسیوں کے درمیان خالی سیڑھیوں پر ہرگز نہ بیٹھتا بلکہ وہ بھی فخر سے کسی کرسی پر کسی آکسفورڈ کے حمایت یافتہ سکول سے پڑھے ہوئے طالب علم کے ساتھ بیٹھا اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا ہوتا۔اور کیا ممکن تھا کہ اگلے دس سال بعد وہ اسی اوکاڑہ ضلع کا اسسٹنٹ کمشنر ہو۔
جی جناب عالی! یہ عین ممکن ہے کہ اگر اس پاک وطن میں اردو اسکی روح کے مطابق نافذ ہوجاتی ہے تو شاید ہی کوئی آکسفورڈ، کیمبرج میں پڑھنے والا نوجوان پاکستان کے کسی بھی گورنمنٹ سکول میں پڑھنے والے سے آگے نکل سکے۔ہمارے اس اردو پڑھنے والے نوجوان کے پاس علم ہے،حالات وواقعات سے مکمل آگاہی رکھتا ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے پوری واقفیت ہوتی ہے۔دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کہاں کونسی ایجاد کس کے خلاف یا حق میں ہو رہی ہے، کس ملک کی سیاست کس کروٹ بیٹھ رہی ہے۔ کونسا ملک اپنی خارجہ یا داخلہ پالیسی بدلتے وقت کے مطابق تبدیل کر رہا ہے۔ یہ سب ہمارے اس اردو میڈیم میں پڑھنے والے نوجوان کے دل و دماغ میں بھرپور جزئیات کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے۔ لیکن ہائے رے موئی انگریزی کی وجہ سے وہ مقابلہ کے امتحان میں شریک نہیں ہو سکتا۔ وہ جیسے تیسے کر کے چودھویں یا سولہویں تو کر لیتا ہے لیکن انگریزی میں اتنا لائق نہیں ہوتا کہ اپنا مافی الضمیر فر فر بیان کر سکے۔ آپ اردو نافذ کریں اور پھر پاکستان کے جوانوں کی کریم کو آگے بڑھتا دیکھیں۔ ان کے آگے آنے کی وجہ سے پھر پاکستان کو بھی ترقی کرتا دیکھیں۔
مذہب کے بعد یہ زبان ہی ہوتی ہے جو کسی وطن کے افراد کو یکجا کرتی ہے۔ان میں اتحاد و یگانگت پیدا کرتی ہے۔ مذہب کی بنیاد پر تو تمام انسانیت یکجا ہوتی ہے لیکن ایک ملک میں زبان یہ کام بہ احسن طور پر سر انجام دیتی ہے۔ دنیا کے دوسو پچاس کے قریب ممالک میں سے تقریباً ایک سو بیالیس ممالک کی قومی زبان ہی انکی سرکاری زبان ہے۔ ان ممالک کو اپنے کے کسی حصے میں بھی سرکاری خط و کتابت کی ترجمہ کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ کیونکہ ہر فرد چاہے وہ اپنے دارالحکومت سے ہزاروں میل دور ہے ، بہ آسانی سمجھ لیتا ہے۔پاکستان و اسلام دشمن ملک اسرائیل کو جب آباد کیا گیا تو وہ بھی مذہب کی بنیاد پر آباد ہوا۔ لیکن مکین چونکہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے تھے، تو ان کی زبان بھی مختلف تھی۔وہاں آپس میں رابطے کا مسلہ پیدا ہو گیا۔ اسکا حل انھوں نے یہ نکالا کہ عبرانی زبان کو اسرائیل کی سرکاری و قومی زبان قرار دیا گیا۔ اور صدیوں بعد اسرائیل کو اسکی زبان واپس ملی۔ شاید تاریخ میں بھی یہ پہلی بار ہوا کہ والدین نے ، بزرگوں نے اپنے بچوں سے عبرانی زبان سیکھی کہ بچوں کو سکول کی سطح سے عبرانی پڑھائی جانے لگی۔ ہم اردو کیوں نہیں لکھ اور پڑھ سکتے، سرکاری طور پر؟
اکثر ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان میں طلباء اپنی تعلیم کو ادھورا کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ جسکا جواب زیادہ تر یہی دیا جاتا ہے کہ غربت کی وجہ سے۔ لیکن یہ جواب درست نہیں ہے۔ ورلڈ بینک کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے بیالیس فیصدطلباء انگریزی کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بعد تیس فیصدغربت اور اٹھارہ فیصد مناسب طور پر رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے۔ چاہے وہ تعلیم کی کوئی بھی سطح ہو۔ پرائمری، دسویں یا کالج کی سطح پر۔ مجھے غالب یقین ہے کہ ذریعہ تعلیم اردو ہونے کی وجہ سے ایک تو یہ تعلیم درمیان میں چھوڑ دینا بہت کم ہو جائے گا ۔ کم از کم وہ بیالیس فیصد تعداد تو نہیں چھوڑے گی۔ دوسرا پاکستان میں خواندگی کا تناسب چھپن فیصد ہے ، جس میں اردو میں پڑھنے والے شامل ہیں، کم از کم بھی آرام سے ۷۵ فیصد سے بڑھ جائے گا۔
اردو کے نفاذ سے کسی کو بھی کوئی مسلہ نہیں ہو گا۔ بلکہ وہ لوگ جو انگریزی میں بات کرنا فخر سمجھتے ہیں، اردو کی ٹانگیں توڑنا اپنا غرور جانتے ہیں، وہ اس بات پر بھی فخر کریں گے کہ پاکستان بھی گونگا نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہو گی کہ پارلیمنٹ میں موجود ہمارے نمائندے جنکی اکثریت صرف اردو ہی پڑھنا لکھنا جانتی ہے، کسی نہ کسی مقام پر ان کو مجبوراً انگریزی میں بات کرنا پڑ جاتی ہے تو انکے لیے بہت مشکل پیش آتی ہے، وہ بھی بہ آسانی اپنا مدعا بیان کر سکیں گے۔ بلکہ بہت ہی بہتر طور پر مخالف کو دباؤ میں لے سکیں گے۔ بشرطیکہ وہ بھی پاکستانی نہ ہو۔ امریکہ سے مذاکرات ہورہے ہیں، روس سے بات چیت ہو رہی ہے، یا چین سے باہمی تعاون کے مذاکرات ہوں، بہت بہترین طریقے سے اور بھرپور اعتماد سے اپنا کیس پیش کر سکیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔

ہمیں انصاف چاہیے۔۔
September 17, 2017

ہمیں انصاف چاہیے۔۔

قرطبہ کے قاضی یحییٰ بن منصور کے انصاف کا واقعہ شاید ہر پڑھے لکھے باشعور پاکستانی نے پڑھا ہو گا، سنا ہو گا۔ جب اس کے بیٹے سے قتل کا ایک جرم سرزد ہو گیا۔ کہاں کہاں سے سفارشیں نہیں آئیں۔ اس عورت نے ان کی منتیں کیں جس نے ان کے بیٹے کو پالا تھا۔ پورے کا پورا شہر اس حق میں بالکل نہیں تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ پھر اس لڑکے کے دیگر ساتھی پورے شہر کو خون میں نہلا دیتے۔ گلیوں کی گلیاں اجاڑ دیتے۔ نہیں، بلکہ اس لیے کہ پورا شہر سمجھتا تھا کہ زبیر نے یہ قتل برابر کی لڑائی میں کیا تھا۔ لیکن قاضی صاحب ہر گز نہ مانے۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو موت کی سزا سنائی۔ پورے شہر میں ان کے بیٹے زبیر کو پھانسی دینے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں۔قاضی نے فتویٰ تو دے دیا تھا، لیکن اس پر عمل کون کرے، یہ کسی کو بھی گوارا نہ تھا۔ اگرچہ پھانسی کے وقت تمام شہر مرکزی چوک میں کھڑا تھا۔ لیکن کوئی بھی قدم آگے نہیں بڑھا پا رہا تھا۔ جب قاضی ایک سرکاری افسر کو کہتا ہے تو افسر کہتا ہے ان کے بیٹے کو پھانسی دینے سے پہلے وہ خود سولی پر کیوں نہ چڑھ جائے۔جب وقت قریب پہنچا اور کوئی بھی تیار نہ ہوا تو قاضی یحییٰ بن منصور خود آگے بڑھے اور اپنے بیٹے کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔

دوسری طرف ہمارے اس پیارے وطن میں ایک سولہ سالہ طالب علم کو ایک بڑے آدمی کی گاڑی ٹکر مار جاتی ہے۔ دسیوں گواہ بھی ہوتے ہیں۔ اور باقاعدہ پولیس کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ ان کی آنکھوں کے سامنے اس بدمست نے اپنے گارڈ کے ساتھ مل کر زین نامی طالب علم پر فائرنگ کی تھی۔ کمال کی بات ہے، جب کیس عدالت میں پہنچا تو کیس پوری طرح تیار تھا۔پولیس نے کیس کو بہت مضبوط بنایا ہوا تھا۔ گواہوں کے بیانات ساتھ لف تھے۔ یہاں تک کہ مجرم کا کہنا تھا کہ پولیس لواحقین کے ساتھ مل کر اسے اور اس کے گارڈ کو اس کیس میں ناحق پھنسا رہی تھی۔ پھر دیر کسی بات کی ہوئی۔دس ماہ تک جب مقدمہ چلتا رہے، اور گواہان کو ہر بار گواہی کے لیے بلایا جائے، جب کہ وہ صرف گواہی دینے کی وجہ سے اپنے ضروری کام کاج بھی نہ سر انجام دے سکیں تو پھر کون گواہی کے لیے تیار ہو گا۔ اس کے بعد جب ان میں سے بھی کچھ گواہ آخر تک ساتھ نبھانے کی خاطر بھرپور تیاری میں ہوتے ہیں تو اچانک ساری کایا پلٹ جاتی ہے۔گواہان مکر جاتے ہیں۔ پولیس کاغذات میں کہانی ہی بدل جاتی ہے۔ اور ملزم بلکہ مجرم بری ہو جاتا ہے۔ مجرم نے ہر سطح پر اپنے جرم سے انکار کیا۔ اس کے مطابق زین ان کی فائرنگ سے ہر گز نہیں مارا گیا۔ اگر مجرم کی یہ بات درست مان لی جائے تو پھر فرانزک لیبارٹری کی اس رپورٹ کا کیا کریں گے جس میں گارڈ کی شرٹ پر لگے خون کے داغ کا گروپ زین کے گروپ سے میچ کر گیا۔گاڑی میں لگے خون کے داغ بھی زین ہی کے تھے۔اصولی طور پر تو یہ ایک ہی ثبوت کافی تھا۔ جب گواہوں نے پہلی بار گواہی دی تو وہ گواہی کافی ہو جانی چاہیے تھی۔ لیکن ستم بالائے ستم، ہمارے ملک کا قانون ہے تو بہت مضبوط، لیکن ایک معمولی ، انتہائی معمولی نقطے کو پکڑ کر مخالف وکیل پورے کیس کی دھجیاں اڑا لیتا ہے۔ ادھر بھی یہی ہوا۔ عدالت تو مکمل ثبوت مانگتی ہے، جب ثبوت نامکمل تھے، تو ملزم بری ہو گیا۔آج اس کی ماں کہتی ہے کہ اس نے مجرم کو معاف ہر گز نہیں کیا، لیکن قانونی داؤ پیچ کے سامنے وہ ہار گئی ہے۔

ویڈیو ثبوت ہمارے سامنے ہے۔ جب ایک مشہور ماڈل ایئرپورٹ پراپنے ایک ساتھی کے ساتھ، جس کو ملک کے ایک سابق صدر کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے پانچ لاکھ امریکی ڈالر ملک سے باہر لے جاتے ہوئے گرفتار کی گئی۔ جس کسٹم انسپکٹر نے گرفتار کیا، اس نے بہت سے ثبوت پیش کیے۔ جب گواہی دینے کی باری آئی تو شہنشاہ کی طرح اسے بھی دنیا سے رخصت کر دیا گیا۔ چودہ مارچ کو گرفتار ہونے سے لیکر چودہ جولائی ۲۰۱۵ کے چار ماہ تک مختلف حوالوں سے بقول ماڈل کے اس کو تنگ کیا جاتا رہا۔ اس پر مختلف قسم کے دباؤ ڈالے جاتے رہے کہ وہ اپنے جرم کو مان لے۔ اس جرم کو جو اس نے کیا ہی نہیں۔ چار ماہ تک اسے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ کیا پاکستانی پولیس یا قانون اتنا ہی اندھا تھا کہ ایک خاتون کو بنا کسی وجہ کے ساری دنیا کے سامنے جیل میں ڈال رکھا ہے اور اس کا قصور ہی کوئی نہیں۔ ماڈل صاحبہ کا کہنا تھا کہ اس پر جیل میں بہت دباؤ ڈالا گیا۔ مختلف حیلے بہانوں سے انجان لوگ اس سے ملنے کے بہانے آتے رہے اور اس کو اپنا جرم ماننے کا کہتے رہے۔ اس کو کال کوٹھڑی میں بھی رکھا گیا۔ کیا یہ سچ ہے؟ جب کہ ہم نے میڈیا پر دیکھا، اخبارات میں پڑھا کہ اس کو تو وہاں پر نیٹ کی ، موبائل کی، میک اپ تک کی سہولت موجود تھی۔ کیا سب نہیں دیکھتے تھے کہ وہ جب عدالت میں پیشی پر جاتی تھی تو کس قدر تر و تازہ نظر آتی تھی۔ ہاتھ میں اس کے موبائل ہوتا تھا اور کسی نہ کسی سے باتیں کرتی ہوئی جاتی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ سادہ سا لباس پہن کر عدالت جاتی، اس کا لباس اس وقت بھی اگر لاکھوں روپے کی مالیت کا نہ سہی تو پچاس ساٹھ ہزار سے کیا کم ہو گا۔ باالآخر ضمانت پر اس کو رہا کر دیا گیا۔ شروع میں اسکا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ لیکن پھر کیاہوا؟ شاید میرے جیسا میڈیا اخبارا ت سے دور رہنے والے کو کچھ بھی نہیں معلوم۔

حضرت عمر فاروق ؓ کا بیٹا شراب پینے کے جرم میں گرفتار ہوا۔ اس پر حد جاری ہوئی۔ خلیفہ وقت نے خود اپنے ہاتھوں سے اس پر کوڑے برسائے۔ کوڑے مارنے کے دوران ہی بیٹے کی روح نکل گئی، لیکن انصاف کا تقاضا پورا کرنا تھا۔ انھوں نے اس کی نعش پر کوڑوں کی تعداد پوری کی۔ جب تک وہ خلیفہ تھے، تب تک ان کے ہاتھ نہیں کانپے۔ جب بیٹے کی نعش گھر لائی گئی، یہ گھر پہنچے تو بیٹے کی نعش کے قریب بیٹھ کر آنسو بہانے لگے۔ پوچھا گیا کہ یہ کیا؟ اس وقت تو چہرہ پتھر کی طرح سخت تھا اور اب یہ حالت کیوں؟ فرمایا، تب میں اﷲ کے حکم کی پاسداری کر رہا تھا۔ اگر میرے ہاتھ بھی لرز جاتے حکمِ خدا کی تکمیل میں تو میدانِ حشر میں خدا کو کیا کیا جواب دیتا۔ اب میں بحیثیت باپ کیا اتنا بھی اختیار نہیں رکھتا کہ افسوس کا اظہار بھی نہ کر سکوں؟ انہی خلیفہ کے دور میں حضرت عمروبن العاص ؓ کے بیٹے نے ایک شخص پر اس وقت ظلم کیا جب حضرت ابن العاص ؓ گورنر تھے۔ وہ شخص شکایت لے کرخلیفہ کے دربار میں پہنچا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے دونوں باپ بیٹے کو مدینہ بلایا۔ پہلے اس شخص کو اس بیٹے سے بدلہ لینے کو کہا جس کا باپ گورنر تھا۔ جب بدلہ ہو چکا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے مشہور جملہ ارشاد فرمایا : ـ” اے عمرو! تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا، جب کہ ان کی ماؤں نے ا نکو آزاد جنا تھا۔” کیا آج کے دور میں کوئی ایسا ہو سکتا ہے جو بنا دیکھے کہ جرم کرنے والا کون ہے، صرف ایک مضبوط ثبوت کی بنا پر مجرم کو شہر کے مرکزی چوک میں پھانسی پر لٹکائے۔ ہے کوئی ایسا انصاف کرنے والا!

نہیں ہر گز نہیں! جب تک مدعی کے مقدمے کو اسکے پوتوں تک نہ پہنچایا جائے گا، تب تک وہ مقدمہ کیسے کہلائے گا۔جب تک گواہوں کو دھمکایا نہ جائے گا، مقدمے کے کاغذات کو ردی میں ڈال کر انگاروں میں سرخا نہ جائے گا، وہ مقدمہ کیسے کہلائے گا۔ اگر پاکستان میں مقدموں کا فیصلہ دنوں اور ہفتوں میں ہونے لگے تو پھر وکیلوں کا گھر کیسے چلے گا؟ اگر یہ وکیل وقت پر عدالت پہنچیں، اپنے مؤکل کو بر وقت حاضری کا کہیں، لفظوں سے کھیلنے کی بجائے سیدھا سیدھا مقدمہ پیش کریں۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ جج کو فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش آئے۔ یاد نہیں کونسا ملک ہے، امریکہ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی یا کوئی اور۔ ایک واقعہ یادآگیا۔ ایک لڑکی کی جب اس کی عمر بارہ تیرہ سال کی تھی، عزت لوٹی گئی۔ اس کو اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی کہ اسکے کیا کرنا چاہیے۔ بعد میں بارہ سال بعد جب اس کی شادی ہوئی۔ اس نے اپنے شوہر سے ذکر کیا ۔ یہ اگر پاکستانی معاشرہ ہوتا تو شوہر نے اس کو طلاق دینے کی بجائے گولی سے اڑا دینا تھا۔ جب کہ اس غیر مسلم شوہر نے اس کو تسلی دی کہ جو ہو گیا ہوگیا، انکی زندگی میں اس بات کی بنیاد پر کوئی مسلہ نہیں ہو گا۔ پھر وہ شوہر اپنی بیوی کو عدالت لے گیا۔ بارہ سال پہلے والے حادثے کا ذکر کرتے ہوئے انصاف حاصل کرنے کی خاطر مقدمہ دائر کر دیا۔اگر پاکستان یا ہندوستان ہوتا تو ہمارا قانون ٹائم بار (یعنی بہت وقت گزر چکا ہے، سارے ثبوت مٹ چکے ہیں )کہہ کر کبھی بھی مقدمہ درج نہ کرتا۔ خیر وہاں مقدمہ درج ہوا۔ لڑکی کے ٹیسٹ کیے گئے۔ حیران کن بات ہے کہ بارہ سال پرانے ڈی این کے ٹیسٹ بھی ہوئے۔ جس شخص نے اس کی عزت لوٹی تھی چونکہ لڑکی نے اس کا نام اور پتہ تک دیا تھا، اس کو لایا گیا۔ اس کا ٹیسٹ بھی کیا گیا۔ لڑکی کی غیر موجودگی میں اس سے پوچھا گیا، تو تھوڑی سی تفتیش کے بعد وہ مان گیا کہ اس نے یہ غلطی کی تھی۔ کیا فیصلہ ہوا؟ وہ لڑکی جیت گئی۔بارہ سال بعد اس کو انصاف ملا۔ اس شخص کو سزا ہوئی ۔ جتنی بھی ہوئی وہ اس ملک کے قانون کے مطابق تھی۔ مقدمہ دائر کرنے سے لے کر فیصلہ ہونے تک صرف دو ہفتے لگے۔

پاکستان میں ہمیں حضرت عمر فاروق ؓ جیسے حکمران کی ضرورت ہے۔ ہمیں یحییٰ بن منصور جیسے قاضی کی ضرورت ہے۔ اور ضرورت ہے تو ایسے نظام کی جو ہر پست کو بالا کر دے۔ اور وہ نظام ہے صرف اسلام کا نظام۔ جو اس کو قائم کرے گا، چاہے وہ جناب نواز شریف صاحب ہوں، یا کوئی اور، اﷲ کے دربار میں موجود اٹھارہ کروڑ پاکستانی اس کے حق میں گواہی دیں گے۔ وہ گواہی دیں گے کہ اس شخص نے اﷲ کے دیے ہوئے پیارے پاکستان میں اس وقت اے اﷲ،آپ کے دین پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا تھا، جب ہر سو ، چار سو افرا تفری، بے امنی، دہشتگردی، بے حیائی، اپنے پورے عروج پر تھی۔ تب اس آپ کے بندے نے ہمیں صراطِ مستقیم پر عمل کرنے کا حکم دیا۔ خود بھی اس راہ کا مسافر ہوا، اور ہمیں بھی اپنی اقتداء میں چلنے کا حکم دیا۔ اے اﷲ اس کی مغفرت کیجئے۔ سوچئے کون یہ کامیابی نہ حاصل کرنا چاہے گا؟ ضرور سوچیے۔

January 6, 2016

ہم پاکستانی ہیں، حکم کریں، وہ تابعدار ہیں
September 17, 2017

ہم پاکستانی ہیں، حکم کریں، وہ تابعدار ہیں

پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ میں اگر کوئی سپاہی بھی بھرتی کیا جاتا ہے تو کئی ماہ تک اس کی تصدیق کا عمل جاری رہتا ہے جو فوج کے اندر موجود ایک خفیہ ادارہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس سے اْس شخص کے کردار کی تصدیق کرائی جاتی ہے اگر اْس سپاہی کے اوپر اْس کی گزشتہ زندگی میں کوئی جعلی ایف آئی آر بھی موجود ہو تو اْس کو پاکستان کی دفاعی افواج میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔ پھر جب وہ سپاہی اپنی ٹریننگ مکمل کر کے اپنی متعلقہ یونٹ میں جاتا ہے تو وہ یونٹ اْس کی تعلیمی ڈگری کو اْس کے متعلقہ تعلیمی بورڈ کو تصدیق کے لیے بھجواتی ہے۔

اگراس کی ڈگری جعلی ثاپت ہو جائے تو اْس کو اسی وقت فوج سے فارغ کر کے گھر بھیج دیا جاتا۔ اس کے علاوہ دہری شہریت کا حامل کوئی شخص تو فوج میں شامل ہونے کا اہل ہی نہیں ہے۔یہ طریقہ کار ہے فوج میں بھرتی ہونے والے محض ایک سپاہی کے کردار کی تصدیق کا۔ ایک افسر کی فوج میں بھرتی اور اْس کے کردار کی تصدیق اس سے بھی زیادہ سخت مرحلہ ہوتا ہے۔ اور پھر نوکری کے دوران بھی افسران اور جوانوں پر فوج میں موجود کئی ادارے نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کے نظم و ضبط اور وفاداری پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے۔

Interesting Facts About Pakistani Politicians

Interesting Facts About Pakistani Politicians

اس کی نسبت اب ہمارے اوپر مسلط کیے گئے ان لٹیرے سیاستدانوں کے کردار پر ذرا نگاہ ڈالیں، تو ان کی زندگی بے شمار ایسے جرائم سے بھری ہوتی ہے کہ ان کی حیثیت فوج میں ایک سپاہی بھرتی ہونے لائق بھی نہیں ہوتی۔ انہوں نے جیلیں بھی کاٹی ہوتی ہیں، ان پر کرپشن کے مقدمات بھی ہوتے ہیں، انہوں نے دہری شہریت بھی رکھی ہوتی ہے، انہوں نے رشوت دے کر جعلی ڈگریاں بھی حاصل کی ہوتی ہیں۔ آپ خود سوچیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی کام اگر فوج کے کسی سپاہی پر ثابت ہو جائے تو اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

جب کہ ہمارے اس پاکستان میں کیا جنگل کا قانون نافذ ہے کہ ان سارے جرائم میں ملوث یہ سیاستدان الیکشن کمیشن سے خود کو صادق اور امین ثابت کر کے، عدالتوں سے جعلی ڈگری اور دہری شہریت ثابت ہونے کے باوجود با عزت بری ہو کے، اپنی اوپر کرپشن اور دھاندلی کے الزامات سے دھل کر، پاکستان میں وزیر اور مشیر اور صدر کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیںـــ جی ہاں، صدر، جو کہ پاکستان کی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے، انہی مسلح افواج کا سپریم کمانڈر، جن میں اس صدر جیسے کردار کے حامل شخص کو سپاہی بھی بھرتی نہیں کیا جا سکتا۔۔۔

اور پھر یہی “صادق اور امین” سیاستدان، اور بریف کیس پر بِکنے والے جج، اور دو دو ٹکے کے “ابنِ وارث میر” صحافی، اور خود ساختہ تجزیہ کار، اور بھارت نواز وزیراعظم یہ سب کے سب مل کر ایک فوجی جرنیل پر “غداری” کا مقدمہ چلاتے ہیں۔ جس کا جرم یہ تھا کہ اس نے جہاز کو ہائی جیک ہوتے دیکھ کر ایک اٹھائیس فیصد ووٹوں میں سے بیس فیصد ووٹ حاصل کرکے بننے والی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ یا پھر لال مسجد سے بڑھتی دہشت گردی کا خاتمہ کیا تھا۔بے شک بچیوں کو مارا گیا، طلباء کو مارا گیا، یہ ظلم ضرور ہوا۔ لیکن آج پھر دیکھ لیں، جن مولانا صاحب کو چھوڑا گیا، وہ پھر حکومت کی رٹ کو للکا رہے ہیں۔ آخر کچھ تو ہے ان کے پاس، کوئی تو ہے ان کی پشت پر جن کی شہہ لے کر وہ نعرے لگا رہے ہیں۔کیا یہی ہمیں اسلام سکھاتا ہے۔

Zain Murder Case

Zain Murder Case

جو کچھ اوپر ذکر ہوا، ایسا صرف پاکستان میں ہی ہورہا ہے. یہ سب کفر نظام جمہوریت اور دجالی میڈیا ہی کی بدولت ہے۔ ان سیاستدانوں میں وہ بھی شامل ہیں جنھوں نے غریبوں کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کیاہوتا ہے۔ وہ بھی شامل ہیں جنھوں نے عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہوئے انہیں موت کے گھاٹ اتارا ہوتا ہے۔ وہ بھی ہیں جن کے بچوں نے خود کو خدائی فوجدارسمجھتے ہوئے اپنے باپ کی کرسی کا ناجائز کیا، ہر فائدہ اٹھاتے ہوئے غریبوں کو مسل کے رکھ دیا ہوتا ہے۔ زین قتل کیس کی مثال سامنے ہے۔جو گواہ تھے وہ مکر گئے کہ ان کو ڈرایا گیا، دھمکایا گیا۔ اور وہ ڈر بھی گئے اور دھمکی میں بھی آگئے کہ انہیں بھی اپنی زندگی عزیز تھی یہاں تو وہ بھی شامل ہیں جنھوں نے عدالت میں خود حامی بھری کہ انھوں نے یہ جرم کیا ہے لیکن کوئی بھی کسی قسم کا ثبوت پیش نہیں کر سکتا۔جب ایک ملزم خود حامی بھر رہا ہے تو کیا پھر بھی کسی ثبوت کی ضرورت رہ جاتی ہے؟

کہتے ہیں کہ چین کے کسی وزیر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ واپسی پر جب وہ چین گیا تو میڈیا کے نمائندوں کے ایک سوال کا کہ انھوں نے پاکستان کو کیسا پایا ، جواب دیا کہ جو صورتحال پاکستان کی ہے، جس طرح اسے باہر سے بھی اور اندر سے بھی کھایا جا رہا ہے، اگر یہ صورت حال چین کی ہو جائے تو چین پانچ سے دس سالوں کے اندر اندر دنیا کے نقشے سے غائب ہو جائے۔ وہ حیران ہیں کہ پاکستان کس طرح ١٩٤٧ سے قائم و دائم ہے۔ اس کی اس بات کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ اس پاکستان پر اللہ پاک کی خاص الخاص رحمت ہے۔ پہلے دن سے جب سے ایک قادیانی اس ملک کا وزیرِ خارجہ بنا، تب سے آج تک جب اس وطن پر حکمرانی کرنا اپنا مادر پدر حق سمجھا جاتا ہے، یہ پیارا دیس اللہ کے آسرے پر چل رہا ہے۔

Quaid-e-Azam

Quaid-e-Azam

کیا کیا سازشیں اس کے خلاف نہیں ہوئیں، کہاں کہاں اس کو مات نہیں دی گئی، چاہے وہ شملہ معائدہ ہو، یا معائدہ تاشقند یا وہ میثاقِ جمہوریت ہو، ہر جگہ ان سیاستدانوں نے اپنا ہی سوچا۔ اللہ کے دوستوں نے جنھیں قرآن میں ولی اللہ کہہ کر پکارا گیا ہے، بار بار اور کئی بار وقت کے حکمرانوں کو پیغامات پہنچائے کہ فلاں کام نہ کیا جائے، فلاں بات نہ کی جائے۔ لیکن افسوس، صد افسوس ہم نے ان کی بات نہ مانی۔ قائدِ اعظم کے مخالف ترین محترم شبیر احمد عثمانی نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگے کہ رات کو خواب دیکھا کہ رسولِ پاک ۖ قائدِ اعظم کے کندھے پر ہاتھ مبارک رکھ کر کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ میرا مجاہد ہے۔

مولانا حسرت موہانی ٩١٤٦ء کے انتخابات کے لیے ہندوستان بھر کا دورہ کر رہے تھے۔ریل کے سفر میں ایک صاحب پیر محمد علی راشدی صاحب ملے اور کہا کہ اس دورے سے کیا ملے گا۔کیونکہ کانگریس اور انگریز دونوں پاکستان کے مخالف ہیں۔ تو مولانا نے جواب دیا کہ پاکستان ان شاء اللہ بن کر رہے گا کہ انہیں خواب میں رسول پاک ۖ کی زیارت ہوئی اور آپ ۖ نے مولانا کو قیام پاکستان کی بشارت دی۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسول پاک ۖ جب خود ایک عظیم بزرگ کو پاکستان کی بشارت دے رہے ہیں تو پھر پاکستان کو دنیا کی کوئی طاقت بھی ان شاء اللہ مٹا نہیں سکتی۔وہ وقت دور نہیں جب اس پیارے وطن پر ایسے حکمران آئیں گے جو اسلام کا بول بالا کریں گے۔ یہاں سے ہی دجالی نظام کے خلاف سارا منصوبہ بنے گا۔ دجال اور اسکا سارے نظام کو تہہ تیغ کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ وہ وقت ہر گز دور نہیں جب ہم فخر سے کہہ سکیں گے ہم پاکستانی ہیں اور دنیا کہے گی کہ حکم کریں، وہ تابعدار ہیں۔

November 23, 2015

پاکستان کا آئین اور رقص و موسیقی کی تعلیم
September 17, 2017

پاکستان کا آئین اور رقص و موسیقی کی تعلیم

پاکستان کے آئین میں جو پہلی بات درج ہے وہ اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے بارے میں ہے اور اسی حاکمیت کے نتیجے میں جو اختیارات عوام کو تفویض کیے گئے ہیں وہ ان کوامانت سمجھ کر اسی طرح استعمال کرے گا جیسے استعمال کرنے کا حق ہے۔اس کے بعد کہا گیا ہے کہ جمہوریت ، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی عدل کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔یہ دو جملے پاکستان کے آئین کے تمہید سے اٹھائے گئے ہیں۔ جو کو پورے آئین کی بنیاد ہیں۔ چونکہ پاکستان بے شک بنایا تو اسلام کے نام پر تھا، لیکن یہاں ہر بات کو اسلام سے قطعہ نظر کرکے پاکستان کے آئین کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جس طرح قادیانوں کو غیر مسلم ثابت کرنے کرکے پاکستان کے آئین میں ترمیم کی گئی تھی جب کہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ اسلام کی تعلیمات سے واضح ہے جس نے اللہ کے آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺکو اللہ کا آخری نبی نہ مانا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ فیصلہ آج کا نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے دور کا ہے۔ لیکن قادیانی چونکہ اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں اسلیے ان کے لیے ایک قانون بنانا پڑا۔
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کے علم میں بات آئی کے سندھ کے تعلیمی محکمہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں سکولوں میں رقص و سرور کی محفلوں پر پابندی لگائی گئی ہے۔شاہ صاحب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اس حکم نامہ کو کالعدم قرار دیا اور کہا کہ رقص و سرور کی محافل (انھوں نے تو رقص اور موسیقی کے الفاظ استعمال کیے ہیں) پر کوئی پابندی نہیں۔ بلکہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ اسلام میں بھی اس کی کوئی ممانعت نہیں۔ مجھے ہی کیا، ہر ذی شعور شخص کو یہ پڑھ کر ، سن کر افسوس ہوا۔ کہنے کو تو وزیرِ اعلیٰ صاحب سید زادے ہیں (ان کے نام کے ساتھ شاہ لگا ہوا ہے اسلیے کہا) لیکن انھوں نے یہ بات کرکے اپنے ہی جد امجد رسول اللہ ﷺ کو ناراض کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے مبارک کانوں میں بانسری کی آواز پڑتی تھی تو وہ اپنے مبارک کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے کہ اس کی آواز ان تک نہ پہنچے۔تاریخ میں آتا ہے کہ بانسری شیطان نے خود ایجاد کی۔تو جب ہمارے آقا ﷺ ایک بانسری کی آواز سے اپنے آپ کو دور رکھتے تھے تو پھر موسیقی کہاں سے جائز ہو گئی؟ پھر شاہ صاحب نے کہا کہ اس طرح کی پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے کہ انسانی بنیادی حقوق کو غصب کیا جارہا ہے تواس کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ بات کرکے شاہ صاحب نے ہی آئین کی خلاف ورزی کی ہے تو کیا غلط بات ہو گی؟ جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا کہ آئین کے تمہید میں ہی اللہ کی حاکمیت کو اولیت دی گئی ہے۔ پھر ملک میں قانون اس طرح بنائے جائیں گے جو شریعت سے متصادم نہیں ہوں گے۔ جمہوریت ، آزادی، مساوات، رواداری اور معاشرتی عدل کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا۔ اب اس جملے کو دیکھا جائے تو مساوات اور آزادی کی بات آگئی ہے ۔ تو آزادی تو وہ ہوگی جو اسلام کی تعلیمات کے اندرہو گی۔ نہ کہ انسان کے انسان کے اپنے انتخاب کی بات ہو گی۔
ہم نے اپنی زندگی جس طرح بھی گزارنی ہے، جو سانس بھی لینا ہے ، اٹھنا بیٹھنا ہے، ملنا ملانا ہے، جو کچھ بھی کرنا ہے سب کچھ اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہو گا۔ اگر تو ہمارا کسی مقام پر سانس لینا قرآن و سنہ کے متضاد ہے تو ہمیں وہاں سانس روک لینا ہو گا۔اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ اس میں انسانیت کی ہی بھلائی ہوتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس پر غور نہیں کرتے۔ ہمیں کہاگیا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ اب اگر کہیں پر کوڑا کرکٹ جمع ہے، اوپر سے وہاں کسی نے آگ بھی لگا دی ہے تو اس آگ کا دھواں کتنا غلیظ ہو گا اور کتنی گندی بدبو نکلتی ہو گی۔ اگر وہاں سانسں لیں گے تو اپنی جان کے ساتھ کھیلیں گے۔ اور جان تو اللہ کی امانت ہے۔ گویا ایسے مقام پر سانس نہ لینا بھی دین کی تعلیمات میں سے ایک ہے۔ لیکن اب شاہ صاحب ہمیں اس غلیظ کوڑا کرکٹ کی بدبو سونگھنے پر مجبور کر رہے ہیں یہ کہہ کر یہ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ جناب عالی! یہ چیز تو آپ کو نظر آگئی لیکن جو آپ کے صوبے میں دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے، جگہ جگہ گلی محلہ میں جرائم کے اڈے بنے ہوئے ہیں، شراب خانے، جوا گھر بنے ہوئے ہیں وہ آپ کو نظر نہیں آتے ۔ ان کو اجازت کس بنیاد پر ملی ہوئی ہے۔ اسلام کی تعلیمات میں تو غیر مسلموں کو شاید صرف ان کی عبادت گاہیں بنانے کی اجازت ہے، وہ بھی ایک مخصوص جگہہ پر۔ لیکن کہیں بھی نہیں لکھا کہ ان کو شراب، جوئے خانے بنانے کے لیے کھل کھیلنے دیا جائے۔ حدیث پاک کے مفہوم کے مطابق تو شراب کے حوالے سے آٹھ افراد پر لعنت فرمائی گئی ہے، جن میں سے ایک کے علاوہ سارے کے سارے ہی اتفاق سے معاونت کرنے والے بنتے ہیں۔وہ ایک پینے والا ہے اور باقی سب اس کو پلانے والے۔
آپ تو سید زادے ہیں۔ بجائے اسکے کہ آپ دین سے کھلواڑ کریں، آپ کو تو چاہیے تھا کہ خود کو مضبوط کرتے ہوئے اس طرح کی محافل پر خود پابندی لگاتے۔ لیکن بہت افسوس ہوا۔ شاہ صاحب،رقص و موسیقی ہماری ثقافت نہیں ہے۔ ہماری ثقافت کی بنیادیں اسلام کی تعلیمات سے نکلتی ہیں اور وہیں پر ختم ہوتی ہیں۔بجائے ان تعلیمات کو دھیرے دھیرے معاشرے میں سرایت کرانے کے آپ بلند آواز سے اعلان کرتے ہیں کہ اس طرح کے نوٹیفیکیشن جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔رقص و موسیقی ایک آزاد معاشرے کا جزو لاینفک ہے۔ آپ بھرپور طریقے سے اس کی حمایت کریں گے۔ واہ شاہ صاحب واہ۔کیا آپ خوف خدا نہیں رکھتے۔ کیا آپ کو آپ کے بچپن سے جوانی تک گھر میں کسی نے دینی تعلیمات کی طرف راغب نہیں کیایا پھر آپ جان بوجھ کر اپنے بیرونِ ملک بیٹھے آقاؤں کے کہنے پر ایک لبرل معاشرہ قائم کرنے کی ابتدأ کر رہے ہیں۔ اگرچہ پہلے ہی یہ معاشرہ کافی لبرل اور آزاد خیال ہو چکا ہے۔ ان کو کوئی روکنے والا، کوئی ٹوکنے والا نہیں۔ تب ہی تو یہ دھندناتے پھرتے ہیں اور اسلام کا مذاق اڑانے میں غیر مسلموں سے دو ہاتھ آگے ہی رہتے ہیں۔ اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پر بجلیاں کے مصداق ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی گلشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
آپ نے آئین کی بات کی تو یا تو آپ آئین میں تبدیلی لے کر آئیں کہ پاکستان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ جس نے بھی اس طرح کو سخت قدم اٹھایا اس کو اللہ کی طرف سے سزا ضرور ملی ہے۔ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوا ہے اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی رسوا ہو گا۔تو آپ بھی پھر اپنی رسوائی کا سامان تیار رکھیے گا۔اسلام سے کھلواڑ کرنا کوئی بچوں کا کام نہیں۔ یہ وہی لوگ کرتے ہیں جو یاتو ڈالروں اور پاؤنڈز پر پلتے ہیں یا پھر ان کی رگو ں میں قادیانیوں ، یہودیوں ، ہنود کا خون دوڑ رہا ہوتا ہے۔ ورنہ کسی بھی مسلمان ،جس نے اللہ اور اس کے نبی ﷺ کا کلمہ پڑھا ، بے شک وہ گناہوں کی لت میں ڈوبا ہوا ہے، کو یہ جرأت کبھی نہیں ہوتی کہ وہ اسلام کا مذاق اڑائے۔ بھلے وہ خود ان تعلیمات پر عمل نہیں کرتا لیکن شرمندگی کسی نہ کسی مرحلے میں ضرور محسوس کرتا ہے۔ آج بھی آپ ایک انتہائی ناقص العمل مسلمان کے سامنے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو برا بھلے کہہ دیں تو اگر تو وہ آپ کو جان سے نہیں بھی مارے گا تو کم از کم دین کے ادنیٰ درجے میں شامل ہو کر آپ کو گالیوں سے ضرور نوازے گا۔ نہیں شاہ صاحب، آپ سے دست بستہ عرض ہے کہ ایسی کوئی غلطی نہ کریں جس میں آپ کو دنیا و آخرت کی رسوائی ملے۔ آپ اپنے فیصلے پر غور کریں اور سوچیں کہ آپ کہاں تک حقیقت پرست ہیں۔ آپ اپنے صوبہ سندھ میں ایک ریفرنڈم کروا لیں یہ کہہ کر کیا رقص و موسیقی کی محافل جاری رہنی چاہییں ، اگرچہ یہ غیر اسلامی ہیں۔ آپ کو خود جواب مل جائے گا۔

October 26, 2016

کلبھوشن کی سزا اور بیان بازیاں
April 17, 2017

کلبھوشن کی سزا اور بیان بازیاں

مارچ 2017 میں بلوچستان سے گرفتار ہونے والا ہندوستانی جاسوس اور بد نام زمانہ را ایجنٹ کلبھوشن یادیو باالآخر اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے۔ بزرگوں کا قول صحیح ہے کہ برائی کا انجام برا ہوتا ہے۔ بے شک دوسرے ممالک میں جاسوسی کرناجائز ہے لیکن دشمن ممالک میں۔ وہ بھی اس لحاظ سے کہ وہاں سے یہ معلومات حاصل کی جائیں کہ دشمن ملک دفاعی صلاحیت حاصل کر رہا ہے تو کس نہج پر ہے۔اور دوسرا یہ کہ اس کے ملک کے خلاف وہاں کس قسم کے حالات پنپتے ہیں۔ لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ دوسرے ممالک میں چاہے دشمن ملک ہی کیوں نہ ہو، وہاں دہشت گردی کرائی جائے یا اس ملک کی  کمزور کیا جائے یا اس طرح کے حالات پیدا کیے جائیں کہ وہ معاشی، معاشرتی یا کسی بھی لحاظ سے کمزور ہو۔ کم از کم ہمارا دین اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔کیونکہ ہمارا دین اسلام (بمعنی سلامتی کے ہیں) امن کا داعی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں بھی اور دوسرے ممالک میں بھی اس بات کی قطعاً اجازت نہیں کہ وہاں کی املاک کو، عوام کو کسی بھی صورت نقصان پہنچایا جائے۔ البتہ جنگ کی صورت حال میں صرف میدانِ جنگ تک دشمنوں کو امن کا پیغام پہنچانا ضروری ہے، لیکن اگر وہ نہ مانیں جیسا کہ ہندوستا ن کی صورت حال ہوتی ہے تو پھر دشمن کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کیا جائے ۔ اب ہوا یہ ہے کہ کلبھوشن یادیو صاحب نے نہ صرف جاسوسی کی بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سازشوں کے بیج بھی بوئے۔ ا س نے پاکستان کے غداروں کے ساتھ جو پیسے کا ساتھ دیتے ہیں یا جن کو ان کے آباو اجداد نے پڑھایا ہوا کہ کچھ بھی ہو جائے پاکستان کو تسلیم نہیں کرنا۔ لیکن کھانا اسی پاکستان کا ہے، تو ان غداروں کو پیسے کا لالچ دے کر، ان کی تجوریاں بھر کران کو سبق پڑھایا کہ پاکستان میں بدامنی پیدا کریں۔ دہشت گردی کریں۔ خاص طور پر بلوچستان میں بلوچستان کی آزادی کی تحریک کو ہوا دی۔ عزیر بلوچ اور دیگر بہت سے افراد کی پشت پناہی کی۔نہ صرف ایک کلبھوشن بلکہ دیگر کئی ہندوستانی را کے ایجنٹ پاکستان میں، بالخصوص بلوچستان میں سرگرمِ عمل تھے اور ہیں۔ یہ الگ بات کہ پاکستانی ایجنسیوں نے کلبھوشن کو پکڑ کر اس سے جو تفتیش شروع کی تو بہت سے نام سامنے آئے۔ان میں سے کچھ کو اٹھا لیا گیا اور کچھ کو نظر انداز کر دیا گیا۔ نظر انداز کرنے کی وجہ ازلی سیاسی تعلق بنتا ہے۔معلوم ہوا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ ممبر غائب ہیں۔ پارٹی نے سیدھا سیدھا پاک افواج پر اور خفیہ والو پر الزام دھر دیا ہے۔ ویسے یہ الزام کچھ غلط بھی نہیں ہو گا، کہ پارٹی کو خود علم ہو گا کہ ان کے ممبرز کیا کچھ کرتے ہیں اور کن کن سے ان کے تعلقات ہیں۔ عزیر بلوچ نے بھی کافی ممبران سے اپنے رابطے ظاہر کیے ہیں بلکہ کچھ کے ساتھ تو ویڈیو اور تصویری ثبوت بھی ہیں۔ممبران کی گمشدگی کو سامنے رکھتے ہوئے بلاول بھٹو نے ببانگ دہل بیان دیا ہے کہ کلبھوشن کو پھانسی نہیںلگنی چاہیے۔ بلکہ اس کی پارٹی کے کچھ ممبران تو یہاں تک کہتے سنے گئے ہیں کہ بھارت کے ساتھ کلبھوشن مسلے پر مذاکرات کرنے چاہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ اجمل قصاب کے مسلے پر کیا انھوں نے کوئی مذاکرات کیے تھے، جبکہ اس کے خلاف ہندوستان والے مکمل ثبوت کبھی بھی فراہم نہیں کر سکتے۔ لیکن چونکہ ہندوستان نے ہر صورت میں پاکستان کو بدنام کرنا تھا تو انھوں نے میں نہ مانوں کی رٹ لگاتے ہوئے اپنی ہی عدالتوں سے اپنے ہی فراہم کردہ ثبوتوں کی بنیاد پر اجمل قصاب کو بمبئی حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے پھانسی کی سزا دی۔ اور ادھر ہمارے سیاستدان ہیں کہ ہندوستان کی زبان بولتے نہیں تھکتے۔۔ دوسری طرف ان کو ایک سال پہلے کے ہندوستان کے بیانات نظر نہیں آتے۔۔ افسوس۔گذشتہ سال جب کلبھوشن کو گرفتار کیا گیا تھا تو ہندوستان نے اس کو ہندوستانی ہی ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کسی بھی ملک کا ایجنٹ دوسرے ممالک میں ان کا نمائندہ تب تک ہوتا ہے جب تک وہ گرفتار نہیں ہو جاتا۔ گرفتار ہوتے ہی وہ گمنام ہیرو بن جاتا ہے۔کچھ ایسا ہی اس وقت کلبھوشن کے ساتھ بھی ہوا۔ظاہر ہے پہلی بات تو یہ کہ وہ ایران کے پاسپورٹ پر اور ایرانی نام پر آیا تھا۔ دوسری بات گرفتار ہو گیا تھا۔ ایران کے پاسپورٹ کا مطلب ہمیشہ کی طرح ایران کا بھی اس سازش میں ملوث ہونا بنتا ہے۔ پاکستان نے کافی سے زیادہ ثبوت اقوام متحدہ اور امریکہ کے سامنے بھی رکھے۔ یہ اور بات ہے کہ چونکہ یہ ساری سازش پاکستان کے خلاف تھی، اس لیے اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں خاموش رہے۔یہاں تک کہ ہندوستان کو وارننگ تک نہ دی۔بلکہ ان ثبوتوں کو ہندوستان نے کسی بھی صورت نہ مانا۔ اب جب کلبھوشن کے خلاف مقدمہ حل ہو گیا، اس کو پھانسی کی سزہو گئی تو ہندوستان کو اپنا ہیرو یاد آگیا۔ سشما سوراج نے دھمکیاں دے دیں کہ وہ کلبھوشن کی پھانسی رکوانے اور اس کو ہندوستان واپس لانے کے لیے آخری حد تک جائیں گی۔ اگر اس وجہ سے دوطرف تعلقات پر بھی اثر پڑا تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ کیا سشما سوراج اور دیگر ہندوستانی لیڈران کے بیانا ت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہندوستان دوسرے ممالک میں دخل اندازی اور در اندازی کو اپنا دین ایمان سمجھتا ہے۔ خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک میں اپنا اثر قائم رکھنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔ جس کا ایک سب سے بڑا ثبوت سری لنکا میں تامل ٹائیگر کی تنظیم کا موجود ہونا تھا۔ جو کہ مخصوص سٹریٹجی کی بدولت ختم ہوئی۔ اب پاکستان کے ارباربانِ اختیار کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کے ان ہی بیانات کو بطور ثبوت ایک دفعہ پھر اقوام متحدہ میںپیش کریں۔ اور اس کی دھمکیوں کو بھی سامنے لائیں۔ یہ صرف دھمکیاں ہی نہیں بلکہ صریحاً پاکستان کے اندر دخل اندازی کرنے والی بات ہے۔اس کلبھوشن کی پھانسی کے خلاف نہ صرف پیپلز پارٹی کے افراد نے بیانات دیے ہیں بلکہ اور بھی کافی رہنماء ایسے ہیں جن کی زبان سے اس سے ملتے جلتے الفاظ نکلے ہیں۔ جب ہندوستان سے ایک بیان اور آیا کہ پاکستان میں عاصمہ جہانگیر یا اعتزاز احسن جیسے وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں تا کہ کلبھوشن کی پھانسی کے خلاف اپیل کی جا سکے۔مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ جب سارے ثبوت موجود ہیں، گواہان موجود ہیں تو پھر عدالت نے اپیل کرنے کا اختیار کیوں دیا ہے؟ شاید کوئی قانونی سقم باقی ہو۔۔ خیر جیسے ہی سرحد پار سے عاصمہ جہانگیر اور اعتزاز احسن کے حوالے سے بیان آیا تو یہاں پاکستان کے کچھ لوگوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ مجھے دکھ ہوتا ہے ایسے لوگوں کی سوچ پر۔ جو پاکستان کا نہیں سوچتے بلکہ انفرادی سوچ رکھتے ہوئے اسلامی قوانین کے خلاف بھی بات کر جاتے ہیں۔ اپنی جیب کی سوچتے ہیں یا اپنی نیک نامی (اصل میں کیا ہے، سب جانتے ہیں) کو مزید اونچا کرنے کے لیے ہاتھ پائوں مارتے ہیں۔ سب یاد رکھیں کہ آپ پاکستانی ہیںتو آپ کو پاکستان کی اولیت دینی چاہیے نہ کہ جو آپ کا دنیاوی آقا کہے، آپ آمنا و صدقنا کہہ کر اس کی بات کو من و عن تسلیم کر لیں اور پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیں۔ یاد رہے کہ ایسو ں کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو بگٹی کا ہوا۔ خدا کے ہاں دیر ہیں اندھیر نہیں اور اس کی لاٹھی بھی بے آواز ہے۔