Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

پاکستانیت پر مبنی تحریریں

جو وعدہ کرو تو پورا کرو
November 8, 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو

یہ صرف ایک اسلامی آرٹیکل ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس فرد کے لیے لکھا گیا ہے جو وعدوں کو صرف مذاق سمجھتا ہے چاہے وہ عوام ہو یا حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھے خواص۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد ہے ۔ ” وعدہ پورا کرو بیشک (قیامت کے دن )وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔۔ ”خبردار!(حکم خدا تو یہ ہے کہ) جو بھی اپنا عہد پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تقویٰ والوں کو یقینا دوست رکھتا ہے،بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اوراللہ قیامت کے دن ان سے نہ تو کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ فقہا¿ اور علما¿ نے وعدے کی تین اقسام بیان کی ہیں۔
۱۔یک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو۔
۲۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
۳۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ شایدوہی ہے جو عالمِ اروا ح میں واقع ہوا ہے، قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے، ا±س وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا،لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا۔
دوسرا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہے یا کرتے ہیں وہ نذر ماننا یا قسم کھانا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ صرف دل و دماغ میں خیال کرنایا سوچنا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ زبان سے موزوں جملہ کہنا ضروری ہے۔جیسے کوئی کہے کہ میں صحت یاب ہو گیا تو اتنی رقم خیرات کروں گا۔ ایسا کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوجاتی ہے۔یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ عہد ، قسم یا نذر کسی غیر شرعی کام کی نہ ہو۔ یعنی کسی حرام کام کے لیے نذر نہ مانی جائے۔ یا پھر کوئی ایسی قسم جس میں کسی بھی شرعی ، واجب یا مستحب کام کو چھوڑنے کا وعدہ کیا جائے۔اسی طرح عہد جو خدا سے کیا جاتا ہے اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔جیسے کوئی کہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو یہ نیک کام کروں گا۔ اب اگر وہ نیک کام نہیں سر انجام دے گا تو گناہِ کبیرہ کے زمرے میں شمار ہو گا۔ اور عہد توڑنے کا کفارہ الگ سے ادا کرنا ہو گا۔ عہد کا کفارہ ادا کرنا واجب ہے۔ اور یہ کفارہ وہی ہے جو رمضان کا روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے نہ رکھنے اور توڑنے کاہے، یعنی ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا، یا ساٹھ ورزے رکھنا ، یا ایک غلام کو آزاد کرنااور اگر نذر توڑدی جائے تو اس کا کفّارہ قسم توڑنے کے کفّارے کے برابر ہے، یعنی دس غریبوں کو کھانا کھلانا، یا دس لباس سے محروم لوگوں کو لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔
وعدے کی تیسری قسم بندوں کی بندوں سے ہے۔اور یہ وعدہ وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے۔کہ ایمان والے وہ ہیں جو جب کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہیں۔ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ جب بھی وہ وعدہ کرے وہ وفا کرے۔یعنی ایمان والوں کی ایک نشانی وعدے کا پورا کرنا بھی ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل لکھنے کا میرا مقصد اربابانِ اختیارات کو اور پارلیمنٹ کے دیگر ممبران کو وہ وعدے یاد دلانا تھا جو انھوں نے الیکشن سے پہلے عوام سے کیے تھے۔ وعدہ کرنا کوئی مذاق نہیں ہے کہ جب چاہا وعدہ کر لیا جیسے کوئی اپنی محبوبہ سے کرتا ہے اور پھر مطلب نکل جانے پر ’وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے ‘ کا نعرہ لگا کر نئے بے وقوف کو تلاش کرنے میں نکل پڑتا ہے۔ ہمارے صدرِ محترم سے منسوب ایک قولِ زریں آج کل فیس بک پر وائرل ہو رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے اور الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدے بس الفاظ کا گورکھ دھندہ ہی ہوتا ہے۔ پورا کوئی بھی نہیں ہوتا نہ کیا جاتا ہے۔ تو اگر تو یہ قول درست ہے اور ڈاکٹر سر نے کہا ہے تو پھر ایک پارلیمنٹیرین کی کیااوقات ہو گی۔ جب وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھنے والے بھلے وہ کوئی بھی ہوں، عوام سے الیکشن کے دنوں میں ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ اگر ان میں سے پچاس فیصد بھی صدقِ دل سے پورے کیے جائیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں پاکستان دنیا کی اول نمبر ریاست میں شمار ہو گا۔ چاہے وہ معاشی میدان ہو، جنگی یا دفاعی میدان ہو یا تعلیمی میدان۔ لیکن افسوس ہوتا ہے جب ہمارے پارلیمنٹیرینز سیٹ نہ ملنے پر اپنے ہر وعدے کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے حلقے کے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ یہ باتیں میں کوئی پہلی بار نہیں لکھ رہا۔۔ کئی بار ، بار بار اور بارہا لکھی جا چکی ہیں کہ شاید کسی کے دل میں اتر جائے کسی کی بات۔۔ لیکن وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے۔
ہمارے محترم وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے جتنے وعدے کیے تھے ان میں سے حکومت سنبھالنے کے نوے دنوں کے اندر اندر کچھ اس طرح کے محیر العقول کارنامے سر انجام دینے تھے جو پاکستان میں جاگیرداروں اور لٹیروں کی موجودگی میں تکمیل تک پہنچانا انتہائی مشکل ہیں۔اب یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنے وزراءپر ناراض ہو رہے ہیں جنھوںنے الیکشن سے پہلے کچھ اور حقائق بتائے تھے جب کہ اب جب وہ حکومت میں آئے ہیں تو حقائق کچھ اور ہیں۔ سر، انتہائی احترام سے عرض کروں گا کہ اس میں ان کا کیا قصور۔ یہ سب کچھ تو عام عوام کو بھی نظر آتا ہے کہ اصل حقائق کیا ہیں؟ تو پھر آپ کیسے ان سے نابلد تھے؟ وعدہ وفا کیجئے لیکن اس سے پہلے اس کا کفارہ ضرور ادا کیجئے، اپنی جیب سے، اپنی تنخواہ سے، جو کہ آپ کر سکتے ہیں۔

(روزنامہ آفتاب، لاہور میں باقاعدہ آغاز کے بعد سے پہلا کالم۔ 8 نومبر 2018)

بھرتیوں پر پابندی۔۔ بالکل بے جا اور ناجائز
September 14, 2018

(ابنِ نیاز)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آنے والے الیکشن کے تناظر میں پورے ملک میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ انھوں نے کس بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی ہیں۔ اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ تو ای سی پی نے جواب دیا کہ سیاستدان اور حکمران ووٹ لینے کے لیے ہر ادارے میں نئی بھرتیاں اپنی مرضی سے کرتے ہیں جن میں میرٹ کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ بات مان لی ہے اور کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ الیکشن سے پہلے نوکریاں نہ دی جائیں۔ ۔۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ درست ہے کہ من مانیاں بھرتیاں شروع ہو جاتی ہیں ، سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔بھرتی کرنے والوں سے اور ان کے اہل و عیال سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ووٹ انہیں کو دینا ہے۔ اب وہ نوکری لینے والا مجبور ہوتا ہے کہ اپنے علاقے کے کرپٹ ترین بندے کو ووٹ دے اور بقول شخصے ووٹ کو عزت دے، جو کہ سراسر ووٹ کی توہین ہے۔
فیصلہ درست تو ہے لیکن فیصلہ غلط بھی ہے۔ سرکاری نوکری پر صرف اس مرتبہ ہی پابندیاں نہیں لگیں بلکہ ہر سال ہر حکومت نے یہ فریضہ بہ احسن طور سر انجام دیا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود پھر بھی مختلف اداروں میں بھرتیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کیسے؟ سفارش پر۔ کوئی نہ کوئی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایک فون کرتا ہے یا بذاتِ خود شرفِ ملاقات بخشتا ہے اور جاتے ہوئے دو تین عدد کوائف نامے سربراہ کی میز کی نذر کر دیتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں اس کا تقررنامہ اس کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔ اب نوکر کی تے نخرہ کی کے مصداق سربراہ کو اپنی عزت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ کیونکہ منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کی اکثریت کم پڑھی لکھی لیکن زبان کی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اور کام نہ ہونے کی صورت میں ان کی زبان درازیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تو پھر سربراہ کو مجبوراً تقرریاں کرنی پڑتی ہیں۔ درحقیقت پابندیاں لگانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جب جب کسی کو کسی ادارے میں بھرتی کرانا ہو تو وقتی طور پر کسی نہ کسی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر سے این او سی حاصل کرکے کسی ادارے میں ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔
بھرتیوں پر پابندی کا جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور ہوتا چلا آرہا ہے وہ پڑھے لکھوں کی عمر گزرنے کا ہے۔ یونیورسٹی سے جب کم از کم ایم اے یا برابر کی ڈگر لے کے طلباءفارغ التحصیل ہوتے ہیں تو انھیں پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر تو پابندی ہے۔ تو ایسے میں اس کا دل نہیں ٹوٹے گا تو کیا ہو گا۔پھر پابندیاں ایک دو ماہ کے لیے کھلتی ہیں جس میں سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ جب پابندی لگ جاتی ہے اور طویل عرصے کے لیے ہو تو ان کی عمر گزر جاتی ہے۔ جب کسی بھی اسامی کے لیے عمر کی حد مقرر کی جاتی ہے تو پابندیوں کی وجہ سے جب وہ اہل ہوتے ہیں تو نااہل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرکاری ادارے میں پہلے سے ملازم تو ہوتے نہیں کہ انھیں پانچ سات سال کی رعایت مل جایا کرے۔ یوں بیرزوگاری کی شرح میں ہر سال ایک کثیر تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور سونے پہ سہاگہ اکثر افراد ریٹائرڈ ہوتے ہیں، نیچے سے اوپر ترقیاںہوتی ہیں تو نیچے والی اسامیاں بھرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ یوں ادارے کو افراد کی کمی کی وجہ سے کام نپٹانے میں دوشواری پیش آتی ہے ۔
سرکاری اداروں میں تو حکومت بھرتیوں پر پابندی لگا دیتی ہے لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھرتیاں ہو سکتی ہیں۔ یہاں بھی سب سے بڑا مسلہ اقربا پروری یا سفارش کلچر کا موجود ہونا ہے۔ بہت کم قابل اور اہل افراد بھرتی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے اگر پاکستان میں بند کارخانے چلا دیے جائیں۔ اگر حکومت وقت نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے پرانی سڑکوں کی ہی توسیع کر دے تو اخراجات میں کافی بچت ہوگی ۔ وہی بچت بند کارخانوں پر لگائی جائے۔ ان کو سرمایہ فراہم کیا جائے اور ہر کارخانے کو پابند کیا جائے کہ وہ کارخانہ شروع کرتے ہی نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بھرتی کرے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ بیروزگار نوجوان غلط کاموں میں ہاتھ ڈالیں۔ اگر نوجوان دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں، جرائم میں مبتلا ہوتے ہیں ، غلط کام کرتے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ بیروزگاری بھی ہے۔ظاہر ہے جب مصروفیت کے لیے کچھ نہ ہوگا تو پھر نوجوان کیا کرے گا۔ وقت تو گزارنا ہے۔ اوپر سے ہر قسم کے جرم کرنے کے پیسے ملتے ہوں اور اچھے ملتے ہوں تو وہ کیوں جرم کی راہ اختیار نہیںکرے گا۔پاکستان میں ہر قسم کی انڈسٹری موجود ہے اور ان انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے افرادی قوت بھی موجود ہے۔ اگر تجربہ نہیں بھی ہے تو پھر بھی ان کی تعلیم اس قدر ہے اور اس مطلوبہ ملازمت کے مطابق ہے۔ بات صرف ان کی رہنمائی کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر فیکٹری ، انڈسٹری میں سینئر ہوتے ہیں جو نئے بھرتی ہونے والے کو تجربہ کار بناتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں نیا بھرتی ہونے والا چاہے جتنا تجربہ کار بھی ہو، اس ادارے کے طریقہ کار پر چلنے کے لیے اس کو سینیئرز کی رہنمائی کی ضرورت ہر قدم پر پڑتی ہے۔
محترم چیف جسٹس صاحب اس وقت بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ جو کام حکومت کے کرنے کے ہوتے ہیں وہ ان کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ہر مقام پر ان کو کڑھنا پڑ رہا ہے کہ جس ادارے میں بھی جاﺅ ، وہاں پر ہی دھاندلی پائی گئی ہے، بنیادی حقوق کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محترم جج اس مسلے کی طرف بھی توجہ دیں اور بیرزوگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے قانون پر (اگر موجود ہے تو) عمل درآمد کروائیں اور ان کی عمر گزرنے سے پہلے پہلے ان کو روزگار فراہم کروائیں۔ اور اگر کوئی قانون نہیں ہے تو قانون بنوا کر اس پر عمل کروائیں۔ یقین مانئے سر، کہ سب آپ کو اللہ کے آگے جھولی پھیلا کر دعائیں دیں گے۔
******

یکساں نظامِ تعلیم
September 14, 2018

آج کی ایک خبر کے مطابق حکومت نے مدارس اور سکولوں میں یکساں نصابِ تعلیم کی منظوری دی ہے۔ خوش آئند بات ہے۔ لیکن اگر اس کی تفصیل بھی اخبارات میں دی جاتی تو عام عوام کے لیے جن کی رسائی متعلقہ کاغذات تک مشکل بلکہ ناممکن ہوتی ہے ، آسانی ہو جاتی۔ وہ بھی تجزیہ کر سکتے کہ واقعی مناسب نظام وضع کیا گیا ہے یا صرف مدارس کو جدید کرنے کی خاطر ان کا نصاب سکولوں کے برابر کیا گیا ہے۔ خیر جو بھی ہوا، چند دن میں سب کچھ واضح ہو جائے گا ۔ اسی یکساں نظامِ تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔

سب سے پہلے تو یہ کہ پورے ملک میں نظام تعلیم ایک جیسا نافذ کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ملک کے بہترین ادیبوں کی خدمات حاصل کی جائیں، خاص طور پر وہ ادیب، جن کا تعلق کسی نہ کسی حد تک تعلیم کے شعبے سے بھی ہو۔ اور وہ بچوں، بڑوں کی نفسیات سے واقف ہوں، ساتھ میں اسلامی تاریخ کا بھی وسیع علم ہو ، اور پاکستان کی تاریخ و تحریک سے بھی کما حقہ واقفیت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ پاکستان سے مخلص شعراء کی خدمات بھی حاصل کی جائیں جو خوبصورت اور جدید شاعری ہمارے نصابِ تعلیم کے لیے ہدیہ کریں۔وہ شاعری جو ہمارے جوانوں میں اقبال کے شعر کو واضح کرے۔۔

                                سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا ، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں نکلیں، یا انقلابات آئے ان کا ہر اول دستہ طالب علم ہوتے تھے۔ وہ طالب علم جو اقبال کا شاہین تھے یا قائد کے پیرو کار۔ اور ان سے بڑھ کر دین اسلام کے پیرو کار اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے جری سپاہی یا حضرت عمر فاروق ؓ عنہ کے عدل کے گواہ اور دل میں بسانے والے۔۔ دنیا کا ہر انقلاب ان طلبا کے عزمِ جواں، اور جذبہ قربانی کا کرشمہ ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کا ولولہِ تازہ اورگرم خون بڑے بڑے عالموں ، سیاست دانوں اور باعمل فلسفیوں کو بھی میدانِ عمل میں لے آیا۔ اور حرّیت و فکر کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یوں امڈ آیا کہ منزلِ مراد ،ان کے قدموں کو بوسہ دینے پر مجبور ہوگئی۔ چشم فلک گواہ ہے کہ تحریکِ پاکستان کا ہراوہ دستہ صداقت ، عدالت اور شجاعت کے لباس سے مزیّن طلباءہی تھے۔ جنہوں نے اپنی قربانیاں پیش کرکے خود کو قوم کا راہنما ثابت کیا۔ اور بتادیا کہ :۔

                                ہمار ا خون بھی شامل ہے تزئین گلستان میں
ہمیں بھی یاد کر لیناچمن میں جب بہار آئے

بات ہو رہی تھی نظامِ تعلیم کی تو لازم ہے کہ یہ نصاب صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں ہی نافذ نہ ہو بلکہ ساتھ میں جتنے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں ان کو بھی یہ نظامِ تعلیم دیا جائے۔ دونوں سسٹم میں بنیادی فرق تو تعلیم دینے کا طریقہ کار ہے۔ جس کی بنا پر پرائیویٹ تعلیمی ادارے صرف جیبیں اور اکاﺅنٹ بھرنے کے کارخانے بن چکے ہیں۔کہیں ہزاروں میں ایک آدھ تعلیمی ادارہ چاہے سکول ہو، کالج یا یونیورسٹی، تعلیم و تربیت کی طرف زیادہ توجہ دیتا ہے۔ لیکن زیادہ تر صرف جیبیں بھر رہے ہیں کبھی ایک بہانے سے، کبھی دوسرے بہانے سے۔ جب سب اداروں میں تعلیم نصاب یکساں ہو گا، تو پھر والدین کے لیے بھی آسانی ہو جائے گی کہ وہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں اپنے بچوں کو داخل کرا دیں۔ ان کے لیے یہ مسلہ نہیں ہو گا کہ کون سا ادارہ بہتر ہے اور کون سا بہترین۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ طریقہ تعلیم کو ضرور دیکھیں گے بجائے نصاب کے۔ اس طرح سرکاری اداروں پر بھی حکومت کی طرف سے جو دباﺅ ہوتا ہے کہ اس سال میں کم از کم اتنے بچے سکول میں داخل ہونے چاہیں، وہ دباﺅ بھی بہت حد تک کم ہو جائے گا۔

پرائیویٹ تعلیمی ادارے یہ کر سکتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ایک آدھ مضمون کا اضافہ کر دیں جو وہ اپنی مرضی سے پڑھا سکیں ساتھ میں غیر نصابی سرگرمیاں (جن میں والدین کی جیب پر ڈاکہ نہ ہو، بلکہ وہ طلباء میں مثبت رجحان پیدا کریں) بھی جاری رکھیں، تو شاید کوئی پرائیویٹ تعلیمی ادارہ اس بنیاد پر بند نہ کرنا پڑے۔ البتہ یہ ضرور ہو گا کہ یکساں نصاب سے ٹیوشن سینٹرز کو تالے لگ سکتے ہیں کیونکہ پھر سکول اور کالجوں میں ہی ہر مضمون کو توجہ سے پڑھایا جائے گا، صرف اس خوف سے کہ اگر یہاں اچھا نہ پڑھایا گیا تو بچہ سکول چھوڑ کر کسی بھی دوسرے سکول میں جا سکتا ہے۔

جس طرح خبر ہے کہ مدارس اور سکولوں کا نصاب ایک جیسا کیا جائے گا، تو یہ ممکن نہیں ۔ کیونکہ مدارس کا بنیادی مقصد دین کی تعلیم دینا ہے۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ کچھ مضامین وہاں اضافہ کر دیے جائیں جن میں کمپیوٹر، معاشیات، ریاضی، اور سائینسی مضامین کا تعارف شامل ہو۔ اور ان کے لیے بھی ایک لیول مقرر کیا جائے کہ اتنے سال پڑھیں گے تو ہشتم، یا دہم کے برابر ہو گا۔ اس طرح مدارس کے طلباءبھی جب چاہیں گے کسی بھی شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اور ان کے لیے کوٹہ نہیں بلکہ عمومی میرٹ میں ان کو شامل رکھا جائے۔تب ہی یکساں نظامِ تعلیم کا کچھ فائدہ ہو گا۔

پورے ملک میں یکساں نصاب کے نفاذ کے ساتھ ساتھ صوبوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنی اپنی ثقافت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک آدھ مضمون ہر کلاس میں اضافی رکھیں جس کی وجہ سے طلباء اپنے صوبہ کی ثقافت سے متعارف ہوں۔ اور وہ دور نہ جائیں۔ساتھ ساتھ یہ بھی ہو کہ ایک مضمون زبان کے حوالے سے بھی ہو جس میں پاکستان کی ہر زبان کا تعارف ہو اور ایک ایک صفحہ اس زبان سے متعلق ہو، چاہے وہ نثر ہو یا شاعری۔ کچھ نہ کچھ ہو۔ اس سے ہر طالب علم اس زبان سے متعلق بنیادی باتیں سیکھ سکے گا۔ پھر کم از کم زبانی عصبیت کا خاتمہ ہونا بہت حد تک ممکن ہے۔ کوئی کسی کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ وہ پٹھا ن ہے ، اور وہ پنجابی ہے ، وہ بلوچی۔۔ صوبائی عصبیت کو بھی روکا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر طلباءکا ایک کوٹہ مقرر کیا جائے کہ وہ کسی بھی دوسرے صوبے کے کسی تعلیمی ادارے میں آسانی سے مائیگریشن کرواکے داخلہ لے سکے تو بہت اچھا ہو گا۔ سکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ طلباء کی ایک خاص تعداد اپنی ایک کلاس میں رکھیں گے۔ یہاں دیکھا گیا ہے کہ پرائیویٹ سکولوں و کالجوں میں ایک ایک کلاس میں ساٹھ ستر اسی بچے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ ٹیچر سب بچوں کو کتنی توجہ دے سکے گا؟ کچھ بچے شرارت کریں گے، تو ٹیچر کس کس کو روکے گا؟ اور بھی بہت سے مسائل ہوتے ہیں، جیسے ہوم ورک چیک کرنا، ڈسپلن برقرار رکھنا وغیرہ، جو کہ بچوں کی اتنی زیادہ تعداد میں ہونے کی وجہ سے آسان نہیں ہوتا۔ وقت کا ضیاع سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

حکومت نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے، امید ہے کہ اس پر دل سے اور لگن سے کام کیا جائے گا اور پاکستان کے بچوں اور جوانوں کو مستقبل کا اچھا معمار بنانے میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔

******************

دھاندلی کے انداز
June 27, 2018

دھاندلی کے انداز
(موجودہ سیاسی صورتحال اور جولائی 2018 کے الیکشنز کے حوالے سے ایک تحریر)

گذشتہ حکومت نے جاتے جاتے ۲۰۱۸ کے الیکشنز کی جو تاریخ مقرر کی اس پر کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ ۲۵ جولائی ہی منتخب کرنے کی کیا وجہ تھی۔ بہت سوچا اور اتنا کہ سر میں درد تک شروع ہو گیا۔ حالانکہ چھوٹے موٹے معاملات کو تو الحمد للہ میں در خود اعتنا ہی نہیں سمجھتا۔ اور بڑے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں۔ لیکن یہ والا مسلہ درحقیقت براہِ راست عوام سے متعلق ہے اور میں بھی عوام ہوں۔ جب غور کیا اور اس تاریخ کو دن دیکھا تو وہ ’’بدھ‘‘ کا دن ہو گا۔ یعنی پورے ہفتے کا مرکزی دن۔ نہ بندہ دو دن پہلے چھٹی کر سکتا ہے نہ دو دن بعد۔ کیونکہ چھٹیاں دے گا کون؟ اس دن کوئی سرکاری چھٹی بھی نہیں ہو گی کہ بندہ گھر پر ہو گا اور ووٹ ڈالنے چلا جائے گا۔ شاید ماضی میں حکومت نے اگر الیکشن کی تاریخ چھٹی کے دن کے علاوہ رکھی ہے تو اس دن چھٹی دی گئی تھی۔ عوام ووٹ ڈالنے جاتی تھی۔ لیکن وہ اس صورت میں ممکن ہوتا تھا جب اس چھٹی سے پہلے یا بعد میں ہفتہ اتوار کا دن آتا تھا۔ یقیناًاب بھی حکومت چھٹی دے گی۔ لیکن کیا اس چھٹی کا فائدہ ہو گا۔ ہمارے پاکستان میں شاید تیس فیصد سے زیادہ سرکاری ، نیم سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین اپنے اپنے شہروں سے باہر دوسرے دورکے شہروں میں ملازمت کرتے ہیں۔ کچھ ملازمین قریب کے شہروں میں بھی جاب کرتے ہوں گے جہاں سے ان کے اپنے شہروں کو سفر میں وقت چار سے پانچ گھنٹے ہی لگتا ہو گا، لیکن اول تو یہ کہ چوبیس جولائی کو اگر کچھ اندھی تقلید والے اپنے آفس سے چھٹی کے بعد نکلیں گے تو اس دن لاری اڈوں پر رش کی جو کیفیت ہو گی وہ بیان سے باہر ہے۔
ویسے بھی پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مادر پدر آزاد چھوڑا گیا ہے۔ کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ جب ان کا دل کرے کرایہ بڑھا لیتے ہیں۔ جب دل کرے گاڑیاں چھپا کر اڈا شارٹ کر لیتے ہیں یعنی اڈے میں گاڑیاں نہیں ہوتیں۔ یوں گھنٹہ پون گھنٹہ بعد ایک گاڑی آتی ہے تو اس میں پھر سواریاں اورکرائے ڈرائیور کی مرضی سے سے طے ہوتے ہیں۔اچھا خیر، جیسے تیسے کرکے ووٹر اپنے شہروں میں رات گئے پہنچیں گے۔ اگلے دن چھٹی کی وجہ سے عادتاً دیر سے اٹھیں گے تو تب تک وہاں لائنیں لگی ہوں گی۔ پھر جب ان کانمبر آئے گا ، وہ ووٹ دیں گے پھر اپنے گھر کی راہ لیں گے اور واپسی کی تیاری کریں گے۔ یوں وہ رات گئے جب وہ واپس پہنچے گے تو سفر در سفر تھکاوٹ اتنی ہو گی کہ اگلے دن پھر کس کا دل دفتر جانے کا چاہے گا۔یہ تو ہوئی ایک بات۔ دوسری بات یہ کہ جو افراد اپنے ہی شہر میں ملازمت کرتے ہیں وہ جب چار پانچ بجے چھٹی کرکے نکلیں گے تو وہ بھی سارا دن کام کرکرکے اتنے تھک چکے ہوں گے کہ پھر قطار میں کھڑا ہونے کا شاید ہی دل چاہے۔قطار بھی جس میں نمبر کم سے کم دو گھنٹے بعد آنا ہے، اور تب تک ووٹنگ کا وقت ختم ہو چکا ہوگا۔پھر کیا ہوگا؟ وقت بڑھایاجائے گا کہ جو جو پولنگ سٹیشن کی حدود کے اندر ہیں، ان کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا چاہیے۔اور تب پتہ چلے گا کہ مجید بھائی کی بیوی جو پندرہ سال پہلے فوت ہو چکی تھی، ہر الیکشن میں ووٹ ڈالنے آتی ہے لیکن بے چارے مجید بھائی اس سے کبھی مل نہیں پاتے۔
اس کے بعد آتی ہے ایک اور دھاندلی۔ وہ ہے ووٹر کا لسٹ میں اندراج۔ ووٹر کا تعلق ایک شہر سے ہے۔ اس کے شناختی کارڈ پر مستقل و موجودہ پتہ ایک درج ہے لیکن اس کے ووٹ کا اندراج کسی اور شہر میں ہے۔ اب وہ کیا کرے؟ کیا اس شہر ووٹ ڈالنے جائے۔ لیکن کیوں جائے؟ نہ امیدوار اس کے حلقے کا، نہ وہ اس حلقے کا ووٹر۔ بھلے اگر شناختی کارڈ پر دو ایڈریس بھی درج ہیں ایک موجودہ اور دوسرا مستقل ۔ تو بھی ووٹر کا اندراج مستقل پتے پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ کل کو اس نے بالآخر اپنے اسی ٹھکانے پر واپس جانا ہے۔انہی لوگوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہوگا۔ بفرضِ محال موجودہ پتے کے حساب سے بھی اگر ووٹ کا اندراج ہے تو چلیں پھر بھی قابلِ قبول ہے۔ لیکن اس بات کی تو کوئی تک ہی نہیں بنتی کہ اس کا اندراج کسی تیسرے شہر میں کیا جائے۔ اور اگر بدقسمتی سے وہ شہر اس سے سینکڑوں میل دور ہو تو وہ ووٹر کیونکر ووٹ ڈالنے وہاں جائے گا؟
اس کے بعد ایک اور مسلہ آتا ہے وہ ہے چائے پانی اور بریانی کا اور ساتھ میں اپنی جیب سے ترقیاتی کام کرنے کا۔ دھڑا دھڑ مختلف چھوٹے حلقوں میں خاص کر روڈ بنانے ، گلیوں کی پختگی، نکاسی کے نظام کی درستگی وغیرہ زو ر و شور سے جاری ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں، تو دو دن پہلے ایک امیدوار نے ہمارے محلے کے ایک بزرگ کو پیشکش کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ان کے محلے کی گلی کو پختہ اور نکاسی کا نظام درست کر وا دے گا۔ بندہ پوچھے کہ تب کہاں تھے جب اس کو پچاسوں بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور بار بار پیغامات بھی بھجوائے تھے کہ یہ کام بہت ضروری ہے جن کی غیر موجودگی میں نالیوں کا سارہ گندہ پانی کچی گلی میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے تو اس وقت موصوف یا تو بہت مصروف ہوتے تھے یا موجود ہی نہیں ہوتے تھے۔
کیا یہ سب کام دھاندلی میں نہیں آتے۔ جب ووٹر ووٹ دینے دوسرے شہر میں نہیں جائے گا تو بھی اس کی جگہ پر ووٹ پڑے گا۔ پاک فوج تو صرف یہ دیکھے گی کہ کہیں کوئی دنگا فساد تو نہیں ہو رہا۔ اس کو کیا علم ہو گا کہ ایک ووٹر جب بیلٹ پیپر پر مہر لگانے گیا ہے تو اس کو پانچ ووٹ اور بھی پکڑائے گئے ہیں اور اس نے ان سب پر مہر لگادی ہے۔ یہ سب دھاندلی کے انداز ہیں۔ ان سے بچنا ہے اور امیدواروں سے بھی بچاؤ کرنا ہے۔
قارئین کرام! آپ بھلے ووٹ دیں، ان سے منع نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات ضرور مدِ نظر رکھیں کہ ووٹ ایک امانت ہے، اور اس کے اہل کو ہی ووٹ دیا جانا چاہیے۔ لیکن کچھ سابقہ فتووں کی موجودگی میں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سب برے ہوں تو کمترین برے کو ووٹ دیا جانا چاہیے۔ میں ہر گز اس حق میں نہیں۔ کیونکہ وہ کمتر برا بھی کونسا برائی کو چھوڑ دے گا۔ اس نے اگر ووٹ لے کر اسمبلی میں چلے جانا ہے اور وہاں وہ جو جو برائیاں کرے گا، چاہے کرپشن ہو یا کچھ اور۔ ۔۔ اس کے ہر گناہ میں میں آپ کا حصہ برابر کا ہو گا۔یہ سوچ لیجیے گا کہ آپ قیامت کے دن اپنا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکیں گے تو کہاں دوسروں کے گناہوں کی گھٹڑی اٹھاتے پھریں گے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔

بھرتیوں پر پابندی۔۔ بالکل بے جا اور ناجائز
June 4, 2018

بھرتیوں پر پابندی۔۔ بالکل بے جا اور ناجائز

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آنے والے الیکشن کے تناظر میں پورے ملک میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پر سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے ان سے سوال کیا ہے کہ انھوں نے کس بنیاد پر یہ پابندیاں لگائی ہیں۔ اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار کس نے دیا ہے؟ تو ای سی پی نے جواب دیا کہ سیاستدان اور حکمران ووٹ لینے کے لیے ہر ادارے میں نئی بھرتیاں اپنی مرضی سے کرتے ہیں جن میں میرٹ کا خیال بالکل نہیں رکھا جاتا۔ سپریم کورٹ نے ان کی یہ بات مان لی ہے اور کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ الیکشن سے پہلے نوکریاں نہ دی جائیں۔ ۔۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ فیصلہ درست ہے کہ من مانیاں بھرتیاں شروع ہو جاتی ہیں ، سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔بھرتی کرنے والوں سے اور ان کے اہل و عیال سے یہ عہد لیا جاتا ہے کہ ووٹ انہیں کو دینا ہے۔ اب وہ نوکری لینے والا مجبور ہوتا ہے کہ اپنے علاقے کے کرپٹ ترین بندے کو ووٹ دے اور بقول شخصے ووٹ کو عزت دے، جو کہ سراسر ووٹ کی توہین ہے۔
فیصلہ درست تو ہے لیکن فیصلہ غلط بھی ہے۔ سرکاری نوکری پر صرف اس مرتبہ ہی پابندیاں نہیں لگیں بلکہ ہر سال ہر حکومت نے یہ فریضہ بہ احسن طور سر انجام دیا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ پابندیوں کے باوجود پھر بھی مختلف اداروں میں بھرتیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کیسے؟ سفارش پر۔ کوئی نہ کوئی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کسی بھی ادارے کے سربراہ کو ایک فون کرتا ہے یا بذاتِ خود شرفِ ملاقات بخشتا ہے اور جاتے ہوئے دو تین عدد کوائف نامے سربراہ کی میز کی نذر کر دیتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتا ہے کہ اگلے ایک ہفتے میں اس کا تقررنامہ اس کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔ اب نوکر کی تے نخرہ کی کے مصداق سربراہ کو اپنی عزت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ کیونکہ منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر کی اکثریت کم پڑھی لکھی لیکن زبان کی زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اور کام نہ ہونے کی صورت میں ان کی زبان درازیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ تو پھر سربراہ کو مجبوراً تقرریاں کرنی پڑتی ہیں۔ درحقیقت پابندیاں لگانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جب جب کسی کو کسی ادارے میں بھرتی کرانا ہو تو وقتی طور پر کسی نہ کسی منسٹر، ایم پی اے ، ایم این اے یا سینٹیر سے این او سی حاصل کرکے کسی ادارے میں ملازمت حاصل کی جاسکتی ہے۔
بھرتیوں پر پابندی کا جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے اور ہوتا چلا آرہا ہے وہ پڑھے لکھوں کی عمر گزرنے کا ہے۔ یونیورسٹی سے جب کم از کم ایم اے یا برابر کی ڈگر لے کے طلباء فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو انھیں پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اداروں میں بھرتیوں پر تو پابندی ہے۔ تو ایسے میں اس کا دل نہیں ٹوٹے گا تو کیا ہو گا۔پھر پابندیاں ایک دو ماہ کے لیے کھلتی ہیں جس میں سفارش اور رشوت کلچر کو پروان چڑھایا جاتا ہے ۔ جب پابندی لگ جاتی ہے اور طویل عرصے کے لیے ہو تو ان کی عمر گزر جاتی ہے۔ جب کسی بھی اسامی کے لیے عمر کی حد مقرر کی جاتی ہے تو پابندیوں کی وجہ سے جب وہ اہل ہوتے ہیں تو نااہل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ کسی سرکاری ادارے میں پہلے سے ملازم تو ہوتے نہیں کہ انھیں پانچ سات سال کی رعایت مل جایا کرے۔ یوں بیرزوگاری کی شرح میں ہر سال ایک کثیر تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ لطف تو یہ ہے کہ یہ اضافہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوتا ہے اور سونے پہ سہاگہ اکثر افراد ریٹائرڈ ہوتے ہیں، نیچے سے اوپر ترقیاں ہوتی ہیں تو نیچے والی اسامیاں بھرنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے۔ یوں ادارے کو افراد کی کمی کی وجہ سے کام نپٹانے میں دوشواری پیش آتی ہے ۔
سرکاری اداروں میں تو حکومت بھرتیوں پر پابندی لگا دیتی ہے لیکن پرائیویٹ اداروں میں بھرتیاں ہو سکتی ہیں۔ یہاں بھی سب سے بڑا مسلہ اقربا پروری یا سفارش کلچر کا موجود ہونا ہے۔ بہت کم قابل اور اہل افراد بھرتی ہوتے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے اگر پاکستان میں بند کارخانے چلا دیے جائیں۔ اگر حکومت وقت نئی سڑکیں تعمیر کرنے کی بجائے پرانی سڑکوں کی ہی توسیع کر دے تو اخراجات میں کافی بچت ہوگی ۔ وہی بچت بند کارخانوں پر لگائی جائے۔ ان کو سرمایہ فراہم کیا جائے اور ہر کارخانے کو پابند کیا جائے کہ وہ کارخانہ شروع کرتے ہی نوجوانوں کی ایک معقول تعداد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق بھرتی کرے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ بیروزگار نوجوان غلط کاموں میں ہاتھ ڈالیں۔ اگر نوجوان دہشت گردی کی طرف جاتے ہیں، جرائم میں مبتلا ہوتے ہیں ، غلط کام کرتے ہیں تو اس کی ایک بنیادی وجہ بیروزگاری بھی ہے۔ظاہر ہے جب مصروفیت کے لیے کچھ نہ ہوگا تو پھر نوجوان کیا کرے گا۔ وقت تو گزارنا ہے۔ اوپر سے ہر قسم کے جرم کرنے کے پیسے ملتے ہوں اور اچھے ملتے ہوں تو وہ کیوں جرم کی راہ اختیار نہیں کرے گا۔پاکستان میں ہر قسم کی انڈسٹری موجود ہے اور ان انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے افرادی قوت بھی موجود ہے۔ اگر تجربہ نہیں بھی ہے تو پھر بھی ان کی تعلیم اس قدر ہے اور اس مطلوبہ ملازمت کے مطابق ہے۔ بات صرف ان کی رہنمائی کی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ہر فیکٹری ، انڈسٹری میں سینئر ہوتے ہیں جو نئے بھرتی ہونے والے کو تجربہ کار بناتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں نیا بھرتی ہونے والا چاہے جتنا تجربہ کار بھی ہو، اس ادارے کے طریقہ کار پر چلنے کے لیے اس کو سینیئرز کی رہنمائی کی ضرورت ہر قدم پر پڑتی ہے۔
محترم چیف جسٹس صاحب اس وقت بہت عمدہ کام کررہے ہیں۔ جو کام حکومت کے کرنے کے ہوتے ہیں وہ ان کو بھی دیکھ رہے ہیں اور ہر مقام پر ان کو کڑھنا پڑ رہا ہے کہ جس ادارے میں بھی جاؤ ، وہاں پر ہی دھاندلی پائی گئی ہے، بنیادی حقوق کا بیڑا غرق کیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ محترم جج اس مسلے کی طرف بھی توجہ دیں اور بیرزوگاروں کو روزگار فراہم کرنے کے قانون پر (اگر موجود ہے تو) عمل درآمد کروائیں اور ان کی عمر گزرنے سے پہلے پہلے ان کو روزگار فراہم کروائیں۔ اور اگر کوئی قانون نہیں ہے تو قانون بنوا کر اس پر عمل کروائیں۔ یقین مانئے سر، کہ سب آپ کو اللہ کے آگے جھولی پھیلا کر دعائیں دیں گے۔