Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

پاکستانیت پر مبنی تحریریں

جدھر سینگ سمائے
July 9, 2019

پاکستانی قوم کی مصروفیات اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ اپنے ہی حقوق سے بے بہرہ ہو گئے ہیں۔ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت میں سنا ہے کہ چینی صرف ایک چند پیسے یا ایک دو آنہ فی کلو بڑھی تھی تو عوام سڑکوں پر نکل آئی تھی اور ایوب خان کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔،کہ مہنگائی ختم کرو۔مخالف پارٹی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا تھا اور غلط قسم کے نعرے بھی اپنے ورکروں سے لگوائے گئے۔ اب گذشتہ چند سالوں سے ہر حکومت میں ہر بار نزلہ عوام پر گرتا ہے، زلزلہ عوام کے گھروں پر آتا ہے، سونامی اور طوفان سب نے عوام کا ہی رخ کیا ہوا ہے لیکن مجال ہے کہ اب اس عوام میں یکجہتی دیکھنے کو مل جائے۔ ان پر مہنگائی کے بم گرائے گئے، ان پر جینا حرام کیا گیا ، ان کا حقہ پانی بند کیا گیا، ان کے رہنے میں رکاوٹوں کے انبار کھڑے کیے گئے لیکن اس عوام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
گزشتہ حکومتوں میں تو پھر قسطوں میں مہنگائی آتی تھی۔ کچھ اندازہ دنوں پہلے ہو جاتا تھا کہ اگلے چند دنوں میں مہنگائی بڑھے گی۔ اتنے فیصد اشیائے صرف کی قیمت میں اضافہ ہو گا۔ اس لحاظ سے ہر دوسرا پاکستانی اپنے بجٹ کا حساب کتاب لگا لیتا تھا۔ لیکن جب سے یہ حکومت، جس سے شاید پاکستان بننے سے اب تک سب سے زیادہ امیدیں عوام کو وابستہ تھیں، معرضِ وجود میں آئی ہے، تب سے ہر روز مہنگائی آکاس بیل کی طرح عوام کا خون نچوڑ رہی ہے۔کبھی گیس مہنگی کی جا رہی ہے کہ جو بل پہلے دو ہزار روپے آتا تھا اب ایک دم سے پانچ ہزار سے سات ہزار روپے ہوگیا ہے۔ پہلے گھر میں دو ہزار روپے میں گیس چوبیس میسر ہوتی تھی، اب دس گھنٹے ہوتی ہے اور باقی غائب۔ جو میسر ہوتی ہے وہ بھی ٹم ٹم کرتی نظر آتی ہے جس پر صرف چاول ہی دم پر رکھے جاسکتے ہیں۔ بظاہر سبزی اور فروٹ سستا ہے لیکن صرف ان سے تو زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔صحت صفائی کا نظام اسی طرح ہے جیسے گذشتہ پچاس ساٹھ سال سے ہم دیکھ رہے ہیں۔ صرف معیشت کو درست کرنے کی سمت میں تو کام نہیں کرنا۔ ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ۔ عوام بھلے بلبلائے یا تڑپے، کسی کو کیا؟
معیشت درست کرنی ہے ، بیرونی سرمایہ کاری اگر ملک میں لانی ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ بند کارخانے کھولے جائیں۔بند کارخانوں کو صرف سرمایہ کی ضرورت ہے۔ تجربہ کار افراد ان کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ ان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ جو کچھ بنائیں گے بہترین معیار کا بنائیں گے۔ اس حد تک معیاری کہ بین الاقوامی معیارات کی تنظیم اس چیز کو بے اختیار ہو کر اوکے کرے اور پھر پاکستان اس کو اپنی شرائط پر برآمد کر سکے۔ ساتھ میں کارخانوں کو یہ بھی کہا جائے کہ ابتدائی تین سالوں تک وہ منافع کا ساٹھ فیصد حصہ حکومت کے خزانے میں جمع کرائے گی تا کہ جو حکومت نے ان کو ادا کیا ہے وہ واپس آسکے۔ اس طرح کارخانے بھی چل سکتے ہیں اور حکومت کا خزانہ بھی خالی نہیں رہے گا۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ جو بند ہیں وہ تو ہیں ہی،مزدی بھی بندش کی طرف جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک میں درآمدات کی کھپت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی کا اژدھا جو کبھی ایک بالشت کا سنپولیا ہوتا تھا اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ بظاہر قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ لیکن سب کچھ ممکن ہے۔ یہ دنیا ہے ، اگر کچھ ناممکن ہے تو وہ صرف وہ کام ہیں جو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ورنہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
حج پالیسی میں تبدیلی کر لی ہے۔ کہ عوام کے ٹیکسوں پر سود لگا کر حج کی سبسڈی دی جاتی تھی تو اب سود سے حج تو ممکن نہیں۔ مان لیا درست ہے۔ پھر تو ہمارے محترم وزیر اعظم صاحب ان سبسڈیوں پر بھی ایکشن لیں جو عوام کے ٹیکسوں سے کھانے پینے کی چیزوں پر دی جاتی ہے۔ ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور دیگر سیکرٹریٹ کے ملازمین کو دی جاتی ہے۔ باہر کسی بھی کم سے کم تر درجے کے ہوٹل پر چائے کا ایک کپ بیس سے تیس روپے کا ملتا ہے۔ جب کہ سیکرٹریٹ میں دس روپے کا ملتا ہے۔ اور بہت سی کھانے پینے کی چیزوں پر بھی اسی طرح کی سبسڈی مل رہی ہے۔ انصاف سب سے پہلے گھر سے شروع کیا جائے ، اپنے گریبان کو سی کر پھر دوسروں کو کہا جائے تو اس کا فائدہ نسلوں تک کو ملتا ہے۔
اب تک تو پی ٹی آئی کی حکومت کی کسی بھی پالیسی کی سمجھ نہیں آئی۔ یوں لگ رہا ہے جس وزیر کا جدھر دل کر رہا ہے ادھر ہی اس کا سینگ سما رہا ہے۔اپنی مرضی کی پالیسیاں لائی جا رہی ہیں۔ عوام کو فائدہ ہو یا نہ ہو۔ گیس کی قیمتیں خود بڑھا کر پھر خود ہی ایکشن لیا جاتا ہے کہ عوام کو بل بہت زیادہ وصول ہوئے ہیں۔ جب رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے اور ساتھ میں سلیب میں تبدیلی یا قیمت میں کمی کی سفارشات کی جاتی ہیں تو ان کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے کہ اس طرح تو سوئی گیس کمپنیوں کو نقصان ہو گا۔ وہ اپنے اخراجات کیسے پورا کریں گے۔ یہی تو مسلہ ہے کہ بجلی اور گیس کے محکموں کے سب ملازمین کو گیس اور بجلی مفت ملتی ہے۔ کیوں؟ جب کہ ان کی تنخواہیں بھی اچھی ہیں اور ان کو دیگر حکومتی سہولیات بھی میسر ہیں تو پھر یہ سبسڈی کیوں؟ عوام کے ٹیکسوں پر یہ دو محکمے کیوں عیاشی کرتے ہیں؟ ان پر کچھ نہ کچھ ایکشن ہونا چاہیے۔ ان ملازمین کو ملی ہوئی گیس اور بجلی کو یہ اپنے اردگرد کے گھروں میں تقسیم کرتے ہیں اور مخصوص رقم بطور منافع ان سے وصول کرتے ہیں۔ آم کے آم گھٹلیوں کے دام۔
عوام بہت پس چکی ہے۔ اگر چند ماہ مزید یہ صورتحال رہی تو مجھے یقین ہے کہ پی ٹی آئی بھی گزشتہ دو پارٹیوں کی طرح عوام کی بد دعاؤں کا حصہ بن جائے گی۔ اگر انھوں نے اپنے سینگوں کارخ درست سمت میں نہ کیا تو کیا پتہ کس مظلوم کی آہ فرش کو ہلا دے۔

یومِ تکبیر اور پاکستان۔
March 22, 2019

اٹھائیس مئی 1998ء کی سہ پہر تھی… دن کے سوا تین بجے جب سورج زردی مائل ہو کر مغرب کی جانب جھکا جا رہا تھا تو عین اس وقت بلوچستان کے مقام چاغی کا ایک پہاڑ ہلنے دھلنے کے ساتھ ساتھ اچانک سنہری ہونا شروع ہو گیا۔ اسے اس منظر سے دوچار کرنے والے سائنسدانوں کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے تو زبانوں پر تکبیر’’ اللہ اکبر‘‘ کے نعرے تھے…
اس منظر نے پاکستان کو دنیا بھر میں سرخرو و سربلند کر دیا تھا۔ یہ منظر پاکستان کو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت میں بدلنے کا منظر تھا، جس نے ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمانوں کے سر فخر سے بلند کر دیئے تھے اور سربلند کیوں نہ ہوتے، آج مسلمان کہنے کے قابل ہو چکے تھے کہ ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں۔ شام کا وقت ہوا تو وزیراعظم پاکستان جناب نوازشریف ایک بڑے جلوس کے ہمراہ مال روڈ لاہور پر موجود تھے۔ انہوں نے مسجد شہداء کی جانب بڑھنا شروع کیا تو لاکھوں کا مجمع ان کے جلو میںتھا اور کیوں نہ ہوتا، پاکستان نے اپنے ازلی و ابدی دشمن بھارت کو 5دھماکوں کا جواب 6دھماکوں سے دے دیا تھا اور اب اسی لئے تو پاکستان کے دشمنوں کے ہاں ماتم بپا تھا۔ پاکستان پر امریکی پابندیاں لگ چکی تھیں کہ تمہاری اتنی جرأت…؟ امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے علاوہ کسی کی یہ مجال اور وہ بھی کسی مسلمان کی کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ خود کو ایٹمی قوت بنا اور کہلا سکے۔ ’’گستاخ‘‘ پر حد ادب لگ چکی تھی لیکن دوسری طرف عالم اسلام خوشیوں سے نہال تھا۔ سعودی عرب کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے کسی کی پروا کئے بغیر پاکستان کو فوری طور پر 50ہزار بیرل تیل مفت اور مسلسل دینے کا اعلان کر دیا۔ آج پاکستان واقعی مسلم دنیا کا رہبر بن چکا تھا… اور یہ دشمنوں کو کبھی اور قطعاً قبول نہیں تھا کہ ایک ایسا ملک جو سوئی تک خود نہیں بنا سکتا تھا۔ سائیکل تک باہر سے منگواتا یا محض سامان جوڑ کر بنانے تک محدود تھا، آج کیسے اتنے بڑے مقام اور مرتبے پر فائز ہو چکا تھا۔پھرہمارے یہ دشمن اکٹھے ہوئے ، کانفرنسیں کیں، خفیہ مذاکرات کیے، اور کچھ ایسا کرنے کا سوچا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ پاکستان کے پاس ایٹم بم بھی رہے اور وہ کچھ کر بھی نہ سکے۔ تو کچھ ایسا ہوا۔۔
یک دفعہ افغانستان کے ایک گاﺅں میں چند ڈاکو نکل آئے۔ وہ روز کسی نہ کسی گھر میں ڈاکہ ڈالتے تھے، پورے گاﺅں والے انسے تنگ آچکے تھے، اس گاﺅں میں ایک غریب کسان بھی رہتا تھا، ایک گائے، چند ٹوٹے پھوٹے برتن اور دیگر اسی قسم کی چند چیزیں اس کے گھر کا کل اثاثہ تھیں، اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کرکے گائے سمیت اپنے گھر کے تمام سازوسامان بیچ کراپنی حفاظت کے لیے ایک بندوق خرید لی، اب اس کا سب سے عزیز، مہنگا اور قیمتی سرمایہ یہی بندوق تھا، اگلی رات اس کے گھر ڈاکو گھس آئے، بیوی نے سہمے سہمے انداز میں کسان کو جگایا، کسان نے اٹھ کراپنی آنکھیں ملتے ہوئے اپنی بیوی سے سرگوشی کی :۔
”اصل چیز تو بندوق ہے، چلو اسے بچاتے ہیں، باقی خیر ہے۔“یہ کہہ کر کسان نے بندوق بستروں کے صندوق میں چھپادی اور میاں بیوی دونوں اس صندوق کے اوپر لیٹ گئے، جب ڈاکو سارے گھر کو لوٹ کر چلے گئے تو کسان نے بستروں کے صندوق سے بندوق نکالی اور اسے چومنے لگا …. اگلے دن صبح کسان اپنے کھیت کو جانے لگاتو ساتھ ساتھ گاﺅں والوں کو بڑے فخر سے اپنی بہادری کا قصہ سناتا جارہا تھا، کسان خوش تھا کہ ڈاکو ساری چیزیں تو لے گئے لیکن اس نے انہیں اصل چیز یعنی اپنی بندوق لے جانے نہیں دی، لوگوں نے اس سے پوچھا کہ بھلے مانس! یہ بتاﺅ! تم نے اپنے گھر کی تمام اشیاءفروخت کرکے یہ بندوق کیوں خریدی تھی؟ جس کے ذریعے تم اپنی حفاظت بھی نہ کرسکے بلکہ تمھیں اور تمھاری بیوی کو خود اس کی حفاظت کرنی پڑی !!لوگوں کی بات سن کر کسان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا، لوگوں نے اس پر خوب قہقہے لگائے اورفقرے کسے، وہ اپنے کھیت کی طرف جاتے ہوئے سوچنے لگا کہ واقعی لوگ بندوق، اسلحہ اور ہتھیار اپنی حفاظت، دفاع اور بچاﺅ کے لیے خریدتے ہیں؟ پھر مجھے خود کیوں اس بندوق کی حفاظت کرنی پڑی؟
اس واقعے پر غور کریں اور خوب غور کریں، تو آپ سب کو سمجھ آجائے گی کہ یہ کسان کوئی اور نہیں بلکہ ہم لوگ ہیں، پاکستان ہے۔ آج ہم ایٹم بم کے مالک ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک میزائل ہے۔ لیکن حالت ہماری یہ ہے کہ امریکہ نے ستمبر 11 کی دہشت گردی کے بعد افغانستان پر حملہ کے لیے پاکستان سے راہدارہ مانگی اور نہ دینے پر ہمیں پتھروں کے دور میں پہنچانے کا کہا۔ ہمارے اس وقت کے حکمرانوں نے اسکی بات مان لی اور اپنی طرف سے پاکستان کو پتھروں کے دور میں پہنچنے سے بچا لیا۔ لیکن کیا ہوا؟ آج بجلی کی لوڈ شیڈنگ 16 سے 22 گھنٹے ہو رہی ہے، کہیں پر بجلی ہے ہی نہیں۔ تو کیا یہ پتھروں کا دور نہیں۔جنریٹرز میں بھی چلانے کو پٹرول، ڈیزل چاہیے، وہ بھی کمیاب ہوتا جا رہا ہے۔ قیمت بڑھتی جا رہی ہے، رسد کم ہوتی جا رہی ہے۔ تو کیا یہ پتھروں کا دور نہیں۔ اگرچہ ہم نے بالکل اس کسان کی طرح ہم نے بھی اپنی دفاعی لائن کو مستحکم بنانے کے لیے 28 مئی1998ءکو پوری دنیا کی ناراضی مول لے کر، جان جوکھوں میں ڈال کر اور مضبوط دیواروں سے سر ٹکراکرایٹمی دھماکہ تو کردیا لیکن آج اس ایٹم بم کے بجائے ہم خود نہتے ہوکر اپنے اس قیمتی سرمائے کی اور اپنی حفاظت بھی خود کررہے ہیں، ہم بھی کسان کی طرح اس کو چھپائے پھر رہے ہیں، ہمیں خود اس کی حفاظت کرنی پڑرہی ہے۔ایٹم بم بنانے کی کہانی ہماری قومی مزاج کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے، ہم نے ایٹم بناتے وقت اپنی آنکھوں میں کتنے سہانے سپنے سجائے تھے، دل میں کتنے ارمان تھے، کتنی ہی آرزوئیں اس سے وابستہ تھیں، ایک جوش تھا کہ ہم بھی سر اٹھا کر جی سکیں گے۔ ایک ولولہ تھا کہ ہم اب سینہ تان کرچلیں گے، ایک سوچ تھی کہ اب ہم خود مختا ری، خودکفالت اور خود انحصاری کے قابل ہو جائیں گے، اس کے لیے ہماری قوم نے کتنے جتن کیے، کتنی مشکلات کے پہاڑ سر کیے، لوگ دو سے ایک چائے پر آگئے، اقتصادی فاقے کیے، سامراج کی معاشی بدمعاشیاں برداشت کیں، یہ محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان، قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو،فاتح ِروس جنرل ضیا الحق، شہیدِ جمہوریت بے نظیر بھٹواور فخرِ پنجاب میاں نواز شریف جیسے با ہمت و پرُ عزم انسان ہی تھے جن کی شبانہ روز محنتوں کی وجہ سے یہ ناممکن کام ممکن ہوسکا، محسنِ پاکستان اگرہالینڈ کی شہریت، اپنی بیٹیوں کا اعلی مستقبل اور لاکھوں ڈالرز کی تنخواہ چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں اس کی سرزمین پر قدم نہ جماتے، بھٹو صاحب جنون کی حد تک دیوانہ وار سرگرم نہ ہوتے، جنرل ضیا امریکیوں کو ”یہ موضوع خارج از بحث ہے“کہہ کر خاموش نہ کراتے، بے نظیر بھٹو یورپی یونین کی بات مان جاتیں اور میاں صاحب کلنٹن کے دباو میں آجا تے تو آج تک ہما را اٹامک انرجی پروگرام التوا کا شکار رہتا۔اب تک ہمارے ایٹمی پلانٹ کے تارو پود بکھر چکے ہوتے، ہمارا ایٹم بم بنانے کا خواب چکنا چور ہوچکا ہوتا، لیکن یہ اللہ تعالی کی بے پناہ نصرت، قوم کی اضطراری دعائیںاور مخلص قیادت کی مہربانیاں تھیں، جن کی وجہ سے آج ہم عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہیں، لیکن آج یہ سارے جرات مندانہ اقدامات،سارے عزائم اور ساری بے قراریاں روئی کے گالوں، سمندرکے جھاگوں اورپانی کے بلبلوں کی مانند ہیں، اس کے لیے 1974ءسے 1998ءتک کی محنت اور 24 سالوں تک کی گئی ساری کوششیں اکارت جاتی نظر آتی ہیں۔
آ ج پوری دنیا حیران و ششدر ہے کہ جو قوم ایک سوئی، ایک معیاری کیلکولیٹراور ایک اچھا سیل فون تیار نہیں کرسکی، اس نے ایٹم بم کیسے ایجاد کرلیا، آج پاکستان دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک اور عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی ریاست ہے، کتنی ہی آرزﺅں، خواہشوں اور ارمانوں کو دل میں بسائے ہم نے یہ ایٹم بم حاصل کیا تھا لیکن آج ہم پھر بھی ذلیل وخوار اور رُسوا ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ ساری خواہشات،ارمان اور آرزوئیں چاغی کی پہاڑی پر ایٹمی دھماکے کی دھول میں ہی کہیں کھوگئی ہیں، آج بھی ہماری جانوں کے لالے پڑے ہوئے ہیں، کل تک ہمیں بونگے ہندو بنیے ڈراوا دیتے تھے لیکن آج تیسری دنیا کا کٹھ پُتلی چغہ پوش مسخرہ بھی ہمیں دھمکانے سے نہیں جھجکتا، دشمن ہمارے ایٹمی پلانٹ تک پہنچنے کے لیے ہزار حیلے بہانے کررہاہے، وہ اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح پاکستان کو نیو کلیئر ہتھیار سے محروم کردیا جائے، ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ایٹم بم کی آڑ میں ہمارے اوپر کونسی قیامت مسلط ہونے والی ہے، آج دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی طاقت پورے عالمِ کفر کے نرغے میں ہے، آج دشمن ہمارے اہم اہم تنصیبات، حساس مقامات اور ہمارے قلب میں خنجر گھونپ رہا ہے،آج بھی جبکہ دشمن ہماری شہ رگ کے قریب پہنچ چکا ہے،اب کی بار بھی ایسا ہی منظر دیکھنے میں آرہا ہے کہ قوم تو اس لحاظ سے گروہوں میں نہیں بٹی ہوئی لیکن سیاست دان ، لیڈرز اور قوم کے سیاہ و سفید کے مالک ہی آپس میں دست و گریباں ہے، قوم نے ہر مصیبت کی گھڑی میں اپنا کردار ادا توکیا ہی لیکن ہمیشہ پیچھے رہ جانے والے رہنماہی تھے، ہم بھی اس کسان کی طرح احمقوں کی جنت میں جی رہے ہیں،خدارا ! ہوش کے ناخن لیجیے، ہماری قومی سلامتی پر انتہائی کڑا وقت آپہنچا ہے، ہماری سلامتی اور بقا ایک کچے دھاگے سے لٹک رہی ہے، ویسے بھی ہم اب تک بہت کچھ کھوچکے ہیں، اللہ نہ کرے کہیں ہم اسی جوڑ توڑ میں ایٹم بم بھی نہ کھو دیں۔

May 28, 2015

اندرونی عناصر کو بیرونی آقاؤں کی آشیرباد
December 19, 2018

“اندرونی عناصر کو بیرونی آقاؤں کی آشیرباد”

”کراچی جرگے کے ایک عہدیدار کے مطابق اگر نقیب اللہ کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا تو آج منظور پشتین کو کوئی جانتا بھی نہیں۔ بدقسمتی سے صرف ایک پولیس افسر کو بچانے کے لئے پشتون تحفظ موومنٹ جیسی ریاست مخالف تنظیم کو پھلنے پھولنے کا موقع دے دیا گیا۔ اور آج ملک کو اس فتنے کا شدت سے سامنا ہے۔منظور پشتین نے 2014ء میں محسود تحفظ موومنٹ کے نام سے تنظیم بنائی تھی۔ لیکن اس کے نام سے کوئی واقف نہیں تھا۔ تاہم منظور پشتین اس وقت خبروں میں آیا جب رواں برس نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا۔ جس کے بعد اس نے اپنی تنظیم کا نام بدل کر پشتون تحفظ موومنٹ رکھ لیا۔ نقیب اللہ کے لئے انصاف کے حصول کی تحریک دراصل سہراب گوٹھ کراچی سے شروع کی گئی تھی۔ جس میں محسود اور دیگر قبائل کے مشران شامل تھے۔ تاہم اس تحریک کو اسلام آباد دھرنے کے دوران منظور پشتین نے ہائی جیک کر لیا، اور اب اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔“

مندرجہ بالا پیرا گراف ایک اخبار کی خبر کا حصہ ہے۔ مقصد صرف منظور پشتین کا تعارف کرانا تھا۔ منظور پشتین نے جب جب جہاں جہاں جلسہ کیا ، ہر جلسے میں اس نے بظاہر تو پشتون کے تحفظ کے لیے بات کی۔ لیکن اس کے شروع کی تقاریر میں کچھ الفاظ، کچھ جملوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ اندر ہی اندر کچھ کھچڑی پک رہی ہے۔ میری موجودگی میں اگر کبھی کسی محفل میں منظور پشتین کا ذکر آیا تو میں نے وہاں برملا کہا کہ بہت جلد اس کی اصلیت سامنے آئے گی ۔ یہ فی الحال تو پشتون کے تحفظ کی بات کر رہا ہے لیکن عنقریب اس کے اندر کا غبار باہر آئے گا یا پھر یہ اپنے آقاﺅں کی زبان بولنے لگے گا۔ اور وہی ہوا۔ منظور پشتین نے پہلے وزیرستان میں پاک فوج کے خلاف لغویات شروع کردیں۔ جب کہ وہ جانتا بھی تھا کہ وزیرستان میں دنیا بھر کے دہشت گرد بھرے ہوئے ہیں۔اور ان کو پناہ دینے والے بھی بیرونی دنیا سے لفافے بٹورتے رہتے ہیں۔ ان کو پناہ گاہیں دیتے ہیں، ہر قسم کے اسلحے تک ان کی رسائی کراتے ہیں۔ توپاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو کہ کراچی تا خیبر اور چمن تا لاہور ہر شہر میں بچوں، بوڑھوں ، خواتین میں فرق کیے بغیر خون کی ندیاں بہاتے ہیں، ان ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑنا کیا برا ہے۔ یقینا پاک فوج نے یہی کیا۔ اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت بھرپور ایکشن لیا۔ جہاں پہلے ہفتے میں ایک دھماکہ ہوتا تھا، اب اللہ کے فضل و کرم سے ان برے حالات میں اسی فیصد تک کمی آئی ہے۔ اب وہ دہشت گرد کم از کم وزیرستان سے نکل کر واپس اپنے آقاﺅں کے ٹھکانے پر پہنچ گئے ہیں۔ منظور پشتین اور اس کے آقاﺅں کو دکھ اسی بات کا ہے کہ اب انھیں پاکستان میں تخریب کرنے کے لیے کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔

منظور پشتین کے مطالبات بڑھتے گئے۔ چونکہ پاک فوج نے وزیرستان سے مکمل طور پر دہشت گردی کے خاتمے کا اعلان کیا ہوا تھا تو وہاں مختلف مقامات پر چیک پوسٹس اور مضافات میں جہاں سے دہشت گردوں کی آمد ورفت ہوتی تھی، وہاں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں۔ منظور پشتین نے چیک پوسٹس اور یہ سرنگیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ صرف پاکستان میں امن کی خاطر یہ مطالبہ بھی منظور کر لیا گیا۔ لیکن منظور پشتین اپنی اوقات سے باہر ہی رہا۔ ایک یونیورسٹی کا طالب علم جب پاکستان مخالف بیان دینا شروع کرے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو بیرونی آقاﺅں کی آشیرباد لازمی ہے۔ چند دن پہلے وانا میں ایک مظاہرہ ہوا جس میں ممبر قومی اسمبلی علی وزیر نے نے ریاستی اداروں کے خلاف وہ مغلظات اپنی ناپاک زبان سے نکالیں کہ پچھلے کسی بھی غدار کی تقاریر کے شاید سارے ریکارڈ توڑ دیے گئے۔ چاہے وہ الطاف حسین کے الفاظ ہوں یا اچکزئی کے۔ تب تک تو منظور پشتین اور پی ٹی ایم کے خلاف حکومت وقت نے کوئی ایکشن بھی نہ لینے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔لیکن ان کو یہ تنبیہ بھی ضرور کی ہوئی تھی کہ وہ ریڈ لائن عبور نہ کریں۔ لیکن اس تقریر نے ساری سرخ حدیں پار کرا دیں۔ اب قانون کے مطابق حکومت مجبور ہو گئی ہے کہ وہ پی ٹی ایم کے خلاف کوئی ایکشن لے۔ یقینا پی ٹی ایم کے بڑے بڑے عہدیدار گرفتار ہوں گے ۔ منظور پشتین کی گرفتاری بھی غیر متوقع نہیں۔

جب منظور پشتین یا دیگر عہدیدار یا دونوں گرفتار ہوں گے تو ان کے آقاﺅں کو آگ لگے گی۔ پی ٹی ایم کا ایک اور ایجنڈا لاپتہ افراد کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کرنا تھا کہ جو جو افراد لاپتہ ہوئے ہیں ان کو بازیاب کرایا جائے۔ یہاں یہ بتانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ شاید ایک آدھ فیصد کوئی فرد بے گناہ پکڑا گیا ہو (وہ بھی ممکن نہیں) باقی سب کے سب کسی نہ کیس لحاظ سے پاکستان میں یا تو تخریب کار عناصر کے سہولت کار تھے اور ہیں یا پھر براہ راست ”را“ ، ”موساد“ وغیرہ کے ایجنٹ ہیں۔ان کو گرفتار بھی پلک جھپکنے میں نہیں کیا گیا۔ باقاعدہ ان کے خلاف ملنے والی خبر کی تحقیق کی گئی۔ جب ہر لحاظ سے دیکھا گیا کہ ثبوت مکمل ہیںاور اب اگر ان ایجنٹس کو، ان افراد کو کھلا چھوڑا گیا تو وہ کوئی نہ کوئی گھٹیا گل کھلائیں گے تو ان پر ہاتھ ڈالا گیا۔ جن پر صرف شک تھا ان کو تو ہفتہ دس دنوں میں ہی چھوڑ دیا گیا۔ اب ہوا یہ کہ جب ہندوستان اور اسرائیل کے راستے بند ہونے لگے تو انھوں نے مسنگ پرسنز کا شوشا چھوڑا۔ اس شوشے کو شہہ دینے کے لیے انھوں نے منظور پشتین اور اس جیسے دیگر افراد کو آگے کیا۔ درحقیقت ان افراد کو جب اٹھایا گیا تو گویا ہندوستان اور اسرائیل کی دم پر پاﺅں رکھ دیا گیا۔اب بھی یہی ہونا والا ہے۔ پہلے تو صرف دم پر پاﺅں رکھا گیا تھا۔ اب منظور پشتین یا اس کے حواریوں کو گرفتار کرنے کی وجہ سے نہ صرف ان دو ممالک بلکہ اور بھی بہت سے ممالک جو ظاہری یا خفیہ طور پر ان کا ساتھ دیتے ہیں یا انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، ان کو بھی مرچیں لگیں گی اور خوب لگیں گی۔ پھر یہ سوال جائز ہو جائے گا کہ مرچیں منہ کے علاوہ اور کہاں لگتی ہیں۔ یہ پی ٹی ایم تو عنقریب بی ایل ایف سے بھی ہاتھ ملانے والی تھی۔ وہ بی ایل ایف جو بلوچستان میں تخریب کاری کرنے میں سب سے آگے ہے۔

بندہ پوچھے کہ جب تمھارے اپنے ملک میں اصل میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انڈین مقبوضہ کشمیر میں یہ خلاف ورزی ہوتی ہے، فلسطین میں ہوتی ہے تو اس وقت تم کیا گدھے بیچ کر سو رہے ہوتے ہو؟ خود میاں فصیحت دیگر را نصیحت۔ اپنے گریبا ن میں بھی بندہ جھانک لیتا ہے۔ لیکن بزعم خود یہ نام نہاد سپر پاورز کیوں ایسا کام کریں۔ ان کا تو کام ہی کسی ملک میں امن قائم نہ رہنے دینا ہے۔ کیونکہ اسی وجہ سے تو ان کی دکان چلتی ہے۔ تو انھوں نے یہ دکان چلانی ہے۔ آج پی ٹی ایم کو لگام ڈالی جائے گی تو اس کا متبادل انھوں نے یقینا رکھ چھوڑا ہوگا۔ بہت جلد ہمیں کوئی اور پارٹی نظر آئے گی جو اس طرح کے نعرے بلند کرتی پھرے گی۔اللہ پاکستان کی اندرونی و بیرونی دشمنوں سے حفاظت کرے، آمین

(دسمبر 13، 2018)

ہوٹلوں کی اجارہ داری اور من مانیاں
November 23, 2018

ایک نیم سرکاری ادارے نے صوبائی دار الحکومتوں میں ایک سیمینار منعقد کروانا تھا۔جس میں مختلف متعلقہ محکمے بھی مدعو تھے بلکہ بنیادی کردار ہی ان محکموں کا تھا۔ البتہ اس نیم سرکاری ادارے کا کام اس سیمینار کو کامیابی سے منعقد کروانا تھا اور اس کے فوائد عوام تک پہنچانے تھے۔ چونکہ سیمنیار پورے دن کا ہونا تھا تو اس کے لیے دور دراز کے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں لازمی ایک دن پہلے جانا تھا کہ رات کو ٹھہرنا تھا۔ اس حوالے سے اس ادارے نے ان شہروں میں موجودمشہور بین الاقوامی فور اور فائیو سٹار ہوٹلز سے رابطہ کیا کہ ان کے دس سے پندرہ افراد کے لیے ایک رات کے رہنے کا انتظام کیا جائے اور سیمینار میں موجود افراد کو چائے اور دوپہر کے کھانے کا مینو بھی مہیا کیا جائے۔ ان ہوٹلوں کی جانب سے جب اس ادارے کو کمروں ، ہالز اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں میسر کی گئیں تو وہ ادارہ جو حکومتی پالیسیوں کے تحت ایک مخصوص بجٹ رکھتا ہے، ایک بار تو چلا اٹھا۔ چلانے کی وجہ ان ہوٹلز کی ارسال کردہ قیمتیں تھیں۔ جو کہ اتنی زیادہ تھیں کہ ہر آفیسر کے لیے متعین کردہ بجٹ سے زیادہ تھیں۔ ایک کمرہ، جس میں ایک ماسٹر بیڈ یا ڈبل بیڈ کہہ لیں، تھوڑا سجا ہوا، دو ایک صوفہ سیٹ، سینٹر ٹیبل، ٹی وی ، ایک عدد واڈ روب موجود ہو۔۔ (ویسے زیادہ تر ہوٹل میں لوگ رات گزارنے جاتے ہیں، ان کو ان اشیاءسے زیادہ سرو کار نہیں ہوتا) اس کے ایک رات کا کرایہ اٹھارہ سے بیس ہزار ہو۔ پھر طرفہ تماشہ یہ کہ کمرے بھی مختلف کٹیگریز میں تقیم کیے گئے ہیں۔ ایگزیکٹیو روم، دیلکس روم، سپریم روم وغیر۔۔ خیر کچھ بھی ہو، پھر بھی ایک کمرے کا اتنا کرایہ ۔ اور ہر ماہ ان کرایوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔چھ ماہ پہلے کرایہ اٹھارہ ہزار تھا، آج وہ چوبیس ہزار ہے۔ بندہ پوچھے کہ کیا کمرے میں ہیرے اگتے ہیں۔یا پھر سونے کی کانیں ہیں وہاں پر۔
یہ تو بات ہوئی فور، فائیو سٹار ہوٹلز کی۔ جو چھوٹے ہوٹلز ہوتے ہیں ان کے کرائے بھی دو ہزار سے چھ ہزار تک ہوتے ہیں۔ لیکن انھوں نے جو حکومتی سرکاری اداروں کو خاص طور پر ایف بی آرے کے ماتحت ادارے جو ٹیکس لاگو کرتے ہیں ان کو ان ہوٹلز نے ریٹ چھ سو سے ہزار روپے فی کمرہ بتائے ہوتے ہیں۔ وہ ٹیکس لاگو کرنے والے ادارے بھی خاموشی سے ان کی اس بات کو سچ جان کر اس حساب سے ٹیکس لاگو کر دیتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ یہ اٹھاتے ہیں کہ ان کے کوئی بھی جاننے والے ان ہوٹلز میں اگر ان کے توسط سے ٹھہریں تو ان کو کم کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ نہ بڑے ہوٹلز کا قصور ہے ، نہ چھوٹے ہوٹلز کا۔ قصور ہے تو عوام کا جن کو عیاشی کا خمار چڑھا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ کیوں اتنے مہنگے ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں ۔ ایک رات ہی گزارنی ہوتی ہے تو کسی واقف کار کے گھر پر ٹھہر جایا کریں۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے بہت سے دوست ہوں گے، ایک آدھ تو مخلص ہوگا۔ لیکن نہیں جی، ٹھہرنا تو ہوٹل میں۔
سونے پہ سہاگہ تو یہ ہے کہ آج کل فائیو فور سٹارز ہوٹلز نے کرایہ بھی ڈالرز میں لینا شروع کر دیا ہے۔ ارے کیا ہم اب ہوٹلز کے لحاظ سے بھی امریکہ کے غلام بنتے جا رہے ہیں؟ افسوس کا مقام ہے۔ ہوتا تو یہ چاہیے تھا کہ بیرونِ ملک سے بھی جو آتا اس سے پاکستانی کرنسی میں رقم وصول کی جاتی۔ ہم کیوں ڈالرز پاﺅنڈز میں لین دین کرتے ہیں۔ کیا ہم پاکستان میں رہتے ہوئے بھی غیروں والے کام کرنے کے پابند ہیں؟ اوپر سے ہم انھیں انگریزی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ دنیا کے کسی ملک میں چلے جائیں، فرانس، جرمنی، سویٹزر لینڈ ، چائنہ، جاپان۔۔ شاید انھوں نے ساتھ مترجم تو رکھے ہوں گے لیکن وہ آپ کو خوش آمدید اپنی زبان میں ہی کہیں گے۔ اور اپنی ہی کرنسی میںلین دین کریں گے۔ ہم کب تک غیروں کے غلام بنے رہیں گے۔ کیا باقی ملکوں نے اپنی قومی زبان کو استعمال کرتے ہوئے ترقی نہیں کی جو ہم پاکستان میں اردو کو نافذ کرکے اپنی بڑھتی ہوئی ترقی کو روک دیں گے۔ ہر گز نہیں۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں اگر اردو کا نفاذ ہو جائے تو ہمارے ذہین نوجوان جو صرف انگریزی کی وجہ سے مار کھا جاتے ہیں، وہ ایسی ایسی تجاویز سامنے لائیں کہ ان پر عمل کرکے پاکستان کو ہم اوجِ ثریا تک پہنچا سکتے ہیں۔
ہوٹلز کا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جس طرح مختلف قسم کی ریگولیٹری اتھارٹیز بنی ہوئی ہیں جو بجلی، گیس پٹرول، مواصلات، میڈیا کو ریگولیٹ کرتی ہیں تو ایک اتھارٹی ہوٹلز کے حوالے سے بھی ہونی چاہیے۔ جو ہوٹلز، موٹلز، گیسٹ ہاوسز، ریسٹورینٹ، ڈھابے وغیرہ کو ریگولیٹ کرے اور ان کا باقاعدہ وزٹ کرکے ان کے مختلف شعبوں کے لیے قیمتوں کا تعین کرے۔ جیسے کمرے، ہالز، کھانے پینے کا سسٹم وغیرہ۔ اس طرح پورے ملک میں ایک یکسانیت قائم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اتھارٹی مختلف شعبہ جات سے متعلقہ لوگوں کے لیے بھی قیمتوں کا تعین کرے۔ جیسے اگر کوئی عالم دین ٹھہرتا ہے تو اس کے لیے کمرے کا کرایہ اتنا ہو۔ کوئی ادب سے متعلقہ شخصیت ادب کے حوالے سے ہی ٹھہرتی ہے تو اس کے لیے قیمت کا ایک تعین ہو۔کوئی استاد یا کوئی بزنس مین یا کوئی انجنیئر یا کوئی سرکاری ملازم۔ ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ کمرے کا کرایہ مقرر ہو۔ لیکن اس کے لیے لازمی ہے کہ وہ فرد اپنی شناخت کے حوالے سے ہی ٹھہر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ ایک ایک سرکاری ملازم ادبی بھی ہو اور بطور ادبی شخصیت کرایہ کم ہو تو وہ اپنے آپ کو ادبی شخصیت ظاہر کرکے کمرہ حاصل کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخصیت ہوٹل کو ثبوت فراہم کرے کہ وہ کس حوالے سے ٹھہر رہا ہے تا کہ کرایہ اسی نسبت سے طے کیا جا سکے۔
ان بڑے ہوٹلز کے حوالے سے ایک بات جو سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ان کو باقاعدہ چیک کیے جاتے رہنا چاہیے۔ کہ جتنے غیر ملکی افراد ان ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں ان میں سے اکثریت غیر ملکی جاسوسوں کی ہی ہوتی ہے جو کبھی ایک لبادے میں تو کبھی دوسرے نقاب میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے یہاں آتے ہیں۔ کاش کسی کو سمجھ آسکے۔ ان ہوٹلز کو اور ان میں رہنے والوں کو کوئی دیکھ سکے۔

یہود د و نصاریٰ ۔کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں بن سکتے
November 21, 2018

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی محترمہ عاصمہ حدید نے مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک موازنہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ محترمہ نے قرآن سے غلط معانی نکال کر اور غلط تاریخ پیش کر کے پاکستان تحریک انصاف کا ایک ایجنڈا سامنے لانے کی کوشش کی جس کے حوالے سے پی ٹی آئی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب کے بارے میں بھی شروع سے ہی جب انھوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی کہا جا رہا ہے کہ وہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ثبوت تو ابھی تک کسی نے نہیں دیا، بس الزامات ہی ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر جو چیز پھیل جاتی ہے، پی ٹی آئی کے مخالفین اسی بات کو بنا تحقیق کے آگے پھیلا دیتے ہیں یا اس پر لفظوں کے پھول برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ سورة الحجرات میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی فاسق (مطلب جھوٹ بولنے والا۔۔ آج کل کون سچا ہے) تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اس میں فاسق کا لفظ ضرور استعمال ہوا ہے لیکن دوسرے حصے پر بھی عمل لازم ہے۔ اور آج کے دور میں تو یہ انتہائی شدید لازم ہو گیا ہے کہ ہر خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی جائے۔ورنہ ایک اینکر کی طرح سب کہیں گے کہ میرے پاس ثبوت ہیں ۔ میں ابھی پیش کرتا ہوں۔ پہلے یہ خبر دیکھ لیں۔ میرے مصدقہ ذرائع ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ نہیں۔خیر اسرائیل کے حوالے سے کئی مواقع پر کچھ ایسا ضرور نظر آیا جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے۔ اب محترمہ کی قومی اسمبلی میں تقریر ہی سن لیں۔ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے. پھر یہودیوں کی دلجوئی و تالیف قلب کے لیے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا شروع کی۔ پھر قبلہ تبدیل کرنے کے حکم پر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ مزید کہتی ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس سے ہے اور مسلمانوں کا بیت اللہ۔ اس کے بعد کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ اس لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ (واضح نہیں کہا لیکن سیاق و سباق سے یہی مفہوم نکلتا ہے) مسلمان اور یہود ایک ہو جائیں۔ محترمہ نے تقریر تو پانچ منٹ کے لگ بھگ کی جس میں زیادہ زور اسی بات پر تھا۔ آخر میں یہود و مسلمانوں کے درمیان اتفاق قائم کرنے کے بارے میں کہہ گئیں۔
یہ تو شکر ہے کہ انھوں نے اپنے علم کو خود ہی ناقص کہہ دیا تھا۔ ورنہ پی ٹی آئی والوں نے انھیں عالمہ و فاضلہ کی ڈگری بھی تھما دینی تھی۔ میرا مطلب سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ سے باہر کے عوام سے ہے۔ واقعی ان کا علم ناقص ہی ہے۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے صرف حج بیت اللہ ادا کیا جاتا تھا۔ نماز فرض ہو جانے کے بعد بیت المقدس ہی کی طرف ہی ادا کی جاتی تھی۔ اور یہ یہود کو خوش کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اللہ کا حکم تھا۔ پھر ایک دن عصر کی نماز میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت المقدس کی طرف سے تبدیل کرکے بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ لیکن اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہودیوں کا قطلہ بیت المودس اور مسلمانوں کا خانہ کعبہ ہو گا۔ یہودیت تو ایک جھوٹا مذہب ہے کیونکہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سابقہ تمام انبیاءعلیہ السلام کی تعلیمات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اب جو کچھ بھی تھا وہ احکامات الہی اور تعلیمات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں تھا اور تا قیامت رہے گا۔ ویسے بھی کیا یہودی کیا نصارٰی (عیسائی)، اپنے اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان پر نازل ہوئی کتب میں جو تحریفات کی گئیں وہ کلی طور پر ان پیرو کاروں کے اپنے نفس کے تابع ہیں۔ جھوٹے من گھڑت واقعات شامل کیے گئے۔
اس کے بعد محترمہ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ آپ کا تاریخ کا علم بھی واقعی ناقص ہے۔ بی بی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا۔ ان سے آگے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل کہلائی۔ اور یہ بھی کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں بے شمار نبی آئے۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں نبوت صرف ہمارے آقائے نامدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ تو آپ سے عرض ہے کہ پہلے خوب پڑھ کر آئیں پھر بات کریں۔
عاصمہ حدید صاحبہ نے مزید کہا ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے کہ یہ جو آج مسلمانوں پر شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں ظلم ہو رہا ہے اس کا راستہ روکا جائے۔ کوئی ان کو یہ بتائے کہ فلسطین کا نام کیوں نہیں لیا کہ اسرائیل ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ آئے روز وہاں جنازے اٹھ رہے ہیں۔ کبھی باعصمت خواتین کے دوپٹے پھاڑے جارہے ہیں تو کبھی بچوں کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک اسلحے کے زور پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن فلسطین شاید واحد ملک ہے جو غلیل میں پتھر ڈال کر اسرائیلیوں کے ظلم کا مقابلہ کرتا ہے۔ جن کے دل میں آزادی کی تڑپ رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔اور مقصد کے لیے عاصمہ صاحبہ نے ایوان کا وقت ضائع کیا کہ جس طرح ممکن ہو اسرائیل کے ساتھ یارانے بڑھائے جائیں۔ محترمہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انھیں یہ تو نظر آرہا ہے کہ شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں مظالم ہو رہے ہیں لیکن یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ وہاں ظلم کے پہاڑ کون توڑ رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی ہی ہیں جو ہر ملک میں ظلم کرتے ہیں ۔ کبھی ڈیزی کٹر بم گرائے جاتے ہیں تو کبھی غیر جوہری خطرناک بموں کی بمباری کی جاتی ہے۔ پہلے افغانستان میں روس گھسا رہا لیکن وہاں کچھ نہ کر سکا۔ پھر امریکہ نے اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی اور ہنوز لگا ہوا ہے لیکن اللہ کے سپاہیوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں تو جب نام ہی اللہ کا لے کر بلند کیا جائے تو پھر کسی کی جرا¿ت ہو سکتی ہے وہ کسی سرزمین پر قبضہ کر سکے۔
عاصمہ صاحبہ کی تقریر اسی سلسلے کے کڑی دکھائی دیتی ہے جس کے تحت پاکستان میں ۴۲ اکتوبر ۸۱۰۲ کو ایک اسرائیلی جہاز کے آنے کی باز گشت ابھی تک پاکستان کی فضاﺅں میں گھوم رہی ہے۔آپ کی تقریر کا مقصد بظاہر تو یہی نکلتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے لیے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں۔ باطن کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ لیکن ظاہری صورت حال یہی نظر آتی ہے۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ہمارے رب نے یہ حکم دیا ہے۔ اب اگر آپ اس دوستی کے لیے راہ ہموار کرانا چاہتی ہیں تو پہلے آپ کو ان کا جھوٹا مذہب قبول کرنا ہو گا۔۔

روزنامہ آفتاب.. 16 نومبر، 2018