Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

اسلامی تحریریں

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
July 16, 2019

ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوںپر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی ، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں ۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ” اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب ، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی ، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

یہود د و نصاریٰ ۔کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں بن سکتے
November 21, 2018

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی محترمہ عاصمہ حدید نے مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک موازنہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ محترمہ نے قرآن سے غلط معانی نکال کر اور غلط تاریخ پیش کر کے پاکستان تحریک انصاف کا ایک ایجنڈا سامنے لانے کی کوشش کی جس کے حوالے سے پی ٹی آئی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب کے بارے میں بھی شروع سے ہی جب انھوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی کہا جا رہا ہے کہ وہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ثبوت تو ابھی تک کسی نے نہیں دیا، بس الزامات ہی ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر جو چیز پھیل جاتی ہے، پی ٹی آئی کے مخالفین اسی بات کو بنا تحقیق کے آگے پھیلا دیتے ہیں یا اس پر لفظوں کے پھول برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ سورة الحجرات میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی فاسق (مطلب جھوٹ بولنے والا۔۔ آج کل کون سچا ہے) تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اس میں فاسق کا لفظ ضرور استعمال ہوا ہے لیکن دوسرے حصے پر بھی عمل لازم ہے۔ اور آج کے دور میں تو یہ انتہائی شدید لازم ہو گیا ہے کہ ہر خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی جائے۔ورنہ ایک اینکر کی طرح سب کہیں گے کہ میرے پاس ثبوت ہیں ۔ میں ابھی پیش کرتا ہوں۔ پہلے یہ خبر دیکھ لیں۔ میرے مصدقہ ذرائع ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ نہیں۔خیر اسرائیل کے حوالے سے کئی مواقع پر کچھ ایسا ضرور نظر آیا جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے۔ اب محترمہ کی قومی اسمبلی میں تقریر ہی سن لیں۔ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے. پھر یہودیوں کی دلجوئی و تالیف قلب کے لیے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا شروع کی۔ پھر قبلہ تبدیل کرنے کے حکم پر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ مزید کہتی ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس سے ہے اور مسلمانوں کا بیت اللہ۔ اس کے بعد کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ اس لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ (واضح نہیں کہا لیکن سیاق و سباق سے یہی مفہوم نکلتا ہے) مسلمان اور یہود ایک ہو جائیں۔ محترمہ نے تقریر تو پانچ منٹ کے لگ بھگ کی جس میں زیادہ زور اسی بات پر تھا۔ آخر میں یہود و مسلمانوں کے درمیان اتفاق قائم کرنے کے بارے میں کہہ گئیں۔
یہ تو شکر ہے کہ انھوں نے اپنے علم کو خود ہی ناقص کہہ دیا تھا۔ ورنہ پی ٹی آئی والوں نے انھیں عالمہ و فاضلہ کی ڈگری بھی تھما دینی تھی۔ میرا مطلب سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ سے باہر کے عوام سے ہے۔ واقعی ان کا علم ناقص ہی ہے۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے صرف حج بیت اللہ ادا کیا جاتا تھا۔ نماز فرض ہو جانے کے بعد بیت المقدس ہی کی طرف ہی ادا کی جاتی تھی۔ اور یہ یہود کو خوش کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اللہ کا حکم تھا۔ پھر ایک دن عصر کی نماز میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت المقدس کی طرف سے تبدیل کرکے بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ لیکن اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہودیوں کا قطلہ بیت المودس اور مسلمانوں کا خانہ کعبہ ہو گا۔ یہودیت تو ایک جھوٹا مذہب ہے کیونکہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سابقہ تمام انبیاءعلیہ السلام کی تعلیمات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اب جو کچھ بھی تھا وہ احکامات الہی اور تعلیمات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں تھا اور تا قیامت رہے گا۔ ویسے بھی کیا یہودی کیا نصارٰی (عیسائی)، اپنے اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان پر نازل ہوئی کتب میں جو تحریفات کی گئیں وہ کلی طور پر ان پیرو کاروں کے اپنے نفس کے تابع ہیں۔ جھوٹے من گھڑت واقعات شامل کیے گئے۔
اس کے بعد محترمہ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ آپ کا تاریخ کا علم بھی واقعی ناقص ہے۔ بی بی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا۔ ان سے آگے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل کہلائی۔ اور یہ بھی کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں بے شمار نبی آئے۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں نبوت صرف ہمارے آقائے نامدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ تو آپ سے عرض ہے کہ پہلے خوب پڑھ کر آئیں پھر بات کریں۔
عاصمہ حدید صاحبہ نے مزید کہا ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے کہ یہ جو آج مسلمانوں پر شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں ظلم ہو رہا ہے اس کا راستہ روکا جائے۔ کوئی ان کو یہ بتائے کہ فلسطین کا نام کیوں نہیں لیا کہ اسرائیل ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ آئے روز وہاں جنازے اٹھ رہے ہیں۔ کبھی باعصمت خواتین کے دوپٹے پھاڑے جارہے ہیں تو کبھی بچوں کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک اسلحے کے زور پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن فلسطین شاید واحد ملک ہے جو غلیل میں پتھر ڈال کر اسرائیلیوں کے ظلم کا مقابلہ کرتا ہے۔ جن کے دل میں آزادی کی تڑپ رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔اور مقصد کے لیے عاصمہ صاحبہ نے ایوان کا وقت ضائع کیا کہ جس طرح ممکن ہو اسرائیل کے ساتھ یارانے بڑھائے جائیں۔ محترمہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انھیں یہ تو نظر آرہا ہے کہ شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں مظالم ہو رہے ہیں لیکن یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ وہاں ظلم کے پہاڑ کون توڑ رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی ہی ہیں جو ہر ملک میں ظلم کرتے ہیں ۔ کبھی ڈیزی کٹر بم گرائے جاتے ہیں تو کبھی غیر جوہری خطرناک بموں کی بمباری کی جاتی ہے۔ پہلے افغانستان میں روس گھسا رہا لیکن وہاں کچھ نہ کر سکا۔ پھر امریکہ نے اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی اور ہنوز لگا ہوا ہے لیکن اللہ کے سپاہیوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں تو جب نام ہی اللہ کا لے کر بلند کیا جائے تو پھر کسی کی جرا¿ت ہو سکتی ہے وہ کسی سرزمین پر قبضہ کر سکے۔
عاصمہ صاحبہ کی تقریر اسی سلسلے کے کڑی دکھائی دیتی ہے جس کے تحت پاکستان میں ۴۲ اکتوبر ۸۱۰۲ کو ایک اسرائیلی جہاز کے آنے کی باز گشت ابھی تک پاکستان کی فضاﺅں میں گھوم رہی ہے۔آپ کی تقریر کا مقصد بظاہر تو یہی نکلتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے لیے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں۔ باطن کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ لیکن ظاہری صورت حال یہی نظر آتی ہے۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ہمارے رب نے یہ حکم دیا ہے۔ اب اگر آپ اس دوستی کے لیے راہ ہموار کرانا چاہتی ہیں تو پہلے آپ کو ان کا جھوٹا مذہب قبول کرنا ہو گا۔۔

روزنامہ آفتاب.. 16 نومبر، 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو
November 8, 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو

یہ صرف ایک اسلامی آرٹیکل ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس فرد کے لیے لکھا گیا ہے جو وعدوں کو صرف مذاق سمجھتا ہے چاہے وہ عوام ہو یا حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھے خواص۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد ہے ۔ ” وعدہ پورا کرو بیشک (قیامت کے دن )وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔۔ ”خبردار!(حکم خدا تو یہ ہے کہ) جو بھی اپنا عہد پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تقویٰ والوں کو یقینا دوست رکھتا ہے،بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اوراللہ قیامت کے دن ان سے نہ تو کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ فقہا¿ اور علما¿ نے وعدے کی تین اقسام بیان کی ہیں۔
۱۔یک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو۔
۲۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
۳۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ شایدوہی ہے جو عالمِ اروا ح میں واقع ہوا ہے، قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے، ا±س وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا،لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا۔
دوسرا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہے یا کرتے ہیں وہ نذر ماننا یا قسم کھانا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ صرف دل و دماغ میں خیال کرنایا سوچنا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ زبان سے موزوں جملہ کہنا ضروری ہے۔جیسے کوئی کہے کہ میں صحت یاب ہو گیا تو اتنی رقم خیرات کروں گا۔ ایسا کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوجاتی ہے۔یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ عہد ، قسم یا نذر کسی غیر شرعی کام کی نہ ہو۔ یعنی کسی حرام کام کے لیے نذر نہ مانی جائے۔ یا پھر کوئی ایسی قسم جس میں کسی بھی شرعی ، واجب یا مستحب کام کو چھوڑنے کا وعدہ کیا جائے۔اسی طرح عہد جو خدا سے کیا جاتا ہے اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔جیسے کوئی کہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو یہ نیک کام کروں گا۔ اب اگر وہ نیک کام نہیں سر انجام دے گا تو گناہِ کبیرہ کے زمرے میں شمار ہو گا۔ اور عہد توڑنے کا کفارہ الگ سے ادا کرنا ہو گا۔ عہد کا کفارہ ادا کرنا واجب ہے۔ اور یہ کفارہ وہی ہے جو رمضان کا روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے نہ رکھنے اور توڑنے کاہے، یعنی ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا، یا ساٹھ ورزے رکھنا ، یا ایک غلام کو آزاد کرنااور اگر نذر توڑدی جائے تو اس کا کفّارہ قسم توڑنے کے کفّارے کے برابر ہے، یعنی دس غریبوں کو کھانا کھلانا، یا دس لباس سے محروم لوگوں کو لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔
وعدے کی تیسری قسم بندوں کی بندوں سے ہے۔اور یہ وعدہ وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے۔کہ ایمان والے وہ ہیں جو جب کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہیں۔ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ جب بھی وہ وعدہ کرے وہ وفا کرے۔یعنی ایمان والوں کی ایک نشانی وعدے کا پورا کرنا بھی ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل لکھنے کا میرا مقصد اربابانِ اختیارات کو اور پارلیمنٹ کے دیگر ممبران کو وہ وعدے یاد دلانا تھا جو انھوں نے الیکشن سے پہلے عوام سے کیے تھے۔ وعدہ کرنا کوئی مذاق نہیں ہے کہ جب چاہا وعدہ کر لیا جیسے کوئی اپنی محبوبہ سے کرتا ہے اور پھر مطلب نکل جانے پر ’وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے ‘ کا نعرہ لگا کر نئے بے وقوف کو تلاش کرنے میں نکل پڑتا ہے۔ ہمارے صدرِ محترم سے منسوب ایک قولِ زریں آج کل فیس بک پر وائرل ہو رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے اور الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدے بس الفاظ کا گورکھ دھندہ ہی ہوتا ہے۔ پورا کوئی بھی نہیں ہوتا نہ کیا جاتا ہے۔ تو اگر تو یہ قول درست ہے اور ڈاکٹر سر نے کہا ہے تو پھر ایک پارلیمنٹیرین کی کیااوقات ہو گی۔ جب وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھنے والے بھلے وہ کوئی بھی ہوں، عوام سے الیکشن کے دنوں میں ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ اگر ان میں سے پچاس فیصد بھی صدقِ دل سے پورے کیے جائیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں پاکستان دنیا کی اول نمبر ریاست میں شمار ہو گا۔ چاہے وہ معاشی میدان ہو، جنگی یا دفاعی میدان ہو یا تعلیمی میدان۔ لیکن افسوس ہوتا ہے جب ہمارے پارلیمنٹیرینز سیٹ نہ ملنے پر اپنے ہر وعدے کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے حلقے کے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ یہ باتیں میں کوئی پہلی بار نہیں لکھ رہا۔۔ کئی بار ، بار بار اور بارہا لکھی جا چکی ہیں کہ شاید کسی کے دل میں اتر جائے کسی کی بات۔۔ لیکن وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے۔
ہمارے محترم وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے جتنے وعدے کیے تھے ان میں سے حکومت سنبھالنے کے نوے دنوں کے اندر اندر کچھ اس طرح کے محیر العقول کارنامے سر انجام دینے تھے جو پاکستان میں جاگیرداروں اور لٹیروں کی موجودگی میں تکمیل تک پہنچانا انتہائی مشکل ہیں۔اب یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنے وزراءپر ناراض ہو رہے ہیں جنھوںنے الیکشن سے پہلے کچھ اور حقائق بتائے تھے جب کہ اب جب وہ حکومت میں آئے ہیں تو حقائق کچھ اور ہیں۔ سر، انتہائی احترام سے عرض کروں گا کہ اس میں ان کا کیا قصور۔ یہ سب کچھ تو عام عوام کو بھی نظر آتا ہے کہ اصل حقائق کیا ہیں؟ تو پھر آپ کیسے ان سے نابلد تھے؟ وعدہ وفا کیجئے لیکن اس سے پہلے اس کا کفارہ ضرور ادا کیجئے، اپنی جیب سے، اپنی تنخواہ سے، جو کہ آپ کر سکتے ہیں۔

(روزنامہ آفتاب، لاہور میں باقاعدہ آغاز کے بعد سے پہلا کالم۔ 8 نومبر 2018)

ماہ رمضان کی آمد آمد اور ڈھونگیوں کے فریب
June 4, 2018

ماہ رمضان کی آمد آمد اور ڈھونگیوں کے فریب

علامہ اقبال رحمہ اﷲ نے کیا خوب فرمایا ہے۔۔
واعظِ قوم کی وہ پْختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شْعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، رْوحِ بِلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
واقعی میں اﷲ نے علامہ اقبال کو ان صفات سے نوازا تھا کہ اگر ختم نبوت کا دروازہ خاتم النبین نبی کریم صلی اﷲ علیہ و سلم پر بند نہ ہوا ہوتا تو شاید یہ نبی کو درجہ پا جاتے۔ اب مندرجہ بالا اشعار کو دیکھ لیں۔ ایک صدی یا کچھ کم سال پہلے کہے گئے یہ اشعارآج کی صورت حال کو کس قدر واضح کر رہے ہیں۔ ہمارے رہنما صرف نام کے رہ گئے ہیں۔ ظاہر ہے آج کے دور میں انہیں سیاستدان کہا جاتا ہے، اور سیاست میں جھوٹ کے پلندے نہ تولے جائیں تو وہ سیاست نہیں کہلائے گی۔ سیاست میں گند نہ کیا جائے ، سیاست میں مخالف کی پگڑی نہ اچھالی جائے، اس کے گھراور چار دیواری کے اندر کے راز نہ کھولے جائیں (سچ اس میں کم ہی ہوتا ہے) تو وہ سیاستدان نہیں کہلائے گا۔ ایک طرف جلسے میں ایک لیڈر کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ لاہور کو پیرس اور کراچی کو نیویارک بنائے گا یعنی ملک کو انگریزوں کی پیروی میں ڈالے گا۔۔ تو دوسری طرف دوسرا لیڈر کھڑے ہو کر ببانگِ دہل اعلان کرتا ہے کہ اگر موقع ملا تو پاکستان کو مدینہ کی طرح فلاحی مملکت بنائے گا جب کہ اسی لمحے اسی کے سٹیج کے نیچے خواتین ننگے سر ہر چلنے والے گانے پر رقص کرتی ہیں۔ کیا مدینہ جیسی فلاحی ریاست میں یہ فلاح ملتی تھی؟ جلسے سے پہلے اعلان کیاجاتا ہے کہ خواتین گھروں سے باہر نکلیں اور جمہوریت کو مستحکم کریں۔ جب کہ اﷲ پاک کا فرمان ہے کہ خواتین گھروں میں چادر اور چاردیواری میں رہیں کہ یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ کیا ہمارا دین ہمیں یہ سکھاتا ہے؟ وقت کی پابندی کس قدر لازمی ہے جو کہ ہمیں نماز جیسا دین کا اہم رکن بتاتا ہے۔ اگر وقت پر نماز باجماعت قائم کی جائے توستائیس درجے نیکیاں ورنہ ایک نیکی۔ لیکن اب کیا ہے پہلے تو نماز ہی نہیں رہی۔ مسجدیں روزانہ ہر نماز کے وقت پکارتی ہیں کہ کہاں ہیں وہ نمازی جو وقت نماز کانپ اٹھتے تھے، جب تک مسجد کے اندر صف میں کھڑے نہیں ہو جاتے تھے ان کی کپکپی ختم نہیں ہوتی تھی۔ اب صورتِ حال ہر گز ایسی نہیں رہی۔

دوسری طرف رمضان المبارک کے مبارک ماہ کی آمد آمد ہے۔جتنے چینل چل رہے ہیں ، جتنے بھی ماہر رقاص ہیں جو اپنے اپنے پروگرامز میں گھٹیا اور اخلاق باختہ ڈانس کرواتے ہیں، وہ دین کے طریقے سکھانے کے لیے اپنے اپنے بلوں سے نکلیں گے۔ مختلف قسم کے روپ بہروپ میں آئیں گے۔ مخلوط محافل میں لوگوں کو دین سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کونسا دین، اپنے اپنے فرقے کا دین۔ کاش کوئی وہی سیکھ لے۔ لیکن وہ بھی سیکھ نہیں پاتا۔ کیسے سیکھے؟ نظریں کہیں اور، دل میں کچھ اور اور دماغ میں کچھ اور چل رہا ہوتا ہے۔ خواتین کو خوشبو لگا کر باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور جو ایسا کرے اس پر فرشتوں کی لعنت کہی گئی ہے۔ لیکن یہاں پر یوڈی کلون اور دوسری ہزار ہا قسم کی تیز ترین خوشبوئیں کہ جس کی مہک (معطر اور بھینی تو نہیں کہوں گا)میلوں دور سے آتی ہے، اپنے جسم پر ، کپڑوں پر انڈیلی جاتی ہیں۔اور پھر اس خوشبو کے ساتھ بھڑکیلے لباس پہنے وہ اپنے مردوں کے ساتھ کم، دوسرے مردوں کے ساتھ زیادہ قریب بیٹھ کر دین سیکھ رہی ہوتی ہیں۔

یہ میزبان جو سارا سال رقص سکھاتے ہیں، وہ دین سکھائیں گے۔ سارا سال جو جھوٹ بول بول کر عوام کا قافیہ تنگ کیے ہوتے ہیں وہ دین سکھاتے ہیں۔ اس طرح کبھی بھی دین نہیں سکھایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ دین لفظوں سے کم اور اپنے اخلاق اور عمل سے زیادہ سکھایا جاتا ہے۔ہم اپنے آقائے نامدار حضور نبی کریم ﷺ کی زندگی کو دیکھیں تو کل تریسٹھ سال کی زندگی میں چالیس سال ان کے نبوت سے پہلے کے ہیں۔ ان چالیس سالوں میں انھوں نے اپنے عمل سے ، اپنے اخلاق سے لوگوں کے دل جیتے۔ جب انھوں (ﷺ)نے نبوت ملنے کے بعد ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر کفارِ مکہ سے یہ کہا کہ اگر وہ کہیں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے دشمن کی ایک فوج مکہ پر حملہ کرنے آرہی ہے تو کیا وہ یقین کریں گے؟ تو سب بول اٹھے کہ بالکل۔ کیونکہ ان لوگوں نے آپ ﷺ کو کبھی بھی جھوٹ بولتے ہوئے نہیں دیکھا نہ کبھی سنا۔ ہجرت کی رات جب آپ ﷺ نے مکہ چھوڑا تو اس وقت بھی ان ہی کفار کی امانتوں کی ایک بڑی تعداد آپ ﷺ کے پاس موجود تھی۔ کیونکہ وہ اس وقت بھی آپ ﷺ کو صاد ق اور امین مانتے تھے اور جانتے تھے۔

چالیس سال تک اﷲ پاک رسول اﷲ ﷺ کے کردار کو چمکاتے رہے ۔ کہ اس کردار کی چمک جب لوگوں کے دلوں پر پڑے تو ان سے آپ ﷺ کی بات سننے اور سن کر ماننے میں کوئی تاویل نہ بن پڑے۔ پھر جب اعلانِ نبوت ہوا تو صرف بغض میں آکر انھوں نے دین قبول نہ کیا ورنہ اس وقت بھی آپ کے کردار پر ، اخلاق پر وہ انگلی نہیں اٹھا سکے تھے۔ جب ابو سفیان سے ہرقل، قیصر روم نے رسول اﷲ ﷺ کے اخلاق و کردار کے بارے میں سوال کیے تو اس وقت بھی ابو سفیان سے جھوٹ نہ بولا گیا۔

لیکن اس ماہ مبارک میں جب ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کا درجہ بھی ستر اور کئی سو گنا بڑھ جاتا ہے ، ایسے میں یہ ڈھونگی اور فراڈیے دھڑلے سے دین کے ٹھیکیدار بن کر سامنے آجاتے ہیں۔ جو سارا سال جھوٹ کے طومار باندھتے رہتے ہیں، وہ ماہ مبارک میں دین سکھانے آجاتے ہیں۔ خاص طور پر ایک شخص جو ہر فرقے کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ تو اپنے آپ کو مکمل دین کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے۔ جی ہاں، بزعمِ خود ڈاکٹر، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین۔۔ پیمرا سے، حکومت سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کی جاتی ہے کہ خدارا ، ان محافل سے عوام کی جان چھڑائیں۔ کیا چینل کی ریٹنگ بڑھانے کا اور کوئی طریقہ نظر نہیں آتا۔ کیا دین سے کھلواڑ ضروری ہے۔ ؟ یہ درحقیقت وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اﷲ نے فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے لہٰذا نہ ان کی تجارت میں نفع ہوتا ہے اور نہ انہیں صحیح راستہ نصیب ہوتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ بھی ان پروگراموں کے بدلے میں ایک خطیر رقم وصول کرتے ہیں۔ لوگوں میں گمراہی پھیلانے کے بدلے میں ان کو پیسے ملتے ہیں۔ تو حرام تو حرام ہوتا ہے، اس میں اگر بظاہر دنیاوی نفع مل بھی جائے تو آخرت میں گھاٹے کا ہی سودا ہے۔

صرف ایک سال کے لیے اسلامی سزاؤں کا نفاذ کرکے دیکھیں
January 17, 2018

صرف ایک سال کے لیے اسلامی سزاؤں کا نفاذ کرکے دیکھیں

ابھی زینب کے لہو کی پکار تازہ ہے۔ ابھی میڈیا بھی شور مچا رہا ہے اور عوام بھی۔ ابھی اپنے مطلب کے لیے انصاف کی آواز بلند کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی شور کر رہی ہیں اور اسلامی تنظیمیں بھی ۔ ابھی موم بتی مافیا بھی زور و شور سے سرگرم ہے کہ زینب کے قاتل یا قاتلین کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ چونک ابھی زینب انصاری کی قبر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی تو اسلامی نظریانی کونسل جو کہ آج کے سائنسی نظریے پر یقین نہیں رکھتی (لکیر کی فقیر ہے ) کو چاہیے کہ حکومت سے اسلامی سزاؤں کے عملی نفاذ کے لیے سفارش کرے اور اس کے بھرپور سفارش کرے۔ بے شک اس طرح کے کیسز کے لیے چار عادل و ثقہ گواہ میسر نہ ہوں گے، لیکن عدالت میں شاید کوئی جھوٹے گواہی ہی سچی گواہی دے دیں۔ کیونکہ جھوٹے گواہ جس ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں اسی دھڑلے سے جب وہ سچ بولیں گے تو اپنے سچ پر قائم رہیں گے۔ بھلے وکیل ان کو اِدھر اُدھر گھمائے لیکن وہ اپنی بات پرہٹ دھرمی سے قائم رہتے ہیں۔ ایک نقصان پہنچانے والے مچھر سے اگر اللہ پاک نمرود کو ہلاک کروا سکتا ہے تو کیا چند جھوٹے گواہان مل کر سچی گواہی نہیں دے سکتے اور اس قائم نہیں رہ سکتے؟ اللہ سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔
اگر آج یہ اسلامی سزائیں نافذ نہیں ہوتیں تو پھر مختاراں مائی (اس سے پہلے بھی بہت سے واقعات ہوئے ہیں لیکن رپورٹ نہیں ہوئے) سے لیکن ڈاکٹر شازیہ خالد، رضیہ کبرٰی، زنیرہ، نسیمہ ، کائنات سومرو جیسے زیادتی کے واقعات ہوتے رہیں گے اور عوامی مجرم عوام میں دندناتے پھریں گے۔مذکورہ بالا خواتین بالغ تھیں اور سب کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوتی رہی۔ مجرم پکڑے بھی گئے۔ سائینسی طور پر ان کے خلاف جرم ثابت بھی ہوا۔ لیکن بھلا ہو ہمارے عدالتی نظام کا ، ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک، جنھوں نے یہ کہہ کر مجرموں کو آزاد کر دیا کہ ان کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں۔ کیا جس کے ساتھ زیادتی کی گئی ، اس کی اپنی گواہی ناکافی ہے؟ مزے کی بات تو یہ ہے کہ کوئی کیس بھی کسی شرعی عدالت میں پیش بھی نہیں ہوا پھر بھی عام عدالت نے کیس کو عدم ثبوت ہونے کی بنا پر خارج کیا۔ جس میں عادل گواہوں کی غیر موجودگی اور ہسپتالوں کی جانب سے خواتین کی ذہنی صورتحال کا واضح نہ ہونا ثابت ہے۔ جب کہ خاتون خود ان سب مجرموں کو چہرہ بہ چہرہ پہچان رہی ہے اور عدالت کو بتا رہی ہے۔ جرم ہونے کی جگہ سے پولیس نے مرد و خواتین کے کپڑے تک برآمد کیے ہیں۔ اس کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے جرم ثابت ہوا ہے لیکن عدالت کہتی ہے کہ ثبوت ناکافی ہیں۔ اگر عدالتیں بالغ خاتون یا لڑکی کا بیان نہیں مانتیں تو پھر کس کومانیں گی؟ عدالت مجرم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتی ہے۔ پھر پولیس کو مجرم اپنا بیان ریکارڈ کرواتا ہے اور عدالت میں مکرتا بھی نہیں ہے اور پھر عدالت کہتی ہے کہ ثبوت ناکافی ہیں۔ کوئی بتلائے کہ ہمیں بتائیں کیا؟
زینب انصاری سے پہلے ماریہ ، عبد الشکور اور دو ہزار پندرہ میں قصور شہر ہی کے تین سو بچوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات زبان زدِ عام ہوئے۔ان تین سو بچوں کے ساتھ زیادتیاں کرکے ان کی ویڈیوز بنائی گئیں ۔ ان کے والدین کو بلیک میل کیا گیا ۔ مجرم گرفتار ہوئے بمع ثبوت گرفتار ہوئے۔ لیکن سرکردہ سیاستدانوں کی مداخلت کی وجہ سے اصل مجرم رہا ہوئے اور نقلی مجرموں کو کچھ سالوں کی سزائیں دی گئیں۔ جب مختلف صحافیوں نے اور دیگر ایجنسیوں نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں در حقیقت بین الاقوامی گروہ شامل ہے۔ جو پورنو گرافی پر کام کرتا ہے خاص طور پر بچوں کیساتھ زیادتی کی ویڈیوز بنا کر ان سے پیسے کماتا ہے اور لاکھوں کروڑوں کماتا ہے۔اس گروہ میں ہر ملک کا ہر وہ بڑا آدمی شامل ہے جس کے ہاتھ قانون سے زیادہ لمبے ہیں۔ جس کے لیے قانون واقعی اندھا ہے، اس کے ہاتھ میں بٹیر کہہ کر ایک کوا تھماد یا جائے تو وہ مان جائے گا۔
ابھی زینب کا لہو بھی نہیں خشک ہوا کہ کے پی کے سے شہر مردان سے بھی ایک خبر آئی ہے کہ وہاں بھی ایک چار سالہ بچی عاصمہ کو دوپہر کے وقت اغوا کیا گیا اور شام کو اس کی لاش ملی ۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس کو گلہ دبا کر ہلاک کیا گیا ہے۔ باقی جنسی زیادتی ہوئی ہے یا نہیں وہ فرانزک لیبارٹری سے رپورٹ آنے کے بعد علم ہو گا۔ اس معصوم کلی عاصمہ کے قتل کے بعد یہ کہنا لازمی بنتا ہے کہ معصوم بچوں کی لاشوں پر زیادتی کرنے والے سیاستدان اب کے پی کے میں اس قتل کے بارے میں کیاکہیں گے؟ اعلان تو بڑے زور و شور سے کیا تھا کہ اگر یہ واقعہ کے پی کے میں ہوا ہوتا تو اب تک قاتلین گرفتار ہو چکے ہوتے۔ دیکھتے ہیں اب قاتل کتنے وقت میں گرفتار ہو کر پایہ انجام تک پہنچتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے یہ کوئی پہلا یا دوسرا واقعہ نہیں ہے۔ ہزاروں واقعات گذشتہ کئی سالوں میں رونما ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی۔ پھانسی تو درکنار، اس پر ثبوت کے ناکافی ہونے کی وجہ سے اس کو “باعزت ” طور پر بری کر دیا گیا۔ اب ثبوت اگر ناکافی تھے (جو کہ بہت کافی تھے) تو اس میں اس معصوم کا کیا قصور ہے جس پر ظلم کی انتہا کی گئی ۔ اگر ثبوت ناکافی تھے تو پھر پولیس سے کیوں نہیں پوچھا گیا۔ عدالت نے مجرم کو پولیس کسٹڈی میں رکھ کر مزید ثبوت اکٹھے کرنے کا حکم دینا تھا۔ جب مقصور کا بیان ریکارڈ پر تھا اور مجرمین کو پہچانا گیا تھا تو پھر تو ثبوت کے ناکافی ہونے کا بہانہ نہیں چاہیے تھا۔ اگر پھر تھا تو پولیس کو مزید ثبوت کا کہنا چاہیے تھا۔ایک تاریخی رپورٹ کے مطابقج جب نواب آف کالا باغ امیر محمد خان 1960 میں مغربی پاکستان کے گورنر بنے جس کا مطلب وہ آج کے پورے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو تھے۔ نواب آف کالاباغ اپنے سخت گیر طرز حکمرانی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ ان کے دور حکومت میں لاہور سے پانچ سال کا ایک بچہ اغوا ہوگیا۔ نواب آف کالا باغ نے ایس ایس پی کو بلو ا کر 24 گھنٹے کے اندر بچہ بازیاب کرانے کا حکم دیا لیکن پولیس نے مغوی بازیاب نہ کرایا۔بچہ بازیاب نہ ہونے پر نواب آف کالاباغ نے اگلے دن اے ایس پی ، ایس پی اور ایس ایس پی کے بیٹوں کو اٹھوا کر کالاباغ بھجوادیا اور اعلان کردیا کہ جب تک مغوی بچہ نہیں ملے گا تب تک افسران کے بچے واپس نہیں ملیں گے،ان کا یہ نسخہ کامیاب ہوا اور پولیس نے اسی دن بچہ بازیاب کرالیا۔ تو کیا آج کے معزز ججز یہ کام نہیں کر سکتے؟
پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے۔ اگر پولیس نے مجرم پکڑنے ہوتے ہیں تو ایک سیاستدان کا ڈرائیور قتل ہوتا ہے اور قاتل ایک دن میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب واضح ثبوتوں کے باوجود گرفتار نہیں کرنے ہوتے تو آج کتنے دن ہو گئے ہیں، ابھی تک مجرم کے خاکے ہی بن رہے ہیں۔ اوپر سے ہمارے صوبہ پنجاب کے سیاستدانوں کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ مجرمین ہر گز نہیں پکڑے جائیں گے۔ اس حکومت پر معصوم زینب کے والد کے اعتبار کی حد دیکھیں کہ انھوں نے بھی چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف ہی نگاہ کی ہے۔
اسلامی سزاؤں کے نفاذ کی اور ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کی جتنی آج ضرور ت ہے آج سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آپ چند افراد کو حدود کی سزائیں یا پھر جو سزائیں اسلامی قوانین کے تحت مقرر کی گئی ہیں، برسرِ بازار، بیچ چوراہے میں دی جائیں اور ان کی لاشیں یا زندہ اجسام شام تک مقام سزا پر برائے عبرت پڑے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ جرم میں ایک بڑی کمی نہ آئے۔ چار مجرموں کا چوری کرنے پر ہاتھ قلم کرکے دیکھیں، دوسرا کوئی ہمت بھی کر جائے۔ زنا کے مجرم کو سنگسار یا کوڑے لگا کر دیکھیں، اگر وہاں اس طرح گناہ گار بھی ہوں گے تو فوراًسے پیشتر جا نماز بچھا کر اللہ سے توبہ استغفار شروع کر دیں گے اور اپنے گناہوں پر پردہ پڑنے کی دعا کریں گے۔ آزمائش شرط ہے۔ ۔۔