Call Us Today! +92-321-5088855
kitabandqalam@gmail.com

اس ویب سائیٹ پر جو میری ذاتی تحریریں ہیں وہ میرے تجربات، مشاہدات اور خیالات پر مبنی ہیں۔ کسی اور کی کسی بھی قسم کی تحریر سے مطابقت محض اتفاقیہ ہو گی۔ ابن نیاز

آپ کو کوئی کتاب اپنے گھر بیٹھے 18 سے 25 فئصد ڈسکاؤنٹ پر چاہیے، تو رابطہ کریں۔ اسلامی کتابوں کا ڈسکاؤنٹ 18 فیصد ہے۔ مارکیٹ میں موجودگی شرط ہے. یہ تصویریں صرف مثال کے لیے ہیں۔

اسلامی تحریریں

اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد
July 5, 2020

اسلام آباد میں کفر کی تعمیر کی بنیاد

کتنے فخر سے کفر کا ساتھ دے کر اس کو پھیلانے کی بنیاد رکھتے ہوئے فوٹو سیشن کروایا جا رہا ہے۔ اکڑ کر یوں کھڑے ہیں جیسے اللّٰہ کے دین کو روند کر اور کفر کی جڑ کو پانی دے کر کوئی بہت اعلٰی ترین کام کیا ہے۔ کاش قرآن کو بچپن میں پڑھ کر اسے طاق میں نہ رکھتے بلکہ اس کو دل سے لگا کر اس اس کا ترجمہ پڑھتے، کسی عالم سے اس کی تفسیر پڑھ کر اسے سمجھتے، اگر خود نہیں سمجھ سکتے تھے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین صرف زبان سے کہنا کافی نہیں ہوتا۔۔ جب صرف اللّٰہ ہی کی عبادت کا نعرہ بلند کیا جائے تو پھر کفر کا ساتھ دینے کے کیا معنی۔ پھر تو اس کی پرچھائیں سے بھی بچنا چاہیے،

چہ جائیکہ اس کو باقاعدہ پنپنے کا موقع دیا جائے۔ قرآن پاک میں اللہ نے سیدھا سیدھا فارمولا بتا دیا ہے۔۔”اور تمہیں اس قوم کی دشمنی جو کہ تمہیں حرمت والی مسجد سے روکتی تھی اس بات کا باعث نہ بنے کہ زیادتی کرنے لگو، اور آپس میں نیک کام اور پرہیزگاری پر مدد کرو، اور گناہ اور ظلم پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔” (سور? المائدہ۔ آیت2)واضح ہے کہ ان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں کرنی جو تمھیں تمھاری عبادت گاہوں سے روکتے تھے۔ یعنی اب ان کو ان کی عبادت گاہوں سے منع نہیں کرنا۔یا ان کو اور کسی قسم کی تکلیف دینا۔ لیکن یہ بھی نہ ہو کہ ان کے گناہوں میں اور ان کے کفر میں ان کے ساتھ نہیں مل جانا اور ان کو آگے بڑھنے میں ان سے تعاون کرنے لگ جانا۔ کتنی صاف بات لکھی گئی ہے کہ ان کے ساتھ ہر گز گناہ میں اور ظلم میں مدد نہیں کرنی۔ لیکن بت پرستی کو بڑھاوا دینا، ان کو مندر خود بنا کر دینا کیا ان کے شرک میں ، کفر میں ان کے ساتھ تعاون کرنے کے برابر نہیں ہے؟ اور جب وہ لوگ، جو اس تعاون کے بارے میں ذمیوں کے حق کی بات کریں گے، وہ بھی اسی آیت کے زمرے میں آئیں گے۔ ذمیوں کو یعنی غیر مسلموں کو پاکستان میں کون سے حقوق نہیں دیے گئے؟ سب ان کو میسر ہیں۔ وہی نہیں میسر، جن سے ہمیں ہمارا دین منع کرتا ہے۔ حقوق کی بات ہو رہی ہے نہ کہ ان کے مذہب میں ان سے تعاون کی۔ یہاں حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ اب موجودہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد تو پہلے دن سے ہی سامنے آگیا تھا، اب ان کے اعمال پر بھی شک کرنے کو دل کرتا ہے۔ کبھی قادیانیوں کو اپنے مشیر بناتے ہیں تو

کبھی انھیں اونچی نشستیں فراہم کرتے ہیں۔ گذشتہ حکمران کہتے تھے کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں تو موجودہ حکمرانوں نے اس بات کو سچ ثابت کرکے دکھایا کہ شریف برادران نے غلط نہیں کہا تھا۔ نہ صرف پاکستان بلکہ متحدہ عرب امارات میں بھی ہم کچھ ماہ پہلے دیکھ چکے ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے مندر کی تعمیر میں نہ صرف مدد کی گئی بلکہ پھر اس کا افتتاح بھی حکومت وقت نے کیا۔ ہمیں تو چلو عربی نہیں آتی۔ شاید ہم قرآن کی آیات کی غلط تشریح کرتے ہوں گے، غلط ترجمہ پڑھتے ہوں گے لیکن کیا وہ بھی عربی سے نابلد ہیں۔ یا قرآن کی عربی ان کی عربی سے مختلف ہے جو انھیں بھی سمجھ نہیں آتی۔

بالکل نہیں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بس کفار کے بے بنیاد پرپیگنڈہ کی وجہ سے کہ اگر وہ غیر مسلم ممالک سے روابط نہیں رکھیں گے تو ان کی معیشت خراب ہو جائے گی۔ وہ اگر جمہوریت کا راگ اپنے ملک میں نہیں الاپیں گے تو ان کو حکمرانی کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ نہ سعودی عرب میں اور نہ ہی متحدہ عرب امارات میں جمہوریت کا راگ الاپا گیا ہے۔جب سے خلافت کا خاتمہ ہوا، تب سے وہاں بادشاہت کا سلسلہ رواں ہے۔ بات ہو رہی تھی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کی۔جس کی تعمیر کے لیے درخواست دینے والوں میں اسلام آباد کے ایف 6 سیکٹر کے لوگ بھی شامل تھے، جو کہ ہندو نہیں  تھے۔ اسلام آباد میں پہلے بھی تو کافی مندر ہیں۔ ان کا کیا؟ ایک سو اسی افراد کے لیے کیا ایک سو اسی مندر چاہییں؟ تو بنائیں، اپنے خرچے پر، اپنی خریدی گئی زمین پر۔۔ کوئی نہیں روکے گا۔ بس حکومت یا کوئی مسلمان ان کی تعمیر میں ان سے کسی طرح تعاون نہ کرے۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر کوئی مسلمان مزدور بھی اس کی تعمیر میں شامل ہو گا، تو وہ مزدور اگر جانتا ہے کہ مندر بن رہا ہے، تو گناہ گار ہو گا۔

میری اس بات پر یقیناً لوگ کہیں گے کہ یہ اگر کوئی ہندو مزدور مسجد بنائے تو ۔۔ مسلہ ایک ہندو کے مسجد میں حصہ ڈالنے کا نہیں ہے۔ مسلہ اللہ کے حکم کا ہے۔ صریح حکم ہے کہ گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہیں کرنا۔۔ کوئی ان کو ان کی عبادت کرنے سے تو نہیں روک رہا۔ کوئی ان کو ان کی  اپنی زمین پر مندر بنانے سے نہیں روک رہا۔ وہ بنائیں۔ بس جس چیز سے ہمیں قرآن نے کسی بھی دیگر مذہب کے حوالے سے منع کیا گیا ہے، اس سے ہمیں رک جانا چاہیے۔ یہی ہماری التجا ہے۔ یہی اللہ کا حکم اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔

 مندر کے لیے زمین کی تفویض سیکٹر ایچ نائن میں کی گئی ہے۔ درخواست میں لکھا گیا تھا کہ ان کے پاس دیوالی اور دیگر تہوار منانے کے لیے کوئی عبادت گاہ نہیں ہے۔ بندہ ان سے پوچھے کہ تم لوگ تو اپنے گھروں میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بھگوان بنا کر پوجتے ہو، تو عبادت گاہ کی کیا ضرورت۔ کون سا وہ لوگ اجتماعی عبادت کرتے ہیں اپنے بھگوان کی۔ ہر کسی نے اپنا علیحدہ بھگوان بنایا ہوا ہے۔ کروڑوں بھگوان ہیں۔ آتے جاتے، بندر، ہاتھی،  گھوڑا، سانپ، شیولنگ، ہر کسی کو پوجتے ہیں، تو عبادت گاہ کی ضرورت کیا ہے۔ اگر بفرض محال بہت ہی ضرورت ہے تو پھر راول ڈیم کے پاس جو مندر ہے، اس کو دوبارہ اپنے خرچے پر تعمیر کر دو۔ ویسے تو پاکستان میں فساد اور دہشت گردی کے لیے بے تحاشا پیسہ ہے لیکن اپنے ہی مندر کی تعمیر کے لیے ڈونیشن مانگتے ہیں۔ مندرکی تعمیر میں تعاون کی غرض سے حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے اس کے رد میں قرآن کا حوالہ دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مختصر سا واقعہ کا حوالہ کہ جب منافقین نے مدینہ میں ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی وہ ایک نماز وہاں پڑھا کر افتتاح کر دیں تو اللہ نے ہمارے آقا کو روک دیا اور اس مسجد کو مسجد ضرار کا نام دیا کہ جس کی بنیاد ہی شر پر رکھی گئی تھی۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو گرانے کا حکم دے دیا تھا۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک مسجد اگر شر کی بنیاد پر گرائی جا سکتی ہے توکوئی مندر یا کسی بھی اور مذہب کی کوئی بھی عبادت گاہ کی تعمیر حکومت وقت کس طرح کر سکتی ہے۔ ہر گز نہیں۔ حکومت وقت کا یہ فیصلہ اللہ کے احکامات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے شدید منافی ہے۔ اللہ تو قرآن پاک میں ان لوگوں کے لیے جن کو حکومت دی جائے ، فرماتے ہیں: “وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں دنیا میں حکومت دے دیں تو نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور نیک کام کا حکم کریں اور برے کاموں سے روکیں اور ہر کام کا انجام تو اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔” (سور? الحج۔ آیت۔ 41)۔۔

جب کہ یہاں نماز کی پابندی کا حکم تو درکنار، الٹا کورونا کا بہانہ بنا کر مساجد میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ بازاروں میں، شادی کی تقریبات میں تو کورونا ہر گز نہیں پھیلتا۔ بس پھیلتا ہے تو مساجد میں نمازیوں کے ذریعے، جو پانچ وقت وضو کرکے آتے ہیں، اللہ کا نام اپنی زبان سے لیتے ہیں اور اسی کا ذکر بلند کرتے ہیں۔ نیکی کے کام نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ سرعام نیکی کر ہی ڈالے، جو ریاکاری سے پاک ہو تو حکومتی فوجدار (اہلکار) اس کے پیچھے ہاتھ پاؤں دھو کر پڑ جاتے ہیں کہ نیکی کرنے کے لیے یہ رقم کہاں سے آئی۔ کیا وہ سیاستدان بننا چاہتا ہے؟ کیا وہ فلاں کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ہزار ہا طریقوں سے اس کو پریشان کیا جاتا ہے۔ اس کے نیک کا م میں اس سے تعاون کرنے کی بجائے اس کو اس حد تک مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے نیک کام سے باز آجاتا ہے۔کاش سب سے پہلے ہمارے عوام کو اپنے اعمال پر نظر ثانی کرنے کا موقع ملے اور وہ درست سمت میں اپنے آپ کو چلا سکیں اور اس کے بعد ایسے حکمرانوں کا انتخاب کریں جو نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں مدد گار ہوں اور گناہوں کے کاموں سے روک سکیں۔

بحیثیت قوم ہماری اخلاقی حالت
June 29, 2020

بحیثیت قوم ہماری اخلاقی حالت

اللّٰہ تعالیٰ کے پاک نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر اک نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اسی قول کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے کہا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن اللّٰہ کو کیا جواب دیں گے۔ کبھی کوئی چھوٹا سا کنکر اٹھا کر کہتے کہ کاش وہ ایک کنکر ہوتے کہ جس سے قیامت کے دن حساب کتاب تو نہیں ہو گا۔ ان کے پیش رو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کسی پرندے کو اڑتا دیکھتے تو آہیں بھرتے کہ کاش ایک پرندہ ہی ہوتے جو آزاد فضاؤں میں بنا کسی حساب کتاب کے ڈر کے اڑتا ہے۔

 اس کے برعکس پاکستان میں کسی محلے کے چیئرمین سے لے کر وزیر اعظم اور صدر تک کی صورتحال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ سے منسوب ایک قول کے مطابق اختیار ملتے ہی ان کی اصلیت سامنے آجاتی ہے۔ اپنے لیے آسان سے آسان تر ذریعہ اختیار کرتے ہیں جو ان کی زندگی کو آسان ترین بنا سکے۔  اس وقت موجود ہر قسم کی سہولت کو اپنے لیے میسر کرنا لازمی سمجھتے ہیں۔  پلک جھپکتے میں ان کی ہر خواہش پوری ہو جائے۔ ان کی اولاد کے لیے، ان کے گھر کے لیے دنیا کی ہر آسائش موجود ہو۔

ان کے دل میں دور دور تک یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سب کچھ کتنے لوگوں کے دلوں کا خون نچوڑ کر حاصل کیا گیا ہو گا۔  کتنی خواہشوں کو پاؤں تلے روندا گیا ہوگا۔ کتنی بچیوں کے ارمانوں کا جنازہ اٹھا ہوگا۔  لیکن یہ سب کچھ کیوں سوچا جائے؟ انھیں تو بس اپنی تجوریوں کو بھرنا ہے۔ پہلے اپنے لیے اور پھر اپنی اولاد کے لیے دنیا بھر کی آسائشوں کو اکٹھا کرنا ہے۔ کہیں ان کی اولاد کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اگر ان کےگھر نیا مہمان بھی آئے تو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہو۔  بھلے ان کے ہمسائے میں بھوک کے مارے میں کوئی آخری سسکیاں لے رہا ہو۔

بات خواص سے نکل کر عوام تک پھیل چکی ہے۔ عوام نے سوچا کہ جب ہمارے نظام میں کرپشن اس حد تک رچ بس چکی ہے کہ رینٹل پاور پراجیکٹ میں راجہ پرویز اشرف کی ضمانت منظور ہو جاتی ہے۔ شرجیل میمن کے پاس سے ایک جج کی موجودگی میں شراب برآمد ہوتی ہے  اور لیبارٹری اس کو شہد ثابت کر دیتی ہے۔ مسٹر ٹین پرسنٹ کون تھا، سرے محل کا مالک کون تھا لیکن پھر بھی کوئی کرپشن نہیں ۔ تو وہ بھی کیوں نہ بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ دھو کر ثواب حاصل کریں۔ اب رمضان المبارک ہویا  عید کے دن ۔اس قوم پر کوئی آفت آئے،اپنی اپنی اوقات کے مطابق موقع سے فائدہ نہ اٹھانا شدید ترین گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک میں جب کوئی مذہبی تہوار ہوتا ہے تو ہر چیز سستی کر دی جاتی ہے۔ یہاں چالیس والا فروٹ  دو سومیں بکتا ہے۔

جب اکتوبردو ہزار پانچ میں مانسہرہ، کشمیر میں شدید زلزلہ آیا تھا تو اس وقت جہاں کراچی سے کشمیر تک کے عوام نے تعاون و مدد کی انتہا کر دی تھی ۔ وہیں پر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جنھوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ جو سامان ٹرک بھر بھر کر بالاکوٹ اور دوسرے آفت زدہ علاقوں کے لیے بھیجا جاتا، وہی سامان دو تین دن کے بعد مارکیٹ میں فروخت کے لیے دستیاب ہوتا تھا ۔جو خواتین ملبے کے نیچے دب کر فوت ہوئیں، اگر ان کے بازو باہر تھے اور ان پر سونے کی چوڑیاں تھیں، انگلیوں میں سونے کی انگوٹھیاں تھیں تو بدبختوں نے وہ بھی نہ چھوڑے۔ جن ہاتھوں سے وہ نکل نہ سکے، ان بازوؤں کو کاٹ کر زیور نکالا گیا۔ مکانات کی تلاشی لے کر قیمتی سامان چوری کیا گیا۔

اس وقت قدرت کی طرف سے ایک وبا کورونا وائرس کی شکل میں امتحان یا پھر عذاب کے طور پر انسانوں پر مسلط کی گئی ہے۔ ساری دنیا میں عوام کو سہولیات دی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں ہر سہولت کو چھینا جا رہا ہے۔جب پاکستان میں کورونا کا آغاز ہوا تو ماسک جو دس بیس روپے کا ملتا تھا ایک دم سے مارکیٹ سے غائب کر دیا گیا۔ پھر ایک سو سے پانچ سو روپے تک فروخت ہونا شروع ہوا۔ ہر اس دکاندار سے لے کر بڑے بزنس مین تک نے فائدہ اٹھایا، جس کا کسی بھی طور اس سے واسطہ تھا۔  اس کے بعد جیسے جیسے کسی دوا کا سنتے گئے کہ کورونا کو ختم کرنے کے لیے کام آتی ہے، وہی دوائی یا تو مارکیٹ سے غائب ہو گئی یا اس کے دام ایک دم سے ہزاروں گنا زیادہ کر دیے گئے۔ اس کی عام مثال سنا مکی ہے۔ جو کبھی دو تین سو روپے کلو ملتی تھی۔  اس کے بارے میں ایک ویڈیو کیا وائرل ہوئی، اس کی قیمت سولہ ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گئی ۔ ڈیکسومیتھازون ایک سٹیرائیڈ میڈیسن ہے۔ اس کے بارے میں علم ہوا کہ کورونا وائرس کے مریض میں قوت مدافعت کو بڑھوتری دے کر مریض کو جلد صحت یاب کرتی ہے۔ دس روپے کی پانچ گولیاں ملتی تھیں۔ ایک دم سے پہلے قیمت بڑھی ۔چار سو کی دس گولیاں ہوئیں اور اب مارکیٹ سے غائب کر دی گئی ہے۔ اور اب بنگلہ دیش سے برآمد کرنے کا پروگرام ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب نے یہ اعلان فرمایا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے بارےمیں اطلاع ہے کہ وہ خود سب سے بڑے ادوایات کو مہنگا کرنے میں ہاتھ رکھتے ہیں۔ تو ان کا اعلان یقیناً درست ہو گا۔ کورونا کے مریض کو اگر شدید کیفیت میں ہے  تو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک دم سے آکسیجن اور اسکے سلینڈر کی قیمت سولہ سو روپے سے بڑھ کر بیس سے پچیس ہزار روپے ہو گئی۔

ہم بحیثیت قوم کس طرف جا رہے ہیں؟ نہ ہمیں اللہ کا خوف ہے نہ ہی اس کے عذاب سے کوئی ڈر۔ قرآن کو طاقوں میں رکھ کر اس کو  بہترین ریشمی غلافوں میں سجا دیا گیا ہے تو اس کی تعلیمات پر عمل کیسے ہو گا۔ سوچیے گا ضرور۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آج کے دور میں صبر کی شدید کمی ہے
July 16, 2019

ہم کیا کچھ سوچتے ہیں اور اس امید کے ساتھ کہ جو کچھ ہمارے ذہن میں ہے وہ سب ہم کر سکتے ہیں یا کرکے چھوڑیں گے۔ لیکن یہ کبھی نہی سوچتے کہ انسان بنائے خدا ڈھائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے ارادوں میں ناکام ہوجاتے ہیں تو اپنی قسمت کو کوستے ہیں اور خدا پر نعوذ بااللہ شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہ اس نے صرف ہمارا گھر ہی دیکھا ہوا ہے، یا میں ہی اسے نظر آتا ہوں وغیر ہ وغیرہ۔ کسی نہ کبھی اپنے پر غور نہیں کیا کہ انھوں نے کس چیز کا ارادہ کیا تھا۔ وہ کام جائز تھا، ناجائز تھا، اس کی کوئی تک بھی بنتی تھی یا بس دنیا کے لوگوں کی وجہ سے اسنے اسے حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا۔ بات یہ نہیں ہے کہ ارادہ صحیح تھا یا غلط، بات یہ ہے کہ جب قرآن کہتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، تو پھر اپنے ارادے کے ٹوٹ جانے کے بعد وہ کفر کی حدوں کو کیوں چھونے لگ جاتا ہے۔کفر صرف یہ ہی نہیں ہے کہ اللہ کی ذات پاک میں کسی کو کسی بھی لحاظ سے شریک کیا جائے۔ کفر کا لفظی مطلب ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا۔ تو جب آپ اللہ کے حکم سے کو ہی مان نے سے انکار کر دیتے ہو، تو کیا یہ کفر کی ادنیٰ شکل نہیں ہو گی۔ اور جب بار بار اس کا تکرار کرو گے بغیر توبہ کے تو بات کہاں تک پہنچ سکتی ہے، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
برداشت کا مادہ ہم میں سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ہلکی سی تکلیف آتی نہیں اور صبر و برداشت کا دامن چھوڑتے ہوئے گلے شکوے شروع ہو جاتے ہیں۔ اگر اتفاق سے یہ تکلیف تھوڑا زیادہ عرصہ رہ جائے تو پھر نہ صرف اللہ کی ذات سے شکوے شرورع ہو جاتے ہیں بلکہ اردگرد رہنے والے قریب افراد بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوںپر چڑچڑا ہٹ کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہر دوسری بات پر غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سے کوئی معمولی سی غلطی ہو جاتی ہے تو وہ گویا رائی کا پہاڑ بن کر اس بندے کے سامنے آتا ہے۔ کسی دوکاندار سے اگر کوئی گاہک دوبارہ کچھ پوچھ لے تو اس کا پارہ سو سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ کسی کی کوئی معمولی بات بھی برداشت نہیں ہوتی۔ پریشانی دراصل امتحان کا دوسرا نام ہے اور امتحان یا آزمائش اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور ہم اس کی مخلوق اسی سے گلہ کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ ”جسے چاہتا ہے بغیر حساب کتاب کے رزق دیتا ہے۔“
کبھی کسی نے یہ دیکھا کہ وہ جس سے مانگ رہا ہے اس نے کبھی کچھ بھی دینے میں بخل سے کام لیا ہے؟ نہیں۔ کبھی نہیں۔ اگرچہ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔ وہ غریب ہے تو دوسرا امیر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کے انصاف میں کوئی کمی ہے، نہیں بلکہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ہماری حالت یہ ہوتی ہے۔ ایک تو انسان کے اپنے اعمال۔ ہو سکتا ہے کہ اس کے اعمال ایسے ہوں جن سے بندوں کی حق تلفی ہوتی ہو۔ خدا کی عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے کرتا ہو یعنی ریاکار۔ لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ نہ تو وہ بندوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالتا ہے نہ ہی وہ ریاکاری کرتا ہے (یہ کوئی بھی شاید نہ بتا سکے) لیکن پھر بھی وہ غریب ہے تو دوسری وجہ یہ ہے کہ اس پر اللہ کی طرف سے یہ بھی ایک آزمائش ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بعض بندوں کہ نہ دے کر بھی آزماتا ہے کہ وہ اس کا شکرکس حد ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر ایک کا ظرف بڑا نہیں ہوتا۔ اور بجائے شکر ادا کرنے وہ الٹا اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے شروع کر دیتا ہے۔ کہ وہ اتنی دعا بھی کرتے ہیں، اتنی محنت بھی کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے نصیب میں یہ تنگی ، یہ سختی ہی لکھی ہوئی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اگرچہ غفور الرحیم ہے اس میں کوئی شک بھی نہیں ، لیکن ایسے شخص کو کیا کہا جائے گا جاہل، یا بد قسمت۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی آزماتا ہے جس کو دولت میں تول دیا جاتا ہے۔کہ وہ پہلے تو اس دولت کو کیسے استعمال کرے گا۔ جائز کاموں میں یا ناجائز کاموں میں۔ پھروہ اس دولت کے حاصل ہونے کو اللہ کا کرم کہہ کر اس کا شکر ادا کرے گا، اور کرتا رہے گا یا اپنے زورِ بازو کا کمال گردانے گا۔ یہ بھی ایک امتحان ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی دولت مند ہے تو وہ لازمی نہیں کہ ہمیشہ ہی خوشحال ہو اور یہ بھی لازمی نہیں کہ جو غریب ہے وہ ہمیشہ ہی پریشان ہو۔ اکثر دیکھا گیا ہے ایک امیر آدمی ساری ساری رات کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، اس کو ایک منٹ کی نیند بھی نہیں آتی، جبکہ ایک غریب آدمی روکھی سوکھی کھا کربھی ایک سخت کھردری چٹائی پرزمین پر سو کر بھی اتنی پرسکون نیند سوتا ہے کہ لوگ ترس جاتے ہیں ۔
یہ تو ہوا اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے صبر کا ذکر۔ اب جو دنیا میں عدم برداشت کا مظاہر کیا جاتا ہے، صبر کا دامن چھوڑ دیا جاتا ہے اور چھوٹی سی چھوٹی بات پر ہاتھا پائی شروع کر دی جاتی ہے یا کم از کم گالم گلوچ تو ضرور ہی کی جاتی ہے۔ راہ چلتے غلطی سے ٹکر لگ گئی، ” اوئے اندھے ہو، دیکھ کر نہیں چلتے۔“ حالانکہ اگلے نے معذرت بھی کر لی ہوتی ہے، لیکن جو معذرت کرتا ہے، اس پر اور چڑھائی شروع کر دی جاتی ہے۔
کہنا صرف یہ تھا کہ صبر۔ االلہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ کسی بھی حالت میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔چاہے کچھ بھی ہو جائے اور ہر حالت میں اس رب کا ذکر اور اسکا شکر ادا کرتے رہیں۔ اور دل میں یہ یقینِ کامل رکھیں کہ جو کچھ بھی آپ پر بیت رہی ہے وہ سب ، اسکا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور اسکی حکمتوں سے کوئی بھی ، کوئی بھی واقف نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے کسی مقرب بندے کو اسکا عشرِ عشیر الہام کر دے۔ ورنہ سب رب کا ہے۔ اللہ سب کو صبر و شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے، آمین۔

یہود د و نصاریٰ ۔کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں بن سکتے
November 21, 2018

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی محترمہ عاصمہ حدید نے مسلمانوں اور یہودیوں میں ایک موازنہ پیش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ محترمہ نے قرآن سے غلط معانی نکال کر اور غلط تاریخ پیش کر کے پاکستان تحریک انصاف کا ایک ایجنڈا سامنے لانے کی کوشش کی جس کے حوالے سے پی ٹی آئی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہودیوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم صاحب کے بارے میں بھی شروع سے ہی جب انھوں نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی کہا جا رہا ہے کہ وہ یہودیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ثبوت تو ابھی تک کسی نے نہیں دیا، بس الزامات ہی ہیں۔ وہ بھی سوشل میڈیا پر جو چیز پھیل جاتی ہے، پی ٹی آئی کے مخالفین اسی بات کو بنا تحقیق کے آگے پھیلا دیتے ہیں یا اس پر لفظوں کے پھول برسانا شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ سورة الحجرات میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جب کوئی فاسق (مطلب جھوٹ بولنے والا۔۔ آج کل کون سچا ہے) تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اس میں فاسق کا لفظ ضرور استعمال ہوا ہے لیکن دوسرے حصے پر بھی عمل لازم ہے۔ اور آج کے دور میں تو یہ انتہائی شدید لازم ہو گیا ہے کہ ہر خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی جائے۔ورنہ ایک اینکر کی طرح سب کہیں گے کہ میرے پاس ثبوت ہیں ۔ میں ابھی پیش کرتا ہوں۔ پہلے یہ خبر دیکھ لیں۔ میرے مصدقہ ذرائع ہیں۔ لیکن ہوتا کچھ نہیں۔خیر اسرائیل کے حوالے سے کئی مواقع پر کچھ ایسا ضرور نظر آیا جس سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے۔ اب محترمہ کی قومی اسمبلی میں تقریر ہی سن لیں۔ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے. پھر یہودیوں کی دلجوئی و تالیف قلب کے لیے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا شروع کی۔ پھر قبلہ تبدیل کرنے کے حکم پر دوبارہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے لگے۔ مزید کہتی ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہودیوں کا قبلہ بیت المقدس سے ہے اور مسلمانوں کا بیت اللہ۔ اس کے بعد کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ اس لیے کچھ ایسا کرنا چاہیے کہ (واضح نہیں کہا لیکن سیاق و سباق سے یہی مفہوم نکلتا ہے) مسلمان اور یہود ایک ہو جائیں۔ محترمہ نے تقریر تو پانچ منٹ کے لگ بھگ کی جس میں زیادہ زور اسی بات پر تھا۔ آخر میں یہود و مسلمانوں کے درمیان اتفاق قائم کرنے کے بارے میں کہہ گئیں۔
یہ تو شکر ہے کہ انھوں نے اپنے علم کو خود ہی ناقص کہہ دیا تھا۔ ورنہ پی ٹی آئی والوں نے انھیں عالمہ و فاضلہ کی ڈگری بھی تھما دینی تھی۔ میرا مطلب سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ سے باہر کے عوام سے ہے۔ واقعی ان کا علم ناقص ہی ہے۔ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کعبہ کی طرف رخ کرکے صرف حج بیت اللہ ادا کیا جاتا تھا۔ نماز فرض ہو جانے کے بعد بیت المقدس ہی کی طرف ہی ادا کی جاتی تھی۔ اور یہ یہود کو خوش کرنے کے لیے نہیں تھا بلکہ اللہ کا حکم تھا۔ پھر ایک دن عصر کی نماز میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم دیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت المقدس کی طرف سے تبدیل کرکے بیت اللہ یعنی خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ لیکن اس سے ہر گز یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہودیوں کا قطلہ بیت المودس اور مسلمانوں کا خانہ کعبہ ہو گا۔ یہودیت تو ایک جھوٹا مذہب ہے کیونکہ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سابقہ تمام انبیاءعلیہ السلام کی تعلیمات منسوخ کر دی گئی تھیں۔ اب جو کچھ بھی تھا وہ احکامات الہی اور تعلیمات مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں تھا اور تا قیامت رہے گا۔ ویسے بھی کیا یہودی کیا نصارٰی (عیسائی)، اپنے اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد ان پر نازل ہوئی کتب میں جو تحریفات کی گئیں وہ کلی طور پر ان پیرو کاروں کے اپنے نفس کے تابع ہیں۔ جھوٹے من گھڑت واقعات شامل کیے گئے۔
اس کے بعد محترمہ کہتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل سے تھے۔ آپ کا تاریخ کا علم بھی واقعی ناقص ہے۔ بی بی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا۔ ان سے آگے جو نسل چلی وہ بنی اسرائیل کہلائی۔ اور یہ بھی کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل میں بے شمار نبی آئے۔ جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں نبوت صرف ہمارے آقائے نامدار حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی۔ تو آپ سے عرض ہے کہ پہلے خوب پڑھ کر آئیں پھر بات کریں۔
عاصمہ حدید صاحبہ نے مزید کہا ہے کہ کوئی ایسا راستہ تلاش کیا جائے کہ یہ جو آج مسلمانوں پر شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں ظلم ہو رہا ہے اس کا راستہ روکا جائے۔ کوئی ان کو یہ بتائے کہ فلسطین کا نام کیوں نہیں لیا کہ اسرائیل ان پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ آئے روز وہاں جنازے اٹھ رہے ہیں۔ کبھی باعصمت خواتین کے دوپٹے پھاڑے جارہے ہیں تو کبھی بچوں کو تختہ مشق بنایا جاتا ہے۔ ہر ملک اسلحے کے زور پر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن فلسطین شاید واحد ملک ہے جو غلیل میں پتھر ڈال کر اسرائیلیوں کے ظلم کا مقابلہ کرتا ہے۔ جن کے دل میں آزادی کی تڑپ رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے۔اور مقصد کے لیے عاصمہ صاحبہ نے ایوان کا وقت ضائع کیا کہ جس طرح ممکن ہو اسرائیل کے ساتھ یارانے بڑھائے جائیں۔ محترمہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ انھیں یہ تو نظر آرہا ہے کہ شام، عراق، لیبیا وغیرہ میں مظالم ہو رہے ہیں لیکن یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ وہاں ظلم کے پہاڑ کون توڑ رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادی ہی ہیں جو ہر ملک میں ظلم کرتے ہیں ۔ کبھی ڈیزی کٹر بم گرائے جاتے ہیں تو کبھی غیر جوہری خطرناک بموں کی بمباری کی جاتی ہے۔ پہلے افغانستان میں روس گھسا رہا لیکن وہاں کچھ نہ کر سکا۔ پھر امریکہ نے اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش کی اور ہنوز لگا ہوا ہے لیکن اللہ کے سپاہیوں کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہیں تو جب نام ہی اللہ کا لے کر بلند کیا جائے تو پھر کسی کی جرا¿ت ہو سکتی ہے وہ کسی سرزمین پر قبضہ کر سکے۔
عاصمہ صاحبہ کی تقریر اسی سلسلے کے کڑی دکھائی دیتی ہے جس کے تحت پاکستان میں ۴۲ اکتوبر ۸۱۰۲ کو ایک اسرائیلی جہاز کے آنے کی باز گشت ابھی تک پاکستان کی فضاﺅں میں گھوم رہی ہے۔آپ کی تقریر کا مقصد بظاہر تو یہی نکلتا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کے لیے راستے ہموار کیے جا رہے ہیں۔ باطن کا حال صرف اللہ جانتا ہے۔ لیکن ظاہری صورت حال یہی نظر آتی ہے۔ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے۔ ہمیں ہمارے رب نے یہ حکم دیا ہے۔ اب اگر آپ اس دوستی کے لیے راہ ہموار کرانا چاہتی ہیں تو پہلے آپ کو ان کا جھوٹا مذہب قبول کرنا ہو گا۔۔

روزنامہ آفتاب.. 16 نومبر، 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو
November 8, 2018

جو وعدہ کرو تو پورا کرو

یہ صرف ایک اسلامی آرٹیکل ہی نہیں ہے بلکہ ہر اس فرد کے لیے لکھا گیا ہے جو وعدوں کو صرف مذاق سمجھتا ہے چاہے وہ عوام ہو یا حکومت یا اپوزیشن میں بیٹھے خواص۔
قرآن پاک میں اللہ پاک ارشاد ہے ۔ ” وعدہ پورا کرو بیشک (قیامت کے دن )وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا“۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے۔۔ ”خبردار!(حکم خدا تو یہ ہے کہ) جو بھی اپنا عہد پورا کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ تقویٰ والوں کو یقینا دوست رکھتا ہے،بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اوراللہ قیامت کے دن ان سے نہ تو کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ فقہا¿ اور علما¿ نے وعدے کی تین اقسام بیان کی ہیں۔
۱۔یک ایسا وعدہ جو خدا نے اپنے بندوں سے کیا ہو۔
۲۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہو۔
۳۔ایک ایسا وعدہ جو بندوں نے ایک دوسرے سے کیا ہو۔
وہ وعدہ جو خدا نے بندوں سے کیا ہے وہ شایدوہی ہے جو عالمِ اروا ح میں واقع ہوا ہے، قرآنِ مجید اور بہت سی روایتوں سے اس وعدے کے بارے میں علم ہوتا ہے، ا±س وعدے کا خلاصہ یہ ہے کہ عالمِ ارواح میں دنیا میں انسانوں کو بھیجنے سے پہلے خدا نے تمام روحوں سے عہدوپیمان کیاہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ دنیا میں ثابت قدم رہیں گے، کسی کو خدا کا شریک قرار نہ دیں گے، اپنے پیغمبر کے احکام سے روگردانی نہیں کریں گے اور شیطان کی پیروی نہیں کریں گے تو خدا اس وعدہ وفائی کے صلے میں ان کی مدد کرے گا، اپنی رحمت کا سایہ ہر وقت ان پر رکھے گا اور جنّت میں انہیں جگہ دے گا،لیکن اگر وہ اپنے وعدے کو پورا نہیں کریں گے تو خدا کبھی اس کے عوض میں اپنے وعدے کو پورا نہیں کرے گا۔
دوسرا وعدہ جو بندوں نے خدا سے کیا ہے یا کرتے ہیں وہ نذر ماننا یا قسم کھانا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ صرف دل و دماغ میں خیال کرنایا سوچنا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ زبان سے موزوں جملہ کہنا ضروری ہے۔جیسے کوئی کہے کہ میں صحت یاب ہو گیا تو اتنی رقم خیرات کروں گا۔ ایسا کہنے سے اس کی پابندی واجب ہوجاتی ہے۔یہ بات مدِ نظر رکھنی چاہیے کہ عہد ، قسم یا نذر کسی غیر شرعی کام کی نہ ہو۔ یعنی کسی حرام کام کے لیے نذر نہ مانی جائے۔ یا پھر کوئی ایسی قسم جس میں کسی بھی شرعی ، واجب یا مستحب کام کو چھوڑنے کا وعدہ کیا جائے۔اسی طرح عہد جو خدا سے کیا جاتا ہے اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے۔جیسے کوئی کہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو یہ نیک کام کروں گا۔ اب اگر وہ نیک کام نہیں سر انجام دے گا تو گناہِ کبیرہ کے زمرے میں شمار ہو گا۔ اور عہد توڑنے کا کفارہ الگ سے ادا کرنا ہو گا۔ عہد کا کفارہ ادا کرنا واجب ہے۔ اور یہ کفارہ وہی ہے جو رمضان کا روزہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے نہ رکھنے اور توڑنے کاہے، یعنی ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا، یا ساٹھ ورزے رکھنا ، یا ایک غلام کو آزاد کرنااور اگر نذر توڑدی جائے تو اس کا کفّارہ قسم توڑنے کے کفّارے کے برابر ہے، یعنی دس غریبوں کو کھانا کھلانا، یا دس لباس سے محروم لوگوں کو لباس دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔
وعدے کی تیسری قسم بندوں کی بندوں سے ہے۔اور یہ وعدہ وہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہلِ ایمان کو خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے۔کہ ایمان والے وہ ہیں جو جب کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھتے ہیں۔ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق جو شخص خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ جب بھی وہ وعدہ کرے وہ وفا کرے۔یعنی ایمان والوں کی ایک نشانی وعدے کا پورا کرنا بھی ہے۔
مندرجہ بالا تفصیل لکھنے کا میرا مقصد اربابانِ اختیارات کو اور پارلیمنٹ کے دیگر ممبران کو وہ وعدے یاد دلانا تھا جو انھوں نے الیکشن سے پہلے عوام سے کیے تھے۔ وعدہ کرنا کوئی مذاق نہیں ہے کہ جب چاہا وعدہ کر لیا جیسے کوئی اپنی محبوبہ سے کرتا ہے اور پھر مطلب نکل جانے پر ’وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے ‘ کا نعرہ لگا کر نئے بے وقوف کو تلاش کرنے میں نکل پڑتا ہے۔ ہمارے صدرِ محترم سے منسوب ایک قولِ زریں آج کل فیس بک پر وائرل ہو رہا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شادی سے پہلے اور الیکشن سے پہلے کیے گئے وعدے بس الفاظ کا گورکھ دھندہ ہی ہوتا ہے۔ پورا کوئی بھی نہیں ہوتا نہ کیا جاتا ہے۔ تو اگر تو یہ قول درست ہے اور ڈاکٹر سر نے کہا ہے تو پھر ایک پارلیمنٹیرین کی کیااوقات ہو گی۔ جب وزیرِ اعظم کی کرسی پر بیٹھنے والے بھلے وہ کوئی بھی ہوں، عوام سے الیکشن کے دنوں میں ایسے ایسے وعدے کرتے ہیں کہ اگر ان میں سے پچاس فیصد بھی صدقِ دل سے پورے کیے جائیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں پاکستان دنیا کی اول نمبر ریاست میں شمار ہو گا۔ چاہے وہ معاشی میدان ہو، جنگی یا دفاعی میدان ہو یا تعلیمی میدان۔ لیکن افسوس ہوتا ہے جب ہمارے پارلیمنٹیرینز سیٹ نہ ملنے پر اپنے ہر وعدے کو بھول جاتے ہیں۔ اپنے حلقے کے عوام کو بھول جاتے ہیں۔ یہ باتیں میں کوئی پہلی بار نہیں لکھ رہا۔۔ کئی بار ، بار بار اور بارہا لکھی جا چکی ہیں کہ شاید کسی کے دل میں اتر جائے کسی کی بات۔۔ لیکن وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق وہ وعدہ ہی کیا جو ایفا ہو جائے۔
ہمارے محترم وزیر اعظم نے الیکشن سے پہلے جتنے وعدے کیے تھے ان میں سے حکومت سنبھالنے کے نوے دنوں کے اندر اندر کچھ اس طرح کے محیر العقول کارنامے سر انجام دینے تھے جو پاکستان میں جاگیرداروں اور لٹیروں کی موجودگی میں تکمیل تک پہنچانا انتہائی مشکل ہیں۔اب یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ وہ اپنے وزراءپر ناراض ہو رہے ہیں جنھوںنے الیکشن سے پہلے کچھ اور حقائق بتائے تھے جب کہ اب جب وہ حکومت میں آئے ہیں تو حقائق کچھ اور ہیں۔ سر، انتہائی احترام سے عرض کروں گا کہ اس میں ان کا کیا قصور۔ یہ سب کچھ تو عام عوام کو بھی نظر آتا ہے کہ اصل حقائق کیا ہیں؟ تو پھر آپ کیسے ان سے نابلد تھے؟ وعدہ وفا کیجئے لیکن اس سے پہلے اس کا کفارہ ضرور ادا کیجئے، اپنی جیب سے، اپنی تنخواہ سے، جو کہ آپ کر سکتے ہیں۔

(روزنامہ آفتاب، لاہور میں باقاعدہ آغاز کے بعد سے پہلا کالم۔ 8 نومبر 2018)